بے خوف، بے باک اور بے مثال: جین زی کی قیادت میں عالمی احتجاج و انقلابات
ازقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین
——–
1997 اور 2012 کے درمیان پیدا ہونے والی نسل، جسے آج جین زی(Gen Z) کے نام سے جانا جاتا ہے، نے 2024 اور 2025 کے سالوں کو تاریخ کے طوفانی ترین سیاسی ادوار میں بدل دیا۔ یہ وہ نسل ہے جس نے ڈیجیٹل دنیا کو اپنی ماں کی گود کی مانند محسوس کیا، جہاں معلومات ہر طرف بکھری ہوئی تھیں، جھوٹ پل بھر میں بے نقاب ہو جاتا تھا، اور آواز اٹھانے کے لیے کسی اجازت نامے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن جین زی کی پہچان محض ٹیکنالوجی تک محدود نہیں، بلکہ یہ وہ نسل ہے جس نے خوف کو اپنے راستے کی رکاوٹ نہیں بننے دیا، اقتدار کے سامنے جھکنے سے انکار کیا، اور یہ ثابت کر دکھایا کہ تبدیلی محض ایک خواب نہیں بلکہ عمل کا نام ہے۔
چیتھم ہاؤس (Chatham House) کی رپورٹ کے مطابق 2025 کو احتجاج کا سال قرار دیا گیا، جہاں جین زی کے کارکنان نیپال اور مڈغاسکر میں حکومتوں کا تختہ الٹنے، کینیا میں مظاہروں، امریکہ میں کیمپس تحریکوں اور سربیا میں طلبہ کے احتجاج میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔ کارنیگی فاؤنڈیشن (Carnegie Endowment for International Peace) کے احتجاجی اشاریے (Protest Tracker) کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2025 میں 33 معیشتوں میں 10000 یا اس سے زیادہ افراد کے 53 مظاہرے ریکارڈ کیے گئے، جو 2017 میں اس پروجیکٹ کے آغاز کے بعد کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا بلکہ ایک عالمی بیداری تھی، جس کی لہر بنگلہ دیش سے نیپال، مڈغاسکر سے بلغاریہ، انڈونیشیا سے پیرو، اور کینیا سے سربیا تک پھیل گئی۔
اس عالمی لہر کا محرک کوئی ایک نظریہ نہیں تھا، بلکہ ایک مشترکہ مایوسی تھی: بڑھتی ہوئی عدم مساوات، بے روزگاری، بدعنوانی، اور اس گہرے شک سے جنم لینے والی تھکاوٹ کہ یہ نسل کبھی اپنے والدین کی طرح کی زندگی سے لطف اندوز نہیں ہو پائے گی۔ بلومبرگ (Bloomberg) کے مشین لرننگ (Machine Learning) ماڈل نے 22000000 ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سوشل میڈیا (Social Media) کی رسائی اور کم اوسط عمر کی آبادی عدم مساوات، بے روزگاری اور بدعنوانی جیسے مسائل پر عوامی عدم اطمینان کو شہری بدامنی میں تبدیل کرنے کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ اس عالمی بیداری کا ایک اہم سنگم بنگلہ دیش تھا، جہاں جین زی کی قیادت میں ایک ایسا انقلاب برپا ہوا جسے دنیا کا پہلا کامیاب جین زی انقلاب قرار دیا گیا۔
بنگلہ دیش میں جولائی 2024 میں یہ سلسلہ سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ نظام کی اصلاح کے مطالبے سے شروع ہوا۔ یہ کوٹہ 1971 کی جنگِ آزادی کے شہداء کی اولاد کے لیے نشستیں محفوظ کرتا تھا، جسے نوجوان اقربا پروری اور ناانصافی کی علامت سمجھتے تھے۔ ابتدا میں پرامن رہنے والا یہ احتجاج جلد ہی ایک عوامی بغاوت میں بدل گیا۔ شیخ حسینہ کی حکومت نے مظاہرین پر ظالمانہ تشدد کیا، تاہم اس سفاکانہ کریک ڈاؤن نے تحریک کو ختم کرنے کے بجائے پورے ملک میں پھیلا دیا۔ طلبہ نے محنت کش طبقے کے ساتھ اتحاد قائم کیا اور پولیسیہ تشدد سے محفوظ خودمختار زون بنا لیے۔ یہ تحریک اب صرف کوٹہ اصلاحات تک محدود نہیں رہی بلکہ حسینہ کی آمرانہ و ظالمانہ حکومت کے خاتمے کا مطالبہ بن گئی۔ ہزاروں نوجوان مظاہرین نے اپنی پروفائل پکچرز کو سرخ کر لیا، جو مقتول مظاہرین سے یکجہتی اور حسینہ کی آمریت کے خلاف مزاحمت کا ڈیجیٹل اشارہ تھا۔ اس طرح بنگلہ دیش کی طویل ترین خاتون رہنما کو جین زی کی ایک تحریک نے اقتدار سے محروم کر دیا۔ اس کے بعد نوبل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات محمد یونس کی قیادت میں ایک عبوری حکومت قائم ہوئی، جس میں طلبہ رہنماؤں کو بھی شامل کیا گیا۔
یہی منظر نیپال میں ستمبر 2025 میں دہرایا گیا، جہاں حکومت کی جانب سے 26 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی نے نوجوانوں کے غم و غضب کو ہوا دی۔ 23 سالہ امریتا بان نے بلومبرگ (Bloomberg) کو بتایا: "یہ ایک محرک کا کام کر گیا۔ وہ ہماری آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ اسے سننا نہیں چاہتے، اس لیے اب صرف سڑک کا راستہ ہی بچا ہے۔” 8 ستمبر کو پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں 19 مظاہرین ہلاک ہوئے، جن میں سے 14 کی عمر 28 سال یا اس سے کم تھی۔ اس کے بعد برہم ہجوم نے وزیراعظم کے دفتر، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کو نشانہ بنایا۔ محض 48 گھنٹوں کے اندر نیپال کی ریاستی مشینری مفلوج ہو گئی، اور وزیراعظم کے پی شرما اولی نے 9 ستمبر کو استعفیٰ دے دیا۔ 12 ستمبر کو سابق چیف جسٹس سشیلہ کرکی کو ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم کے طور پر حلف دلایا گیا۔ نوجوانوں نے ثابت کر دیا کہ ڈسکارڈ اور انسٹاگرام پر منظم ہونے والی ایک بے قائد تحریک کسی بھی حکومت کو گرا سکتی ہے۔
بنگلہ دیش اور نیپال کے درمیان حیران کن مماثلتیں ہیں؛ دونوں ممالک میں بظاہر معمولی پالیسی فیصلوں نے بدعنوانی، استحقاق اور آمریت کے خلاف گہری بےچینی کو ابھارا اور دونوں تحریکیں وزیراعظم کی جلاوطنی یا استعفیٰ پر منتج ہوئیں۔ دونوں جگہوں پر سوشل میڈیا محض مواصلاتی ذریعہ نہیں بلکہ مزاحمت کا علامتی محاذ تھا۔
یہی بیانیہ مڈغاسکر میں بھی دہرایا گیا، جہاں 25 ستمبر 2025 کو بجلی اور پانی کی قلت کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج نے اکتوبر کے وسط تک صدر اینڈری راجوئلینا کو ملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق ان مظاہروں میں کم از کم 22 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق مظاہرین نے نیپال اور کینیا کے حالیہ جین زی مظاہروں سے تحریک حاصل کی تھی۔
بلغاریہ میں نومبر 2025 کے آخر میں بدعنوانی اور متنازع بجٹ کے خلاف جین زی کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں نے وزیراعظم روزن زیلیازکوف کو 11 دسمبر 2025 کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔ ڈی ڈبلیو (DW) کی رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک اور انسٹاگرام کے ذریعے متحرک ہونے والے ان مظاہروں میں دسیوں ہزار افراد شامل ہوئے، جو بلغاریہ کی 30 سالہ تاریخ کے سب سے بڑے مظاہرے تھے۔ نوجوان بلغاریائی، جنہوں نے بنیادی طور پر ٹک ٹاک اور انسٹاگرام کے ذریعے تحرک پیدا کیا، اس تحریک کے پیچھے اصلی قوت تھے۔ ان کے مشہور نعرے تھے: "جین زی تمہیں پکڑ لے گی” اور "ہمیں یہاں رہنے کی وجہ دو”۔
پیرو میں اکتوبر 2025 میں جین زی کی قیادت میں مظاہروں نے اس وقت شدت اختیار کی جب کانگریس نے صدر ڈینا بولوارٹے کو 10 اکتوبر کو "مستقل اخلاقی نااہلیت” کی بنیاد پر معزول کر دیا۔ جوس جیری کو عبوری صدر مقرر کیا گیا، تاہم ان کی تقرری کے فوراً بعد ہی نئے مظاہروں نے جنم لیا۔ مظاہرین کا نعرہ تھا: "سب کو جانا چاہیے”، جو نہ صرف جیری کی مختصر مدتِ حکومت بلکہ پوری سیاسی کلاس کی مکمل تبدیلی کا مطالبہ تھا۔
سربیا میں 1 نومبر 2024 کو نووی ساد ریلوے اسٹیشن کی چھت گرنے سے 16 افراد ہلاک ہوئے۔ اس سانحے کے بعد طلبہ کی قیادت میں احتجاج شروع ہوا، جس نے بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کی۔ یہ مظاہرے سربیا کی تاریخ کے سب سے بڑے مظاہروں میں شمار ہوتے ہیں، جن میں بعض اوقات 300000 سے زائد افراد شامل ہوئے۔ کینیا میں 2024 اور 2025 کے دوران جین زی کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
ان تمام تحریکوں میں ایک مشترکہ علامت تھی: جاپانی کارٹون سلسلہ (Manga) "ون پیس” (One Piece) کا سمندری ڈاکو جھنڈا، جو پہلے فلپائن سے شروع ہوا اور پھر بنگلہ دیش، نیپال، سربیا، کینیا، مراکش، انڈونیشیا اور مڈغاسکر تک پھیل گیا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ جھنڈا ہزاروں کلومیٹر دور موجود وہ مظاہرین استعمال کر رہے تھے جو اپنی نسل کی مشترکہ ثقافت کے ذریعے آپس میں جڑے ہوئے تھے، اور مقبول بیانیوں کو مخالف نظامِ سیاست کے ساتھ ملا کر ایک ایسی قوت میں تبدیل کر رہے تھے جس نے کم از کم دو حکومتیں گرا دیں۔
ان تمام انقلابات کے پیچھے جین زی کی ایک پیچیدہ اور متضاد نفسیات کارفرما ہے؛ یعنی بے خوفی اور بےچینی کا ایک عجیب امتزاج۔ یونیسیف (UNICEF) کے 2025 کے مطالعے کے مطابق 60 فیصد جین زی خبروں اور عالمی واقعات سے مغلوب ہونے کا احساس رکھتے ہیں، جبکہ گیلپ (Gallup) کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 23 فیصد جین زی بالغ افراد اپنی ذہنی صحت کو "بہترین” قرار دیتے ہیں، جبکہ پچھلی نسل کے عمر رسیدہ افراد (Baby Boomers) میں یہ شرح 39 فیصد ہے۔ تاہم، یہی نسل ذہنی صحت کے مسائل کو "خاموشی سے برداشت” کرنے کے بجائے "بلند آواز سے شفایابی” کا ذریعہ بناتی ہے۔ وہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرتے ہیں اور پھر بھی آگے بڑھتے ہیں۔ وہ گفتگو، تحریکوں اور مواد کی تخلیق کے ذریعے ایک ایسی ثقافتی تبدیلی کی قیادت کر رہے ہیں جو صداقت اور خود قبولیت کو طاقت کی علامت قرار دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق جین زی کے انقلابات محض "غصے کی ایک نئی نسل” نہیں بلکہ ایک نئی سیاسی ٹیکنالوجی ہے، جس کی تین بنیادی خصوصیات ہیں: حقیقی وقت میں عوامی نگرانی، بغیر کسی قائد کے منظم ڈھانچے، اور ایک مشترکہ علامتی زبان جو کسی مخصوص نظریے کی محتاج نہیں۔ ان تینوں عناصر کے امتزاج نے آن لائن شکایت اور گرائی گئی حکومت کے درمیان فاصلے کو چند دنوں تک محدود کر دیا۔
بھارت میں 2026 کے جین زی احتجاج نے اس نڈری کو ایک نئی جہت دی۔ مئی 2026 میں چیف جسٹس سوریا کانت کے ایک عدالتی ریمارک کے ردعمل میں پیدا ہونے والی "کاکروچ جنتا پارٹی” ایک آن لائن مذاق سے ملک گیر تحریک میں تبدیل ہو گئی، جس کا فوری محرک نیٹ یوجی NEET-UG) 2026) کے امتحان کا مبینہ پیپر لیک تھا۔ 25 جولائی 2026 کو وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا، اور چندی گڑھ سے ممبئی تک جین زی کے نوجوانوں نے جشن منایا۔ یہ احتجاج 49 دن تک جاری رہا۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ مودی حکومت کے خلاف 2014 کے بعد کا سب سے بڑا سڑکوں پر ہونے والا احتجاج تھا۔ اس تحریک کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا مزاحیہ اور تخلیقی انداز تھا؛ مزاحیہ تصاویر، میمز، مختصر ویڈیوز (ریلز) اور طنزیہ پیغامات کے ذریعے ایک ایسی نسل نے اپنی آواز بلند کی جسے اکثر "غیر سنجیدہ” کہا جاتا تھا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ آخر کار مودی کے وزیر کو استعفیٰ دینا پڑا ۔
کام کی جگہ پر بھی جین زی اپنی نڈری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ڈیلوئٹ (Deloitte) کے 2026 کے عالمی سروے، جس میں 44 ممالک کے 22595 جواب دہندگان شامل تھے، نے انکشاف کیا کہ جین زی تیز رفتار ترقی کے بجائے مستحکم پیشرفت، پائیدار کام کا بوجھ، اور واضح سپورٹ کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ایک ایسی نسل کی تصویر پیش کرتے ہیں جو معاشی عدم تحفظ، ذہنی دباؤ اور ماحولیاتی خوف کے باوجود اپنی اقدار پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کرتی ہے۔
جین زی نے ثابت کیا ہے کہ ڈیجیٹل ہونے کا مطلب بے حس ہونا نہیں، اور آن لائن ہونے کا مطلب غیر ذمہ دار ہونا نہیں۔ انہوں نے خوف کو اپنا راستہ نہیں بننے دیا، خاموشی کو اپنا مقدر نہیں بننے دیا، اور اپنے خوابوں کو دوسروں کی مرضی پر قربان نہیں کیا۔ وہ ایک ایسی دنیا میں پروان چڑھے ہیں جہاں کامیابی کا موازنہ ہم جماعتوں سے نہیں بلکہ دنیا بھر کے بااثر افراد (Influencers)، کاروباری بانیوں اور تخلیق کاروں سے کیا جاتا ہے، جس نے غیر معمولی عزم کے ساتھ ساتھ "دائمی خود شک” کو بھی جنم دیا ہے۔ لیکن اسی خود شک کو انہوں نے عمل میں بدل دیا ہے؛ وہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرتے ہیں اور پھر بھی آگے بڑھتے ہیں۔ وہ آج کی دنیا کی آواز ہیں اور کل کی دنیا کی امید، مگر سوال یہ ہے: کیا جین زی ایک نیا سماجی معاہدہ لکھ سکتی ہے، یا وہ تاریخ کے دھارے میں محض ایک اور بغاوت بن کر رہ جائے گی؟ ایک بات یقینی ہے کہ جین زی نے تاریخ کے ایک نازک موڑ پر قدم رکھا ہے، اور جس سمت وہ جائیں گے، وہی سمت اس دنیا کی ہوگی جو وہ اپنے پیچھے چھوڑیں گے۔ یہی جین زی ہے: بے خوف، بے باک، اور بے مثال۔