پیر. جولائی 27th, 2026
استعفیٰ تو آگیا مگر…

استعفیٰ تو آگیا مگر…

ازقلم: افتخاراحمدقادری

مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا اپنے عہدے سے استعفیٰ بلاشبہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ایک ایسے سیاسی، تعلیمی اور اخلاقی بحران کا اہم موڑ ہے جس نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ انہوں نے اپنے استعفے میں طلبہ، اساتذہ، تعلیمی اصلاحات اور قومی خدمت سے وابستگی کا ذکر کیا، وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ وزارت ان کے لیے کبھی ذاتی وقار یا انا کا مسئلہ نہیں رہی۔ ان کے بیان میں یہ اعتراف بھی موجود ہے کہ نیٹ۔ یو جی 2026 کے امتحان سے متعلق بے ضابطگیاں سامنے آئیں، حکومت نے امتحان منسوخ کیا، سی بی آئی کے حوالے سے تحقیقات شروع ہوئیں، دو بارہ امتحان منعقد ہوا اور آئندہ سے کمپیوٹر پر مبنی امتحانی نظام اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان تمام اقدامات کا ذکر اپنی جگہ، لیکن اس پورے معاملے کا سب سے بنیادی سوال آج بھی وہی ہے جس کا جواب ملک کا ہر نوجوان جاننا چاہتا ہے کہ اگر یہی احساسِ ذمہ داری، یہی سنجیدگی اور یہی فیصلہ سازی اس وقت سامنے آ جاتی جب پہلی مرتبہ بے ضابطگیوں کی خبریں منظر عام پر آئی تھیں، تو کیا ملک کو اس قدر بڑے بحران سے گزرنا پڑتا؟
گزشتہ کئی برسوں میں مقابلے کے امتحانات کے حوالے سے اعتماد کا جو بحران پیدا ہوا، اس نے صرف امتحانی نظام کو مشکوک نہیں بنایا بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل، ان کی ذہنی کیفیت اور ان کے اعتماد کو بھی شدید متاثر کیا۔ نیٹ امتحان ہو، یو جی سی نیٹ ہو یا دیگر قومی سطح کے امتحانات، ہر مرتبہ جب پیپر لیک، دھاندلی یا منظم بے ضابطگیوں کی خبریں سامنے آئیں تو طلبہ نے صرف امتحان کی شفافیت پر سوال نہیں اٹھایا بلکہ اس پورے نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جس کے ذریعے وہ اپنے مستقبل کی تعمیر کا خواب دیکھتے تھے۔ بدقسمتی سے ان آوازوں کو ابتدا میں وہ سنجیدگی نہیں ملی جس کی وہ مستحق تھیں۔
ملک کے مختلف شہروں میں طلبہ نے احتجاج کیا۔ والدین نے اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں تشویش ظاہر کی۔ عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے گئے۔ حزبِ اختلاف نے حکومت سے جواب مانگا۔ ماہرینِ تعلیم نے امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ لیکن ان تمام آوازوں کے باوجود حکومتی سطح پر یہ تاثر قائم رہا کہ جیسے بحران کی شدت کو پوری طرح محسوس نہیں کیا جا رہا۔ وقت گزرتا گیا، احتجاج بڑھتے گئے، بے چینی میں اضافہ ہوتا گیا اور نوجوانوں کا اعتماد مسلسل کمزور ہوتا چلا گیا۔ ملک کے لاکھوں نوجوان برسوں کی محنت، والدین کی جمع پونجی، اپنی خواہشات اور خوابوں کو ایک امتحان کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ ایک امتحان صرف سوالوں کے جوابات دینے کا نام نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے کئی برسوں کی قربانیاں، معاشی مشکلات، نفسیاتی دباؤ اور مستقبل کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ جب اسی امتحان کی شفافیت پر سوال اٹھتے ہیں تو صرف ایک امتحان متنازع نہیں بنتا بلکہ پورا نظامِ اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے۔ اس بحران کے دوران کئی ایسے افسوسناک واقعات بھی سامنے آئے جن میں ذہنی دباؤ، مایوسی اور مستقبل کے اندیشوں نے بعض نوجوانوں کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ ہر ایسی خبر نے پورے معاشرے کو غمزدہ کیا۔ اگرچہ کسی ایک واقعے کی تمام تر ذمہ داری کسی ایک فرد یا ادارے پر عائد نہیں کی جا سکتی، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب حکومتی فیصلے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں، غیر یقینی کیفیت طول پکڑتی ہے اور نوجوانوں کو بروقت یقین دہانی نہیں ملتی تو اس کے نفسیاتی اثرات نہایت گہرے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج استعفے کے اعلان کے بعد بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر بروقت فیصلہ کیا جاتا، اگر پہلے ہی مرحلے میں ذمہ داری قبول کرتے ہوئے سخت کارروائی ہوتی، اگر نظام میں فوری اصلاحات نافذ کر دی جاتیں، تو شاید بے شمار خاندان اس اذیت، اضطراب اور ناقابلِ تلافی نقصان سے محفوظ رہتے۔ دھرمیندر پردھان نے اپنے استعفے میں یہ بھی کہا ہے کہ حکومت نے فوری طور پر سی بی آئی تحقیقات کا حکم دیا، امتحان منسوخ کیا اور دو بارہ امتحان کا انعقاد یقینی بنایا۔ یہ اقدامات یقیناً ضروری تھے، مگر ان کی افادیت اسی وقت زیادہ محسوس ہوتی جب یہ سب کچھ بحران کے ابتدائی مرحلے میں ہوتا۔ عوام کی نظر میں صرف یہ اہم نہیں ہوتا کہ آخرکار کیا فیصلہ لیا گیا، بلکہ یہ بھی اہم ہوتا ہے کہ وہ فیصلہ کب لیا گیا۔ سیاست اور حکمرانی میں بروقت فیصلہ اکثر دیر سے کیے گئے بہترین فیصلے سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ ایک جمہوری حکومت کی اصل طاقت صرف اکثریت نہیں بلکہ عوام کے اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہی اعتماد اس وقت کمزور ہوتا ہے جب نوجوان یہ محسوس کریں کہ ان کی آواز مسلسل نظر انداز کی جا رہی ہے۔ گزشتہ کئی ماہ کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے احتجاج اسی اعتماد کے بحران کا اظہار تھے۔ طلبہ کسی سیاسی مفاد کے لیے سڑکوں پر نہیں آئے تھے بلکہ وہ اپنے مستقبل، اپنی محنت اور اپنے حق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کر رہے تھے۔ ان کی بنیادی خواہش صرف یہ تھی کہ امتحانی نظام شفاف ہو، ذمہ داروں کو سزا ملے اور کسی بھی محنتی طالب علم کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ استعفیٰ یقیناً جمہوری روایت کا ایک اہم حصہ ہے۔ جب کوئی وزیر کسی بڑے انتظامی بحران کے بعد اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے عہدہ چھوڑتا ہے تو اسے سیاسی جواب دہی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اگر استعفیٰ اس وقت آئے جب بحران اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہو، جب لاکھوں نوجوان ذہنی اذیت سے گزر چکے ہوں، جب ملک بھر میں احتجاج ہو چکے ہوں اور جب عوامی اعتماد بری طرح متاثر ہو چکا ہو، تو پھر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا یہ قدم بہت پہلے نہیں اٹھایا جانا چاہیے تھا؟ کیوں کہ ہندوستان کے امتحانی نظام کو جزوی اصلاحات نہیں بلکہ بنیادی اور جامع تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ صرف امتحان کو کمپیوٹر پر منتقل کر دینا کافی نہیں ہوگا۔ امتحانی اداروں کی مکمل جوابدہی، ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال، سائبر سکیورٹی، سوالیہ پرچوں کی تیاری سے لے کر امتحان کے انعقاد تک ہر مرحلے کی آزاد نگرانی اور ذمہ دار افسران کے خلاف فوری کارروائی جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ جب تک نظام میں احتساب کو مضبوط نہیں بنایا جائے گا، محض چہرے بدلنے سے اعتماد بحال نہیں ہوگا۔ اب حکومت نوجوانوں کے ساتھ مسلسل مکالمہ قائم کرے۔ نوجوان صرف سرکاری اعلانات نہیں چاہتے بلکہ انہیں یہ یقین بھی چاہیے کہ ان کی محنت محفوظ ہے، ان کے خواب کسی منظم بدعنوانی کی نذر نہیں ہوں گے اور اگر کوئی بے ضابطگی سامنے آئے گی تو حکومت بغیر کسی تاخیر کے سخت ترین کارروائی کرے گی۔
دھرمیندر پردھان کے استعفے کو بعض حلقے اخلاقی ذمہ داری کا مظاہرہ قرار دیں گے اور بعض اسے عوامی دباؤ کا نتیجہ کہیں گے۔ لیکن ان دونوں تعبیرات سے ہٹ کر اصل سبق یہی ہے کہ حکمرانی میں وقت کی اہمیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ بروقت اقدام صرف سیاسی نقصان کو نہیں روکتا بلکہ انسانی جانوں، نوجوانوں کی امیدوں اور قومی اعتماد کو بھی محفوظ رکھتا ہے۔ تاخیر سے لیا گیا درست فیصلہ بھی ان زخموں کا مکمل مداوا نہیں کر سکتا جو انتظار، بے یقینی اور مایوسی کے دوران لگ چکے ہوتے ہیں۔ آج جب وزارتِ تعلیم میں ایک نئے دور کی بات کی جا رہی ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعے کو محض ایک سیاسی تبدیلی سمجھ کر فراموش نہ کر دیا جائے بلکہ اسے تعلیمی نظام میں ہمہ گیر اصلاحات کا نقطہ آغاز بنایا جائے۔ اگر اس بحران سے حقیقی سبق حاصل کر لیا گیا، امتحانی نظام کو شفاف اور جوابدہ بنا دیا گیا اور نوجوانوں کے اعتماد کو دو بارہ بحال کر لیا گیا تو شاید یہ تلخ تجربہ مستقبل کے لیے ایک مثبت موڑ ثابت ہو۔ لیکن اگر چند بیانات، چند انتظامی تبدیلیوں اور ایک استعفے پر ہی اکتفا کر لیا گیا تو خدشہ یہی رہے گا کہ آئندہ بھی کوئی نیا امتحان، کوئی نئی بے ضابطگی اور کوئی نیا احتجاج ہمارے سامنے کھڑا ہوگا۔ ملک کے نوجوانوں کو صرف افسوس، تعزیت اور یقین دہانیوں کی ضرورت نہیں بلکہ ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں ان کی محنت کا احترام ہو، ان کے مستقبل کے ساتھ کوئی کھیل نہ ہو اور حکومت ہر اس موقع پر بروقت فیصلہ کرے جہاں ایک دن کی تاخیر بھی لاکھوں خوابوں پر بھاری پڑ سکتی ہو۔ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ایک اہم سیاسی واقعہ ضرور ہے مگر اس کی اصل اہمیت اسی وقت ثابت ہوگی جب اسے اختتام نہیں بلکہ آغاز سمجھا جائے؛ ایسا آغاز جس کے بعد ہندوستان کا امتحانی نظام واقعی شفاف، جوابدہ اور نوجوانوں کے اعتماد کے قابل بن سکے۔ اگر یہ سبق سیکھ لیا گیا تو یہ استعفیٰ تاریخ میں صرف ایک سیاسی خبر نہیں بلکہ اصلاحِ نظام کے ایک موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو آنے والی نسلیں یہی سوال دہراتی رہیں گی کہ فیصلہ آخر اتنی دیر سے کیوں لیا گیا؟
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے