فی زمانہ ملازمت سے سبکدوشی کا اس لیے بھی شدت سے انتظار ہوتا ہے کی یک مشت بڑی رقم ہاتھ میں آجاتی ہے ۔ اہل خانہ کی بجا اور بے جا توقعات اور دبی خواہشات عود آتی ہیں ۔ 58 سالہ شخص کے قوی مضمحل ،فیصلے کی قوت کم ،جسم کمزور اور بیمار یاں تیار کھڑی ہوتی ہیں ۔ایسے میں معاشرے میں سے کچھ مضموم ،کچھ سوقیانہ اور کچھ سازشیں بھی سامنے آنے لگی ہیں ۔ ہمارے فیملی کاؤنسنگ سینٹر کے تجربات کی بنیاد پر کچھ گفتگو آپ سے ۔۔
۔اپنے فیڈ بیک دیں ،اور تجربات کی بنیاد پر مشوریں ، جن کا خیر مقدم کیا جائے گا ۔
1. رقم کی آمد اور گھر والوں کی توقعات (جائز و ناجائز)
ریٹائرمنٹ پر ملنے والے فنڈز (گریجویٹی، پروویڈنٹ فنڈ وغیرہ) کو دیکھ کر گھر والے اسے ایک "لاٹری” سمجھ لیتے ہیں۔
جائز و ضروری فرمائشیں: بچوں کی شادیاں، گھر کی ناگزیر مرمت، یا پرانے قرضوں کی ادائیگی۔
ناجائز و غیر ضروری فرمائشیں: نئی چمکتی گاڑیوں کی خواہش، کاروباری مہم جوئی (بغیر کسی تجربے کے)، یا تعیشات پر مبنی لائف اسٹائل۔ 2. داخلی محاذ:
بیوی اور بیٹوں کا اتحاد
یہ سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو ہے۔ جب شوہر کی ماہانہ طاقت (ملازمت اور پوزیشن) ختم ہوتی ہے، تو گھر کا پاور سٹرکچر بدل جاتا ہے۔ اکثر اوقات بیوی بیٹوں کے مالی تعاون پر انحصار بڑھانے کے لیے ان کا ساتھ دیتی ہے، جس سے شوہر گھر میں الگ تھلگ (Isolate) ہو جاتا ہے اور اس کی حیثیت ایک "فنڈر” سے زیادہ نہیں رہتی۔
3. دبی کچلی خواہشات کا عود کر آنا
زندگی بھر خاندان کی کفالت میں مصروف رہنے والا شخص جب فارغ ہوتا ہے، تو اس کی اپنی وہ خواہشات جاگ اٹھتی ہیں جو اس نے جوانی میں قربان کر دی تھیں (جیسے سیاحت، کوئی خاص شوق، یا آرام دہ زندگی)۔ لیکن فنڈز پر دوسروں کی نظر ہونے کی وجہ سے یہ خواہشات اکثر حسرت بن جاتی ہیں۔
4. داماد اور بیٹی کی توقعات
صرف بیٹے ہی نہیں، بلکہ بعض اوقات بیٹیاں اور داماد بھی اس رقم میں سے اپنے کاروبار، گھر یا بچوں کی فیسوں کے لیے "امداد” کی توقع لگا بیٹھتے ہیں، جس سے انکار کرنا غیرتِ پدری کے خلاف محسوس ہوتا ہے۔
5. مثبت رجحانات: خیر کے کام اور حج و عمرہ
یہ ایک روشن پہلو ہے کہ اس عمر میں انسان آخرت کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ حج، عمرہ کی ادائیگی اور رفاہی کاموں (مسجد، مدرسہ یا غریبوں کی مدد) میں حصہ لینے کی خواہش تڑپ بن جاتی ہے، جو کہ روح کے سکون کے لیے بہترین ہے۔
6. بیماریوں کا حملہ اور جمع پونجی پر نظریں
عمر کے اس حصے میں بیماریاں (شوگر، بلڈ پریشر، جوڑوں کا درد) گھیر لیتی ہیں۔ جہاں ایک طرف علاج کے لیے خطیر رقم چاہیے ہوتی ہے، وہاں گھر کے بعض افراد کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ "یہ رقم علاج میں ضائع ہونے کے بجائے ہمیں مل جائے”۔ یہ ایک تلخ مگر سچی حقیقت ہے۔
جدید و قدیم مسائل کا تقابل
قدیم دور:
* ماضی میں مشترکہ خاندانی نظام (Joint Family System) کی وجہ سے اگرچہ آزادی کم تھی، لیکن بوڑھے باپ کی عزت اور اس کی دیکھ بھال کو اخلاقی و مذہبی فریضہ سمجھا جاتا تھا۔
جدید دور (مادیت پرستی):
آج کا دور خالصتاً مادی (Materialistic) ہے۔ اب انسان کی اہمیت اس کی "ذات” سے نہیں بلکہ اس کی "موجودہ آمدنی” سے لگائی جاتی ہے۔ پنشن یا فنڈز ختم ہوتے ہی عزت کا گراف نیچے گرنے لگتا ہے۔
ریٹائرڈ افراد کے لیے راہنما اصول (Guidelines for Retired Persons)
ان تمام مسائل سے بچنے اور ایک باوقار الوداعی زندگی گزارنے کے لیے درج ذیل اصولوں پر سختی سے عمل کریں:
1. رقم کا راز محفوظ رکھیں (مالی رازداری)
> سنہری اصول: آپ کو ریٹائرمنٹ پر کل کتنی رقم ملی ہے، اس کا درست ہندسہ کسی کو نہ بتائیں (حتیٰ کہ بیوی اور بچوں کو بھی نہیں)۔ رقم کو ہمیشہ اپنی ضرورت سے کم ظاہر کریں۔
> 2. رقم یکمشت (Lump Sum) کسی کے حوالے نہ کریں
* بچوں کو کاروبار سیٹ کر کے دینے کے لیے اپنی پوری جمع پونجی داؤ پر نہ لگائیں۔ اگر مدد کرنی بھی ہو، تو کل رقم کا صرف *10% سے 15%* دیں، وہ بھی اس شرط پر کہ یہ قرض ہے۔
* کسی داماد یا بیٹے کے کہنے پر جذباتی ہو کر سرمایہ کاری نہ کریں۔
3. اپنے لیے مستقل آمدنی (Monthly Stream) بنائیں
پوری رقم بینک میں رکھنے کے بجائے اسے محفوظ اسکیموں (جیسے گورنمنٹ سرٹیفکیٹس، پینشنر فنڈز، یا کسی ایسی جگہ جہاں سے ماہانہ منافع ملے) میں لگا دیں۔
فائدہ: جب تک آپ کے ہاتھ میں ماہانہ آمدنی رہے گی، گھر میں آپ کی پوزیشن اور اہمیت برقرار رہے گی۔
4. صحت کا بیمہ اور میڈیکل فنڈ
اپنی رقم کا ایک مخصوص حصہ صرف اور صرف اپنے اور اپنی بیوی کے علاج معالجے کے لیے فکس کر دیں۔ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے کہ آپ کا اپنا ایک "میڈیکل فنڈ” ہو۔
5. اپنی خواہشات اور آخرت کو ترجیح دیں
آپ نے پوری زندگی دوسروں کے لیے جی لی۔ اب یہ رقم آپ کی ہے۔ سب سے پہلے اپنی عمرہ یا حج کی تمنا پوری کریں۔ خیرات اور صدقہ جاریہ میں حصہ لیں تاکہ آپ کی آخرت سنورے۔ یاد رکھیں، جو آپ نے اپنے ہاتھ سے دے دیا وہی آپ کا ہے، باقی سب وارثوں کا ہے۔
6. گھر کے معاملات میں "مداخلت” کم کریں
جب آپ ہر وقت گھر پر ہوں گے تو نوک جھونک بڑھے گی۔ بیوی اور بچوں کے فیصلوں میں ہر وقت کی ٹوک ٹاک سے گریز کریں۔ اپنی ایک الگ مصروفیت (مطالعہ، واک، مسجد کی سرگرمیاں، یا دوستوں کی محفل) تلاش کریں تاکہ آپ کی موجودگی گھر والوں پر گراں نہ گزرے۔
7. جائیداد کی منتقلی میں جلدی نہ کریں
اپنا مکان یا جائیداد اپنی زندگی میں بچوں کے نام منتقل کرنے کی غلطی ہرگز نہ کریں۔ Investment , property اپنے ہی نام سے خریدیں ۔جب تک چھت آپ کے نام ہے، آپ گھر کے سربراہ ہیں۔ سبز باغ دکھا کر ، آپ کی مرنے والی عمر کی دہائی اور چکنی چپڑی باتوں کی آڑ میں جذباتی جھانسہ دے کر فلیٹ کو ، بہو ،بیٹے ،داماد ،بیٹی،بیوی کے نام سے ہر گز نہ خریدیں ۔ ہاں انھیں ان کے حق رموراثت کے اعٹسے Nominate ضرور کریں ۔
> خلاصہ کلام: ریٹائرمنٹ زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک نئے، پرسکون سفر کا آغاز ہونا چاہیے۔ محبت اپنی جگہ، لیکن مالی معاملات میں جذباتیت کے بجائے عقل اور دور اندیشی سے کام لینا ہی آپ کے بڑھاپے کے وقار کا ضامن ہے ۔