ٹی ایم سی ارکان پارلیمنٹ کی بغاوت، قومی سیاست کی نئی ہلچل
تحریر: محمد اعجاز الدین احمد عاجز
گزشتہ ہفتے اسی کالم میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اندر پیدا ہونے والی ایم ایل ایز کی بغاوت اور اس کے مغربی بنگال کی سیاست پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تھا۔ اُس وقت یہ تاثر غالب تھا کہ بحران بنیادی طور پر ریاستی سطح تک محدود ہے اور پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے، قیادت کے اندازِ حکمرانی اور انتخابی ناکامیوں کے گرد گھوم رہا ہے۔ مگر صرف چند دنوں کے اندر سیاسی منظرنامہ مزید پیچیدہ اور سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں ٹی ایم سی کے اندرونی اختلافات کی بازگشت بنگال سے نکل کر پارلیمنٹ کے ایوانوں تک پہنچ چکی ہے۔ اب یہ اختلافِ رائے اسمبلی کی حدود سے آگے بڑھ کر قومی سیاست کے مرکز میں داخل ہو چکا ہے، جہاں خود ترنمول کانگریس کے ارکانِ پارلیمنٹ نے قیادت کے خلاف کھل کر صف بندی شروع کر دی ہے۔یہ نئی پیش رفت محض ایک جماعت کے اندرونی اختلافات کی کہانی نہیں، بلکہ اس کے اثرات قومی سیاست، اپوزیشن اتحاد، پارلیمانی قانون سازی، وفاقی ڈھانچے اور مستقبل کی ممکنہ آئینی اصلاحات تک پھیلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بنگال کی سیاست میں پیدا ہونے والی یہ گونج اب دہلی کے اقتدار کے ایوانوں تک سنی جارہی ہے اسی لیے موجودہ بحران کو صرف ایک علاقائی جماعت کے داخلی انتشار کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اندر جاری سیاسی ہلچل اب مغربی بنگال اسمبلی سے نکل کر ہندوستانی پارلیمنٹ تک جا پہنچی ہے۔ جو بحران ابتدا میں چند ناراض ایم ایل ایز کی مزاحمت اور قیادت کے خلاف احتجاج کے طور پر سامنے آیا تھا، وہ اب لوک سبھا میں ممتا بنرجی کی سیاسی گرفت کے لیے ایک غیر معمولی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی نے نہ صرف بنگال بلکہ قومی سیاست میں بھی بے چینی پیدا کر دی ہے، کیونکہ پارلیمانی صفوں میں کسی بڑی دراڑ کے اثرات براہِ راست قانون سازی، اپوزیشن اتحاد اور مرکز میں طاقت کے توازن پر مرتب ہوتے ہیں۔
ابتدائی مرحلے میں باغی ایم ایل ایز نے پارٹی ہائی کمان کی جانب سے نامزد کردہ قائدِ حزبِ اختلاف ریتابرتا بنرجی کی قیادت کو چیلنج کیا تھا۔ باغیوں کا دعویٰ تھا کہ انہیں دو تہائی سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہے اور وہ خود کو پارٹی کے حقیقی نمائندہ دھڑے کے طور پر منوانا چاہتے ہیں۔ اس وقت معاملہ زیادہ تر ریاستی سیاست اور پارٹی تنظیم تک محدود سمجھا جا رہا تھا، مگر اب بحران نے ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو کر پارلیمانی سیاست کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
گزشتہ چند دنوں میں ناراض ٹی ایم سی ارکانِ پارلیمنٹ نے اعلان کیا کہ وہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کر کے خود کو اصل ٹی ایم سی پارلیمانی گروپ تسلیم کرنے کا مطالبہ کریں گے۔ باغیوں کا کہنا ہے کہ انہیں تقریباً انیس سے بیس ارکانِ پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے، جو پارٹی کی پارلیمانی طاقت کے دو تہائی سے زیادہ بنتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان میں کئی بااثر اور نمایاں چہرے شامل ہیں، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ بغاوت اب چند مقامی ناراض رہنماؤں تک محدود نہیں رہی بلکہ پارٹی کی مرکزی قیادت اور پارلیمانی ڈھانچے تک سرایت کر چکی ہے۔
یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایم ایل ایز کی بغاوت کے مقابلے میں ایم پیز کی بغاوت کو زیادہ سنگین کیوں سمجھا جا رہا ہے؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسمبلی کے اندر اختلافات اگرچہ ریاستی حکومت اور پارٹی تنظیم کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، لیکن پارلیمنٹ میں کسی بڑے دھڑے کی بغاوت قومی سطح پر طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔ اگر ٹی ایم سی کے باغی ارکانِ پارلیمنٹ آزادانہ ووٹنگ شروع کر دیتے ہیں یا مخصوص معاملات پر این ڈی اے حکومت کی حمایت کرتے ہیں، تو اس سے پارلیمانی منظرنامہ تبدیل ہو سکتا ہے، چاہے وہ باضابطہ طور پر بی جے پی میں شامل نہ بھی ہوں۔
اطلاعات یہ بھی ہیں کہ باغی ارکان این ڈی اے کی بعض پالیسیوں اور قانون سازی کی حمایت پر آمادہ ہیں، اگرچہ فوری طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی میں ضم ہونے کا کوئی واضح عندیہ نہیں دیا گیا۔ لیکن عملی سیاست میں اکثر پارلیمانی حمایت رسمی انضمام سے زیادہ اہم ثابت ہوتی ہے۔ اگر حکومت کو حساس مواقع پر اضافی ووٹ ملنے لگیں تو اس سے پارلیمانی عمل کافی حد تک آسان ہو جاتا ہے۔
ٹی ایم سی طویل عرصے سے ملک میں بی جے پی مخالف سیاست کی ایک مضبوط علامت سمجھی جاتی رہی ہے۔ ممتا بنرجی نے خود کو ایک ایسے وفاقی اور علاقائی سیاسی بیانیے کے طور پر پیش کیا جو مرکز میں طاقت کے ارتکاز کی مخالفت کرتا ہے۔ اسی لیے پارٹی کی پارلیمانی صفوں میں تقسیم صرف ایک جماعت کی کمزوری نہیں بلکہ پورے اپوزیشن بیانیے کے لیے دھچکے کے مترادف سمجھی جا رہی ہے۔
اگرچہ این ڈی اے حکومت کے پاس پہلے ہی پارلیمنٹ میں فعال اکثریت موجود ہے، لیکن ٹی ایم سی کے باغی ارکان کی ممکنہ حمایت حکومت کے لیے مزید سہولت پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں متنازع قانون سازی نسبتاً آسانی سے منظور ہو سکتی ہے، چھوٹے اتحادیوں پر انحصار کم ہو سکتا ہے، اور حکومت کو آئینی یا انتخابی اصلاحات کے معاملے میں زیادہ اعتماد حاصل ہو سکتا ہے۔ اسی کے ساتھ اپوزیشن کی پارلیمانی مزاحمت بھی کمزور پڑ سکتی ہے۔
بی جے پی کے لیے اس بغاوت کی علامتی اہمیت بھی کم نہیں۔ حکمراں جماعت طویل عرصے سے یہ سیاسی بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے کہ علاقائی اپوزیشن جماعتیں اندرونی بحرانوں کا شکار ہیں اور قومی سطح پر متبادل قیادت فراہم کرنے کی صلاحیت کھو رہی ہیں۔ ٹی ایم سی کے اندر پیدا ہونے والی یہ دراڑ اس بیانیے کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔
اس پورے بحران کا ایک نہایت اہم پہلو مستقبل کی مجوزہ پارلیمانی و اسمبلی حلقوں کی حد بندی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ آنے والے برسوں میں حلقہ بندی کا مسئلہ ہندوستانی سیاست کا سب سے بڑا تنازع بن سکتا ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں مختلف ریاستوں میں لوک سبھا نشستوں کی تعداد اور تقسیم تبدیل ہو سکتی ہے۔ جنوبی ریاستوں اور کئی علاقائی جماعتوں نے پہلے ہی آبادی کی بنیاد پر نئی تقسیم پر تشویش ظاہر کی ہے، کیونکہ ان کے نزدیک اس سے شمالی ریاستوں کا سیاسی وزن بڑھ سکتا ہے۔۔
ٹی ایم سی روایتی طور پر وفاقی ڈھانچے اور علاقائی خودمختاری کے حق میں ایک مضبوط آواز رہی ہے۔ لیکن اگر پارٹی اندرونی طور پر تقسیم کا شکار ہو جاتی ہے تو وہ مستقبل میں حد بندی جیسے حساس معاملات پر مؤثر مزاحمت کرنے کی صلاحیت کھو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ اگر باغی ارکانِ پارلیمنٹ این ڈی اے کے موقف کی حمایت کرتے ہیں تو مرکز کے لیے پارلیمانی حلقوں کی نئی حد بندی، انتخابی اصلاحات، بیک وقت انتخابات اور وفاقی تعلقات سے متعلق ممکنہ آئینی ترامیم کو آگے بڑھانا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔یوں یہ بحران صرف مغربی بنگال کی سیاست تک محدود نہیں رہتا بلکہ ہندوستانی وفاقی نظام، مرکز و ریاست تعلقات اور مستقبل کی آئینی سمت سے بھی جڑ جاتا ہے۔
انڈیا انڈیا اتحاد کے لیے بھی یہ صورتحال غیر معمولی تشویش کا باعث ہے۔ ٹی ایم سی اپوزیشن اتحاد کی سب سے اہم جماعتوں میں شمار ہوتی رہی ہے۔ اس کی کمزوری سے اپوزیشن کی اجتماعی سودے بازی کی طاقت متاثر ہو سکتی ہے، پارلیمانی ہم آہنگی کمزور پڑ سکتی ہے اور متحدہ بی جے پی مخالف محاذ برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں ممتا بنرجی اور کانگریس قیادت کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق انتخابی ناکامی اور اندرونی بغاوت کے بعد ممتا بنرجی اب وسیع تر اپوزیشن تعاون کے ذریعے اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگرچہ ماضی میں کانگریس اور ٹی ایم سی کے تعلقات ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، مگر موجودہ حالات دونوں کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتے ہیں۔
باغی گروپ کے سامنے ایک بڑا قانونی چیلنج بھی موجود ہے۔ انسدادِ انحراف قانون صرف بڑی تعداد رکھنے کی بنیاد پر کسی دھڑے کو خودکار طور پر الگ شناخت نہیں دیتا۔ ٹی ایم سی قیادت کا مؤقف ہے کہ باغیوں کا خود کو “اصل ٹی ایم سی” قرار دینے کا دعویٰ قانونی طور پر کمزور ہے۔ حتمی فیصلہ اسپیکر کی تشریح، پارلیمانی قواعد اور باغیوں کی درخواست کی نوعیت پر منحصر ہوگا۔ اس لیے اگرچہ بغاوت سیاسی اعتبار سے طاقتور دکھائی دے رہی ہے، مگر اس کا قانونی انجام ابھی غیر یقینی ہے۔
ممتا بنرجی کے لیے یہ بحران شاید ٹی ایم سی کے قیام کے بعد سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے۔ پارٹی کو نہ صرف تنظیمی سطح پر دوبارہ منظم کرنے کی ضرورت ہے بلکہ داخلی جمہوریت، مشاورت اور اجتماعی فیصلہ سازی کے حوالے سے بھی نئے سیاسی اشارے دینے ہوں گے۔ باغیوں کی ایک بڑی شکایت یہی ہے کہ فیصلہ سازی چند مخصوص افراد تک محدود ہو گئی ہے اور نچلی سطح کے رہنما خود کو نظرانداز محسوس کرتے ہیں۔اس صورتحال میں ممتا بنرجی کے پاس چند ممکنہ راستے موجود ہیں۔ وہ پارٹی کی تنظیمِ نو کر سکتی ہیں، ضلعی اور پارلیمانی رہنماؤں کو زیادہ اختیار دے سکتی ہیں، اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ تعاون بڑھا سکتی ہیں، اور قانونی سطح پر باغیوں کو چیلنج کر سکتی ہیں۔ لیکن سب سے اہم کام شاید پارٹی کے اس نظریاتی بیانیے کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا جس نے طویل عرصے تک ٹی ایم سی کو بنگال میں بی جے پی کے خلاف سب سے مضبوط سیاسی قوت بنائے رکھا۔
ٹی ایم سی کا بحران اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ایم ایل ایز کی بغاوت نے پارٹی کے ریاستی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا تھا، لیکن ارکانِ پارلیمنٹ کی بغاوت اس کی قومی حیثیت اور سیاسی ساکھ کے لیے کہیں بڑا خطرہ بن کر سامنے آئی ہے۔ اگر باغی ارکانِ پارلیمنٹ مستقل طور پر الگ پارلیمانی شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں یا این ڈی اے کے ساتھ عملی تعاون جاری رکھتے ہیں، تو اس کے اثرات صرف بنگال تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہ اپوزیشن سیاست کی نئی تشکیل، آئینی اصلاحات، حد بندی اور مستقبل کے وفاقی مباحث پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ممتا بنرجی کے لیے اب سوال صرف چند ناراض رہنماؤں کو منانے کا نہیں رہا، بلکہ اصل چیلنج اپنی جماعت کی سیاسی شناخت، نظریاتی وحدت اور قومی اہمیت کو برقرار رکھنے کا ہے۔