عقیدہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں

عقیدہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں

عقیدہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں

از قلم مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
جامعہ عربیہ توپران ضلع میدک تلنگانہ

اسلام کی پوری عمارت جن بنیادی عقائد پر قائم ہے، ان میں متفق علیہ عقیدہ عقیدۂ ختمِ نبوت کو ایک ایسی مرکزی حیثیت حاصل ہے جس سے مسلمان کی ایمانی شناخت وابستہ ہے۔ یہ محض ایک اعتقادی مسئلہ نہیں، بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ سے آخری اور کامل وابستگی کا اعلان ہے؛ یہ اس یقین کا نام ہے کہ جس ہستی پر نبوت کا سلسلہ اپنے کمال کو پہنچا، وہی قیامت تک اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں، اور اب آسمانِ نبوت سے کسی نئے مدعی کے لیے کوئی پیغام نہیں اترے گا۔

اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو انسانی تعبیرات اور تاریخی اختلافات کے حوالے نہیں کیا، بلکہ قرآنِ کریم میں نہایت واضح اور فیصلہ کن الفاظ میں ارشاد فرمایا:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِنْ رَّسُولَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں

لفظ ’’خاتم‘‘ عربی زبان میں مہر، اختتام اور تکمیل کے معنی میں آتا ہے، اور ’’خاتم النبیین‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر سلسلۂ نبوت اختتام کو پہنچ گیا۔ مفسرینِ امت نے بھی اس آیت کو اسی معنی میں بیان کیا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ امام ابن کثیرؒ اس آیت کے تحت صاف لکھتے ہیں کہ یہ آیت اس بات کی صریح دلیل ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں

یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ ختمِ نبوت محض ’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسرا نبی نہیں آئے گا کا یہ جملہ کوئی عام جملہ نہیں کسی تنظیم کا نہیں کسی جماعت کا نہیں کسی مسلک کا نہیں نہ یہ کسی خاص ذہنیت رکھنے والوں کا خیال ہے بلکہ جمیع مسلمانوں کا 1400 سال سے متفقہ علیہ فیصلہ ہے اس کے اندر رسالتِ محمدی ﷺ کی جامعیت، شریعت کی تکمیل اور دین کی آخری صورت کا پورا تصور مضمر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔ آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا، تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا

دین کے کامل ہوجانے کے بعد کسی نئی نبوت، نئی شریعت یا کسی نئے آسمانی تشریعی پیغام کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اسی لیے ختمِ نبوت اور تکمیلِ دین ایک دوسرے سے مربوط حقائق ہیں؛ محمد ﷺ کی بعثت نے نبوت کے تاریخی سلسلے کو بھی کمال بخشا اور دینِ اسلام کو بھی وہ جامع صورت عطا کی جس میں قیامت تک انسانیت کی ہدایت کا سامان موجود ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی بعثت کسی خاص قوم، خطے یا زمانے کے لیے محدود نہ تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ مجھے تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا اور میرے ذریعے انبیاء کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید آپ ﷺ کی رسالت کو عالمگیر قرار دیتا ہے اور آپ ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ ختمِ نبوت دراصل رسالتِ محمدی ﷺ کے عالمگیر اور دائمی ہونے کا لازمی تقاضا بھی ہے۔

اس عقیدے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ قرآن نے اسے محض ایک ضمنی صفت کے طور پر بیان نہیں کیا، بلکہ رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس کا تعارف ہی ’’خاتم النبیین‘‘ کے عنوان سے کرایا۔ گویا محمد ﷺ کی نبوت کا ایک بنیادی امتیاز ہی یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کردیا گیا۔

یہاں سے ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے: اگر قرآن نے فیصلہ سنا دیا، تو کیا رسول اللہ ﷺ نے بھی اس کی مزید وضاحت فرمائی؟ جواب یہ ہے کہ احادیثِ نبویہ میں اس عقیدے کی وضاحت اتنی کثرت اور صراحت کے ساتھ آئی ہے کہ اس میں کسی تاویل یا ابہام کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کا اجمال احادیثِ رسول ﷺ کی تفصیل سے مکمل ہوتا ہے۔

قرآنِ کریم نے جس حقیقت کو ’’خاتم النبیین‘‘ کے ایک جامع لفظ میں بیان فرمایا، رسول اللہ ﷺ نے مختلف مواقع پر اسے ایسی صراحت کے ساتھ واضح فرمایا کہ امت کے لیے کسی شبہے کی گنجائش باقی نہ رہی۔ یہی وجہ ہے کہ عقیدۂ ختمِ نبوت براہِ راست نصوصِ نبویہ سے ثابت شدہ عقیدہ ہے۔

حضرت علیؓ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں

یہاں ’’لا نبي بعدي‘‘ محض ایک خبری جملہ نہیں بلکہ ختمِ نبوت کا ایسا دوٹوک اعلان ہے جس میں بعدیت کی مکمل نفی موجود ہے؛ یعنی آپ ﷺ کے بعد نبوت کا کوئی امکان نہیں۔

ایک دوسرے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے سابقہ انبیاء اور اپنی بعثت کی مثال ایک خوب صورت عمارت سے دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ گزشتہ انبیاء کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک حسین و جمیل عمارت بنائی، مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ باقی رہ گئی۔ لوگ اس عمارت کو دیکھ کر تعجب کرتے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: فَأَنَا اللَّبِنَةُ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ میں وہ آخری اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں
اس مثال میں ختمِ نبوت کا ایک نہایت لطیف پہلو سامنے آتا ہے۔ نبوت کی عمارت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہونے والے سلسلے میں مختلف انبیاء کے ذریعے قائم ہوتی رہی، مگر اس کی تکمیل محمد مصطفیٰ ﷺ پر ہوئی۔ جب آخری اینٹ اپنی جگہ رکھ دی گئی تو عمارت مکمل ہوگئی؛ اب کسی نئی اینٹ کی ضرورت نہیں رسول اللہ ﷺ نے اپنی ایک صفت ’’العاقب‘‘ بھی بیان فرمائی:وَأَنَا الْعَاقِبُ اور عاقب کی تشریح یہ کی گئی کہ وہ ذات جس کے بعد کوئی نبی نہیں اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ میرے ذریعے انبیاء کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔‘‘

ان احادیث کو سامنے رکھا جائے تو یہ حقیقت بالکل روشن ہوجاتی ہے کہ نبوت کا ہر قسم کا دروازہ آپ ﷺ کے بعد بند ہوا، نہ کہ صرف شریعت لانے والی نبوت کا؛ کیونکہ خود آپ ﷺ نے نبی کی نفی فرمائی ہے۔

یہاں ایک اہم غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے۔ بعض لوگ الہام کشف خواب یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی بندے کے دل میں کسی خیر کی بات ڈالے جانے کو نبوت کے مفہوم سے خلط ملط کردیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے واضح فرمایا کہ نبوت کے اختتام کے بعد مومنین کے لیے سچے خواب اور بشارتیں باقی رہ سکتی ہیں، مگر وہ نبوت نہیں ہوتیں۔

نبوت اور صالح خواب میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ خواب کسی شخص کے لیے ذاتی بشارت ہوسکتا ہے، مگر اس سے کوئی نئی شریعت، نیا عقیدہ، نئی وحی یا امت کے لیے نیا دینی حکم ثابت نہیں ہوسکتا۔ ختمِ نبوت کا مطلب یہی ہے کہ تشریعی و نبوی سلسلہ محمد ﷺ پر مکمل ہوچکا۔

رسول اللہ ﷺ نے امت کو مستقبل کے فتنوں سے بھی خبردار فرمایا اور بتایا کہ قیامت سے پہلے بہت سے جھوٹے مدعیانِ نبوت اٹھیں گے، ہر ایک اپنے آپ کو اللہ کا رسول قرار دے گا۔

یہ پیشن گوئی تاریخ میں بار بار پوری ہوئی۔ اس لیے ختمِ نبوت کی حفاظت صرف ایک نظری بحث نہیں، بلکہ امت کی فکری حفاظت کا مسئلہ بھی ہے۔ جو شخص نبوت کے نام پر کوئی نیا دعویٰ پیش کرے، اس کا دعویٰ سب سے پہلے قرآن کے اس اعلان سے ٹکراتا ہے کہ محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں، پھر ان احادیث سے ٹکراتا ہے جن میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘
اسی لیے صحابۂ کرامؓ کے دور میں جب جھوٹے مدعیانِ نبوت سامنے آئے تو امت نے اسے معمولی اختلاف یا فقہی نزاع نہیں سمجھا؛ بلکہ اسے ایمان کی بنیاد سے متعلق فتنہ سمجھا۔ یہاں سے تاریخ کا اگلا باب کھلتا ہے، جہاں صدیقِ اکبرؓ نے امت کے سامنے عملی طور پر یہ ثابت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نئے دعوائے نبوت کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔

رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد عرب کی سرزمین پر ایک ایسا طوفان اٹھا جس میں کئی قبائل مرتد ہوئے، بعض نے زکوٰۃ سے انکار کیا اور بعض علاقوں میں جھوٹے مدعیانِ نبوت نے اپنی آواز بلند کردی۔ ان فتنوں میں سب سے نمایاں نام مسیلمہ کذاب کا تھا، جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور ایک بڑی جماعت کو اپنے گرد جمع کرلیا یہ وہ نازک مرحلہ تھا جب بعض صحابہؓ کو اندیشہ تھا کہ اگر ایک ساتھ کئی محاذ کھولے گئے تو نوخیز اسلامی ریاست کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مگر حضرت ابوبکر صدیقؓ کی نگاہ میں رسول اللہ ﷺ کے چھوڑے ہوئے دین کے کسی بنیادی حکم میں تفریق قبول کرنا ممکن نہ تھا۔

حضرت ابوبکرؓ نے ان لوگوں کے خلاف بھی اقدام کا فیصلہ کیا جو نماز پڑھتے تھے مگر زکوٰۃ دینے سے انکار کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے ابتدا میں اس معاملے پر سوال کیا، لیکن حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! جو شخص نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا، میں اس سے ضرور مقابلہ کروں گا۔

مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگِ یمامہ اسی تاریخی کشمکش کا ایک فیصلہ کن مرحلہ تھی۔ اس معرکے میں قرآن کے بہت سے حفاظ و قراء شہید ہوئے، جس کے بعد حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ کو قرآن کریم کو ایک جگہ جمع کرنے کی طرف متوجہ کیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ کو یہ عظیم ذمہ داری سونپی، اور یوں قرآن کریم کی حفاظت کا ایک اہم انتظام وجود میں آیا۔

یمامہ کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ عقیدہ صرف کتابوں کے صفحات میں محفوظ رکھنے کی چیز نہیں؛ کبھی حالات ایسے آتے ہیں جب ایک پوری نسل کے ایمان کی حفاظت کے لیے عزم، بصیرت اور قربانی درکار ہوتی ہے۔ صدیقِ اکبرؓ نے یہ ذمہ داری پوری کی اور امت کو یہ پیغام دیا کہ محمد ﷺ کے بعد دین کی حفاظت کسی نئے مدعی کے ہاتھ میں نہیں بلکہ قرآن و سنت کی محفوظ تعلیمات سے وابستہ ہے۔
صحابۂ کرامؓ کے اس طرزِ عمل کے بعد امت کی علمی تاریخ نے بھی اسی عقیدے کو منتقل کیاامامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:مَنْ طَلَبَ مِنْهُ عَلَامَةً فَقَدْ كَفَرَ، لِقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: لَا نَبِيَّ بَعْدِي ترجمہ: جو شخص مدعیِ نبوت سے دلیل یا نشانی طلب کرے، وہ کافر ہوگیا؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "میرے بعد کوئی نبی نہیں محدثین نے احادیثِ ختمِ نبوت کو روایت کیا، مفسرین نے ’’خاتم النبیین‘‘ کی تفسیر کی، فقہاء نے اس عقیدے کی اہمیت بیان کی اور متکلمین نے اس پر دلائل قائم کیے۔ صدیوں تک یہ عقیدہ امت کے اندر اس قدر بدیہی رہا کہ اس کے لیے کسی مستقل تحریک کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔

لیکن جب برصغیر میں ایک شخص نے جو کہ عقل کا بھی کورا تھا آنکھوں کے اعتبار سے دجالی مائل تھا انگریز کے ملازم نےنبوت کے دعوے کو نئی تعبیرات اور تاویلات کے پردے میں پیش کیا تو علماء نے محسوس کیا کہ اب اس مسئلے کو محض عمومی تعلیم کے ذریعے نہیں چھوڑا جاسکتا؛ بلکہ قرآن، حدیث، اجماع اور عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ اس فتنے کا علمی تعاقب ضروری ہے۔
یہی وہ تاریخی مرحلہ تھا جہاں برصغیر کے اکابر علماء سامنے آئے۔ کسی نے قلم اٹھایا، کسی نے مناظرہ کیا، کسی نے کتاب لکھی، کسی نے عدالت میں گواہی دی، کسی نے منبر کو علمی مورچہ بنایا اور کسی نے اپنی پوری زندگی اس عقیدے کی حفاظت کے لیے وقف کردی۔

برصغیر میں فتنۂ قادیانیت کے ظہور کے ساتھ علماءِ امت نے اس حقیقت کو محسوس کیا کہ یہ محض کسی ایک شخص کے دعوے کا مسئلہ نہیں، بلکہ عقیدۂ ختمِ نبوت کے بنیادی مفہوم کو متزلزل کرنے کی کوشش ہے۔ چنانچہ علمائے لدھیانہ سے لے کر مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، پیر مہر علی شاہؒ، مولانا محمد علی مونگیریؒ، مولانا اشرف علی تھانویؒ اور دوسرے اکابر تک ایک طویل علمی سلسلہ سامنے آیا اس علمی جدوجہد کا ایک درخشاں باب حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کی شخصیت ہے۔ ان کی زندگی کے آخری دور میں ختمِ نبوت کا مسئلہ ان کی علمی ترجیحات میں نمایاں ہوگیا۔ انہوں نے اس موضوع پر تصانیف لکھیں، دلائل جمع کیے اور اپنے تلامذہ کو بھی اس میدان کی اہمیت کی طرف متوجہ کیا۔ ان کی تصانیف میں خاتم النبیین، اکفار الملحدین، التصریح بما تواتر فی نزول المسیح اور دیگر کتب کا ذکر ملتا ہے مقدمۂ بہاول پور اس جدوجہد کا ایک تاریخی سنگِ میل بنا۔ مولانا انور شاہ کشمیریؒ شدید علالت کے باوجود اس مقدمے کے لیے بہاول پور پہنچے۔ تاریخ گواہ ہے آپ نے اپنے دوسرے سفری پروگرام ملتوی کیے اور یہ احساس ظاہر کیا کہ اگر ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے یہاں ضرورت ہے تو اسی خدمت کو اپنے لیے باعثِ نجات سمجھتے ہیں۔
یہ صرف ایک عالم کا عدالت میں پہنچ جانا نہیں تھا؛ یہ اس دور کے علماء کے احساسِ ذمہ داری کی تصویر تھی۔ ایک طرف جسمانی ضعف اور بیماری، دوسری طرف ایک ایسے مسئلے کی اہمیت جسے وہ حضور اکرم ﷺ کے منصبِ ختمِ نبوت کے تحفظ سے متعلق سمجھتے تھے۔

مقدمۂ بہاول پور میں مولانا کشمیریؒ نے قرآن، حدیث، عربی لغت، تفاسیر اور اسلامی عقائد کے ذخیرے سے دلائل پیش کیے۔ ان کی علمی تیاری اتنی وسیع تھی کہ یہ مقدمہ محض قانونی کارروائی نہ رہا بلکہ ایک عظیم علمی مجلس کی صورت اختیار کرگیا۔ اس موقع پر ان کا طویل قیام اور مسلسل علمی گفتگو ان کی غیر معمولی محنت کی علامت تھی ان کی علمی جدوجہد کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ انہوں نے مسئلے کو صرف نعروں تک محدود نہیں رکھا۔ ان کے ہاں قرآن کی نص، حدیثِ نبوی، اجماعِ امت، لغتِ عرب، تفسیری روایت اور کلامی استدلال سب ایک مربوط علمی نظام کا حصہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تصانیف آج بھی ختمِ نبوت کے موضوع پر علمی ذخیرے میں اہم مقام رکھتی ہیں۔

پیر مہر علی شاہؒ نے بھی اپنے علمی مقام کے مطابق قادیانیت کا مقابلہ کیا۔ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ نے قلم اور مناظرے دونوں میدانوں میں غیر معمولی سرگرمی دکھائی۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ اور دوسرے اکابر نے عوام اور خواص دونوں کے لیے اس عقیدے کی علمی تشریح کی۔ اس پوری جدوجہد میں ایک بات مشترک تھی: عقیدۂ ختمِ نبوت کو دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا صحت تندرستی ضعف بیماری حادث بدن سے خون جاری ہے اس حال میں منظور احمد چنیوٹییؒ نے وہ مثال قائم کر دی جو صدیوں تک یاد رکھے جائے گی

لیکن علم کا اثر اس وقت وسیع ہوتا ہے جب وہ عوام تک پہنچے۔ یہی ضرورت آگے چل کر ایک ایسے خطیب کی صورت میں پوری ہوئی جس کی آواز برصغیر کے طول و عرض میں گونجی اور جس نے منبر کو ختمِ نبوت کے دفاع کا ایک مؤثر ذریعہ بنا دیا: امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اگر مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے ختمِ نبوت کے علمی دلائل کو مضبوط کیا تو سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے ان دلائل کی آواز کو عوام کے دلوں تک پہنچانے میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ ان کی خطابت میں تاثیر، برجستگی، جرأت اور دینی حمیت جمع ہوگئی تھی۔ ان کی سوانح نگاری میں ان کی طویل قید و بند اور فتنۂ قادیانیت کے خلاف مسلسل جدوجہد کا ذکر ملتا ہے 1930ء کے ایک اجتماع میں مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے تحفظِ ختمِ نبوت کے میدان میں سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو آگے بڑھنے کی ذمہ داری سونپنے کا اعلان کیا۔ بعد کے برسوں میں بخاریؒ نے اسی میدان میں اپنی غیر معمولی خطابت اور تنظیمی صلاحیت صرف کردی ان کی خطابت کا ایک نمایاں وصف یہ تھا کہ وہ عقیدے کو محض خشک علمی اصطلاح نہیں بننے دیتے تھے۔ وہ سامعین کو سمجھاتے کہ ختمِ نبوت دراصل حضور اکرم ﷺ سے وفاداری، محبت اور نسبتِ ایمانی کا تقاضا ہے۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ اگر کوئی شخص نبوت کے دروازے کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کرے تو مسلمان کے لیے خاموش تماشائی بن جانا ممکن نہیں ان کے خطابات میں طنز، برجستگی اور خطیبانہ بانکپن بھی تھا، مگر اصل قوت ان کے عقیدے کی پختگی اور علمی یقین میں تھی۔ انہوں نے طویل قید و بند برداشت کی، مگر اس جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے

ان کی ایک معروف تقریر میں یہ مضمون ملتا ہے کہ فرض کرلیجیے کسی مدعی میں دنیاوی اعتبار سے کوئی کمی نہ ہوتی، حسن، ذہانت، شجاعت اور خطابت سب کچھ ہوتا، تب بھی محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد کسی انسان کے لیے نبوت کا مقام حاصل کرنا ممکن نہیں؛ اصل مسئلہ شخصیت کا حسن یا عیب نہیں، بلکہ خاتم النبیین ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہونا ہے اس لیے ہمیں بھی اس معاملے میں غور کرنا ہے کہ کوئی کرامتوں کو ظاہر کر دے کوئی ولایت کے دعووں کی بوچھاڑ کر دے کوئی کسی بھی اعتبار سے اپنے کمالات کا اظہار کر دے تب بھی وہ نبی نہیں ہو سکتا

اسی لیے ان کی دعوت کا بنیادی مرکز یہ تھا کہ مسلمان اپنے نبی ﷺ کی آخری نبوت کو سمجھیں اور اس کے خلاف اٹھنے والے ہر فکری شبہے کا علمی جواب حاصل کریں۔

لیکن اس جدوجہد کا ایک دوسرا رخ بھی تھا: قید، تکلیف اور ذاتی نقصان۔ ختمِ نبوت کے مجاہدین نے یہ کام محض تقریری میدان میں نہیں کیا؛ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے اپنی اولاد، گھر، آرام اور ذاتی زندگی تک کو اس مقصد کے لیے قربان کیا۔ انہی میں مولانا غلام غوث ہزارویؒ کا کی زندگی غیر معمولی طور پر دل ہلا دینے والا ہے، جس کا تذکرہ تاریخِ تحفظِ ختمِ نبوت میں ایک مثال کے طور پر ملتا ہے۔

مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی زندگی میں تحفظِ ختمِ نبوت کے لیے عزم و ایثار کے متعدد واقعات بیان کیے جاتے ہیں، لیکن ان کے صاحبزادے سے متعلق واقعہ خاص طور پر دل کو متاثر کرتا ہے ان کا اکلوتا صاحبزادہ شدید بیمار تھا اور زندگی کے آثار ماند پڑ رہے تھے۔ اسی دوران ایک قادیانی مبلغ سے مناظرے کا وقت مقرر تھا۔ مولانا صاحب گھر سے اس حالت میں روانہ ہوئے کہ بیٹا زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا۔ راستے میں انہیں خبر ملی کہ صاحبزادہ انتقال کرگیا۔ انہوں نے ’’إنا لله وإنا إليه راجعون‘‘ پڑھا اور گھر والوں کو تدفین کا انتظام کرنے کے لیے کہا، جبکہ خود مقررہ مناظرے کے لیے روانہ ہوگئے۔ اس روایت میں ان کا یہ احساس نقل کیا گیا ہے کہ اگر اس موقع پر مناظرے سے پیچھے ہٹنے سے لوگوں کے گمراہ ہونے کا اندیشہ ہو تو اس ذمہ داری کو ادا کرنا ضروری ہے اور ہمیں یہ سبق دے کر گئے اور زبان حال سے ہم کو یہ کہہ رہے تھے کہ نبی کی ختم نبوت پر زد آئے اور ہم اپنے کاروبار میں مصروف رہیں نبی کی ختم نبوت پر زدہ آئے اور میں اپنے بیوی بچوں میں مصروف رہوں یہ ہے عاشق رسول کی علامت نہیں ہو سکتے

اس واقعہ میں ایک امتی کی ذمہ داری کا تصور سامنے آتا ہے۔ ظاہر ہے کہ شریعت میں نمازِ جنازہ اور تدفین کی اپنی اہمیت ہے، مگر اس واقعے کے راوی جس احساسِ ذمہ داری کو بیان کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ انہوں نے ختمِ نبوت کے دفاع کو اپنی دینی زندگی کا ایسا مقصد بنا لیا تھا جس سے دست برداری انہیں ممکن نہ محسوس ہوئی۔ یہی ایثار کسی تحریک کو محض نعرہ نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے تاریخ کا حصہ بناتا ہے۔

اسی سلسلے میں مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کا نام بھی نہایت نمایاں ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ فتنۂ قادیانیت کے علمی تعاقب، عوامی بیداری اور تحفظِ ختمِ نبوت کی جدوجہد میں صرف کیا۔ ان کی خدمات کا بڑا حصہ تصنیف، تقریر، دعوت اور مسلسل سفر سے وابستہ تھا، حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ ختمِ نبوت کے مناظرے کے لیے سفر پر تھے۔ راستے میں اچانک گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ آپ شدید زخمی ہوکر زمین پر گر پڑے۔ پورے بدن سے خون بہہ رہا تھا، چلنا مشکل تھا، مگر منزل ابھی باقی تھی۔ لوگوں نے کہا: "حضرت! آپ کی حالت بہت خراب ہے، آپ کو پہلے علاج کی ضرورت ہے۔” مگر حضرت چنیوٹیؒ نے فرمایا کہ مجھے لٹا کر لے چلو، میں چل نہیں سکتا۔ چنانچہ آپ کو لٹا کر اٹھایا گیا اور اسی زخمی حالت میں مناظرے کے مقام تک پہنچایا گیا۔ ذرا تصور کیجیے! جسم زخمی، کپڑے خون سے تر، چلنے کی طاقت نہیں، لیکن زبان پر ختمِ نبوت کے دلائل! آپ نے اسی حالت میں تقریباً تین گھنٹے ختمِ نبوت کا مناظرہ کیا۔ خون بہتا رہا، جسم درد میں تڑپتا رہا، لیکن ختمِ نبوت کا مشن جاری رہا۔ مناظرہ ختم ہوا تو لوگوں نے عرض کیا: "حضرت! آپ کا بہت خون بہہ گیا ہے، آپ تو بہت بیمار ہوگئے ہیں!” حضرت چنیوٹیؒ نے جواب دیا: "خون بہہ جائے تو غنیمت ہے! جس نبی ﷺ کے صدقے میں مجھے یہ خون ملا ہے، اگر اسی نبی ﷺ کے نام پر بہہ رہا ہے تو یہ میرے لیے باعثِ فخر ہے۔” یہ جواب بتاتا ہے کہ ختمِ نبوت ان کے لیے محض ایک موضوع نہیں، بلکہ زندگی کا مقصد تھا۔ پھر اسی جذبے کا ایک اور ایمان افروز منظر دیکھیے۔ حادثے اور تکلیف کے بعد جب آپ کی والدہ محترمہ نے بیٹے کو اس حالت میں دیکھا تو ماں کی محبت بے قرار ہوگئی۔ انہوں نے کہا: "بیٹا! میری زندگی تک تو اپنے آپ کو میرے حوالے کر دے۔” ماں کا یہ درد فطری تھا، مگر حضرت چنیوٹیؒ نے انتہائی ادب سے عرض کیا: "اماں جان! ان ماؤں کو یاد کرو جو اپنے بیٹوں کے سروں پر ہاتھ رکھ کر انہیں شہادت کی دعائیں دے کر رخصت کرتی تھیں۔ اماں! اگر آپ میری ہمت توڑ دیں گی تو میں آگے کیسے بڑھوں گا؟” یہ تھے وہ لوگ جنہوں نے اپنے آرام سے زیادہ ختمِ نبوت کے مشن کو اہم سمجھا۔ آج سوال ہم سے ہے! وہ خون میں لت پت ہوکر بھی مناظرے کے لیے پہنچ گئے، ہم صحت مند ہوکر ختمِ نبوت کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ وہ تین گھنٹے زخمی جسم کے ساتھ دلائل دیتے رہے، ہم چند منٹ اس عقیدے کو پڑھنے کے لیے نکال سکتے ہیں؟ وہ اپنے خون کو نبی کریم ﷺ کے نام پر بہنے پر فخر سمجھتے تھے، کیا ہمارے دل میں بھی ختمِ نبوت کی وہی تڑپ ہے؟ زخم آئے، مگر قدم نہ رکے۔ خون بہا، مگر مشن نہ رکا۔ جسم زخمی تھا، مگر ختمِ نبوت کا جذبہ زندہ تھا۔ وہ بستر اور خون کی تکلیف بھول گئے، مگر تاجدارِ ختمِ نبوت ﷺ کا دفاع نہ بھولے۔
یہ تاریخ صرف برصغیر تک محدود نہیں رہی۔ وقت کے ساتھ مسلمانوں کی نئی بستیاں دنیا کے مختلف خطوں میں قائم ہوئیں، افریقہ، یورپ اور دوسرے ممالک میں اسلام کی دعوت پہنچی اور اسی کے ساتھ وہاں بھی مختلف فکری سوالات پیدا ہوئے۔ چنانچہ ختمِ نبوت کے مسئلے پر علمی محنت کا دائرہ بھی عالمی سطح تک پھیل گیا۔
افریقہ میں بعض مسلم معاشروں میں قادیانی جماعت کی دعوت اور اس کے مذہبی دعووں کے مقابلے میں علماء نے علمی اور دعوتی سطح پر کام کیا۔ جنوبی افریقہ میں مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی علمی خدمات کے ضمن میں قادیانی مسئلے سے متعلق عدالتی و علمی کارروائیوں کا ذکر ملتا ہے، جہاں اسلامی عقائد اور ختمِ نبوت کے موقف کو علمی دلائل کے ساتھ واضح کیا گیا۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ختمِ نبوت کا دفاع کسی ایک ملک یا ایک زمانے کی ضرورت نہیں، بلکہ جہاں جہاں مسلمان رہتے ہیں وہاں اس عقیدے کی صحیح تفہیم ضروری ہے۔

یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ہے: عالمی سطح پر اس عقیدے کا دفاع صرف مناظرے کے ذریعے نہیں ہوتا یوٹیوب یا انسٹاگرام کے کسی ویڈیو پر کمنٹس کرنے سے نہیں ہوتا۔ کہیں عدالت میں علمی دلیل کی ضرورت ہوتی ہے، کہیں یونیورسٹی میں تحقیق کی، کہیں مسجد میں درس کی، کہیں مدرسے میں تخصص کی، کہیں گھر میں بچے کے سوال کا جواب دینے کی، اور کہیں انٹرنیٹ پر پھیلائے گئے کسی شبہے کی علمی تردید کے اندر میں ہوتا ہے جس جگہ سے فتنہ آئے اسی جگہ اسی مقام پر ہمیں لپک کر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے

اسی لیے اکابر کی قربانیوں کا اصل تقاضا یہ نہیں کہ ہم صرف ان کے واقعات سن کر جذباتی ہوجائیں؛ اصل تقاضا یہ ہے کہ ان کے چھوڑے ہوئے علمی ورثے کو سمجھیں، پڑھیں اور نئی نسل تک منتقل کریں۔ آج کا میدان بدل گیا ہے، مگر عقیدے کی حفاظت کی ضرورت باقی ہے۔

ختمِ نبوت کی تاریخ ہمیں صرف یہ نہیں بتاتی کہ ہمارے نبی ﷺ آخری نبی ہیں؛ یہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ اس آخری نبوت کی امانت اب ہمارے ہاتھ میں ہے انور شاہ کشمیریؒ نے قلم سے اس امانت کی حفاظت کی، عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے منبر سے اس کی آواز بلند کی، غلام غوث ہزارویؒ اور منظور احمد چنیوٹیؒ جیسے اکابر نے اپنی زندگیاں اس جدوجہد میں صرف کیں، اور بے شمار علماء نے تدریس، تصنیف، مناظرہ، دعوت اور قربانی کے مختلف میدانوں میں اپنا حصہ ادا کیا۔ ان سب کی زندگیوں کا مشترک پیغام یہی تھا کہ عقیدہ صرف جاننے کی چیز نہیں، محفوظ رکھنے کی بھی ذمہ داری ہے۔
آج یہ ذمہ داری مزید نازک ہوگئی ہے۔ پہلے ایک شخص کو کسی شبہے تک پہنچنے کے لیے کتاب تلاش کرنا پڑتی تھی؛ آج ایک مختصر ویڈیو، ایک سوشل میڈیا پوسٹ یا چند جملوں پر مشتمل ایک گمراہ کن تحریر ہزاروں لوگوں تک چند لمحوں میں پہنچ جاتی ہے۔ اس لیے آج کے مسلمان کے لیے صرف عقیدہ جان لینا کافی نہیں، بلکہ اپنے عقیدے کی بنیادی دلیل اور اس کے مستند مآخذ سے واقف ہونا بھی ضروری ہے۔

والدین کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو محض نماز، روزہ اور چند دعائیں ہی نہ سکھائیں بلکہ انہیں یہ بھی سمجھائیں کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کون ہیں، خاتم النبیین کا کیا مطلب ہے، اور آپ ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کا دعویٰ کیوں باطل ہے۔ بچے جب سوال کریں تو انہی ڈانٹ کر خاموش کرنے کے بجائے محبت، حکمت اور دلیل سے سمجھایا جائے۔

اساتذہ اور ائمہ کی ذمہ داری اس سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ مسجد کے منبر اور مدرسے کے درس میں عقیدۂ ختمِ نبوت کو محض ایک رسمی عنوان کے طور پر نہیں بلکہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس طرح سمجھایا جائے کہ طالب علم اسے دلیل کے ساتھ جانتا ہو۔ علماء کو چاہیے کہ جدید شبہات سے واقف ہوں، کیونکہ آج فتنہ ہمیشہ کھلے ہوئے دعوے کی صورت میں نہیں آتا؛ کبھی وہ الفاظ کی تاویل، کبھی روحانی دعوے، کبھی فلسفیانہ اصطلاح اور کبھی تاریخی اعتراض کے پردے میں سامنے آتا ہے۔

خواتین اور بچیوں کی دینی تعلیم بھی اس سلسلے میں نہایت اہم ہے۔ گھر کی فکری فضا میں ماں کا کردار بنیادی ہوتا ہے۔ اگر گھر کی عورت عقیدہ، سیرت اور دینی بنیادیات سے واقف ہو تو وہ بچوں کے ذہن میں پیدا ہونے والے بہت سے سوالات کا ابتدائی اور مضبوط جواب بن سکتی ہے۔

نوجوانوں کے لیے ذمہ داری سب سے زیادہ اہم ہے۔ انہیں چاہیے کہ سوشل میڈیا پر ہر مذہبی دعوے کو فوراً قبول نہ کریں، نہ ہی غیر مستند مقررین اور نامعلوم صفحات کو دینی مرجع سمجھیں۔ قرآن و حدیث کے مسائل میں معتبر علماء اور مستند کتابوں کی طرف رجوع کریں۔ جو سوال سمجھ میں نہ آئے اسے چھپانے کے بجائے اہلِ علم سے پوچھیں؛ کیونکہ سوال کا صحیح جواب مل جانا شبہے کے باقی رہ جانے سے کہیں بہتر ہے۔

بیرونِ ملک رہنے والے مسلمانوں کے لیے بھی یہی ذمہ داری ہے۔ جہاں مستند دینی مراکز کم ہوں وہاں آن لائن معتبر علماء، مستند کتب اور علمی اداروں سے وابستگی اختیار کی جائے۔ دیہات اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں تک بھی بنیادی عقائد کی تعلیم پہنچانا ضروری ہے، کیونکہ فتنہ جغرافیہ نہیں دیکھتا۔

اور علماء کے لیے ایک اور بڑی ذمہ داری ہے: آج کے نوجوان کے سوال کو اس کے اپنے ذہنی پس منظر میں سمجھنا۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ’’یہ عقیدہ ہے، بس مان لو‘‘؛ بلکہ قرآن دکھایا جائے، حدیث سمجھائی جائے، تاریخ بتائی جائے، شبہے کا تجزیہ کیا جائے اور پھر اس کے جواب کی علمی بنیاد واضح کی جائے۔ یہی افہام و تفہیم کا وہ راستہ ہے جس سے عقیدہ دل میں اترتا اور نسل میں منتقل ہوتا ہے۔آج عقیدۂ ختمِ نبوت کو درپیش چیلنج صرف مرزائیت تک محدود نہیں رہا، بلکہ مختلف علاقوں اور مختلف ناموں سے متعدد فکری و روحانی فتنے سامنے آئے ہیں۔ ان میں فتنۂ قادیانیت (مرزائیت)، فتنۂ شکیل بن حنیف، فتنۂ گوہر شاہی، فتنۂ فیاض اور بعض دوسرے جدید روحانی دعوے اور باطنی تحریکیں قابلِ ذکر ہیں۔ ان سب کے دعوے اور منہج یکساں نہیں، اس لیے ہر ایک کا حکم اور تجزیہ اس کے اپنے بنیادی عقائد و دعووں کی روشنی میں کیا جانا چاہیے؛ تاہم ختمِ نبوت کے باب میں جہاں کسی شخص یا جماعت کی طرف سے نبوت، نبوت سے مشابہ منصب، یا ایسا خصوصی الہامی مقام منسوب کیا جائے جو ختمِ نبوت کے قطعی مفہوم سے متصادم ہو، وہاں مسلمان کے لیے اس عقیدے کی صحیح معرفت اور اہلِ علم سے رجوع ناگزیر ہے۔

خصوصاً شکیل بن حنیف کے متعلق اہلِ علم نے ان کے مسیح و مہدی ہونے سے متعلق دعووں پر تفصیلی تنقید کی ہے، جبکہ گوہر شاہی سے منسوب بعض عقائد و دعوے بھی علماء کے ہاں مستقل علمی نقد کا موضوع رہے ہیں۔ اسی طرح فیاض سے منسوب فتنوی افکار بھی ختمِ نبوت کے حوالے سے تحقیق اور تنبیہ کا تقاضا کرتے ہیں۔ اس لیے آج تحفظِ ختمِ نبوت کا مطلب صرف مرزا غلام احمد قادیانی کی تاریخ پڑھ لینا نہیں، بلکہ ان نئے فتنوں کو بھی پہچاننا ہے جو کبھی ’’مسیح‘‘، کبھی ’’مہدی‘‘، کبھی ’’روحانی رہنما‘‘ اور کبھی کسی اور مذہبی اصطلاح کے پردے میں لوگوں کے عقائد کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

فتنے کا نام بدل سکتا ہے، لباس بدل سکتا ہے، زبان بدل سکتی ہے، طریقۂ تبلیغ بدل سکتا ہے؛ مگر قرآن کا فیصلہ نہیں بدلتا: وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ اور وہ آخری نبی ہیں اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان اس باب میں ہمیشہ کے لیے میزان ہے:لَا نَبِيَّ بَعْدِي میرے بعد کوئی نبی نہیں لہٰذا نئی نسل کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ ’’قادیانیت باطل ہے‘‘؛ بلکہ اسے یہ بھی سکھانا ہوگا کہ نئے فتنوں کی نئی اصطلاحات کو کیسے پہچانا جائے، دعوے کو کیسے پرکھا جائے، اور عقیدۂ ختمِ نبوت کی قطعی بنیادوں سے کیسے وابستہ رہا جائے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تحفظِ ختمِ نبوت کا مطلب بدزبانی، اشتعال، ظلم یا کسی فرد کے ساتھ ناانصافی نہیں۔ اسلام دلیل، عدل اور حکمت کا دین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اس لیے عقیدے کا دفاع علمی بھی ہو، اخلاقی بھی؛ مضبوط بھی ہو اور منصفانہ بھی۔ ہمیں اکابر سے صرف ان کا جوش نہیں، ان کا علم، ان کی بصیرت، ان کا صبر اور ان کی دینی ترجیحات بھی ورثے میں لینی ہیں۔

ختمِ نبوت کی تاریخ میں قربانیوں کے ابواب بہت ہیں، مگر ہر باب کا آخری سوال ہمارے سامنے آکر ٹھہر جاتا ہے: ہم نے اپنے زمانے کے لیے کیا کیا؟

صدیقِ اکبرؓ کی استقامت، انور شاہ کشمیریؒ کا علم، عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی خطابت، غلام غوث ہزارویؒ کا ایثار اور منظور احمد چنیوٹیؒ کی مسلسل جدوجہد ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ ایمان کی امانت نسل در نسل منتقل کرنے کے لیے ہر دور میں نئے انداز سے محنت کرنی پڑتی ہے ہر طبقے کے لیے محنت کی ضرورت ہے مزدوروں میں محنت کا مشن بنایا جائے ملازمین میں محنت کا طریقہ سوچا جائے طلبہ اور طالبات میں محنت کی پلاننگ کی جائے اکابر علماء کو سامنے رکھا جائے ان کی زندگی کو پڑھا جائے اس میں غور کیا جائے موجودہ اکابر سے سے مشورہ کیا جائے خاص کر جدت کے ڈسے لوگوں کے خیالات سے نسل نوح کی خوب حفاظت کی جائے اور یہ بتایا جائے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں یہ یقین ہمارے لیے صرف ایک عقیدہ نہیں؛ یہ ہماری شناخت، ہماری وفاداری اور ہماری نسلوں کی امانت ہے۔

اس موقع پر میں وہ ملفوظ کیسے بھول سکتا ہوں جسے مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ فرمایا کرتے تھے کہ پہلے زمانے میں اگر کوئی شخص مرتد ہوجاتا تو اس کے ارتداد کا پتہ چل جاتا تھا؛ لیکن آج صورتِ حال کہیں زیادہ نازک ہے۔ ایک شخص ہمارے ہی گھر میں رہتا ہو، ہمارے ساتھ کھاتا پیتا ہو، ہمارے سامنے اٹھتا بیٹھتا ہو، مگر اس کے ذہن میں کوئی باطل فکر خاموشی سے جگہ بناچکی ہو اور گھر والوں کو اس کا احساس تک نہ ہو۔ وہ قادیانیت سے متاثر ہوچکا ہو، شکیلیت کا شکار ہو، گوہر شاہیت سے متاثر ہو، غامدی افکار اس کے ذہن کو مسموم کرچکے ہوں یا کسی دوسرے جدید فکری فتنے کے زیرِ اثر آچکا ہو، لیکن باپ کو خبر ہو نہ ماں کو، بھائی کو احساس تک نہ ہو
یہی ہمارے عہد کا سب سے نازک فتنہ ہے کہ فتنے اب ہمیشہ دروازے پر دستک دے کر داخل نہیں ہوتے؛ کبھی کتاب کے صفحات سے، کبھی موبائل کی اسکرین سے، کبھی مختصر ویڈیو سے اور کبھی بظاہر دلکش مذہبی گفتگو کے پردے میں انسان کے ذہن تک پہنچ جاتے ہیں۔ پہلے ارتداد کا اعلان ہوتا تھا، آج بعض اوقات ارتداد سے پہلے ذہن بدلتا ہے، پھر نظریہ بدلتا ہے، پھر عقیدے کی بنیاد متزلزل ہوتی ہے اور آخرکار انسان کو خود معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کس مقام سے کس مقام تک پہنچ گیا۔

اس لیے ختمِ نبوت کی حفاظت صرف یہ نہیں کہ ہم خود ’’محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین‘‘ پر ایمان رکھیں؛ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی نسل کے ایمان کی حفاظت کریں۔ باپ اپنے بیٹے کے فکری سوالات سنے، ماں اپنی بیٹی کے ذہنی رجحانات سے واقف ہو، استاد اپنے شاگرد کے شبہات کو سمجھے، امام و خطیب نئی نسل کی زبان میں عقیدہ سمجھائے، اور علماء جدید فتنوں کے علمی جوابات تیار کریں۔

خاص طور پر نوجوانوں کو یہ شعور دینا ہوگا کہ ہر مذہبی ویڈیو علم نہیں، ہر روحانی دعویٰ حق نہیں، ہر صاحبِ کشف معتبر نہیں، اور ہر خوب صورت عبارت عقیدہ نہیں۔ دین کا معیار قرآن، سنت اور امت کی مستند علمی روایت ہے۔ جس فکر میں ختمِ نبوت کے قطعی عقیدے کو مجروح کرنے کی کوشش ہو، اس سے جذبات نہیں بلکہ علم، دلیل اور بصیرت کے ساتھ نمٹنا ضروری ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ختمِ نبوت ہمارے گھروں میں صرف ایک نعرہ نہ رہے، بلکہ ایک سمجھا ہوا عقیدہ بنے؛ ہماری مساجد میں صرف ایک موضوع نہ رہے، بلکہ ہماری نسلوں کی تربیت کا حصہ بنے؛ اور ہماری کتابوں میں صرف ایک باب نہ رہے، بلکہ ہماری ایمانی شناخت کی زندہ حقیقت بن کر سامنے آئے۔

محمد ﷺ آخری نبی ہیں؛ یہ یقین ہمیں اپنے دل میں بھی محفوظ رکھنا ہے اور اپنی نسل کے دل و دماغ میں بھی۔ فتنے بدلتے رہیں گے، ان کے نام بدلیں گے، طریقۂ تبلیغ بدلیں گے، مگر ختمِ نبوت کی حقیقت کبھی نہیں بدلے گی۔ یہی عقیدہ ہماری سب سے قیمتی امانت ہے، اور اس امانت کی حفاظت ہر دور کے مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

اب ہماری ذمہ داری ہے کہ جو نور ہمیں ملا ہے، اسے بجھنے نہ دیں؛ بلکہ اپنے دل سے اپنے گھر تک، اپنے گھر سے اپنی نسل تک، اور اپنی نسل سے آنے والی نسلوں تک پہنچاتے رہیں۔ یہی اکابر کی قربانیوں کا حقیقی احترام، یہی عقیدۂ ختمِ نبوت کی عملی حفاظت، اور یہی حضور اکرم ﷺ سے ہماری سچی وفاداری کا تقاضا ہے۔

(مآخذ و مراجع

1. القرآن الکریم
2. صحیح البخاری
3. صحیح مسلم
4. تفسیر ابن کثیر
5. تفسیر الطبری
6. تفسیر القرطبی
7. مناقب الإمام الأعظم أبي حنیفہ
8. خاتم النبیین
9. اکفار الملحدین
10. التصریح بما تواتر فی نزول المسیح
11. مقدمۂ بہاولپور
12. احتسابِ قادیانیت
13. تذکرۂ مجاہدینِ ختمِ نبوت
14. حیاتِ امیرِ شریعت
15. حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ )

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے