شوہر کئی قسم کے ہوتے ہیں۔مثلاً:
بیچارے شوہر: اس قسم سے تعلق رکھنے والے شوہر اپنی شکل سے ہی بیچارے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر وہ ہنستے بھی ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ رو رہے ہوں۔ بیویاں ان پر حکومت کرتی ہیں۔ کیونکہ ان کی تنخواہ شوہر سے زیادہ ہوتی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ ایسی بیویاں بھاری بھرکم جہیز کے ساتھ اپنے سسرال میں جلوہ افروز ہوتی ہیں۔ ایسے شوہر اپنی بیویوں کے غلام ہوتے ہیں۔ ان کے چہروں پر بیچارگی کی ایسی چھاپ لگ جاتی ہے جو ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ وہ اپنے والدین کے بجائے بیوی کی بات آنکھیں جھکائے سنتے ہیں اور جی جی کہتے رہتے ہیں۔ ہائے یہ بیچارے مظلوم شوہر۔ جو ایسے بکے جیسے کوئی کتا بکتا ہے۔ ایسا کتا جو اپنے مالک کے پھینکے ہوئے ایک روٹی کے ٹکڑے پر دم ہلاتا ہے۔ ایسے شوہروں کی وفاداری تو کتے پر بھی سبقت لے جاتی ہے۔
پرائے شوہر: جی ہاں یہ پرائے شوہر اس لیے کہلائے جاتے ہیں کہ انہیں اپنی بیوی سے زیادہ دوسری عورتوں میں زیادہ دلچسپی ہوتی ہے۔ جنہیں یہ تو یاد نہیںرہتا کہ ان کی شادی کس تاریخ کو ہوئی تھی لیکن کسی خاتون کے گالوں پر ہنستے وقت ایک ڈمپل پڑتا ہے کہ دو یہ انہیں بہ خوبی علم ہوتاہے ایسے شوہر فلمی اداکارائوں پر دل وجان سے فدا ہوتے ہیں۔ انہیں اپنی سیدھی سادی بیوی ذرا اچھی نہیں لگتی وہ میک اپ زدہ خواتین میںزیادہ دلچسپی لیتے ہیں وہ ہمیشہ اپنی بیوی کو نیچا دکھاتے ہیںاور بناوٹی خواتین کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ایسے دیکھتے ہیں جیسے وہ تاج محل دیکھ رہے ہوں۔
نکھٹو شوہر: یہ شوہروں کی وہ قسم ہوتی ہے جنہیں اپنی بیوی اور سسرال والوں کی کمائی کھانے کی عادت پڑجاتی ہے وہ باورچی خانے میں مصروف رہتے ہیں یابچوں کو سنبھالتے نظرآتے ہیں۔ انہیں باہر کے کام کے بجائے گھریلو شوہر بننا زیادہ اچھا لگتا ہے ۔وہ اپنی بیوی کی کمائی پر ہی تکیہ کئے رہتے ہیں اور مزے سے سکون کی نیند سوتے ہیں۔ ان کی بیوی کتنی ہی تکلیفیں اٹھائے انہیں بالکل بھی پرواہ نہیں ہوتی۔
دوغلے شوہر: یہ شوہروں کی وہ قسم ہوتی ہے جو باہر تو ہی ہی ہاہا کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن گھر میں وہ ہٹلر بنے رہتے ہیں۔ ساری دنیا ان کے اخلاق کے گن گاتی ہے وہ دوسروں کے مسائل سلجھانے میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں مگر گھر میں ان کی بیوی بچوں کے کیا مسائل ہیں اس سے انہیں کوئی سروکار نہیںہوتا۔ ہر کوئی ان سے مدد کا طالب ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنا قیمتی وقت ہر ایک کیلئے وقف کرنے کو ہمیشہ تیار رہتے ہیں وہ ہر دعوت میں شرکت کرتے ہیں مگر اکیلے۔ بیوی کو سات پردوں میں رکھ کر وہ سمجھتے ہیں انہوں نے میدان فتح کرلیا ہے۔ ان کے نزدیک بیوی اور اسٹور میں پڑے بیکار سامان میں کوئی فرق نہیںہوتا۔ بیوی کی ہر سیدھی بات کا جواب ٹیڑھے انداز سے دینا ان کی عادت ہوتی ہے۔
شکی مزاج شوہر: جی ہاں یہ شوہروں کی ایسی قسم ہے جو نہایت ہی خطرناک ہے۔ ایسے شوہروں کی بیویاں مظلومیت کی جیتی جاگتی تصویر ہوتی ہیں۔ وہ اپنی بیویوں پر ہمیشہ شک کرتے ہیں۔ وہ نہ ہی کسی سے مل سکتی ہیں اور نہ ہی کسی کو اپنے ہاں بلاسکتی ہیں۔ اپنی بیوی کی ہر حرکت پر ایسے شوہروں کی نظر بڑی گہری ہوتی ہے۔ وہ اپنی بیوی سے ایسے سوال کرتے ہیں جیسے کوئی انسپکٹر اپنے مجرم سے پوچھ تاچھ کررہا ہو۔
ہنڈیالو شوہر:جیسے کہ نام سے ہی ظاہر ہے ۔ یہ ہنڈیالو لفظ دراصل ہانڈی سے نکلا ہے۔ یہ شوہروں کی وہ قسم ہے جو مردوں سے زیادہ عورتوں کی صحبت میںرہنا زیادہ پسند کرتے ہیں اور اِدھر کی بات اُدھر کرنا ان کا سب سے زیادہ محبوب مشغلہ ہوتا ہے ۔ موقع پاتے ہیں دو دوستوں کو لڑا دینا ان کیلئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔ اس میں انہیں بہت مزہ آتا ہے۔ وہ دیکھنے میں ملنسار لیکن انتہائی شاطر اورخودغرض ہوتے ہیں۔ وہ جس کو دیکھتے ہیں اس کی چمچہ گیری کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے انہیںآپ تھالی کا بینگن بھی کہہ سکتے ہیں۔
مجازی خداشوہر:ایسے شوہروں کی بیویاںبے حد خوش قسمت ہوتی ہیں۔ یہ شوہروں کی سب سے اعلیٰ اور نایاب قسم ہے۔ ایسے گوہر نایاب کو پاکر کونسی بیوی ہوگی جو خوش نہ ہوگی۔ ایسے شوہرملنسار ، مہذب اور ہرکسی کے حقوق سے بہ خوبی آگاہ ہوتے ہیں جو بیوی کو بیوی ہی نہیں ایک دوست سمجھتے ہیں۔ جو اپنی بیوی سے ہر موضوع پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔وہ ہمیشہ اپنی شریک حیات پر مسکراہٹوں کے پھول نچھاور کرتے ہیں جو ہر دکھ میںاپنی بیوی کا ساتھ دیتے ہیں ۔ وہ آپسی مسائل کو آپس میں بیٹھ کر ہی حل کرتے ہیں۔ جو والدین اور بیوی دونوں کو برابر کا حق دیتے ہیں۔جو ایک بہترین باپ ہوتے ہیں جو باوفا ہوتے ہیں۔ ایسے شوہر ان تازگی بھرے خوشنما پھولوں کی طرح ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر ماحول میں تراوٹ کااحساس ہوتا ہے ان کا بندھن اتنا مضبوط اور پائیدار ہوتاہے کہ جنہیں کوئی بھی سازش کی آندھی گزند نہیں پہنچاسکتی۔
٭٭٭