کھینچا تانی

کھینچا تانی

مزاح نگار: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

—-

ہمارے قبلہ استادِ محترم جناب خان محمد مصدق الامین صاحب فرمایا کرتے ہیں کہ تصویر کھنچوانا اور قرض لینا دو ایسے نازک معاملات ہیں جن میں انسان کی نیت اور حلیہ دونوں بیک وقت بے نقاب ہو جاتے ہیں، بشرطیکہ کیمرہ مین اور قرض خواہ دونوں اناڑی نہ ہوں۔ لیکن ہمارے اِس پرآشوب ڈیجیٹل دور کا المیہ یہ ہے کہ اب تصویر کھنچوائی نہیں جاتی، بلکہ ایک دوسرے کے وجود سے بزورِ بازو نچوڑی جاتی ہے۔ تصویر اب محض یادگار نہیں رہی، ایک باقاعدہ واردات اور اعصابی کُشتی بن چکی ہے جس میں پروٹوکول کے نام پر وہ سب کچھ مباح سمجھ لیا جاتا ہے جو کسی مہذب معاشرے کے تھانے یا دنگل میں بھی معیوب جانا جائے۔

انسان اور کیمرے کے باہمی تعلق پر اگر کوئی سنجیدہ تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ دنیا میں دو ہی قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں: ایک وہ جو کیمرے کا رخ دیکھتے ہی یوں سمٹ کر گوشہ گیر ہو جاتے ہیں جیسے ولیمے کی صفوں میں بن بلایا مہمان یکایک میزبان کے روبرو آ گیا ہو، اور دوسرے وہ جن کے بصری اعصاب صرف اس وقت بیدار ہوتے ہیں جب سامنے کسی کیمرہ کے لینس کا دہانہ کھلتا ہو۔

ہمارے رہنمائے دوراں (اور اندھ بھکتوں کے وشو گرو) بلاشبہ اس دوسری صنف کے سرخیل ہیں، جن کے لیے دنیا کا ہر بین الاقوامی اجلاس، ہر کانفرنس اور ہر تاریخی معاہدہ محض اس لیے برپا کیا جاتا ہے تاکہ ان کے اور کیمرے کے درمیان حائل ہونے والے غیر ملکی مہمانوں کی تراش خراش کر کے انہیں فریم کی سرحدوں کے اندر ٹھونسا جا سکے۔

ڈپلومیسی کے باب میں جو کتابیں مغرب کے پرانے سفارت کار لکھ گئے ہیں، ان کے مطابق 2 خودمختار ملکوں کے سربراہ جب کسی سرخ قالین پر ملتے ہیں تو ان کے درمیان 2 یا 3 فٹ کا ایک ایسا غیر مرئی مگر مقدس فاصلہ ہونا چاہیے جس میں فریقین کی خودمختاری اور سانس لینے کی گنجائش محفوظ رہے۔

مگر ہمارے ہاں سفارت کاری کا مفہوم کچھ یوں طے پایا ہے کہ جب تک آپ اگلے کے گریبان، کلائی یا کم از کم کوٹ کی آستین پر اس شدت سے قابض نہ ہو جائیں کہ اس کے شانے کا جوڑ چٹخنے کی صدا اقوامِ متحدہ کے لاؤنج تک نہ پہنچے، تب تک ملاقات کو نیم دلانہ اور پھیکا سمجھا جاتا ہے۔

چنانچہ کیمرے کے فلیش کی چمک دیکھتے ہی ہمارے صاحب کے ہاتھ پاؤں میں ایک ایسی کسرتی اور غیر متوقع پھرتی عود کر آتی ہے جس کا مظاہرہ ہمارے ہاں عیدِ قربان پر قصاب اس وقت کرتے ہیں جب کوئی شریر سانڈ رسی تڑوا کر بھاگنے کے درپے ہو۔ ادھر کیمرہ مین نے اپنی تپائی پر انگلیاں جمائیں، ادھر ہمارے ممدوح نے برابر میں کھڑے معزز مہمان کی کہنی پر گرفت فرمائی اور اسے اپنی طرف یوں کھینچنا شروع کیا جیسے کوئی غوطہ خور ڈوبتے ہوئے مسافر کو بالوں سے پکڑ کر سطحِ آب کی طرف لانے کی جان توڑ جدوجہد کر رہا ہو۔

کیمرے کے فریم کی مثال ہمارے ہاں کے اس پرانے خاندانی پلنگ جیسی ہے جس پر گنجائش تو صرف دو لاغر افراد کی ہوتی ہے، مگر شادی والے گھر میں زبردستی پورے کنبے کو لٹا کر اوپر سے لحاف تان دیا جاتا ہے۔ اب ذرا تخیل کے گھوڑے دوڑائیے اور اس بین الاقوامی اسٹیج کا تصور کیجیے جہاں دنیا کی چند بڑی عسکری و معاشی طاقتوں کے سربراہ پورے دبدبے، وقار اور اپنی اپنی خفیہ ایجنسیوں کے حفاظتی حصار کے ساتھ نمودار ہوتے ہیں۔ ان کا گمان ہوتا ہے کہ وہ کسی کثیر ملکی منشور پر دستخط کرنے یا عالمی جنگ کے بادل چھاٹنے آئے ہیں، مگر اچانک انہیں احساس ہوتا ہے کہ اصل آزمائش تو ایٹمی آبدوزوں کی تنصیب نہیں بلکہ اس ایک مربع فٹ کی جگہ پر قدم جمانا ہے جس پر ہمارے بھارتی رہنما کا پاؤں پہلے سے براجمان ہے۔ فوٹو گرافر ابھی دور سے فقط کھنکھار کر ہاتھ سے اشارہ ہی کرتا ہے کہ "پلیز تھوڑا قریب ہو جائیے”، کہ ہمارے قبلہ اسے ایک باقاعدہ شاہی فرمان اور جسمانی مشقت کا پروانہ سمجھ لیتے ہیں۔ اس کے بعد جو کچھ اسٹیج پر واقع ہوتا ہے، اسے تاریخ دان چاہے جیو پولیٹکس کہیں، مگر عینی شاہدین اسے خالصتاً پٹاخا مار کشتی کا اکھاڑا ہی قرار دیتے ہیں۔

اس کھینچا تانی کا سب سے دل دوز اور پُرلطف منظر وہ ہوتا ہے جب دنیا کے وہ رہنما، جو اپنے ملکوں میں مخالفین کو صرف ایک ٹیلی فون کال پر سائبیریا کی برفانی ہواؤں یا کسی دور دراز جزیرے پر روانہ کرنے کی شہرت رکھتے ہیں، اس کیمرہ فریم کے اندر بالکل بے بس اور لاچار نظر آتے ہیں۔ ادھر سے ہمارے بھارتی رہنما نے ان کا پنجہ اس خلوص اور قوت سے دبوچا کہ ماسکو کے برفانی ریچھ کی ساری اکڑ ایک ہی جھٹکے میں کافور ہو گئی۔ رویہ ایسا ہوتا ہے کہ گویا معزز مہمان کو یہ جتلایا جا رہا ہو کہ اگر تم اس فریم کے عین مرکز یعنی میرے سینے کے متوازی نہ آئے، تو دنیا یہ سمجھے گی کہ ہمارا تمہارا کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ روسی صدر، جن کی ساری زندگی جوڈو کراٹے کے داؤ پیچ اور کے جی بی کی سنگلاخ وادیوں میں گزری ہے، جب اس غیر متوقع کھنچاؤ کی تاب نہ لا کر ایک لمحے کے لیے لڑکھڑاتے ہیں، تو ان کے چہرے پر وہی بے بسی پھیل جاتی ہے جو محلے کی شادی میں اس بزرگ کے چہرے پر ہوتی ہے جس کی پلیٹ سے کوئی تیز طرار لڑکا زبردستی مرغ کی ران اچک کر لے گیا ہو۔ ان کا پاؤں فرش پر جمنے کی کوشش کرتا ہے، نگاہیں کیمرے کے بجائے اپنے توازن کے گرتے ہوئے گراف پر مرکوز ہو جاتی ہیں، اور وہ دل ہی دل میں سوچتے ہیں کہ کاش انہوں نے سینٹ پیٹرزبرگ کے اکھاڑوں میں گریبان چھڑانے کے علاوہ کسی کی آہنی گرفت سے بازو چھڑانے کی تربیت بھی لی ہوتی۔

دوسری جانب اگر نگاہ ڈالی جائے تو وہاں بیجنگ کے عالی مرتبت صدر کھڑے ہوتے ہیں، جن کا چہرہ ہمیشہ ہر قسم کے انسانی جذبات، مسکراہٹ، غصے اور تعجب سے اس قدر پاک ہوتا ہے جیسے سنگِ مرمر کا کوئی قدیم مجسمہ۔ مگر اس کیمرے کے سامنے ان کے ضبط کا پیمانہ بھی چھلکنے کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ ہمارے بھارتی ممدوح جب ان کی سمت اپنا رخِ انور موڑتے ہیں اور ہاتھ بڑھا کر ان کی کلائی کو اپنے مقناطیسی دائرۂ اثر میں لانے کے لیے زور آزمائی فرماتے ہیں، تو ایسا لگتا ہے جیسے کوئی پیاسا کنویں سے ڈول کھینچنے کے لیے پورا زور لگا رہا ہو۔لیکن کامریڈ شی کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنی جگہ پر صدیوں پرانی دیوارِ چین کی طرح جمے رہتے ہیں۔ ان کے چہرے پر اگرچہ کوئی شکن نہیں ابھرتی، مگر ان کی کلائی کی تنی ہوئی رگیں اور قدموں کا جماؤ یہ چیخ چیخ کر بتاتا ہے کہ سرحدوں پر چاہے کتنا ہی تناؤ کیوں نہ ہو، اس فوٹو گرافک چوکھٹ کے اندر ہم اپنی ایک انچ زمین بھی نہیں چھوڑیں گے۔ یہ ایک ایسی خاموش رسہ کشی بن جاتی ہے جس میں نہ تو کوئی سیٹی بجتی ہے اور نہ کوئی تماشائی تالیاں بجاتا ہے؛ بس ایک طرف سے کھینچنے کا جنون ہوتا ہے اور دوسری طرف سے کھنچنے سے انکار کی تاریخی انا، اور بیچ میں وہ کیمرہ ہوتا ہے جس کا شٹر گرنے کے لیے بے تاب کھڑا ہوتا ہے۔

اس کھینچا تانی کی تمام تر برکات دراصل اس ایک نسخۂ کیمیا کے گرد گھومتی ہیں جسے ہماری اصطلاح میں ’گھریلو استعمال کی ریل‘ کہا جاتا ہے۔ پرانے زمانے کا پروٹوکول یہ کہتا تھا کہ لیڈر وہ ہے جو کیمرے سے بے نیاز ہو کر بات کرے، مگر ہمارے دور کا جدید سیاسی پروٹوکول یہ ہے کہ گفتگو چاہے سرے سے نہ ہو، معاہدہ چاہے کاغذ کی چیتھڑی بن کر ہوا میں اڑ جائے، مگر کیمرے کے فریم میں آپ کا چہرہ بالکل وسط میں، دانت نمائش کے لیے پوری طرح کھلے ہوئے، اور برابر والے دونوں عالمی حریفوں کے ہاتھ آپ کے آہنی پنجوں میں اس طرح قید ہونے چاہئیں جیسے کسی ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے اسکول سے بھاگنے والے دو شریر لڑکوں کو کان سے پکڑ کر اسمبلی میں کھڑا کر دیا ہو۔ اس تصویر کا کمال یہ ہوتا ہے کہ جب اسے بعد میں سست رفتار یعنی سلو موشن میں بدلا جاتا ہے اور پس منظر میں کوئی ایسا راگ بجایا جاتا ہے جس سے رگوں میں لہو کے بجائے بارود دوڑنے لگے، تو دیکھنے والے یہی سمجھتے ہیں کہ شاید واشنگٹن، بیجنگ اور ماسکو کے تالے کی اصل چابی ہمارے ہی رہنما کے واسکٹ کی اندرونی جیب میں محفوظ ہے۔

کیمرے کے اس حبسِ بے جا کا شکار صرف روایتی سیاست دان ہی نہیں ہوتے، بلکہ پچھلے دنوں ٹیکنالوجی کی دنیا کے دو ارب پتی جغادری بھی اسی دامِ محبت میں گرفتار ہو چکے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے وہ نامور موجد، جنہوں نے انسان کے سوچنے سمجھنے کے تمام پیمانے بدل کر رکھ دیے اور جن کی بنائی ہوئی مشینیں دنیا بھر کے شطرنج کے کھلاڑیوں کو مات دے رہی ہیں، جب ہمارے رہنما کے روبرو لائے گئے تو ان کی ساری عقل و دانش دھری کی دھری رہ گئی۔ صاحب نے ان دونوں کے ہاتھ یوں جھپٹ کر فضا میں بلند کیے جیسے محلے کے دو روٹھے ہوئے بھائیوں میں زبردستی جائیداد کی تقسیم کے بعد پنچایت کا سربراہ اعلانِ صلح کر رہا ہو۔ وہ دونوں غریب، جو رات دن الگورتھم کی باریکیوں میں الجھے رہتے ہیں، ایک دوسرے کی طرف بند مٹھیوں اور سہمے ہوئے چہروں کے ساتھ یوں تک رہے تھے جیسے سوچ رہے ہوں کہ کیا کسی سپر کمپیوٹر میں اس غیر متوقع اور بلا جواز جسمانی قربت کا کوئی توڑ موجود ہے؟ مگر کیمرے کا حکم صادر ہو چکا تھا اور فریم مکمل ہو چکا تھا، لہٰذا انہیں بھی دانت پیس کر اس مسکراہٹ کا حصہ بننا پڑا جو مسکراہٹ کم اور اعصابی اینٹھن زیادہ معلوم ہوتی تھی۔

ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ سیاست میں اصل طاقت وہ نہیں ہوتی جو پارلیمنٹ کے ایوانوں یا میزائلوں کے سائے میں نظر آئے، بلکہ اصل طاقت وہ ہے جو تصویر بنواتے وقت دوسرے کو اس کے دائرے سے بے دخل کر کے اپنے دائرے میں کھینچ لائے۔ اس فن میں ہمارے بھارتی رہنما اس قدر طاق ہو چکے ہیں کہ اب وہ کسی بھی تقریب میں شرکت سے قبل شاید تقریر کا مسودہ بعد میں دیکھتے ہیں، پہلے اسٹیج پر بچھے قالین کے ان نشانات کی پیمائش کرتے ہیں جہاں کھڑے ہو کر کیمرے کا فلیش سیدھا ان کی پیشانی پر چمکے گا۔ اگر کوئی نادان سفارت کار غلطی سے اس مرکزِ نگاہ کے سامنے آ جائے تو اسے اتنی بے تکلفی اور نفاست سے پیچھے سرکا دیا جاتا ہے جیسے گرمیوں کی دوپہر میں دالان کے پنکھے کے آگے سے کسی غیر ضروری کرسی کو ہٹا دیا جاتا ہے۔ یہ وہ فنِ لطیف ہے جس پر نہ تو اقوامِ متحدہ نے کوئی قدغن لگائی ہے اور نہ ہی بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں اس کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہو سکتا ہے، کیونکہ وہاں بھی ثبوت کے طور پر جو تصویر پیش کی جائے گی، اس میں مدعی خود مسکراتا ہوا اور اپنے بال و پر کٹواتا ہوا نظر آئے گا۔

اس پوری مشق کا انجام بہرحال اس تاریخی لمحے پر ہوتا ہے جب کیمرے کا سرخ بلب بجھ جاتا ہے، فوٹو گرافر جھک کر شکریہ ادا کرتا ہے، اور ایک سیکنڈ پہلے جو ہاتھ ایک دوسرے کی جان لینے یا دینے پر تلے ہوئے تھے، وہ اتنی بیزاری اور جھٹکے سے الگ ہوتے ہیں جیسے کسی نے دہکتے ہوئے کوئلے کو چھو لیا ہو۔ کھنچنے والے اپنے کوٹ کے بل درست کرتے اور اپنی کلائیوں کو سہلاتے ہوئے یوں ادھر ادھر دیکھتے ہیں جیسے بھیڑ بھاڑ والی بس میں جیب کٹ جانے کے بعد کوئی شریف آدمی مسافروں کو گھورتا ہے، جبکہ کھینچنے والے کے چہرے پر وہی فاتحانہ تمکنت ہوتی ہے جو کسی شکاری کے چہرے پر چیتے کی کھال پر پاؤں رکھ کر تصویر بنوانے کے بعد نمودار ہوتی ہے۔

یوں ایک پرآشوب مشق کا اختتام ہوتا ہے؛ فریم مکمل ہو چکا، تاریخ رقم ہو چکی، اور کھینچا تانی کی اس عالمی جنگ میں فتح ایک بار پھر اسی کی ہوئی جس نے کیمرے کی آنکھ کو سب سے پہلے بھانپ لیا تھا اور جس کے بازوؤں میں تصویر سمیٹنے کا زور سب سے زیادہ تھا۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے