بدلتی سیاسی صورت حال میں علاقائی جماعتوں کا مستقبل
ازقلم:شیخ سلیم ،ویلفیئر پارٹی آف انڈیا
ملک کی سیاست میں ایک زمانہ تھا جب علاقائی جماعتیں اپنی اپنی ریاستوں میں ناقابلِ شکست سمجھی جاتی تھیں۔ وہ نہ صرف ریاستی سیاست پر حاوی تھیں بلکہ قومی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کرتی تھیں۔ مگر گزشتہ چند برسوں میں سیاسی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہوا ہے اور ایک کے بعد ایک علاقائی جماعت کمزور ہوتی جا رہی ہے، جبکہ بھارتیہ جنتہ پارٹی مسلسل اپنی سیاسی قوت اور اثر و رسوخ میں اضافہ کر رہی ہے۔
مہاراشٹرا میں کبھی شیو سینا کا بڑا طوطی بولتا تھا۔ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں شیو سینا نے بڑے اعتماد کے ساتھ بھارتیہ جنتہ پارٹی کو اپنے سیاسی خیمے میں جگہ دی۔ مگر وقت کے ساتھ صورت حال ایسی بنی کہ اونٹ خیمے میں داخل ہوا اور اصل خیمے والوں کو ہی باہر نکال دیا۔ 2022 میں ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا میں بغاوت ہوئی، ایکناتھ شندے اپنے ساتھی ارکانِ اسمبلی کو لے کر پہلے سورت اور پھر گوہاٹی منتقل ہوئے، الگ دھڑا قائم کیا اور بالآخر الیکشن کمیشن نے فروری 2023 میں شندے کی جماعت کو ہی اصل شیو سینا تسلیم کر لیا۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ادھو ٹھاکرے کی جماعت نے بہتر کارکردگی دکھائی، مگر اسی سال کے آخر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایسی کامیابی حاصل کی کہ شیو سینا (ادھو) عملی طور پر اقتدار کی سیاست کے مرکز سے دور ہو گئی۔ یوں مہاراشٹرا کی ایک بڑی علاقائی جماعت بتدریج سیاسی حاشیے پر چلی گئی۔
اسی طرح شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی بھی برسوں تک مہاراشٹرا کی سیاست کا اہم ستون رہی۔ شرد پوار نے مختلف ادوار میں بی جے پی کے ساتھ نرم گوشہ اور تعاون کا رویہ اختیار کیا، مگر جولائی 2023 میں ان کے بھتیجے اجیت پوار نے پارٹی میں بڑی بغاوت کر دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی اور سیاسی طاقت کا بڑا حصہ اجیت پوار کے پاس چلا گیا۔ شرد پوار، جو کبھی ریاستی سیاست کے سب سے بااثر رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے، اب پہلے جیسا اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں رہے۔ ایک طرح سے انکا سیاسی سنیاس ہو گیا ہے ۔
بہار میں بھی سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو چکا ہے۔ نتیش کمار اور ان کی جماعت جنتا دل (یونائیٹڈ) تقریباً دو دہائیوں تک اقتدار کے مرکز میں رہے۔ نتیش کمار نے مختلف سیاسی اتحادوں کے درمیان ایسی سیاسی آنکھ مچولی کھیلی جس کی مثال بھارت کی سیاسی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ مخالفین نے انہیں "پلٹو رام” کا لقب دیا، اگرچہ ان کے دورِ حکومت میں کئی قابلِ ذکر ترقیاتی کام بھی ہوئے۔ لیکن وقت کے ساتھ بی جے پی بہار میں اتنی مضبوط ہو گئی کہ پہلی بار یہ احساس پیدا ہوا کہ نتیش کمار کے بغیر بھی حکومت بنائی جا سکتی ہے۔ بالآخر اقتدار کا مرکز جنتا دل (یو) سے ہٹ کر بی جے پی کی طرف منتقل ہو ہی گیا اور نتیش کمار کا کردار بتدریج ختم ہی ہو گیا ہے۔
دہلی میں عام آدمی پارٹی نے رشوت کے خلاف ایک نئی امید کے طور پر جنم لیا تھا۔ مگر مختلف مواقع پر اس کی سیاسی حکمت عملی نے متحدہ اپوزیشن کو صرف اور صرف نقصان پہنچایا۔ 2024 میں قائم ہونے والے انڈیا اتحاد سے فاصلہ رکھنے کی پالیسی بھی خطرناک ثابت ہوئی اس کے بعد دہلی میں اقتدار سے محرومی، اروند کیجریوال کی گرفتاری اور طویل قانونی و سیاسی مشکلات نے پارٹی کو شدید نقصان پہنچایا۔ حالیہ سیاسی صورت حال میں عام آدمی پارٹی اب اپنے قیام کے ابتدائی دور جیسی قوت نہیں رہی۔
اڑیسہ میں بھی تقریباً یہی کہانی دہرائی گئی۔ نوین پٹنائک کی بیجو جنتا دل نے طویل عرصے تک ریاست پر حکمرانی کی اور مختلف مواقع پر بی جے پی کے ساتھ مفاہمت اور تعاون کا راستہ اختیار کیا۔ اس حکمت عملی سے وقتی فوائد ضرور حاصل ہوئے، مگر بالآخر 2024 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے اڑیسہ میں اقتدار حاصل کر لیا اور بیجو جنتا دل پہلی بار اقتدار سے باہر ہو گئی۔
این ٹی راما راؤ کی قائم کردہ تیلگو دیشم پارٹی تیلگو زبان تہذیب و فخر کی علامت رہی ہے۔ 2014 میں آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد تیلگو دیشم پارٹی نے بھارتیہ جنتہ پارٹی کے ساتھ اتحاد کر کے انتخابات لڑے اور دونوں نے مل کر ریاست میں 17 لوک سبھا نشستوں اور 106 اسمبلی نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ چندرابابو نائیڈو مرکزی حکومت میں شریک رہے اور آندھرا کے وزیرِ اعلیٰ کے طور پر بھی اپنا اثر برقرار رکھا۔
تاہم یہ اتحاد اس وقت ٹوٹ گیا تھا جب مرکزی حکومت نے آندھرا پردیش کو خصوصی زمرے کا درجہ دینے سے انکار کر دیا۔ نائیڈو نے 2018 میں کہا کہ انہوں نے چار سال تک مرکز کو قائل کرنے کی کوشش کی مگر وعدہ پورا نہیں ہوا۔ ٹی ڈی پی این ڈی اے سے علیحدہ ہو گئی اور بی جے پی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں شامل ہو گئی۔ 2019 کے انتخابات میں تیلگو دیشم پارٹی کو شکستِ فاش کا سامنا ہوا، وائی ایس آر کانگریس نے انہیں صفحۂ ہستی سے مٹا دیا اور پارٹی اپنی چار دہائیوں کی تاریخ کے بدترین بحران سے دوچار ہو گئی۔ 2024 میں نائیڈو دوبارہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر کے واپس آئے اور وزیرِ اعلیٰ بنے، مگر اس بار وہ این ڈی اے میں ایک چھوٹے شراکت دار کے طور پر ہیں، نہ کہ برابری کی سطح پر۔ آنے والے دنوں میں پتہ نہیں کیا ہوگا۔
پنجاب میں سکھ قیادت کی نمائندگی کرنے والی شیرومنی اکالی دل بھارت کی قدیم ترین علاقائی جماعتوں میں سے ایک ہے۔ تقریباً پچیس برس تک یہ اتحاد بی جے پی کے ساتھ جڑا رہا۔ 1997 میں بنا یہ اتحاد 2007 اور 2012 میں بھی سیاسی جیت دلاتا رہا اور ہندو۔سکھ اور شہری۔دیہاتی ووٹروں کو یکجا رکھنے کا کام کرتا رہا۔ شیرومنی اکالی دل بی جے پی کا دوسرا قدیم ترین حلیف تھی، جو 1996 سے ساتھ تھی۔
یہ اتحاد 2020 میں اس وقت ٹوٹ گیا جب مرکزی حکومت نے تین زرعی قوانین نافذ کیے اور پنجاب میں وسیع کسان احتجاج شروع ہو گیا۔ شیرومنی اکالی دل اپنے بنیادی حلقے کے دباؤ میں این ڈی اے سے باہر آ گئی اور اتحاد بحال کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ 2022 کے پنجاب انتخابات میں شیرومنی اکالی دل کو تباہ کن شکست ہوئی، عام آدمی پارٹی نے اقتدار حاصل کیا اور شیرومنی اکالی دل اپنی دہائیوں پرانی سیاسی پوزیشن سے محروم ہو گئی۔ اب بی جے پی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2027 کے پنجاب انتخابات اکیلے لڑے گی، جو اس بات کی علامت ہے کہ پنجاب میں بی جے پی اب شیرومنی اکالی دل کو اپنی ضرورت نہیں سمجھتی۔
مفتی محمد سعید کی قائم کردہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کشمیر کی نرم سیاست کی نمائندہ رہی ہے۔ 2015 میں پی ڈی پی اور بی جے پی کے اتحاد کو مفتی محمد سعید نے خود "شمالی قطب اور جنوبی قطب کا ملاپ” قرار دیا تھا۔ اس تاریخی اتحاد کا مقصد کشمیر میں استحکام لانا بتایا گیا۔
جون 2018 میں بی جے پی نے یکطرفہ طور پر اتحاد ختم کر دیا اور محبوبہ مفتی کو وزیرِ اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ بی جے پی نے کہا کہ بگڑتی سیکیورٹی صورتِ حال کے پیشِ نظر اتحاد جاری رکھنا ناممکن ہو گیا تھا۔ اس کے بعد 2019 میں آرٹیکل 370 کا خاتمہ ہوا، جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ ختم کیا گیا اور پی ڈی پی کی سیاسی بنیاد بری طرح ہل گئی۔ محبوبہ مفتی 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اپنی نشست بھی نہیں جیت سکیں۔ وہ آج بھی یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ ان کے والد نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کشمیر کے وسیع تر مفاد میں کیا تھا اور آرٹیکل 370 کو نہ چھیڑنے کی ضمانت دی گئی تھی۔
جے جے للیتا کی وراثت کی دعوے دار اے آئی اے ڈی ایم کے تمل ناڈو کی دوسری بڑی روایتی جماعت ہے۔ جے للیتا کے دور میں یہ جماعت ہمیشہ بی جے پی سے محفوظ فاصلہ رکھتی تھی، مگر 2016 میں ان کے انتقال کے بعد پارٹی قیادت نے اتحاد کا راستہ اختیار کیا۔ 2019 اور 2021 میں بی جے پی کے ساتھ مل کر انتخابات لڑے مگر ڈی ایم کے نے دونوں مرتبہ کامیابی حاصل کی۔ ستمبر 2023 میں اے آئی اے ڈی ایم کے نے این ڈی اے سے باہر نکلنے کا اعلان کیا۔ پالانی سوامی نے کہا کہ تمل ناڈو بی جے پی کے رویے نے درویڑی روایات کی توہین کی اور پارٹی کارکنوں کے جذبات کا احترام ضروری تھا۔ تاہم 2026 کے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کے پیشِ نظر دونوں جماعتیں ایک بار پھر این ڈی اے کے بینر تلے ساتھ ہو گئی ہیں اور امت شاہ نے اعلان کیا کہ پالانی سوامی ہی اتحاد کی قیادت کریں گے۔ یہ تعلق آج بھی کشیدہ اور غیریقینی ہے۔
اس سنگین انجام کو دیکھتے ہوئے اکثر سیاسی مبصرین یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ بھارت کی سیاست میں علاقائی جماعتوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج کانگریس نہیں بلکہ بی جے پی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو جماعتیں وقتی سیاسی فائدے کے لیے بی جے پی کے ساتھ تعاون کرتی رہیں، وہ رفتہ رفتہ اپنی الگ شناخت، تنظیمی طاقت اور ووٹ بینک سے محروم ہوتی گئیں۔ آخر میں اپنی اصل جماعت اور نشانی سے بھی محروم ہو گئیں۔ آج سیاست ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں کئی علاقائی جماعتیں اپنے وجود اور مستقبل کے تحفظ کی جدوجہد کر رہی ہیں، جس کی تازہ ترین مثال ترنمول کانگریس کی ٹوٹ پھوٹ ہے جبکہ بی جے پی مسلسل اپنی سیاسی حدود کو وسیع کرتی جا رہی ہے۔ ان تمام جماعتوں سے اتحاد، دوستی اور تعاون کے تجربات میں ایک مشترکہ چیز نظر آتی ہے۔ جس علاقائی جماعت نے بھی بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت چلائی، اسے عام طور پر تین نتائج میں سے کوئی ایک بھگتنا پڑا: یا تو پارٹی کے اندر بغاوت ہوئی جیسا کہ شیو سینا اور این سی پی کے ساتھ ہوا، یا پھر ریاستی انتخابات میں عوامی اعتماد کھو گیا جیسا کہ شیرومنی اکالی دل اور ٹی ڈی پی کے ساتھ ہوا، یا اتحاد بی جے پی نے ہی یکطرفہ ختم کر دیا جیسا کہ پی ڈی پی کے ساتھ ہوا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان جماعتوں نے قومی سطح پر اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش میں اپنی مقامی شناخت اور ووٹر کا اعتماد دونوں کھو دیے، اور بی جے پی نے ہر ریاست میں خود کو مضبوط کرنے کے لیے ان اتحادوں کو سیڑھی کے طور پر استعمال کیا۔ پھر بعد میں ان علاقائی جماعتوں کا کیا حشر ہوا آپ سبھی جانتے ہیں۔
اگلے سال اتر پردیش میں انتخابات ہیں۔ حزب اختلاف کو بہار اور بنگال کے انتخابات کے نتائج سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایس آئی آر نے لاکھوں افراد کے نام حذف کیے اور نتیش کمار سیاسی سنیاس میں چلے گئے۔ ممتا بنرجی جو انتہائی طاقتور سیاست دانوں میں شمار ہوتی تھیں اب اپنی شکست کے بعد اپنی اور اپنی پارٹی کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ترنمول کانگریس ٹوٹ چکی ہے، اس کے ممبران پارلیمنٹ این ڈی اے کے ساتھ ہیں۔ ممتا بنرجی کے خلاف ایسی بغاوت ہوئی ہے کہ وہ اب اس سے ابھر نہیں سکیں گی۔ بھارتیہ جنتہ پارٹی کی حکومت بنگال میں قائم ہو چکی ہے۔ سیاسی انتقام اور نفرت کا بلڈوزر خوب چل رہا ہے۔ ان سب کو دیکھتے ہوئے اتر پردیش میں اگلے سال ہونے والے انتخابات کے بارے میں حزب اختلاف کو اپنے سبھی آپسی اختلاف بھلا دینے چاہئیں۔ اکھلیش یادو کی سماج وادی پارٹی کو بھی انہی چیلنجوں کا سامنا ہے جن کا سامنا ادھو ٹھاکرے، شرد پوار، نتیش کمار، اروند کیجریوال اور نوین پٹنائک کو کرنا پڑا تھا۔ اکھلیش یادو کو حالات کا صحیح اندازہ لگانے کی ضرورت ہے اور ہر چھوٹی بڑی سیاسی جماعت سے بات کرنی چاہیے۔ وہ لوگوں سے ملتے ہی نہیں ہیں، اپنے دائرے سے باہر نہیں نکلتے۔ ہر چھوٹی جماعت سے انہیں بات کرنی ہوگی اور ایک مضبوط اتحاد بنانا ہوگا۔ کانگریس واحد جماعت ہے جو پورے ملک میں موجود ہے اور کئی ریاستوں میں کانگریس کی حکومت ہے۔ ممتا بنرجی کو اکیلے رہنے کی بڑی قیمت چکانی پڑی۔ علاقائی جماعتوں کو غلط حکمت عملی کی وجہ سے اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ اب سماج وادی پارٹی کے علاوہ تقریباً ساری علاقائی جماعتیں ختم ہو گئی ہیں۔ اتر پردیش میں انتہائی باریک بینی سے جائزہ لے کر حکمت عملی بنا کر انتخابات لڑنے کی ضرورت ہے ورنہ اکھلیش یادو کا بھی انجام دوسری علاقائی جماعتوں سے الگ نہیں ہونے والا۔جو سیاسی جماعتیں کانگریس سے الگ تھلگ ہو کر خاتمے کے قریب ہیں انہیں دوبارہ کانگریس میں ضم ہو جانا چاہیے۔ ساتھ ہی حزب اختلاف کو آگے آنے والے delimitation اور One nation One elections ،پر بھی گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے پارلیمنٹ میں ترنمولِ کانگریس کی ٹوٹ پھوٹ اور عام آدمی سے ممبران نکل جانے بھاجپا میں مل جانے سے اب بھارتیہ جنتہ پارٹی کو پارلیمنت میں دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی ہے راجیہ سبھا میں بھی اکثریت حاصل ہو گئی ہے اب بھارتیہ جنتہ پارٹی اپنی مرضی سے قوانین پاس کروا لیگی۔ اب متحدہ حزب اختلاف کی اشد ضرورت ہے۔