مغربی بنگال میں ترنمول میں بغاوت کا تو خوب چرچا ہے مگر تمل ناڈو میں بی جے پی پر کوئی تبصرہ نہیں ہوتا جہاں صوبائی صدرانا ملائی نے بی جے پی نائب صدر اور سیکریٹری کے ساتھ استعفیٰ دے دیا۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ تمل ناڈو میں بھگوا جماعت کو سوپڑا صاف ہوگیا ہے۔ انا ملائی استعفیٰ کے جواز میں بی جے پی کو ایسی کھری کھوٹی سنائی کہ زوفرانیوں کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ تمل ناڈو میں انہوں نے ایک نئی سیاسی و عوامی تحریک "وی دی لیڈر” کا آغاز کیا اور ساتھ ہی 2031 کے اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان بھی کردیا ہے۔ ان کا یہ دعویٰ کہ وہ عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک مختلف اور نچلی سطح پر کام کرنے والی حکمت عملی اپنانا چاہتے ہیں اس حقیقت کا انکشاف کرتا ہے کہ بی جے پی کو اوپر اوپر سے فرقہ وارانہ جذبات سے ہٹ کر عوام کی فلاح و بہبود میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ بی جے پی میں رہ کر یہ بنیادی کام کرنا ممکن نہیں ہے اس لیے انہوں نے کنارہ کشی تو اختیار کی مگر اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔
تمل نظریات کی حامل روایتی سیاسی جماعتوں کے خلاف نوجوانوں کے اندر پائی جانے والی جس بے چینی کا انا ملائی فائدہ اٹھانا چاہتے تھے اس کو جوزف تھلاپلی لے اڑے۔ اناملائی اس کام کو کرسکتے تھے مگر ان کے پیروں میں پڑی زنجیر آڑے آگئی۔ اب ان کی حالت ’سب کچھ لٹا کہ ہوش میں آئے تو کیا کیا؟ ‘ جیسی ہے۔ سابق آئی پی ایس افسر نے اپنے استعفیٰ کے بعد ایک عوامی تحریک ”وی دی لیڈر“ کا آغاز کرتے ہوئے ایک ایسا اعلان کردیا کہ جو بی جے پی کے نظریہ کی خاطر سمِ قاتل ہے۔ بی جے پی ملک اقلیتوں اور خاص طور مسلمانوں اور عیسائیوں کو حاشیے پر ڈھکیل کر اس کی بنیاد پر ہندووں کی ناز برداری کرنے کی حکمت عملی پر عمل کرتی ہے۔ اس پیش رفت میں پہلا جھٹکا تو اس وقت لگا جب تمل ناڈو کے رائے دہندگان نے مذہبی تفریق و امتیاز سے اوپر اٹھ کرجوزف وجئے کو وزیر اعلیٰ بنوا دیا۔ انا ملائی اپنے بیان میں جوزف وجئے سے بھی دو قدم آگے نکل گئے۔ انہوں نے دعویٰ کر دیا کہ ان کی پارٹی کا آئیڈیل اے پی جے عبدا لکلام ہوں گے ۔ موصوف ملک میں میزائل مین کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے جوہری دھماکے میں بھی اہم کردار ادا کیا اور صدر مملکت کے اہم عہدے پر فائز ہوئے مگر سب سے پہلے وہ مسلمان ہیں۔
بی جے پی نے مسلمانوں سے فاصلہ بنانے کی قسم کھا رکھی ہے۔ اس کے پاس کوئی وزیر تو دور ا یک معمولی رکن پارلیمان یا اسمبلی کارکن بھی نہیں ایسے میں بی جے پی کے صدر کا ایک مسلمان کو اپنی پارٹی کی پہچان بناکر ان کے راستے پر جدوجہد کرنا ایک چمتکار سے کم نہیں ہے۔ اناملائی کے اس اعلان سے عوام میں کوئی ناراضی نہیں پھیلی بلکہ پہلے چوبیس گھنٹے کے اندر 14 لاکھ سے زائد افراد کااس سے منسلک ہوجانا بتاتا ہے کہ عوام نے اس فیصلے کی پذیرائی کی ۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ انا ملائی کی مقبولیت کے راہ میں بی جے پی ایک رکاوٹ تھی اور اس کے ہٹتے ہی انہیں عوامی پذیرائی ملنے لگی۔ مودی کے نام پر قبول عام حاصل کرنے کا خواب دیکھنے والوں کے لیے اس واقعہ میں نشانِ عبرت ہے۔ انا ملائی نے بھی سیاست کی دنیا میں شارٹ کٹ کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کا ساتھ لینے کی غلطی کی اور ملازمت ترک کرنے کے بعد واصلِ بی جے پی ہوگئے۔ قحط الرجال کا شکار کمل دھاریوں نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیااورپارٹی کا ریاستی نائب صدر بنا دیا ۔ انھوں نے اپنے مخصوص فلمی انداز میں ریاست کے اندر بی جے پی کو اتنا مضبوط کیا کہ ہائی کمان نے خوش ہوکر انہیں صدرتک بنادیا مگربات نہیں بنی ۔
بی جے پی کو چونکہ ہندو مسلم کارڈ کھیلنے کے سوا کچھ اور نہیں آتا اس لیے تمل ناڈو میں بھی ہندوتوا کے فروغ کی ناکام کوشش کی گئی جو اوندھے منہ گرگئی ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اکابرین اقتدار کے نشے میں یہ بھی نہیں سوچا کہ رام سوامی پیری یار کی نام لیوا زعفرانی حلیف اے آئی ڈی ایم کے بھی ہندوتوا فسطائیت سے اتفاق نہیں کرتی ۔ تمل ناڈو میں علاقائی تشخص کی علامت تمل زبان ہے۔ ان پرجب بھی ہندی تھوپی جاتی ہے تو اسے تہذیبی یلغار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ بی جے پی نے اپنی حماقت سے اس چھتے ّ میں ہاتھ ماردیا اور اپنے گورنر کے ذریعہ وہاں کی منتخبہ حکومت کو پریشان کرکے اپنی مرکزی دبنگائی دکھائی لیکن بھول گئی کہ اس طرح وہ مقامی لوگوں کی دلآزاری کرکے انہیں اپنے سے دور کررہی ہے۔ زعفرانیوں کی انہیں حماقتوں نے انا ملائی کو بے چین کردیاکیونکہ وہ ان کو بس ایک مکھوٹا کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے۔
ان کے بقول وہ خود سے یہ سوال پوچھنے لگے تھے کہ’’ میں بی جے پی ر ہنماہوں یا تمل ہوں؟‘‘ یہ سوال دبی زبان میں کہہ رہا ہے کہ کوئی تمل بی جے پی کی رہنمائی نہیں کرسکتا اور اس کی تائید ان کے دل کی آواز نے کردی بقول خود وہ پہلے تمل اور پھر ایک قوم پرست ہندوستانی ہیں۔ اس کے معنیٰ یہی ہیں کہ ان کے نزدیک تمل ناڈو کے تشخص کی بقا کومرکزی بی جے پی کے ہندوتو اپر فوقیت حاصل ہے۔ہندوتوا نواز اچھل اچھل کر مسلمانوں سے سوال کرتے ہیں کہ وہ مسلمان پہلے ہیں یا ہندوستانی ؟ ا ن کے نزدیک ہندوستانیت ہی قوم پرستی ہے اب ان کا سابق صدر کہہ رہا ہے کہ اس کےلیے تمل ہونا ہندوستانی ہونے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اناملائی کا یہ بیان کھلے عام بی جے پی کی ہندوتوا نوازی کو چیلنج کرتاہے ۔ انا ملائی کے مطابق وہ بی جے پی میں صاف ستھری سیاست کے لیے آئے تھے وہاں کی بدبودار فسطائیت نے انہیں ٹھہرنے نہ دیا اور وہ رسیّ تڑا کر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔
اناملائی کے نقصان سے بی جے پی کا فائدہ ہوا۔ اس کو تمل ناڈو میں کسی طور پیر پھیلانے کا موقع ملا ۔ اس کا ثبوت 2022کے بلدیاتی انتخابات بی جے پی کا چنئی کے بیس وارڈوں میں دوسرے نمبر پر آجانا تھا ۔ ن۔ اس کے بعد 2024 کے پارلیمانی انتخاب میں کمل کو بارہ فیصد ووٹ مل گئے تو امیدوں اور توقعات میں بے شمار اضافہ ہوگیا ۔وہیں سے بی جے پی نے اناملائی کو مستقبل کا وزیر اعلیٰ کے طور پر پیش کرنا شروع کردیا لیکن اب یہ حال ہے کہ بی جے پی رہنما وں کے مطابق ان کے نکل جانے سے پارٹی کے امکانات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن جیسا کہ اوپر بیان ہوا ان کے ساتھ نائب صدر اور سیکریٹری سمیت بڑی تعداد میں بی جے پی کے حامی پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ بی جے پی کے بعض رہنماؤں کا یہ بیان کہ وزیر اعظم نے اناملائی کی تحریکی حمایت نہیں کی ان کی پریشانی کا مظہر ہے ۔ سوال یہ ہے کہ تمل ناڈو میں مودی کا حامی ہے ہی کون؟ اور اگر ہوتا تو صفر رکن پارلیمان اور ایک رکن اسمبلی پر اکتفاء کیوں کرنا پڑتا؟
پارلیمانی انتخاب کے بعد ہی اناملائی کا بی جے پی سے دل بھر گیا تھا ۔ پچھلے سال دسمبر( 2025) ہی میں انہوں نے پارٹی اعلیٰ کمان کو مطلع کردیا تھا کہ اب بہت ہوچکا ’مجھے مت روکو مجھے جانے دو‘۔ امسال تمل ناڈو میں ریاستی انتخابات ہونے والے تھے اس لیے ہاتھ پیر جوڑ کر اناملائی کو روکا گیا۔ سچ تویہ ہے کہ اس کے باوجود جو بی جے پی اپنا ایک بھی رکن کو نہیں جتاپائی اور اسمبلی میں بھی ایک امیدوار کو کامیاب کرسکی ۔ اگر انا ملائی کی جماعت دس بارہ سیٹ جیت جاتی تو وہ دوڑ کر جوزف وجئے کی حمایت میں کھڑے ہوجاتے۔ اس کا بی جے پی کو یہ فائدہ ملتا کہ برسوں بعد جونیر پارٹنر کی حیثیت سے سہی کانگریس کو تمل ناڈو کی حکومت میں شامل ہونے کا موقع نہیں ملتا لیکن بی جے پی والے یہ اندازہ نہیں کرسکے ۔ انّاملائی اب سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر عوامی مسائل کو اجاگر کرکے تمل ناڈو میں ایک متبادل سیاسی محاذ تیار کرنا چاہتے ہیں لیکن اب اس میں بہت دیر ہوچکی ہے۔
اناملائی اپنی تحریک کے ذریعہ عوامی فلاح و بہبود کی خاطر شفاف طرزِ حکمرانی میں نوجوانوں کی شمولیت پر توجہ دینا چاہتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جوزف وجئے کیا یہی کام نہیں کرر ہے ہیں ۔ اس کو نوجوان نسل کی زبردست حمایت حاصل ہے ایسے میں کیا نئی تحریک برپا کرنے کے بجائے اسی میں شامل ہونا کافی نہیں ہے؟ماضی میں انّاملائی تمل ناڈو کے اندر بی جے پی کا نمایاں چہرہ مگر اب ان کی نئی تحریک عوامی طاقت کی مدد سے سیاسی جماعت کے طور پر آئندہ اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ انا ملائی کے بغیر آنے والے بلدیاتی الیکشن میں بی جے پی کا نام و نشان مٹ جائے گا ۔ نئی تحریک کو بھی کوئی خاص فائدہ نہیں ملے گا کیونکہ ٹی وی کے ایک رہنما نے کہا کہ اناملائی بی جے پی کی پرانی فلم ہے اور ہر ری ریلیز کامیاب نہیں ہوتی۔ یہ نئی فلم ہٹ ہوگی یا فلاپ یہ تو وقت بتائے گا۔