مولانا ابوالکلام آزاد : تحریک اسلامی سے تحریک آزادی تک

مولانا ابوالکلام آزاد : تحریک اسلامی سے تحریک آزادی تک

مولانا ابوالکلام آزاد :
تحریک اسلامی سے تحریک آزادی تک

ازقلم:عبدالعزیز

خلافت راشدہ کے خاتمے کے بعد اسلام کو بھی دوحصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔قیادت کے بھی دو حصے ہوگئے۔ دینی قیادت اور سیاسی قیادت۔ دعوت، تربیت اور تزکیہ کے لیے تنظیم کی تشکیل دین کا جز قرار دیا جانے لگا جس سے ثواب کی امید کی جا نے لگی لیکن مذکورہ چیزوں کے ساتھ اختیار اور اقتدار کی تحریک یا جدو جہد سیاست سے تعبیر کیا جانے لگا۔ پہلے شخص ہندستان میں نظر آتے جنہوں نے ’الہلال‘ اور ’البلاغ‘ کے ذریعہ سیاست کو اسلام کا جز لاینفک کہا۔ حزب اللہ نام کی تنظیم قائم کی خود کو امام الہند کہلانا پسند کیا لیکن زیادہ دنوں تک اس راستے پر گامزن نہ رہ سکے۔اسلامی سیاست کو خیر باد کہا اور سیکولر سیاست کے راستے کو زندگی کے آخری لمحے تک اپنائے رہے مگر یہ بھی کہتے رہے ’’اسلام کی تیرہ سو برس کی شاندار روایتیں میرے ورثے میں میں آیی ہیں۔میں تیار نہیں ہوں کہ اس کا چھوٹے سے چھوٹے حصے کو ضائع ہونے دوں‘‘۔’’ متحدہ قومیت یا سیکولر سیاست اپنانے سے پہلے یہ مشن لیکر اٹھے تھے کہ معاہداتی سیاست کریں گے اپنے آپ کو ایک سیکولر جماعت کاحصہ نہیں بنائیں گے۔ مولانا نے 1920ء میں ایک اسکیم بنائی تھی جو مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی کے بقول یوں تھی: ’’ مولانا کی اسکیم کا خلاصہ یہ تھا ہندستان کے مسلمانوں کو مذہب کی راہ سے منظم کیا جائے ______ مسلمانوں کا ایک امام ہو اور امام کی اطاعت کو اپنا دینی فریضہ سمجھیں مسلمانوں میں یہ دعوت مقبول ہوسکتی ہے اگر قرآن وحدیث کی روشنی میں انہیں بتایا جائے کہ امام کے بغیر ان کی زندگی غیر اسلامی ہے اور ان کی موت جاہلیت پر ہوگی جب مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد امام کو مان لے تو امام ، ہندوؤں سے معاہدہ کر کے انگریزوں کے خلاف جہاد کا اعلان کر دے اور ہندو اور مسلمان کی متحدہ قوت سے انگریزوں کو شکست دے دی جائے۔‘‘( ذکر آزاد، صفحہ 24)
مولانا ابوالکلام آزاد __ جہاد آزادی میں مسلمانوں کو اتارنے میں ضروری خیال کیا کہ مسلمانوں کا ایک امام ہو اس۔ منصب کے لئے مولانا خود کو پیش کیا۔اس وقت کے بعض جید علماء نے مولانا آزاد کو’’ امام الہند ‘‘ تسلیم کر لیا تھا جن میں مولانا عبد الباری فرنگی اور مولانا محمود حسن دیوبندی کے نام نمایاں ہیں ‘‘۔( احمد سعید ملیح آبادی __ عظیم صحافی ، عظیم رہنما ابوالکلام آزاد ص،57)
برطانیہ کی حکومت مولانا کی دشمن ہوگئی اور انہیں ایک خطرنک باغی قرار دیا ’’ ریشمی خطوط سازش کیس ‘‘کے خفیہ کاغذات برٹش حکومت کے تیار کردہ انڈیا آفس لندن کے ریکارڈ سے اب پبلک عام کر دیئے گئے ہیں، ان میں استغاثہ۔ ملک معظم شہنشاہ ہند بنام عبیداللہ سندھی زیر دفعہ … تعزیرات ہند میں سپرنٹنڈنٹ پولس کے بیان استغاثہ سے درج ذیل نوٹ ملتا ہے :’’ مولانا ابوالکلام آزاد مولوی کنیت محی الدین پسر مولانا خیر الدین آف کلکتہ (ڈیفنس انڈیا ایکٹ کے تحت بہار اوڑیسہ میں نقل و حرکت کو محدود کردیا گیا ہے) ان کے اداروں کے علاوہ جو مولوی عبیداللہ شمالی ہند میں شروع کیے تھے ایک اور سازشی (آزاد) کلکتہ میں کام کرتے ہوئے عوام میں جنون پیدا کرنے کی شروعات کی تھی۔ مولوی ابوالکلام آزاد نے 1912ء میں ایک جمعیت حزب اللہ قائم کی جس کا مؤید ظاہر ی اسلام کا احیاء تھا۔ اس کا بانی قابل اعتراض اخبار الہلال کا ایڈیٹر تھا جو بعد میں پریس ایکٹ کی کارروائی کی وجہ سے بند ہوگیا تھا۔ وہ صحافی،مقرر کی حیثیت سے اور اتحاد اسلامی کے کٹر حامی کی حیثیت سے پہلے ہی شہرت حاصل کرچکا ہے ’’مولانا ابوالکلام آزاد کے امام الہند کے منصب کو جہاں بہت سے علماء دیوبند نے تسلیم کیا وہیں کچھ لوگوں نے مخالفت بھی شروع کی جب مخالفت زیادہ ہونے لگی بیعت کم لوگ کرنے لگے۔ مولانا دل برداشتہ ہو گئے اور ان کو اندازہ ہو گیا کہ یہ کا م نہیں کر سکیں گے پھر مہاتما گاندھی کی قیادت میں تحریک حریت میں پورے طور پر شامل ہوگئے۔ اسلامی تحریک یا احیائے دین سے آہستہ آہستہ دور ہوگئے۔ علامہ اقبالؒ اور مولانا مودودیؒ نے احیاء دین کام شروع کیا۔اس طرح مولانا ابوالکلام آزاد کی تحریک ختم نہیں ہو ئی صرف قیادت بدل گئی۔’’ مستری محمد صدیق صاحب۔ کپور تھلہ کے شہر سلطان پور کے تھے……مستری صاحب دراصل مولانا ابوالکلام آزادؔ کے کے ساتھیوں میں سے تھے وہ اخبار الہلال کے زمانے سے مولانا آزاد مرحوم کے ساتھی تھے۔مولانا آزاد اسی زمانے میں دین اسلام کی تقریباً وہی دعوت پیش کر رہے تھے جس دعوت کو مولانا مودودی نے1933ء میں شروع کیا۔ پھر بعد میں مولانا آزاد مسلمانوں سے مایوس ہوگئے، اس دعوت کو چھوڑ کر متحدہ قومیت کے راستے پر چل نکلے اور انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہوگئے۔ مرکز میں میرے آنے سے پہلے کی بات ہے مجھے اتنا معلوم ہے کہ مستری محمد صدیق نے مولانا آزاد سے ملاقات کی اور ان سے کہا’’ آپ نے جس کام کو بہت پہلے شروع کیا تھا وہ کام آب مولانا مودودیؒ کر رہے ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے ان کی باتیں توجہ سے سنیں اور فرمایا ’’ یہ ٹھیک ہے جو کام میں نے شروع کیا تھا وہ اب مولانا مودودیؒ کر رہے ہیں میں تو حالات سے مایوس ہوکر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اب وہی کام ہوسکتا ہے جو میں کررہا ہوں‘‘۔( مشاہدات، ص138)
فکری پسپائی:
مولاناابو الکلام آزاد جب اپنے موقف سے منحرف ہوئے تو مولانا مودودیؒ نے اسے بیسویں صدی کی سب سے بڑی ٹریجڈی سے تعبیر کیا۔ مولانا ابو الکلام آزاد بڑے عزم کے انسان تھے۔ شروع کی زندگی میں عزم و ہمت کے پیکر تھے۔ اپنی تفسیر’’ ترجمان القرآن‘‘ میں موصوف لکھتے ہیں کہ ’’خاندان، تعلیم اور سوسائٹی کے اثرات نے جو کچھ میرے حوالے کیا تھا میں نے اول روز ہی اس پر قناعت کرنے سے انکار کر دیا اور تکلیف کی بندشیں کسی گوشے میں بھی روک نہیں سکی اور تحقیق کی تشنگی کسی میدان میں ساتھ نہ چھوڑا‘‘… لیکن مولانا کی بعد کی زندگی بالکل مختلف ہو گئی۔ وہ خود بھی محسوس کرتے تھے کہ اس وقت اسلام کے احیاء اور تحریک کا کام انجام نہیں دے سکتا، وہی کچھ کر سکتا ہوں جو کر رہا ہوں یعنی آزادی کی تحریک یا آزادی کی لڑائی میں اپنی پوری زندگی کو کھپا دینا۔ یہ فکری پسپائی اکثر و بیشتر ایک خاص مکتبۂ فکر کا وطیرہ ہو گیا۔ اس حلقے یا مکتبہ فکر کے علماء اسلامی نظام ، معاشی نظام اور سیاسی نظام کو قرآن و حدیث کے ذریعہ پیش کرتے، اس کی خوبیاں کرتے لیکن یہ بھی کہنے میں ذرا بھی پس و پیش سے کام نہیں لیتے کہ ایک راستہ کانٹوں سے بھرا ہے اور انسانی فکر اور پسند بھی اس راستے مختلف ہے، لہٰذا اسلامی نظام کا نافذ کرنا آج کے حالات میں ممکن نہیں ہے۔ مولانا حفظ الرحمن صاحب سیوہاروی مرحوم کی کتاب’’ اسلام کا اقتصادی نظام‘‘ جب منظر عام پر آئی تو کافی چرچا ہوا، لیکن کتاب کا سب سے زیادہ افسوسناک حصہ وہ ہے جہاں ہندستان کے موجودہ حالات پر مصنف نے اپنے نظریات کو منطبق کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس مقام پر سب سے پہلے وہ حاضرا لوقت معاشی نظام میں انقلاب کی ضرورت ظاہر کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں کہ یہ انقلاب دو نظریوں میں کسی ایک نظریے کی بنیاد ہو سکتا ہے۔ ایک خاص اسلامی نظریہ دوسرا وہ نظریہ جو اسلامی نظریے کے اصولوں سے قریب تر ہو یعنی( اشتراکی نظریہ) اور آخر میں ارشاد ہوتا ہے[ بہ الفاظ حفظ الرحمن صاحب] کہ: بلا خوف لومتہ لائم اسلامی بصیرت کے ساتھ یہ کہنے کی جرأ ت کرتا ہوں کہ اس ملک میں سر دست پہلا نظریہ جامہ عمل پہن نہیں سکتا بلکہ دوسرا نظریہ ہی ممکن الوقوع ہے‘‘۔
تحریک اسلامی کے قائد اور علمبردارنے ان الفاظ پر گرفت کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ’’ ساری بحث کے بعد یہ نتیجہ جس پر ہر لائم کی ملامت سے بے خوف ہو کر جناب مولانا پہنچے ہیں، ان کی اس تمام محنت پر پانی پھیردیتا ہے، جو انہوں نے اسلامی نظام معیشت کی خوبیاں بیان کرنے میں صرف فرمائی ہے جو چیز ’’سر دست ‘‘ جامہ عمل پہن ہی نہیں سکتی‘ بہتر تھا کہ ’’سر دست‘‘ اس کی شرح و تفسیر میں بھی وقت ضائع نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اشتراکیت جس کو وہ اپنی عجیب و غریب ’’اسلامی بصیرت‘‘ کی بنیاد پر اسلامی نظریہ سے قریب تر سمجھ رہے ہیں’’چند ظاہری پہلوؤں میں سے اسلام سے کچھ قریب ہو تو ہو‘‘ مگر اس کی فلسفیانہ بنیاد، اس کی اخلاقی روح، اس کا نظریہ حیات اور اس کا تجویز کردہ نظام اجتماعی تو اسلام سے اتنا ہی دور ہے جتنا موجودہ سرمایہ داری نظام۔ اس کو اسلام سے قریب وہی سمجھ سکتا ہے جو اس کو نہ جانتا ہو، یا سرے سے اسلامی بصیرت ہی نہ رکھتا ہو۔‘‘
مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کی طرح اس حلقے کے دوسرے علماء￿ کرام نے نظام معاشی ہو یا نظام سیاسی ہو یا اسلام سے تعلق کوئی اور نظام ہو آج کے حالات میں اسے نافذ العمل کرنا ناممکن العمل سمجھتے تھے۔ صرف نظامِ عبادت کو ہی قابل عمل سمجھتے تھے اور اسے قائم کرنے کے لئے ہر طرح کی کوشش اور جدو جہد بھی کرتے تھے۔ ان بزرگوں کا دوسری نسل پر ان کی فکر و عمل کا اثر پڑا۔ وہ بھی اسی راستے پر بغیر سوچے سمجھے گامزن ہیں اور بغیر سوچے سمجھے خالق کی خوشنودی کے بجائے مخلوق کی خوشنودی کے لئے اسلامی نظام کا ناقابل عمل بتا تے ہیں۔ دو سال پہلے اسی حلقے کے ایک عالم دین نے دہلی کے رام لیلا میدان میں ببانگِ دہل کہا کہ’’ ہم لوگ اس جماعت اور اس حلقے سے تعلق رکھتے ہیں جس جماعت اور حلقے کے بزرگوں اور اسلاف نے نظامِ مصطفی اور نظامِ اسلامی کو رد کر دیا اور سیکولرزم کو ملک و قوم کے لئے پسند کیا۔ خاکسار نے مولانا کی آواز اپنے کانوں سے سنی اور ان کو کہتے ہوئے دیکھا۔
جو لوگ عالم ہوں یا یا عالم نہ ہوں اسلام کے نظام پر چلنے سے اپنے آپ کو معذور سمجھتے ہیں ان کو کم سے کم یہ کہنا چاہئے کہ اسلام کا نظام ہمارے لئے یا ہمارے حلقے کے لئے قابل عمل نہیں ہے لیکن اس کو ردکرنے کی بات کہنا یا ناممکن العمل کہنا اسلام کے صریحاًخلاف ہے۔تقسیم ہند کے فوراً بعد اسی حلقے کے دو بزرگان گاندھی جی کی خدمت میں حاضر ہوئے اورگزارش کی کہ’’ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے لفظ اسلامیہ ہٹا دیا جائے‘ گاندجی جی نے ان دو بزرگوں سے کہا کہ’’ ملک میں ایک ایسی یونیورسٹی کی ضرورت ہے جو اسلام کے بارے میں دنیا کو بتا سکے کہ اسلام کیا ہے؟ اس کے خد و خال کیا ہیں؟ ‘‘ جو لوگ اس فکری پسپائی میں مبتلا ہیں ان کو گاندھی جی سے سبق لینا چاہئے۔ اور صحیح اسلام کے راستے پر چلیں یا نہ چلیں کم سے کم اسلام کے راستے کو بتانے میں ڈر اور خوف محسوس نہ کریں۔ علامہ اقبال نے کتنی اچھی اور سچی بات کہی ہے
یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند – بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ
دنیا جانتی ہے کہ اسلام کے کٹر سے کٹر دشمنوں کے سامنے جب اسلام کی سچی تعلیم آشکار ہو گئی وہ حلقہ ٔ بگوش اسلام ہو گئے۔ایک مسلمان کا کام یہ ہے کہ حق بات خدا کی خوشنودی کے لئے دنیا کے سامنے حکمت و دانائی کے ساتھ پیش کرے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے۔ اور اسلام کی حقیقت و سچائی و بتانے میں کبھی اپنی معذوری اور پسپائی ظاہر نہ کرے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے