جمعہ نامہ: بچے جنت کے پھول

جمعہ نامہ: بچے جنت کے پھول

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

ارشاِ ربانی ہے:”یاد کرو جب (قیامت کے دن) زندہ دفن ہونے والی لڑکی سے پوچھا جائیگا تو کس جرم میں ماری گئی؟‘‘ یہ آیت بنتِ حوا پر ہونے والے انتہائی جرم کی جانب اشارہ کرکے خبردارکرتی ہے اگر چہ دنیا میں ایسا عظیم جرم کرکے انسان بچ سکتا ہے مگر قیامت میں اس کی بازپرس سے مفر نہیں۔ عرب معاشرے کے اندر کسی کو داماد بنانے کو عار سمجھنے کے سبب اس ظلم عظیم کا ارتکاب کیاجاتا تھا مگر جب اللہ تعالیٰ نے لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا حرام کردیا تو دنیائے عرب سے اس وحشیانہ فعل کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوگیا۔ بچیوں کو نہ صرف تحفظ ملا بلکہ انہیں معاشرے میں ایسا بلند مقام ملا جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ قتل اولاد کی دوسری وجہ پرورش کے اخراجات کا خوف تھا اس پریہ آیت نازل ہوئی ”اپنی اولاد کو فقر و فاقہ کے خوف سے قتل نہ کرو۔ ہم ہی ہیں جو ان کو اور تم دونوں کو روزی دیتے ہیں۔ ان کا مار ڈالنا بلا شبہ بڑا گناہ ہے۔‘‘ ایک صحابی نے نبیٔ مکرم ﷺسے گناہ کبیرہ کے متعلق پوچھا تو جواب میں فرمایا:’’یہ بھی بڑا گناہ ہے کہ تم اپنی اولاد کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائیں گے۔‘‘ نبیٔ کریم ﷺ نے فرمایا بچوں پر خرچ کرنا بھی ثواب اور عبادت کے درجے میں ہے۔ اس لیے ان پر تنگی نہ کی جائے‘‘۔یہ بھی ارشاد فرمایا:’’مسلمانو! اللہ چاہتا ہے کہ تم اپنی اولاد کے ساتھ برتاو کرنے میں انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دواوران کی اچھی تربیت کیا کرو۔‘‘ یعنی بلا تفریق و امتیاز بچوں کی بہترین تربیت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
عصرِ حاضر میں جدید ذرائع اسقاطِ حمل نے بچیوں کو زندہ درگور کرنے کی ضرورت ختم کردی مگریہ ظلم جاری ہے۔ ابھی حال میں انکشاف ہوا کہ (2026) ہندوستان کی کل آبادی کے اندرجنس کا تناسب 100 خواتین کے مقابلے میں 106.375 مرد ہےیعنی خواتین کی آبادی کا فیصد 48.46 فیصد ہے جبکہ مردوں کی آبادی 51.54 فیصد ہے۔ دنیا بھر میں آبادی کے لحاظ سے اضافی مرد وں کی تعدادوطن عزیز میں سب سے زیادہ یعنی 45.61 ملین ہے۔ ملک میں فی الحال صدر مملکت کے اہم ترین عہدے پر محترمہ دروپدی مرمو فائز ہیں اور ’بیٹی بچاو بیٹی پڑھاو ‘ نعرے کی گونج بھی ہے اس کے باوجود خواتین بمقابلہ مرد تناسب کے اعتبار سے عالمی سطح پر ہندوستان 237 ممالک میں 218ویں مقام پر ہے۔51؍ ایشیائی ممالک میں اس کی پوزیشن 40ویں ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تعلیم و ترقی کے ساتھ اس میں بہتری آتی مگرمردو خواتین کا یہ تناسب 1950 میں 105.614 تھاجو بڑھ کر 2004 میں 107.212 کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا۔ اب اس میں قدرے بہتری تو آئی مگر آزادی سے پہلے والا مقام ہنوز دور ہے۔وشوگرو( عالمی قیادت) کا خواب دیکھنے والوں کو اس حوالے سے بھی اپنے گریبان میں جھانک کردیکھنا چاہیے۔
بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک کےتعلق سے نبی کریمﷺ نے فرمایا:”وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹو ں پر شفقت نہ کرے۔‘‘ بچوں کو ”ہمارا‘‘ کہنے میں کمال محبت، شفقت اور انسیت پنہاں ہے۔ یہ معصوم بچوں کے مقام و مرتبہ اور ہمیت و افادیت کے تعین کی خاطر مشعل راہ ہے۔نبیٔ مکرم ﷺ کو بچوں سے بڑی محبت تھی۔ بچے جہاں بھی ملتے آپؐ انہیں محبت سے گود میں اٹھا لیتے چومتے پیار کرتے اور ان سے کھیلتے۔ نیا میوہ جب آپؐ کے پاس آتا تو سب سے کم عمر بچے کو جو اس وقت موجود ہوتا عطا فرماتے۔ راستے میں جو بچے مل جاتے تو خود ان کو سلام کرتے اور ان کے سروں پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے۔ایک دفعہ ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ میرا دل بہت سخت ہے۔ آپؐ نے فرمایا:”یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کرو ان سے پیار کیا کرو اللہ تمہارا دل نرم کردے گا۔‘‘ آپ ﷺ ایک مرتبہ عید کی نماز کے لیے عید گاہ کی طرف جارہے تھے تو راستے میں ایک بچہ نظر آیا جس نے پھٹے پرانے کپڑے پہن رکھے تھے اور رو رہا تھا۔ آپﷺ نے رونے کی وجہ دریافت کی تو اس نے بتایا کہ’’ میرے والدین فوت ہوچکے ہیں میرے پاس کھانے پینے کے لیے کوئی چیز نہیں اور نہ ہی اچھے کپڑے ہیں‘‘۔ یہ سن کر آپؐ کی آنکھیں پرنم ہوگئیں ۔ رحمت ِ عالم ﷺ نے پیار سے اسے اٹھایا اور واپس گھر تشریف لے آئے۔ اس کو اچھے کپڑے پہنائے، کھانا کھلایا اور اپنے ساتھ عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’بچے جنت کے پھول ہیں‘‘۔یعنی وہ خوشبو، نرمی اور پاکیزگی کا مظہر ہوتے ہیں، اس لیے بچوں کے ساتھ محبت، شفقت اور حسنِ سلوک کرنا چاہیے کیونکہ وہ اللہ کی نعمت اور رحمت ہوتے ہیں لیکن عصرِ حاضر کا ظالم انسان انتقام کی آگ میں ان پھولوں کو بھی سفاکی سے روند دیتا ہے۔ اتر پردیش کےشکوہ آباد میں پچھلے دنوں ایک انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا، جہاں ایک شخص نے ڈیڑھ سال کے معصوم بچے (آرو) کو زمین پر پٹخ کر بے دردی سے قتل کر دیا۔ جتیندر پاٹھک عرف ویراج نے اس جرم کاارتکاب کیا کیونکہ وہ بچے کی ماں (رتی دیوی) سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ اس شادی شدہ خاتون نے جب یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اس کا ایک بیٹا ہے تو ملزم اسے اپنے راستے کی روڑاسمجھنے لگا اور قتل کا منصوبہ بنالیا۔وہ بچے کو چاکلیٹ دلانے کے بہانے گھر سے باہر لے گیا اور ایک سنسان سڑک پر تقریباً 8 بار زمین پر پٹخ کر مارڈالا۔ یہ پوری واردات ایک سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہو گئی۔واقعے کے بعد ملزم فرار ہو گیا اور گرفتاری سے بچنے کے لیے پولیس پر فائرنگ کی۔اس کے جواب میں پولیس نےملزم کی ٹانگ کو گولی سے زخمی کرکے گرفتار کر لیا۔ علاج کے دوران اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور بالآخر پانچویں دن فوت ہوگیا۔ اس طرح کی سفاکی کا مظاہرہ ناقابل یقین ہے ۔ ایسا اسی وقت ہوتا ہے جب کوئی درندہ صفت انسان اپنے ہوس و انتقام کے جنون میں بالکل باولا ہوجائے ۔ وہ اپنا غصہ ایک معصوم بچے پر اتارے اور خود بھی انتقام کی آگ میں جل مرے ۔ اس سے بچنے کی خاطر خوف آخرت اور نبیٔ کریم ﷺ کی تعلیمات پر ایمان و عمل لازمی ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے