مذہبی آزاد ی کے نام پر مذہبی آزادی سلب کرنے کی مذموم کوشش ، حکومت مہاراشٹر کا متنازعہ لو جہاد قانون اقلیتوں پر مسلط ہونے کے لیئے تیار

مذہبی آزاد ی کے نام پر مذہبی آزادی سلب کرنے کی مذموم کوشش ، حکومت مہاراشٹر کا  متنازعہ لو جہاد قانون اقلیتوں پر مسلط ہونے کے لیئے تیار

مذہبی آزاد ی کے نام پر مذہبی آزادی سلب کرنے کی مذموم کوشش ،

حکومت مہاراشٹر کا متنازعہ لو جہاد قانون اقلیتوں پر مسلط ہونے کے لیئے تیار

از: ایڈوکیٹ شاہد ندیم (بامبے ہائیکورٹ)

maharashtra-governments-controversial-love-jihad-law-ready-to-be-imposed-on-minorities

بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مہاراشٹر سرکار نے بالآخر مبینہ ’’لوجہاد‘‘ کو روکنے کے لیئے گذشتہ ماہ ایک خصوصی قانون(بل) مہاراشٹر اسمبلی کے بجٹ میں پیش کیا تھا جسے ایوان نے صوتی ووٹوں سے پاس کردیا، بل پاس ہونے کے بعد اب اس کا قانون بننا بس ایک رسمی ہے۔بل پر گورنر کی مہر لگتے ہی یہ پوری ریاست میں نافذ العمل ہوگا ۔ریاستی سرکار نے اسے فریڈم آف ریلجن بل(ایکٹ) کا نام دیا ہے حالانکہ اس مجوزہ قانون کے تحت شہریان کی مذہبی آزادی چھیننے کی کوشش کی جارہی کیونکہ آئین ہند نے ہندوستان میں بسنے والے تمام شہریوں کو ان کی پسند کے مذہب پر رہتے ہوئے اپنے مذہبی رسومات ادا کرنے ،شادی بیاہ کرنے کی آزادی دی ہے ، آئین ہند نے شہریان کو مذہب کی ترویج کرنے کی بھی اجازت دی ہے۔ یہ قانون مذہبی آزادی اور شخصی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش ہے جسے حکومت جبری مذہبی تبدیلی کے خلاف حفاظتی اقدام بتار ہی ہے جبکہ اس قانون کی وجہ سے بین المذاہب شادیوں اور اپنی مرضی سے مذہب اختیار کرنے والوں کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔مہاراشٹر حکومت جو قانون بنانے جارہی ہے اس میں سخت دفعات شامل کی گئی ہیں جس کے مطابق جرم ثابت ہونے پرپانچ سے دس سال تک سزا ور سات لاکھ روپئے تک جرمانہ بھی عائد کیئے جانے کی دفعات ہیں۔حکومت مہاراشٹر کے مطابق اس قانون کی مدد سے جبری تبدیلی مذہب ، شادی کے لیئے بہلا پھسلا کر، لالچ دے کرمذہب کی تبدیلی جیسے عمل پر روک لگے گی نیز ایسا کرنے والوں کو سزا دی جائے گا او ر اس قانون کے تحت جرم غیر ضمانتی ہوگا۔ مسلم نوجوانوںکے ساتھ ہندو لڑکیوں کے مبینہ مذہب تبدیل کرکے شادی کرنے کے حالیہ واقعات کے بعد مہاراشٹر حکومت نے یہ قدم اٹھایا ہے حالانکہ ہندوستانی آئین نے تمام شہریوں کو اپنی پسند کے مذہب کو ماننے اور اس پر عمل کرنے اور اس کی ترویج کی اجازت دی ہے۔آئین ہند کے آرٹیکل 25 سے 28 میں مذہبی آزادی کا ذکر ہے جس کے مطابق ہندوستان کا ہر شہری اپنی پسند کے مذہب کو اپنا سکتا ہے جس کے لیئے اسے کسی حکومتی ادارے سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے لیکن مہاراشٹر حکومت کی جانب سے بنائے گئے قانون کے مطابق مذہب تبدیل کرنے سے قبل اجازت لینا ہوگی جو آئین ہندمیں دیئے گئے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ویسے تو یہ روایتی قوانین کی طرح بہت طویل قانون نہیں ہے لیکن اس قانون کی باریکیوں کو سمجھنے کے لئے اس کی چند شق کو سمجھنا بہت ضروری ہے جیسے دفعہ 6 کے تحت تبدیلی مذہب کی شکایت والدین، بھائی، بہن کے علاوہ کوئی بھی خونی رشتہ دار بھی درج کراسکتے ہیں، اسی طرح بڑے پیمانے پر مذہب تبدیلی کی شکایت کوئی بھی شخص پولس میں کرسکتا ہے اورایسی شکایت پر پولس از خود کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کرسکتی ہے۔دفعہ 8 میں سزا کا ذکر ہے جس کے تحت پہلی مرتبہ قصور وار پائے جانے پر ایک سے لیکرسات سال تک کی سزا اور پانچ لاکھ روپئے تک جرمانہ ہوسکتا ہے ۔ اسی طرح دوسری مرتبہ قصور وار پائے جانے پر سزا اور جرمانہ کی رقم دوگنی ہوجائے گی۔اسی قانون کی دفعہ 4کے مطابق غیر قانونی طریقے سے مذہب تبدیل کرکے انجام دی گئی شادی کو فیملی کورٹ باطل قرارد ے سکتی ہے اور جن علاقوںمیں فیملی کورٹ نہیں ہے ایسے مقامات پر پہلے سے موجود عدالت جسے اضافی اختیارات حاصل ہیں وہ اس پر کارروائی کرسکتی ہے۔مجوزہ قانون کے مطابق نا صرف بین مذہب شادی بلکہ مذہب تبدیل کرنے کے لیئے بھی ایک خصوصی عمل سے گذرنا ہوگا جس میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یا اضافی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو 60 دن قبل نوٹس دینا ہوگا ۔اسی طرح مذہب تبدیل کرانے والے قاضی ،مولانا، پنڈت وغیرہ کو بھی ایک ماہ قبل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو مطلع کرنا ہوگا۔متذکرہ عمل مکمل ہونے کے بعد پولس انکوائری کریگی کہ آیا تبدیلی مذہب جبراً تو نہیں ہے ، کوئی لالچ تو نہیں دی گئی وغیرہ وغیرہ۔پولس انکوائر ی میں اگر یہ پایا گیا کہ تبدیلی مذہب جبراً یا لالچ کے ذریعہ ہوا تو مذہب تبدیل کرانے والے شخص اور اس کی مدد کرنے والے کوپانچ سال تک کی سزا اور جرمانہ ہوسکتا ہے۔اسی طرح دفعہ 13 کے مطابق یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری اس شخص پر ہوگی جس نے مذہب تبدیل کرایا ہیکہ مذہب کی تبدیلی جبراً نہیں ہے ۔مبینہ جبراً تبدیلی مذہب پر قدغن لگانے کے لیئے ابتک مہاراشٹر سمیت 13؍ ریاستوں نے مختلف ناموں سے قانون بنائے ہیں جو تقریباً ایک جیسے ہی ہیں ۔ مہاراشٹرکے علاوہ اتر پردیش، مدھیہ پردیش، گجرات، اتراکھنڈ، چھتیس گڑھ، اڑیسہ، جھارکھنڈ،ارونا چل پردیش، ہریانہ، راجستھان، کرناٹک،ہماچل پردیش نے خواتین (ہندو) تحفظ اور جبری تبدیلی مذہب کے نام پر قانون بنائے ہیں۔جمعیۃ علماء ہند سمیت متعدد کرسچن تنظیموں اور سیکولر شخصیات نے ان قوانین کی آئینی حیثیت کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کیا ہے ، سپریم کورٹ آف انڈیا نے ایک جانب جہاں لئو جہاد قانون بنانے والی ریاستوں سمیت یونین آف انڈیا کو نوٹس جاری کیا ہے وہیں ان قوانین پر اسٹے دینے سے انکار کردیا جس کی وجہ سے مسلمانوں اور کرسچنوں پر بے لگام مقدمات قائم کیئے جارہے ہیں، صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی اس اہم مقدمہ کی سپریم کورٹ آف انڈیا میں پیروی کررہی ہے،گلزار اعظمی کے انتقال کے بعد نائب صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید اسجد مدنی سپریم کورٹ آف انڈیا میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے عرض گذار بنے ہیں۔ مہاراشٹر حکومت کی جانب سے بنائے گئے فریڈم آف ریلجن بل(ایکٹ) کو عدالت میں چیلنج کرنے کے لیئے صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی کی سربراہی میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی نے لائحہ عمل تیار کیاہے، گورنر کی مہر لگنے کے بعد اس تعلق سے قانونی کارروائی انجام دی جائے گی۔ گرمی کی تعطیلات کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی والی آئینی بینچ لو جہاد قانون کی آئینی حیثیت پر حتمی سماعت کرسکتی ہے۔ اس معاملے میں صرف گجرات ہائی کورٹ ہی ایسی ہائی کورٹ ہے جس نے 2021؍ میں اس قانون کی بعض شقوں پر یہ کہتے ہوئے عبور ی اسٹے لگا دیا تھا کہ صرف بین المذاہب شادی کی بنیاد پر اس قانون کے تحت کارروائی نہیں کی جاسکتی ہے ۔تبدیلی مذہب مانع قانون کا سہارا لیکر یو پی حکومت نے مشہور داعی مولانا کلیم صدیقی اور ان کے رفقاء کے خلاف مقدمات قائم کیئے تھے ۔ لکھنئو کی سیشن عدالت نے برق رفتاری سے مقدمہ کی سماعت کی اور مولانا کلیم صدیقی سمیت دس ملزمین کو عمر قید کی سزائیں دی تھی، ابھی مولانا کلیم صدیقی کا مقدمہ لکھنئو ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، اپیل اور ضمانت پر رہائی کی عرضداشت پر لکھنئو ہائی کورٹ سماعت کررہی ہے، مولانا کلیم صدیقی کے مقدمہ میں نچلی عدالت نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنے والے دو گونگے و بہرے کو بھی دس دس سال کی سزائیں سنائی ہیں کیونکہ ان دونوں کے رشتہ داروں نے جبراً مذہبی تبدیل کیئے جانے کی پولس میں شکایت درج کرائی تھی۔مسلم یا کرسچن مذہب اختیار کرکے شادی کرنے والے لوگوں پرلئو جہاد قانو ن کے تحت پولس کارروائی کررہی ہے لیکن مسلم یا کرسچن مذہب چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کرکے شادی کرنے والوں پر پولس کوئی کارروائی نہیں کررہی ہے ، اسے دو بالغ لوگوں کے درمیان کا ذاتی معاملہ بتایا جارہاہے ، کسی بھی ہندو شخص کے خلاف مسلم لڑکی کا مذہب تبدیل کراکر شادی کرنے کا مقدمہ قائم نہیں کیا گیا ہے جبکہ مسلم لڑکیاں اور لڑکے بھی مرتد ہوکر دوسرے مذاہب کو اختیارکرکے شادیاں کررہے ہیں ۔اب جبکہ بہت جلد مہاراشٹر میں یہ قانون نافذالعمل ہوگا، بین المذاہب شادی کرنے یا غیر مسلموں میں دین کی تبلیغ کرنے والوں کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے،پولس اس خصوصی قانون کا سہارا لیکر ایک جھوٹی شکایت پر بھی ان کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرسکتی ہے۔
)مضمون نگار جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے قانونی مشیر ہیں(
9029092370

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے