کرناٹک میں مسلم نمائندہ جماعتوں کی ناکامی کا کڑا محاسبہ
کرناٹک میں مسلمانوں کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتوں کو اب سخت سوالات کا سامنا کرنا ہوگا۔ برسوں سے مسلم ووٹ حاصل کرنے والی جماعتیں خود کو ملت کی محافظ، اقلیتوں کی آواز اور مسلمانوں کی حقیقی نمائندہ قرار دیتی رہی ہیں، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ان کی سیاست کا بڑا حصہ جذباتی نعروں، فرقہ وارانہ تنازعات اور وقتی سیاسی فائدے کے گرد گھومتا رہا ہے، جبکہ مسلمانوں کے بنیادی مسائل بدستور حل طلب ہیں۔ ایس ڈی پی آئی، اے آئی ایم آئی ایم اور ویلفیئر پارٹی آف انڈیا جیسی جماعتیں ہر اس معاملے پر فوری ردعمل دیتی ہیں جس سے جذبات بھڑکائے جاسکتے ہوں، لیکن جب مسلمانوں کی تعلیم، روزگار، معاشی ترقی اور ادارہ جاتی حقوق کی بات آتی ہے تو ان کی زبانیں گنگ اور ان کی سیاست مفلوج نظر آتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر مسلمانوں کو صرف جذباتی تقریروں اور احتجاجی سیاست کا ایندھن کیوں بنایا جارہا ہے؟
کیا مسلمانوں کا مستقبل صرف نعروں سے سنور جائے گا؟
کیا قوم کی ترقی صرف ہندو مسلم مباحث سے ممکن ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ آج کرناٹک کا مسلمان سب سے زیادہ تعلیمی بحران کا شکار ہے۔ اردو اسکول مسلسل زوال پذیر ہیں۔ مولانا آزاد ماڈل اسکول اور اے پی جے عبدالکلام ریزیڈنشیل اسکول، جنہیں اقلیتی طلبہ کی تعلیمی ترقی کا ستون بننا چاہیے تھا، وہ مستقل اساتذہ کی شدید کمی سے دوچار ہیں۔ برسوں سے اساتذہ کی تقرریاں نہیں ہورہیں۔ سیکڑوں طلبہ کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر مسلم سیاست کی نام نہاد علمبردار جماعتوں کو اس مسئلے پر نہ کوئی ریاست گیر تحریک یاد آتی ہے، نہ اسمبلی گھیراؤ، نہ دھرنا، نہ لانگ مارچ اور نہ ہی کوئی عوامی دباؤ۔
اگر کسی فرقہ وارانہ واقعے پر ہزاروں افراد کو سڑکوں پر لایا جاسکتا ہے تو مسلمانوں کے بچوں کے مستقبل کے لیے وہی جوش و جذبہ کیوں نظر نہیں آتا؟
اس خاموشی کو سیاسی غفلت نہیں بلکہ قوم کے تعلیمی مستقبل کے ساتھ ناانصافی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
اسی طرح کرناٹک مائناریٹی ڈیولپمنٹ کارپوریشن(KMDC)اور محکمہ اقلیتی بہبود کے کروڑوں روپے کے فنڈز کا معاملہ بھی توجہ طلب ہے۔ ہر سال بجٹ مختص ہوتا ہے، اسکیمیں بنتی ہیں، اعلانات ہوتے ہیں، لیکن ہزاروں مستحق نوجوان ان سہولتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ کئی منصوبے کاغذوں سے باہر نہیں نکلتے، لیکن مسلم سیاست کے دعویداروں کی ترجیحات میں یہ مسئلہ شامل ہی نہیں۔
حیرت ہوتی ہے کہ مسلمانوں کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتیں حکومت سے یہ پوچھنے کی زحمت تک نہیں کرتیں کہ اقلیتی فنڈز کہاں خرچ ہورہے ہیں؟ کتنے طلبہ کو فائدہ ملا؟ کتنے بے روزگار نوجوانوں کو قرضے ملے؟ کتنی اسکالرشپس تقسیم ہوئیں؟ کتنے ہاسٹل تعمیر ہوئے؟۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی ان جماعتوں کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایک ووٹ بینک سے زیادہ کچھ سمجھا ہی نہیں جارہا۔ انہیں مسلسل خوف، جذبات اور ردعمل کی سیاست میں الجھائے رکھا جاتا ہے تاکہ اصل سوالات کبھی سامنے نہ آئیں۔ مسلمانوں کو یہ پوچھنا چاہیے کہ:
اردو اسکولوں کے لیے آپ نے کیا کیا؟۔ مولانا آزاد اور اے پی جے عبدالکلام اسکولوں میں مستقل اساتذہ کی تقرری کے لیے کتنی تحریکیں چلائیں؟
سوال یہ بھی ہے کہ اقلیتی فنڈز کے ضیاع کے خلاف کتنے احتجاج کیے؟، مسلم نوجوانوں کی بے روزگاری پر کتنی بار حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی؟۔
اگر ان سوالوں کا جواب خاموشی ہے تو پھر یہ دعویٰ بھی بے معنی ہے کہ یہ جماعتیں مسلمانوں کی حقیقی نمائندہ ہیں۔
ایک ترقی یافتہ قوم کا خواب صرف جذباتی نعروں سے پورا نہیں ہوتا۔ قومیں یونیورسٹیوں، اسکولوں، روزگار، معاشی طاقت اور مضبوط اداروں سے بنتی ہیں۔ بدقسمتی سے مسلم سیاست کا بڑا حصہ آج بھی انہی مسائل کو نظرانداز کرکے ایسے موضوعات میں الجھا ہوا ہے جن سے سرخیاں تو بنتی ہیں، لیکن نسلیں نہیں بنتیں۔
مسلمانوں کو اب جذباتی سیاست سے آگے بڑھ کر کارکردگی کی سیاست کا مطالبہ کرنا ہوگا۔ انہیں نعروں کے بجائے نتائج مانگنے ہوں گے، احتجاج کے بجائے پالیسی مانگنی ہوگی اور دعووں کے بجائے عملی خدمات کا حساب لینا ہوگا۔
ورنہ آنے والی نسلیں یہی سوال کریں گی کہ جب ہمارے اسکول تباہ ہورہے تھے، ہمارے نوجوان بے روزگار تھے، ہمارے ادارے کمزور ہورہے تھے، تب مسلمانوں کے نام پر سیاست کرنے والے لوگ آخر کس جنگ میں مصروف تھے؟