یاد ماضی عذاب ہے یا رب. چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

یاد ماضی عذاب ہے یا رب.  چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

یاد ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا (اختر انصاری)

بقلم۔ ذوالقرنین احمد

انسان کی زندگی کتنی مختصر سی ہے اور اسی میں انسان کتنے ادوار کو دیکھتا ہے دنیا میں کتنے عروج و زوال کو دیکھتا ہے۔ ہر دہائی میں مختلف تبدیلیاں رونما ہوتی ہے۔ آج اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ زندگی کا اصل لطف تو وہ وقت تھا جسے ہم ہنسی مزاق میں یا غیر سنجیدگی میں ضائع کردیتے ہیں اور کر چکے ہیں۔ اسکول کا دور جو میڈل کلاس سے لے کر ہائی اسکول ہوتا ہے۔ جس میں نہ ماضی کی خبر ہوتی ہے نہ مستقبل کی فکر لڑکپن کا دور ہوتا ہے۔
دوستوں کے ساتھ کھیل کود اسکول کے کچھ اساتذہ ہمارے بہت زیادہ پسندیدہ ہوتے ہیں اور کچھ اصول کے پکے جن سے سبھی بچے ڈرتے ہیں ہمارے اسکول کے وقت میں مراٹھی، انگریزی اور ریاضی کے اساتذہ کا بہت ڈر و خوف تھا اور آخر میں جب اسکول کو الوداع کہنے کا وقت آتا ہے تو وہ جو سب زیادہ ڈر و خوف والے اساتذہ ہوتے ہیں نہ وہی ہمیں سب سے زیادہ اچھی لگتے ہیں لیکن وقت نکلنے کے بعد پتہ چلتا ہے۔
وقت کسی کی سگا نہیں ہوتا ہے اس کا کام ہے گزرنا اور وہ گزر جاتا ہے وہ کسی کے لیے نہیں رکتا ہے آج جب اسکول کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں کبھی دوستوں کے ساتھ بیٹھنا ہوتا ہے تو وہ دن بڑی شدت سے یاد آتے ہیں جب ہم اسکول میں بینچ پر بیٹھا کرتے تھے کبھی بارش کے موسم میں کتابوں کو بچاتے ہوئے گھر لوٹتے تھے کبھی کلاس روم میں پانی گھس جاتا تو کبھی کپڑے کچڑ میں آلودہ ہوجاتے اور دوسرے دن یونیفارم نہ ہونے کی وجہ سے ٹیچر کے ہاتھوں مار پڑتی اب انہیں لاکھ سمجھانے کی کوشش کی جاتی کہ میرے پاس ایک ہی یونیفارم ہے لیکن انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا تھا۔ سردیوں کی موسم میں جب اسکول صبح کی ہوتی تب کلاس ٹیچر اپنی کلاس کے بچوں کو دھوپ سینکنے کے لیے گراؤنڈ میں ہی بٹھا دیا کرتے تھے اور ریسس کا وقت ہونے تک تین پریڈ باہر ہی ہوجاتے۔
گھر کام نہ کرنے کے بعد دوسرے دن لائٹ چلی گئی کا بہانا ہوتا تھا تو کبھی اسکول کی چھٹی ہوجانے پر کسی پڑوسی کی میت یا دور کی دادی نانی کو بے وجہ مار دیتے تھے ایسے سال بھر میں نا جانے کتنے بے قصوروں کی جان لیں لیتے تھے۔ 15 اگست اور 26 جنوری سے قبل کلاس ٹیچر اور ہیڈ ماسٹر صاحب سخت انتباہ کرتے تھے کہ آج ہی یونیفارم دھوکر تیار کرلوں کل بغیر یونیفارم کے اسکول میں آنے نہیں نہیں دیا جائے گا بڑے صاحب آنے والے ہیں اور اس بات کا اتنا ڈر ہوتا تھا کہ گھر جاتے ہی امی باجی کو بتا دیا جاتا تھا کہ کپڑے دھو کر رکھ دیں پھر صبح سویرے کوئلے کی استری سے کپڑے پریس کردیے جاتے اگر کوئی کپڑا سوکھ نا پاتا تو صبح چلہے کے اوپر موٹے برتن پر رکھ کر اس پر کپڑا سکھایا جاتا تھا جس کا پانی بھاپ کی شکل میں اڑ جاتا لیکن پھر بھی کچھ کسر باقی رہ جاتی جو سورج کی تپش سے جھنڈے کا وقت ہونے تک گراؤنڈ میں بدن پر پوری طرح سوکھ جاتا۔
جب بڑی کلاس کے بچوں کے بورڈ کے امتحانات کا آغاز ہوتا تب چھوٹی کلاس کے بچوں کو صبح کی اسکول ہوتی جو ساڑے سات بجے بھرتی اور دس بجے چھوٹ جاتی یہ دن ہمارے لیے بڑے خوشی کے ہوتے تھے کیونکہ جلدی چھٹی ہوجاتی اور اسکول سے آزادی مل جاتی ! لیکن اب احساس ہوتا ہے کہ اصل آزادی تو وہ اسکول کی قید تھی جو ہم نے ایسے ہی گنوا دی سمجھ آنے تک انسان نا جانے کتنے سارے مواقع کو ضائع کردیتا ہیں اور ہوش آتا ہے تو اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
آج بھاگ دوڑ بھری زندگی میں جب ذمہ داریوں نے ہمیں چاروں طرف سے جکڑ رکھا ہے جس میں مستقبل کا خوف ستاتا ہے تو حال کی فکر سے کسی طور چھٹکارا نہیں ملتا ہے۔ آج چاہ کر بھی ہم اسکول کا وہ ایک دن خرید نہیں سکتے نا ہی دوبارہ اس وقت کو پا سکتے ہیں نا ہی اس سکون کو آزادی کو حاصل کرسکتے ہیں، اب اگر ایک دن اسکول میں گیٹ ٹو گیدر رکھنے کا منصوبہ بنایا جائیں تو بہت مشکل ہے کسی کے پاس وقت نہیں ہے تو کوئی دوسرے شہر میں ہیں، تو کئ اساتذہ رٹائرڈ ہوچکے ہیں نا اب وہ تمام اساتذہ ایک ساتھ ملتے ہیں نا طالب علم اتفاق سے کبھی کوئی دوست مل جاتا ہے تو مختصر سی بات چیت ہوجاتی ہیں دل تو آج بھی کرتا ہیں کہ ماضی میں پیچھے کی طرف لوٹ کر پھر سے اسکول کے بینچ پر جاکر ایک طالب علم کی طرح بیٹھ جاؤں جسے نہ مستقبل کی فکر ہو نہ ماضی کا غم ہو بس ہر حال میں اپنی دنیا میں مگن ہو لیکن وہ دن اب کہاں لوٹ کر آتے ہیں گزرا وقت کبھی لوٹ کر نہیں آتا۔

نوٹ۔ یہ تصویر اے آئی سے تیار کی گئی ہے۔
13/6/2026

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے