سیرتِ رسول ﷺ، تہذیبی روایت اور بازار کا کردار

سیرتِ رسول ﷺ، تہذیبی روایت اور بازار کا کردار

سیرتِ رسول ﷺ، تہذیبی روایت اور بازار کا کردار

از: اسد اللہ خان ذکی بسواکلیان

تہذیب و ثقافت کسی معاشرے میں اچانک وجود میں نہیں آتیں۔ ایک خیال پہلے کسی عمل یا علامت کی صورت اختیار کرتا ہے، پھر وہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے۔ مسلسل تکرار سے وہ عادت، عادت سے روایت اور نسل در نسل منتقلی کے نتیجے میں ثقافت کا حصہ بن جاتا ہے۔ جب ایسی روایات انسان کے اجتماعی رویوں، ترجیحات اور طرزِ زندگی کو متاثر کرنے لگیں تو وہ تہذیب کی تشکیل کرتی ہیں۔

رسول اللہ ﷺ سے محبت مسلمانوں کے ایمان اور جذبات کا بنیادی حصہ ہے۔ اسی محبت کے اظہار کے لیے مختلف علاقوں میں میلاد کے موقع پر الگ الگ روایات وجود میں آئی ہیں۔ کہیں مذہبی اجتماعات، نعتیہ مجالس اور سیرت کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں، کہیں جلوس، جھنڈے، چراغاں، مٹھائی، مخصوص لباس، موٹر سائیکلوں کی سجاوٹ اور بچوں کے چہروں پر اسٹیکرز اس موقع کی نمایاں شناخت بن جاتے ہیں۔

یہ علامتیں ابتدا میں محبت اور عقیدت کے انفرادی اظہار کے طور پر سامنے آتی ہیں، لیکن جب پورا معاشرہ انہیں ہر سال دہرانے لگتا ہے تو یہ ایک اجتماعی روایت بن جاتی ہیں۔ بچے اپنے بڑوں کو یہ اعمال کرتے ہوئے دیکھتے ہیں اور انہی علامتوں کے ذریعے مذہبی مناسبت کو پہچاننا شروع کرتے ہیں۔ یوں ایک نسل کا عمل اگلی نسل کی ثقافتی یادداشت بن جاتا ہے۔

کسی روایت کو مستقل بنانے میں بازار اور تجارت کا کردار بھی بہت اہم ہوتا ہے۔ جب کسی خاص موقع پر جھنڈوں، بیجز، اسٹیکرز، بینرز، غباروں، لائٹنگ اور دیگر سجاوٹی اشیا کی طلب بڑھتی ہے تو بازار انہیں بڑے پیمانے پر تیار کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اشتہارات، دکانیں اور سوشل میڈیا یہ تصور مضبوط کرتے ہیں کہ اس موقع کو منانے کے لیے مخصوص اشیا خریدنا ضروری ہے۔ اس طرح بازار صرف روایت کی ضروریات پوری نہیں کرتا بلکہ رفتہ رفتہ روایت کی صورت بھی متعین کرنے لگتا ہے۔

سوشل میڈیا نے اس عمل کو مزید تیز کردیا ہے۔ جو سجاوٹ یا تقریب پہلے ایک محلے تک محدود رہتی تھی، اب تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے چند گھنٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے انداز کو اختیار کرتے ہیں اور اظہارِ عقیدت میں جدت، وسعت اور بعض اوقات مقابلے کا رجحان پیدا ہوجاتا ہے۔ یوں ایک مقامی عمل وسیع ثقافتی روایت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری یہ ظاہری علامات سیرتِ رسول ﷺ کے حقیقی اخلاقی اور سماجی پیغام سے بھی مربوط ہیں؟

اگر جھنڈا لگانا محبت کی علامت ہے تو امانت داری محبت کی علامت کیوں نہ بنے؟

اگر گلی روشن کرنا اظہارِ عقیدت ہے تو کسی غریب طالب علم کی زندگی روشن کرنا زیادہ بڑی عقیدت کیوں نہ ہو؟

اگر بچوں کے گالوں پر اسٹیکر لگایا جا سکتا ہے تو ان کے کردار پر سیرت کی مہر کیوں نہ لگائی جائے؟

اگر موٹر سائیکل پر جھنڈا لگ سکتا ہے تو سڑک پر صبر، ٹریفک قانون اور دوسروں کے حقوق کا احترام کیوں نہ ہو؟

اگر میلاد کے لیے بازار سج سکتا ہے تو بازار میں سچائی، پورا وزن کے ساتھ تولنا اور حلال تجارت کیوں نہ فروغ پائے؟

اگر نعت کی آواز بلند ہو سکتی ہے تو مظلوم، یتیم اور بے روزگار کی آواز کیوں نہ سنی جائے؟

یہ سوالات کسی ظاہری اظہار کی نفی نہیں کرتے، بلکہ ہمیں اصل ترجیح یاد دلاتے ہیں۔ مسئلہ علامتوں کا نہیں، بلکہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب علامت اصل پیغام کی جگہ لے لے۔ جھنڈا محبت کی علامت ہو سکتا ہے، مگر محبت کا ثبوت کردار میں ظاہر ہونا چاہیے۔ چراغاں خوبصورتی پیدا کرسکتا ہے، مگر سیرت کا نور انسانی رویوں میں روشن ہونا چاہیے۔ نعت جذبات کو بیدار کرسکتی ہے، مگر یہی جذبہ کمزور، مظلوم اور محروم انسان کی حمایت میں بھی دکھائی دینا چاہیے۔

بازار کسی علامت کو مستقل بنا سکتا ہے، مگر اخلاق پیدا نہیں کرسکتا۔ جھنڈا شناخت دے سکتا ہے، مگر کردار نہیں۔ نعرہ وقتی جذبہ پیدا کرسکتا ہے، مگر عادلانہ معاشرہ قائم نہیں کرسکتا۔ سیرتِ نبوی ﷺ کی حقیقی تہذیب وہ ہے جو انسان کے معاملات، تجارت، خاندان، تعلیم، سیاست اور کمزور طبقات کے ساتھ رویے میں نظر آئے۔

لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ میلاد کو صرف ایک تقریبی یا نمائشی ثقافت تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اسے اخلاقی اور سماجی تبدیلی کا ذریعہ بنایا جائے۔ نعت کے ساتھ خدمت، سجاوٹ کے ساتھ صفائی، جلوس کے ساتھ نظم، مٹھائی کے ساتھ غریب کا حق، جھنڈے کے ساتھ امانت، اور محبت کے دعوے کے ساتھ اتباعِ رسول ﷺ بھی شامل ہو۔

ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم سیرتِ رسول ﷺ سے اپنی تہذیب تشکیل دیں گے یا بازار کو یہ اجازت دیں گے کہ وہ ہماری مذہبی محبت، اجتماعی ترجیحات اور ثقافتی شناخت کی صورت متعین کرے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے