نئی نسل کو مولانا جعفر پاشاہ کی تلقین -حسامیہ منزل میں یاد فاضل وعاقل تقاریب کا اختتام-
نعتیہ مشاعرے کا انعقاد
حیدرآباد 10 ستمبر (پریس نوٹ) حضرت مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ نے عامتہ المسلمین کو تلقین کی کہ وہ اپنی اولاد کی دینی مزاج کے مطابق تربیت کریں اگرچہ کہ ہم انہیں اعلی سے اعلی تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں لیکن فتنوں سےبھرے اس دور میں بچوں کی دینی مزاج کے مطابق تربیت سے بہت غافل ہیں ملت اسلامیہ کے اکثر و بیشتر بچے رسول کریم کی تعلیمات سے ناواقف ہونے کی وجہ سے اپنے والدین اور سماج کے لیے مفید ثابت نہیں ہو رہے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نےواعظ دکن وممتاز مصلح قوم مولانا محمد حسام الدین فاضل رحمۃ اللہ علیہ اور خطیب دکن مولانا محمدحمید الدین عاقل حسامی رحمتہ اللہ علیہ بانی جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد کی یاد میں حسامیہ منزل پنجہ شاہ میں منعقدہ یاد فاضل و عاقل تقاریب کے اختتام پر منعقدہ عظیم الشان مشاعرہ کے موقع پر کیا مولانا جعفر پاشاہ نے نوجوان نسل کو تلقین کی کہ وہ والدین کی دعا لیں ‘بزرگوں کا احترام کریں’ اخلاق سدھاریں اور نمازوں کی پابندی کریں انہوں نے عامتہ المسلمین سے کہا کہ بچوں کو دینی محافل میں لائیں گھروں کا جائزہ لیں تو ہمیں اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ بچے پنچوقتہ نمازوں کی پابندی سے اور قرآن شریف کی روزانہ تلاوت سے غافل ہیں مولانا جعفر پاشاہ نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ معاشرہ دن بدن بگڑ رہا ہے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ایسے فتنوں کے دورمیں ہم آنکھ بند کیے بیٹھے نہیں رہ سکتے اصلاح کا کام اپنے اپنے گھروں سے ہونا چاہیے اس موقع پر جناب سہیل قادری سابق کارپوریٹر مجلس’ مولانا محمد نعیم الدین چسامی عادل صدر سراج العلماء اکیڈیمی ‘مولانا غوث محی الدین حسامی ‘مولانا شیخ طاہر حسامی’ مولانا بشیر اشرف حسامی’ مولانا مفتی ابراہیم قاسمی حسامی’ مولانا معز الدین حسامی’ مولانا طاہر حسامی’ مولانا حافظ غاری محمد ریاض احمد قادری حسامی ‘جناب محمد امین الدین انصاری (اردو نیوز جدہ)’ مولانا قاری محمد عبدالقیوم شاکر’ جناب قاری محمد علی سلیم’مولانا محمدآصف اقبال نائب قاضی دارالقضا ‘قاضی زبیر نعمانی حسامی ‘مولانا عثمان حسامی اور دوسرے موجود تھے جناب الحاج حنیف ڈھاکلی نے ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری اور جناب محمد حسام الدین ریاض کی گل پوشی کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا مشاعرہ کا آغاز مولانا احمد محی الدین حسامی کی قراءت سے ہوا علامہ محمد حسام الدین فاضل کی لکھی ہوئی نعت جناب مصطفی صدیقی حسامی نے اور مولانا حمید الدین عاقل کی لکھی ہوئی نعت جناب عابد حسامی نے سنائی قرات و نعت مقابلے میں کامیاب طلبہ و طالبات کو مولانا جعفر پاشاہ نے انعامات تقسیم کیے اور مہمان خصوصی جناب سہیل قادری کی شال پوشی کی گئی اور یادگار مومنٹو پیش کیا گیا مولانا محمد احمد محی الدین حسامی اور ڈاکٹر رضی الدین رحمت حسامی نے مہمانوں کا استقبال کیا جناب زید حسامی’ جناب محمد سبحان صدیقی’ جناب محمد ساجد خان’ جناب اشرف سلیم’ جناب محمد محسن الدین عظیم’ جناب محمد طلحہ اور دیگر کو مولانا جعفر پاشاہ نے بہترین خدمات پر مومنٹوز عطا کیے اور شال پوشی کی جناب سردار سلیم اور جناب شاہد علی نے مولانا جعفر پاشا کو منظوم تہنیت پیش کی عظیم الشان مشاعرہ کی نظامت ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری نے نہایت ہی عمدگی کے ساتھ چلائی ناظم مشاعرہ کے علاوہ حضرت جلال عارف ‘ڈاکٹر فاروق شکیل’ اکبر خان اکبر’ شاہد عدیلی’ سردار سلیم’ قاضی فاروق عارفی’ وحید پاشاہ قادری ‘فرید سحر’ مولانا محمد وجیہ اللہ سبحانی’ مفتی ابراہیم حسامی’ پروفیسر مسعود احمد’ شاہنواز ہاشمی’ محبوب خان اصغر ‘امین الدین انصاری ‘ماجد خلیل’ زاہد ہریانوی’ معین افروز’ لطیف الدین لطیف ‘گووند اکشے’ اسماعیل قدیر’ عظمت علی حیدر’ ابوالفیضان واجد’ فرید خان’ عبدالقادر زاہد’سلیمان صدیقی اعتبار’ حافظ محمد مصطفی’ شمس ابوالعلای’ ظفر فاروقی’ نور الدین امیر’ قابل حیدرآبادی،’ شبیر فیضی’ ثنا اللہ وصفی ،فرید الدین صادق،’ ارشد شرفی’ قاری انیس احمد اور محمد ساجد نے نذرانہ عقیدت پیش کیا اس موقع پر جناب سید خواجہ مظہر الدین’ مولانا محمد زعیم الدین حسامی سکریٹری سراج العلماء اکیڈمی’ حافظ نصیر الدین حسامی ‘سراج الدین حسامی’ جناب محمد عثمان بن سالم کلدی عرف ثمیر حسامی’ محمد اشرف حسامی’ محمد سعد’ محمد بابا’ جناب محمد احمد الدین’ جناب مومن پاشاہ حسامی’ جناب زبیر حسامی ‘جناب محمد سلمان اور دوسرے موجود تھے نماز فجر کی اذان سے قبل ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری کے شکریہ پرمشاعرہ کا اختتام عمل میں آیا