نوجوان عدم برداشت کا شکار کیوں ہورہے ہیں؟

نوجوان عدم برداشت کا شکار کیوں ہورہے ہیں؟

نوجوان عدم برداشت کا شکار کیوں ہورہے ہیں؟

از قلم۔ ذوالقرنین احمد (فری لانس جرنلسٹ)

اورنگ آباد کے ہرسول علاقے میں گزشتہ روز ایک میڈیکل شاپ پر موجود فارماسسٹ کو دو نوجوانوں نے چاقو مار کر قتل کردیا، خبروں کے مطابق مقتول کی بہن کے رشتے سے انکار کے بعد مجرم نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ اورنگ آباد میں آئین دن ذرا ذرا بات پر قتل کردینا عام بات ہوتی جارہی ہے۔ اس کی وجوہات میں ایک اہم وجہ نشہ آور دواؤں وغیرہ کی فروخت ہے آج کل نوجوانوں کے اندر برداشت کا مادہ ختم ہوچکا ہے نا انکی تربیت اسلامی تعلیمات کے مطابق ہورہی ہے نا اخلاقیات کا سبق پڑھایا جارہا ہے اور نا ہی کوئی ایسا مضبوط لائحہ عمل ہمارے پاس موجود ہے جس کے ذریعے ان جیسے حادثات کی روک تھام کی جاسکے۔ چھوٹی سی بات بحث کی شکل اختیار کرجاتی ہے اور پھر جان سے ختم کر دیا جاتا ہے ایک شریف انسان کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور اپنی جان مال و عزت و آبرو کے تحفظ کے ساتھ واپس گھر لوٹنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ٹرین کا سفر ہو یا بس کا سفر یا مارکیٹ میں لین دین کے معاملات ہو فورا بدلے کی آگ سینوں میں جل رہی ہیں۔ مشہ آور دواؤں کی وجہ سے اور شراب نوشی کی وجہ سے ہمارے نوجوان تو اپنی جوانی سے ہاتھ دھو بیٹھ رہے ہیں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ نشہ آور چیزوں کے استعمال کی وجہ سے انسان کے اندر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کمزور ہوجاتی ہے برداشت کی قوت کمزور ہوجاتی ہے انسانی اخلاقی اقدار سے اسے کچھ سروکار نہیں ہوتا ہے۔

دوسری اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ہتھیاروں کی خرید و فروخت عام چکی ہے آن لائن پلیٹ فارم پر جان لیوا ہتھیار فروخت ہورہے ہیں تو کہیں پر دیگر ہتھیارو تک رسائی آسان ہورہی ہے چند پیسوں کے لیے آج انسان انسانی جانوں کی قدر و قیمت کو فراموش کر بیٹھا ہے نشیلی دوائیاں کھلے عام فروخت ہورہی ہیں۔ محکمہ انسداد و جرائم آنکھیں بند کیے ہوئے اپنے حصے کا مفاد حاصل کرنے میں مصروف ہے جس کی قیمت عام انسانوں کے خون سے ادا ہو رہی ہیں۔ تربیتی نظام معاشی تنزلی مہنگائی و تعلیمی معیار کے گرنے کی وجہ سے بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے‌۔

تیسری ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود ہائی پروفائل لوگوں کی زندگیوں کو دیکھ کر نوجوانوں کے اندر ایک طرح کا جنون پیدا ہورہا ہے وہ ہر نفسانی خواہشات کو اپنی عمر سے پہلے حاصل کرنا چاہتے ہیں، اتنا ہی نہیں بلکہ وہ اس معیار کے شوق پورے کرنا چاہتے ہیں جو وہ دن رات سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہیں ٹی وی سیریلز میں دیکھ رہے ہیں اور اسی کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھنے لگے ہیں، قدرت کے نظام فطرت کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں مختلف طبقات کیوں بنائیں ہے کیونکہ اگر سبھی کو ہر چیز میسر ہوجاتی ہیں تو پھر دنیا کا نظام کچھ ہی سالوں میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا اور دنیا میں کوئی انسان چھوٹے موٹے کام کرنے کے لیے تیار نہ ہوتا لیکن قدرت کا نظام بہت خوبصورت ہے کہ اس نے انسانوں میں مختلف طبقات بنائیں تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام نکال سکے۔

آج ہمیں اپنے علاقوں میں منظم و مستقل طور پر جرائم کو روکنے کے لیے ہر ذمہ دار شہری کو ساتھ لے کر کام کرنے کی ضرورت ہے نشہ آور دواؤں کی فروخت کو روکنے کے لیے غیر محسوس طریقہ سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی انسداد جرائم کے محکمہ کو اعتماد میں لے کر ان سے کام کروانے پر زور دینے کی کوشش ہونی چاہیے۔ بچوں سے پہلے ماؤں کی تربیت پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کے لیے ہر بستی و محلے میں تربیتی کونسلنگ سینٹر، ری ہیبیلشن سینٹر، پری میریج پوسٹ میریج کونسلنگ سینٹر کو قائم کرنا انتہائی ناگزیر ہوچکا ہے جو وقت کی ضرورت ہے۔ اسکولوں میں مسلم لڑکوں کے ڈراپ آؤٹ پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

آج حالات قابو سے باہر ہوچکے ہیں بچے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے سے پہلے نشہ آور چیزوں کا استعمال کر رہے ہیں شراب نوشی عام ہوتی جارہی ہیں۔ اور ان سب کے ساتھ ایک اور بڑی تباہی ہمارے سروں پر کھڑی ہوئی ہیں وہ ہے ایکسٹرا میریٹیل افئیر، غیر ازدواجی جنسی تعلقات جو شراب نوشی، نشہ خوری، سودی لین دین، بچت کٹ کی وجہ سے عام ہوتی جارہی ہیں جب نوجوان غلط سنگت میں پڑ کر نشہ خوری شراب نوشی کے عادی ہوجاتے ہیں تو پھر ان کے گھر کی عزتیں محفوظ نہیں رہتی ہیں اتنا ہی نہیں آج کل موبائل ایپ پر بھاری سود پر لون دستیاب ہورہا ہے خاص طور پر خواتین کے نام پر لون دیا جارہا ہیں۔ اور یہ ایک بڑی سازش کا حصہ ہے کیونکہ ان سرمایہ کاروں کو پتہ ہے کہ خواتین کوئی جاب نہیں کرتی ہیں لیکن پھر لون خواتین کو آسانی سے دیا جارہا ہے اور پھر اس کی قیمت سود سمیت خواتین کی عزتوں و عصمتوں کو تار تار کرکے وصول کی جارہی ہیں اور انہیں نا چاہتا ہوئے غلط کاموں میں دھکیلا جارہا ہے جس سے خاندانی نظام پوری طرح تباہ و برباد ہورہا ہے۔ آج ہمیں ہوش میں آنے کی ضرورت ہے غیر ضروری خواہشات اور دنیا کی رنگینیوں کے نشے میں اپنے آپ کو قرضوں کے بوجھ تلے دفن کرنا بہت بڑی غلطی ہے جو ایک ٹرینڈ بن چکا ہے سوشل میڈیا پر اشتہارات کی بھرمار ہیں اور ان ہی کے نقش قدم پر ہماری قوم تیزی سے دوڑ رہی ہیں ہر کوئی اپنے آپ کو سوشل میڈیا پر انفلونثر سمجھنے لگا ہے۔ ان تمام چیزوں اور غیر ضروری خواہشات پر کنٹرول کرنا انتہائی ضروری ہے۔

12/9/2026

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے