مہاراشٹرا اور اتراکھنڈ میں ایس آئی آر کے مشاہدات
آیا ’ تلنگانہ میں عوامی بیداری کی ضرورت ہے؟
تحریر: محمد اعجاز الدین احمد عاجزؔ
رابطہ:9700389755
گزشتہ ایک سال سے ہم مسلسل اس بات کی طرف توجہ دلاتے آ رہے ہیں کہ ایس آئی آر محض فہرستِ رائے دہندگان کی معمولی درستی یا ایک انتظامی عمل نہیں، بلکہ اس کے اثرات براہِ راست شہری کے حقِ رائے دہی، اس کی انتخابی شناخت اور جمہوری شرکت سے وابستہ ہیں۔ اسی لیے ہم نے گاہے گاہے اعداد و شمار اور دستیاب ریکارڈ کے ذریعے بھی اس معاملے کی حساسیت کو سمجھانے کی کوشش کی ہے، تاکہ یہ موضوع محض سیاسی بحث یا قیاس آرائیوں تک محدود نہ رہے بلکہ حقائق کی بنیاد پر اس کا جائزہ لیا جائے۔اب جبکہ مہاراشٹرا اور اتراکھنڈ میں ایس آئی آر کے تجربات اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے اعداد و شمار ہمارے سامنے ہیں، اس موضوع کو محض خدشات یا اندیشوں کی سطح پر دیکھنے کے بجائے عملی تجربات اور اعداد و شمار کی روشنی میں سمجھنے کا موقع موجود ہے۔ آج ہم انہی دونوں ریاستوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لے رہے ہیں۔ دونوں ریاستوں کے حالات، آبادیاتی ساخت اور انتظامی صورتِ حال ایک جیسی نہیں، لیکن وہاں سامنے آنے والے نتائج ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ ایس آئی آر کے دوران فہرستِ رائے دہندگان میں کس پیمانے پر تبدیلیاں واقع ہو سکتی ہیں، کن مراحل پر شہریوں کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور دعوے، اعتراضات، تصدیق اور سماعت جیسے مراحل کی اہمیت کیوں بڑھ جاتی ہے۔ان اعداد و شمار کو کسی مخصوص نتیجے کو پہلے سے ثابت کرنے کے لیے پیش کرنا مقصود نہیں۔ مقصد یہ ہے کہ مہاراشٹرا اور اتراکھنڈ کے تجربات سے تلنگانہ کے لیے عملی سبق حاصل کیا جائے اور یہاں کے رائے دہندگان اس عمل کو زیادہ سنجیدگی، تیاری اور باخبر شہری رویے کے ساتھ دیکھیں۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں بڑی تعداد میں رائے دہندگان موجود ہیں، ہر شہری کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے نام، پتے اور انتخابی ریکارڈ کی بروقت جانچ کرے اور کسی بھی نوٹس، دعوے یا اعتراض کو معمولی معاملہ سمجھ کر نظرانداز نہ کرے۔اسی لیے مہاراشٹرا اور اتراکھنڈ کے تجربات محض دو ریاستوں کی کہانی نہیں ہیں؛ یہ تلنگانہ کے رائے دہندگان کے لیے ایک پیشگی سبق اور آنے والے مرحلے کے لیے ایک اہم تنبیہ بھی ہیں۔
مہاراشٹرا: مسلم آبادی والے حلقوں میں اخراج کی بلند شرح
مہاراشٹرا میں ایس آئی آرسے قبل رجسٹرڈ رائے دہندگان کی تعداد 9,78,54,049 تھی، جبکہ مسودۂ فہرستِ رائے دہندگان میں 7,71,65,562 نام شامل ہوئے۔ یوں 2,06,88,487 نام مسودۂ فہرست میں شامل نہیں تھے۔ تاہم اس پورے فرق کو براہِ راست ناموں کے حتمی اخراج سے تعبیر کرنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں مستقل طور پر منتقل ہونے والے، متوفی، غیر حاضر، دہری شمولیت رکھنے والے اور دیگر زمروں کے ریکارڈ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
مہاراشٹرا میں 62,48,281 ریکارڈ ایسے تھے جن میں رشتہ داروں کی تفصیلات میں عدم مطابقت پائی گئی، جبکہ 59,75,726 ریکارڈ ایسے تھے جنہیں سابقہ فہرست میں کسی رشتہ دار کے ریکارڈ سے مربوط نہیں کیا جا سکا۔ اس طرح مجموعی طور پر 1,22,24,007 ریکارڈ مزید جانچ یا تصدیق کے دائرے میں آئے۔ یہاں یہ بات خاص طور پر واضح رہنی چاہیے کہ 1,22,24,007 رائے دہندگان کو غیر اہل قرار نہیں دیا گیا؛ یہ وہ ریکارڈ ہیں جن کے بارے میں مزید تصدیق درکار ہو سکتی ہے۔
مہاراشٹرا کے ان 38 اسمبلی حلقوں کا بھی الگ جائزہ لیا گیا جہاں مسلم آبادی 20 فیصد سے زیادہ ہے۔ ان حلقوں میں تقریباً 37.51 لاکھ رائے دہندگان، یعنی سابقہ تعداد کے 29.77 فیصد، ناقابلِ تصدیق یا ناقابلِ حصول زمرے میں آئے، جبکہ ریاست گیر شرح 21.14 فیصد تھی۔
ان مسلم آبادی والے حلقوں کا سلسلہ وار جائزہ لیا جائے تو بھیونڈی ایسٹ میں 49.10 فیصد، بھیونڈی ویسٹ میں 44.72 فیصد، ممبرا-کلوہ میں 42.91 فیصد، مانخورد-شیواجی نگر میں 42.31 فیصد، چاندیولی میں 41.44 فیصد، سیون-کولیواڑہ میں 40.73 فیصد، پونے کینٹونمنٹ میں 40.36 فیصد، مالاد ویسٹ میں 38.57 فیصد، ممبادیوی میں 38.52 فیصد، ورسوا میں 38.46 فیصد، ناگپور سینٹرل میں 38.01 فیصد، باندرہ ویسٹ میں 37.92 فیصد، کرلا میں 36.37 فیصد، اندھیری ویسٹ میں 36.37 فیصد، بائیکلہ میں 34.88 فیصد، دھاراوی میں 34.55 فیصد، واندرے ایسٹ میں 34.44 فیصد اور اورنگ آباد سینٹرل میں 31.34 فیصد کی شرح نمایاں رہی۔اس کے بعد مالیگاؤں سینٹرل میں 23.46 فیصد، لاتور سٹی میں 11.91 فیصد، بالاپور میں 11.71 فیصد، راور میں 9.91 فیصد اور ملکاپور میں 7.68 فیصد کے اعداد سامنے آتے ہیں۔
یہاں ایک اہم بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ مسلم آبادی کے تناسب اور ناموں کے اخراج کی شرح میں ہر جگہ براہِ راست اور لازمی تعلق نہیں پایا جاتا۔ مثال کے طور پر مالیگاؤں سینٹرل میں مسلم آبادی تقریباً 78.4 فیصد ہے، لیکن مذکورہ شرح 23.46 فیصد رہی، جبکہ نسبتاً کم مسلم آبادی رکھنے والے بعض حلقوں میں یہ شرح کہیں زیادہ ہے۔ اس لیے ان اعداد سے کسی ایک قطعی سبب کا فیصلہ کرنے کے بجائے یہ کہنا زیادہ محتاط ہوگا کہ متعدد مسلم آبادی والے حلقوں میں اخراج یا ناقابلِ تصدیق ریکارڈ کی شرح ریاستی اوسط سے زیادہ رہی، جس کی وجوہ اور انتظامی عوامل مزید تحقیق کا تقاضا کرتے ہیں۔
تقابلی طور پر درج فہرست ذات کے 29 محفوظ اسمبلی حلقوں میں مجموعی شرح 19.61 فیصد اور درج فہرست قبائل کے 25 محفوظ حلقوں میں 13.21 فیصد رہی، جبکہ مسلم آبادی والے 38 حلقوں کی مجموعی شرح 29.77 فیصد تھی۔ یہ فرق بہرحال قابلِ توجہ ہے۔
اتراکھنڈ: حذف، اعتراضات اور مسلم آبادی والے علاقوں کا نمایاں نمونہ
اتراکھنڈ میں ایس آئی آرکی صورتِ حال ایک دوسرے پہلو سے اہمیت اختیار کرتی ہے۔ یہاں ابتدائی مرحلے میں تقریباً 8.25 لاکھ رائے دہندگان کے نام حذف کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ صابر انسٹی ٹیوٹ کے تجزیے میں 8,07,410 ایسے رائے دہندگان کی نشاندہی کی گئی۔ ادارے نے خود واضح کیا کہ یہ حتمی تعداد نہیں بلکہ کم از کم تخمینہ ہے، کیونکہ ریاست کے 12,543 پولنگ حصوں میں سے 415 کا ڈیٹا تجزیے کے وقت دستیاب نہیں تھا۔
اس تجزیے کے مطابق ان رائے دہندگان میں 57.7 فیصد کو مستقل طور پر منتقل شدہ، 20 فیصد کو ناقابلِ سراغ یا غیر حاضر، 14.9 فیصد کو متوفی اور 7.4 فیصد کو پہلے ہی کہیں اور درج شدہ قرار دیا گیا۔ متاثرہ رائے دہندگان میں 52 فیصد خواتین اور 48 فیصد مرد تھے، جبکہ تیسرے صنفی زمرے کے 40 رائے دہندگان بھی شامل تھے۔
مزید قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ اتراکھنڈ کے 70 اسمبلی حلقوں میں سے 45 حلقوں میں حذف شدہ ناموں کی تعداد 2022 کے اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے فرق سے زیادہ تھی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان تمام حذف شدہ ناموں کا انتخابی نتائج سے کوئی براہِ راست تعلق تھا، تاہم یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ بعض حلقوں میں حذف ہونے والے ناموں کی تعداد سیاسی اعتبار سے معمولی نہیں تھی۔
پیئرسن کا شماریاتی تعلق اور 0.84صابر انسٹی ٹیوٹ کے تجزیے میں مسلم آبادی کے تناسب اور ناموں کے اخراج کی شرح کے درمیاناسپئیرمین کا شماریاتی تعلق سامنے آیا- 0.54
خصوصاً 0.84 کا اسپئیرمین تعلق اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مسلم آبادی کے تناسب اور ناموں کے اخراج کی شرح کے درمیان نسبتاً مضبوط شماریاتی وابستگی موجود ہے۔ تاہم خود مطالعے نے بھی یہ احتیاط برقرار رکھی ہے کہ محض شماریاتی تعلق کسی امتیازی کارروائی یا انتظامی بدعنوانی کو قطعی طور پر ثابت نہیں کرتا۔ اعداد و شمار سوال اٹھاتے ہیں، رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں اور مزید تحقیق کا راستہ کھولتے ہیں؛ حتمی نتیجہ بہرحال مکمل شواہد، زمینی حقائق اور انتظامی جانچ کی بنیاد پر ہی اخذ کیا جا سکتا ہے۔
اتراکھنڈ میں فہرستِ رائے دہندگان کی خصوصی نظرثانی کے دوران بڑی تعداد میں رائے دہندگان کے نام خارج کرنے کے لیے اعتراضات دائر کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ریاست کے پانچ اسمبلی حلقوں میں صرف پانچ افراد نے تقریباً 6,500 ناموں کے خلاف اعتراضات جمع کرائے، اور ان اعتراضات میں شامل تمام نام مسلمان رائے دہندگان کے بتائے گئے ہیں۔
کچّھا اسمبلی حلقے میں ایک شخص نے اکیلے 4,855 ناموں کے خلاف اعتراضات دائر کیے، جن میں زیادہ تر یہ وجہ بتائی گئی کہ متعلقہ رائے دہندہ کسی دوسری جگہ پہلے سے رجسٹرڈ ہے۔ گدَرپور میں 670، کھٹیما میں 392، نانک مَتّا میں 353 اور رودرپور میں بھی بڑی تعداد میں ناموں کے خلاف اعتراضات سامنے آئے۔
اس معاملے کا اہم سوال یہ ہے کہ کیا اتنی بڑی تعداد میں اعتراضات کا ایک ہی یا چند افراد کی جانب سے جمع کرایا جانا انتخابی طریقۂ کار کے مطابق مناسب ہے۔ انتخابی ضابطوں کے تحت بوتھ لیول ایجنٹس کی جانب سے جمع کرائی جانے والی درخواستوں کی تعداد کے حوالے سے مختلف ادوار میں الگ الگ حدود مقرر کی گئی ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں درخواستیں دینے کی صورت میں جانچ کا اصول بھی موجود ہے۔
کچھ متاثرہ رائے دہندگان کا کہنا ہے کہ وہ کئی برس سے اتراکھنڈ میں مقیم ہیں، گزشتہ انتخابات میں ووٹ بھی دے چکے ہیں، لیکن انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ ان کے نام خارج کرنے کے لیے اعتراضات دائر کیے گئے ہیں۔ بعض افراد کو اس سلسلے میں سرکاری نوٹس بھی موصول نہیں ہوا تھا۔
دوسری جانب متعلقہ افراد کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی کسی مخصوص برادری کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ ایسے رائے دہندگان کے ناموں کی جانچ کے لیے ہے جو مبینہ طور پر ایک سے زیادہ مقامات پر رجسٹرڈ ہیں۔ انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ محض اعتراض دائر ہونے سے کسی رائے دہندہ کا نام فوری طور پر فہرست سے خارج نہیں کیا جائے گا۔ ہر معاملے میں دستاویزات کی جانچ اور ضرورت پڑنے پر سماعت کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا۔یوں اس پورے معاملے کا حتمی نتیجہ رائے دہندگان کے دعووں، دستاویزات اور انتخابی حکام کی جانچ کے بعد سامنے آئے گا۔ رپورٹ میں اٹھایا گیا بنیادی سوال یہ ہے کہ بڑی تعداد میں ایک جیسے اعتراضات کا ایک محدود تعداد میں افراد کی جانب سے دائر کیا جانا انتخابی عمل کی شفافیت اور غیر جانب داری کے حوالے سے کس حد تک مناسب ہے۔
تلنگانہ کے لیے اصل مرحلہ۔ دعویٰ، اعتراض اور نوٹس کا جواب ۔خاموشی نہیں، بیداری اور عملی اقدام کا وقت
مہاراشٹرا اور اتراکھنڈ کے تجربات کو تلنگانہ کے موجودہ مرحلے کے تناظر میں دیکھا جائے تو اب اصل توجہ دعوے، اعتراض اور نوٹس کے جواب پر مرکوز ہونی چاہیے۔ کسی بھی اہلِ رائے دہندہ کے لیے یہ سوچ کر مطمئن ہو جانا مناسب نہیں کہ میرا نام پہلے بھی ووٹر لسٹ میں تھا، آئندہ بھی برقرار رہے گا۔ ایس آئی آر کا بنیادی مقصد ہی موجودہ انتخابی ریکارڈ کی ازسرِنو جانچ اور تصدیق ہے، اور اس پورے عمل میں شہری کی اپنی بیداری، بروقت توجہ اور فعال شرکت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
تلنگانہ میں اس وقت صورتِ حال کا ایک تشویش ناک پہلو یہ بھی ہے کہ عوام کا ایک بڑا طبقہ اب تک اپنے نام اور متعلقہ کوائف کی جانچ تک نہیں کر سکا۔ بہت سے لوگوں نے نہ آن لائن اپنے ریکارڈ کی تصدیق کی ہے، نہ آف لائن ذرائع سے معلومات حاصل کی ہیں، اور نہ ہی بوتھ لیول آفیسرسے رابطہ کر کے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کے نام کے بارے میں انتخابی ریکارڈ میں کیا صورتِ حال موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دستاویزات کی تیاری اور مطلوبہ ثبوت جمع کرانے کے سلسلے میں بھی عوامی سطح پر وہ سرگرمی اور پیش بندی دکھائی نہیں دیتی جو ایسے حساس عمل کے لیے ضروری ہے۔ یہ بے توجہی بعد کے مرحلے میں غیر ضروری پریشانی، تاخیر اور بعض صورتوں میں اپنے جائز حق کے دفاع میں دشواری کا سبب بن سکتی ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہر اہلِ رائے دہندہ اس معاملے کو محض انتخابی فہرست میں نام کی موجودگی کا معمولی انتظامی مسئلہ نہ سمجھے، بلکہ اسے اپنے حقِ رائے دہی کے تحفظ سے وابستہ ایک اہم شہری ذمہ داری کے طور پر لے۔ اپنے نام، پتے، عمر، خاندان کے دیگر افراد کے اندراج اور متعلقہ کوائف کی بروقت جانچ کی جائے۔ جسے نوٹس موصول ہوا ہے، وہ اسے نظرانداز نہ کرے بلکہ نوٹس کی نوعیت، اس میں اٹھائے گئے سوالات اور جواب دینے کی مقررہ مدت کو پوری سنجیدگی سے سمجھے اور ضروری دستاویزات پہلے ہی مرتب کر لے۔
تلنگانہ کے مسلم آبادی والے علاقوں میں سماجی، ملی اور دینی تنظیموں کے لیے بھی یہ ایک نہایت سنجیدہ اور فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ محض تشویش کا اظہار، بیانات جاری کرنا یا خطرات کی نشاندہی کرنا کافی نہیں؛ ضرورت اس امر کی ہے کہ شعور، دستاویز اور قانونی رہنمائی پر مبنی ایک منظم اور قابلِ عمل نظام قائم کیا جائے۔ ہر محلے اور ہر حساس علاقے میں رضاکاروں کی ایسی ٹیمیں تشکیل دی جا سکتی ہیں جو رائے دہندگان کو اپنے نام اور کوائف کی جانچ میں مدد دیں، نوٹس کی نوعیت سمجھائیں، ضروری دستاویزات کی ترتیب میں رہنمائی کریں، دعویٰ یا اعتراض داخل کرنے کے طریقۂ کار سے واقف کرائیں اور مقررہ تاریخوں کی پابندی کے لیے مسلسل یاد دہانی کراتی رہیں۔
بالخصوص بزرگوں، خواتین، کم خواندہ شہریوں، معذور افراد اور ان خاندانوں کے لیے خصوصی انتظام ناگزیر ہے جو پرانے دستاویزات، سابقہ انتخابی ریکارڈ یا دیگر مطلوبہ ثبوت تک آسانی سے رسائی نہیں رکھتے۔ ایسے افراد کو یہ کام انفرادی طور پر انجام دینے کے لیے چھوڑ دینا مناسب نہیں۔ محلے کی سطح پر رضاکارانہ معاونت کے مراکز قائم کیے جائیں جہاں انہیں احترام، رازداری اور قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے عملی مدد فراہم کی جا سکے۔
جس رائے دہندے کو نوٹس ملا ہے، اسے مقررہ تاریخ پر جواب دینے میں کسی صورت تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ جس کے نام پر اعتراض درج ہوا ہے، اسے اعتراض کی نوعیت اور بنیاد معلوم کر کے اپنے حق میں موجود دستاویزات منظم کرنی چاہییں اور مقررہ سماعت میں بروقت شریک ہونا چاہیے۔ اسی طرح جس شہری کو اپنے نام، پتے یا کسی دوسرے کوائف کے بارے میں کوئی غلطی محسوس ہو، اسے آخری وقت کا انتظار کرنے کے بجائے فوری طور پر متعلقہ انتخابی حکام سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
ملی اور دینی تنظیمیں وکلا، سابق انتخابی اہلکاروں، اساتذہ، سماجی کارکنوں اور دستاویزی امور کے ماہرین کو ساتھ لے کر ضلعی اور حلقہ جاتی سطح پر رہنمائی مراکز قائم کر سکتی ہیں۔ ان مراکز کا مقصد سیاسی جماعتوں کا متبادل بننا نہیں، بلکہ شہریوں کو انتخابی عمل اور قانونی طریقۂ کار سمجھانا، ان کی دستاویزی تیاری میں مدد کرنا اور جہاں ضرورت ہو وہاں مناسب قانونی رہنمائی تک رسائی فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ اس پورے عمل میں افواہوں، غیر مصدقہ اطلاعات اور خوف پھیلانے کے بجائے مستند معلومات، سرکاری ہدایات اور قانونی طریقۂ کار کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔
ایس آئی آر کی اصل روح انتخابی فہرستوں کی تطہیر، تصحیح اور شفافیت ہے؛ اس کا مقصد اہلِ رائے دہندگان کی بے خبری، غفلت یا غیر ضروری اخراج نہیں ہونا چاہیے۔ مہاراشٹرا کے تجربات متعدد مسلم آبادی والے حلقوں میں ریاستی اوسط سے بلند شرحِ اخراج یا ناقابلِ تصدیق ریکارڈ کی جانب توجہ دلاتے ہیں، جبکہ اتراکھنڈ کے اعداد بڑے پیمانے پر حذف، اعتراضات اور بعض مقامات پر اعتراض کنندگان کے کردار سے متعلق پیدا ہونے والے سوالات کو نمایاں کرتے ہیں۔ ان تجربات کو محض سیاسی بحث کا موضوع بنانے کے بجائے تلنگانہ کے لیے عملی سبق کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
اس پورے تجربے کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ ہر دعوے کی منصفانہ جانچ ہو، ہر اعتراض کی بنیاد واضح ہو، ہر اہلِ رائے دہندہ کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور سماعت کا مناسب موقع ملے، اور انتخابی حکام کے سامنے پیش کیے جانے والے ریکارڈ اور فیصلوں میں شفافیت برقرار رہے۔ لیکن اس کے ساتھ شہریوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے حق کے تحفظ کے لیے خود بیدار رہیں۔ حقوق صرف کاغذ پر موجود ہونے سے محفوظ نہیں رہتے؛ ان کے تحفظ کے لیے معلومات، دستاویز، بروقت اقدام اور قانونی شعور بھی ضروری ہوتا ہے۔
تلنگانہ میں اب خاموش تماشائی بنے رہنے کا وقت نہیں۔ یہ وقت باخبر، محتاط اور ذمہ دار شہری بننے کا ہے۔ ہر اہلِ رائے دہندہ اپنے نام اور کوائف کی موجودگی اور صحت کی تصدیق کرے؛ جسے نوٹس ملا ہے وہ مقررہ مدت کے اندر جواب دے؛ جس کے نام پر اعتراض ہوا ہے وہ اعتراض کی تفصیل معلوم کر کے اپنے ثبوت کے ساتھ سماعت میں شریک ہو؛ اور سماجی، ملی و دینی تنظیمیں افواہوں اور خوف کے بجائے منظم شہری رہنمائی، دستاویزی معاونت اور قانونی مدد کا وسیع نیٹ ورک قائم کریں۔
اس سلسلے میں سب سے زیادہ خطرناک رویہ بے خبری اور یہ خوش فہمی ہے کہ ’’اب تک سب ٹھیک تھا، آگے بھی ٹھیک رہے گا۔‘‘ انتخابی فہرست کی ازسرِنو جانچ کے مرحلے میں ہر شہری کو اپنے ریکارڈ کے بارے میں خود اطمینان حاصل کرنا ہوگا۔ دوسروں پر انحصار، افواہوں پر بھروسا یا آخری تاریخ تک انتظار کرنا کسی بھی اہلِ رائے دہندہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
آخرکار جمہوریت میں کسی رائے دہندہ کا نام محض ایک فہرست کا اندراج نہیں ہوتا؛ یہ اس شہری کی آواز، اس کی سیاسی شناخت اور ملک کے اجتماعی فیصلے میں اس کی شرکت کے حق کی علامت ہوتا ہے۔ چنانچہ ایس آئی آر کی کامیابی اسی وقت حقیقی معنوں میں مکمل سمجھی جائے گی جب انتخابی فہرست زیادہ درست، جامع، شفاف اور قابلِ اعتماد بنے، اور ساتھ ہی کوئی اہل شہری محض بے خبری، غفلت، غلط فہمی، ناقص تصدیق یا دستاویزی دشواری کے باعث اپنے بنیادی جمہوری حق سے محروم نہ ہو۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں تشویش کو عمل میں، خوف کو شعور میں اور بے بسی کو منظم شہری تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ تلنگانہ کے ہر محلے، ہر خاندان اور ہر اہلِ رائے دہندہ تک یہ پیغام پہنچنا چاہیے کہ اپنے نام کی جانچ محض ایک رسمی کارروائی نہیں، بلکہ اپنے جمہوری حق کی حفاظت کی پہلی اور بنیادی ذمہ داری ہے۔