Breaking
جمعہ. جون 5th, 2026

جمعہ نامہ: قومِ ناداں پر کلام ِ نرم و نازک بے اثر

جمعہ نامہ: قومِ ناداں پر کلام ِ نرم و نازک بے اثر

جمعہ نامہ: قومِ ناداں پر کلام ِ نرم و نازک بے اثر

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

ارشادِ ربانی ہے :’’ مَدیَن کی طرف ہم نے اُن کے بھائی شعیب کو بھیجا‘‘ سورۂ عنکبوت میں مختلف اقوام کے رویہ اور انجام کا ذکر فرماتے ہوئے حضرت شعیبؑ کی دعوت کو اس طرح پیش کیا گیا کہ: "اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو اور روزِ آخر کے امیدوار رہو اور زمین میں مفسد بن کر زیادتیاں نہ کرتے پھرو” اس دعوت اسلامی میں عقیدۂ توحید و معاد کے ساتھ عملی دنیا میں فساد و زیادتی سے روکا گیا ہے۔یعنی کفر الحاد کے سبب برپا ہونے والے ظلم و فساد سے نجات کا نسخۂ کیمیا خدائے واحد پر ایمان لاکر آخرت کو سنوارنے کے لیے عمل صالح کرنا ہی ہے۔ ظلم و طغیان کے علمبرداروں کو یہی عقیدہ اپنا رویہ بدلنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ عصرِ حاضر میں ظلم و جبر کا بازار محض سرکار دربار تک محدود نہیں ہے بلکہ عام لوگ بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے ہیں۔ ایسے میں قرآن کریم کے اندر پوری قوم کو اس کے انجام بد سے اس طرح خبردار کیا گیا کہ :’’ مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آ لیا اور وہ اپنے گھروں میں پڑے کے پڑے رہ گئے‘‘۔
اللہ تبارک و تعالیٰ حتمی انجام سے قبل دنیا کے اندر مشکلات میں گرفتار کرکے بھی قوم کو سنبھلنے کا موقع دیتا ہے۔ وطن عزیز میں ہر کوئی اس کا نظارہ کررہا ہے اور وزیر اعظم نیدر لینڈر میں جاکر یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ’’ کورونا کی وبا، جنگوں اور موجودہ توانائی کے بحران کی وجہ سے یہ دہائی تباہیوں کی دہائی بن رہی ہے، اور اگر بروقت حالات نہ بدلے تو ایک بہت بڑی آبادی دوبارہ غربت کی دلدل میں پھنس سکتی‘‘۔ انہوں نے قوم کو سادگی و قناعت کے کئی ناقابلِ عمل مشورے تو دے دئیے لیکن خود اپنے ساتھیوں کے ساتھ سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف ہوگئے۔ اس کا نظارہ کھلے طور پر مغربی بنگال میں ہورہا ہے۔ فرمانِ خداوندی کی روشنی میں ایسا اس لیے ہوتا ہےکیونکہ :’’ عاد و ثمود کو ہم نے ہلاک کیا، تم وہ مقامات دیکھ چکے ہو جہاں وہ رہتے تھے اُن کے اعمال کو شیطان نے اُن کے لیے خوشنما بنا دیا اور انہیں راہِ راست سے برگشتہ کر دیا حالانکہ وہ ہوش گوش رکھتے تھے ‘‘۔ یہاں عاد و ثمود کے حوالے سے یہ بات کہی گئی کہ ان کا انجام تمہارے سامنے ہے۔ وہ احمق نہیں بلکہ ہوشیا ر یعنی بینا و دانا قوم تھی مگر شیطان کے بہکاوے میں راہِ راست سے بھٹک کر اپنے اعمال بد پرخوش اور مطمئن ہوگئی تھی ۔
آج بھی من و عن وہی صورتحال ہے۔ اپنی وشوگرو(عالمی قائد) کی جعلی شبیہ بچانے کے لیے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے سونے کےقومی ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کیا جارہا ہے۔ ’بلومبرگ اکنامکس‘ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 1.14 لاکھ کروڑ روپئے قیمت کا سونا فروخت کرکے 713.23 ارب روپئے کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے۔ اس کا مقصد غالباً ڈالر کی قیمت کو سو روپیہ پار ہونے سے مصنوعی انداز میں روکنا تھا ۔ سوال یہ ہے کہ ایسی نوبت کیوں آئی ؟ فرمان ربانی ہے:’’لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی بنا پر فساد خشکی اور تری ہر جگہ غالب آگیا ہے تاکہ خدا ان کے کچھ اعمال کا مزہ چکھا دے تو شاید یہ لوگ پلٹ کر راستے پر آجائیں‘‘۔ مشیت ایزدی تو خبردار کررہی مگرکبر وغرور کے نشے میں دھت عصرِ حاضر کے حکمرانوں کواقتدار کےجنون نےمدہوش کررکھا ہے ۔ ان لوگوں نے وارانسی میں ایک مسجد و مزار کو ریلوے کی زمین پر دراندازی کہہ کر شہید کردیا ۔ یہ دو سوسال قدیم تعمیرات تھیں جبکہ اس وقت ہندوستان کے اندر ریلوے ہی نہیں تھی۔ اس کے سارے دستاویزات موجود تھے مگر رات کے اندھیرے میں چوروں کی مانند یہ انہدامی کارروائی کرکے کہا گیا کہ وہاں موجود ہنومان مندر بھی ہٹا دیا گیا۔
ایسے مستکبروں کی بابت فرمانِ قرآنی ہے:’’اور قارون و فرعون و ہامان کو ہم نے ہلاک کیا موسیٰؑ اُن کے پاس بیّنات لے کر آئے مگر انہوں نے زمین میں اپنی بڑائی کا زعم کیا حالانکہ وہ سبقت لے جانے والے نہ تھے آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا، پھر ان میں سے کسی پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی، اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آ لیا، اور کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا، اور کسی کو غرق کر دیا اللہ اُن پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے‘‘۔ یہ تو مستکبرین کی دنیوی تباہی سے کا ہیبت ناک انجام ہے مگر قیامت کا دائمی عذاب تو ٹالے نہیں ٹلتا ۔ حکمرانوں کا اپنا سیاسی و معاشی مفاد ان سے مختلف مظالم کاا رتکاب کرواتا ہے مگر وہ انتظامیہ اور عوام جو ان کے بھروسے یا اشارے پر جبر و استبداد کا حصہ بن جاتے ہیں ان کی بابت ارشادِ فرقانی ہے:’’ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دُوسرے سرپرست بنا لیے ہیں اُن کی مثال مکڑی جیسی ہے جو اپنا ایک گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے کاش یہ لوگ علم رکھتے‘‘۔
یہ عجب اتفاق ہے کہ ترنمول کے باغی جس زعفرانی ٹولے کو جائے عافیت سمجھتے ہیں وہ خود کاکروچ پارٹی کی دہشت میں مبتلا ہوکر اس پر پابندیاں لگا رہاہے۔ مغربی بنگال کے اندر جو لوگ کل تک ترنمول کانگریس کے مضبوط قلعہ میں اپنے آپ کو محفوظ و مامون سمجھتے تھے وہ اب وہاں سے بھاگنے لگے ہیں کیونکہ اقتدار کی زمامِ کار ممتا بنرجی کے ہاتھوں سے نکل گئی ۔ تاریخ گواہ ہے کہ حکومت ہمیشہ کسی ایک گروہ کے پاس نہیں رہتی ۔ کل جب موجودہ حکمرانوں کی پکڑ ڈھیلی ہوگی تو یہ پیروکار پھر راہِ فرار کےلیےمجبور ہوں گے کیونکہ در بدر ٹھوکریں کھانا ہی ان کا مقدر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان مثالوں کو اہل ایمان تک محدود نہیں کیا بلکہ فرمایا :’’(اسے)ہم (عام) لوگوں کی فہمائش کے لیے دیتے ہیں، مگر ان کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں‘‘۔ اپنی خدائی کا دعویٰ کرنے والے جاہل حکمران اور ان بزدل پیروکاروں پر ’یہ کلام نرم و نازک بے اثر ‘ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی دنیوی و اخروی تباہی و بربادی سے ہم آغوش ہوجاتے ہیں۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے