کیوں نہ یومِ جمعہ کو ہی جلسہ کی صورت دی جائے؟

کیوں نہ یومِ جمعہ کو ہی جلسہ کی صورت دی جائے؟

کیوں نہ یومِ جمعہ کو ہی جلسہ کی صورت دی جائے؟

ازقلم:(حافظ)افتخاراحمدقادری

اسلام ایک ایسا مکمل ضابطہ حیات ہے جس نے انسان کو عبادت، معاشرت، معیشت، اخلاق اور اجتماعیت کے ہر پہلو میں اعتدال، حکمت اور سہولت کا راستہ دکھایا ہے۔ دینِ اسلام میں جہاں ذکر و فکر، وعظ و نصیحت اور تعلیم و تربیت کی بڑی اہمیت ہے وہیں اس بات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے کہ دینی کاموں میں تکلف، اسراف، بے جا مشقت اور غیر ضروری بوجھ پیدا نہ ہونے پائے۔ قرآنِ کریم نے بار بار انسان کو تدبر، اصلاحِ نفس اور اجتماعی خیر کی طرف متوجہ کیا ہے۔ اسی لیے اسلام میں جمعہ کا دن ایک عبادتی دن نہیں بلکہ ایک فکری، تربیتی، روحانی اور سماجی اجتماع کا عظیم ذریعہ بھی ہے۔ آج کے دور میں جب دینی جلسے، کانفرنسیں اور اجتماعات ایک مستقل روایت بن چکے ہیں تو یہ سوال اپنی جگہ بہت اہمیت رکھتا ہے کہ کیا ہر دینی پروگرام کے لیے الگ سے رات بھر کے جلسے، بھاری اخراجات، لمبی تیاریاں اور مسلسل چندہ مہمات ضروری ہیں؟ کیا دین کی بات صرف اسی وقت اثر رکھتی ہے جب اس کے ساتھ بڑے اسٹیج، رنگ برنگی روشنیوں، لمبے لمبے اشتہارات اور غیر معمولی انتظامات کا اہتمام ہو؟ یا پھر دین کی اصل روح سادگی، اخلاص اور مؤثر پیغام رسانی میں پوشیدہ ہے؟ ہمارے معاشرے میں دینی جلسوں کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ان اجتماعات نے بے شمار لوگوں کو دین سے جوڑا، ایمان تازہ کیا، نوجوانوں کو بیدار کیا اور دینی ماحول قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مگر اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی سامنے آتی جارہی ہے کہ بعض مقامات پر جلسوں کا اصل مقصد پس منظر میں چلا گیا اور ظاہری نمائش، مقابلہ بازی، خطیبوں کی فہرست، اسٹیج کی شان و شوکت اور انتظامی اخراجات اصل توجہ بن گئے۔ کہیں پوری پوری رات جاگ کر چند گھنٹوں کی تقریریں سنی جاتی ہیں، کہیں گاؤں اور محلوں کے لوگ مہینوں چندہ جمع کرنے میں مصروف رہتے ہیں، کہیں قرض لے کر جلسے کیے جاتے ہیں اور کہیں تعلیم و تربیت کے اصل منصوبے صرف اس لیے رک جاتے ہیں کہ تمام وسائل جلسوں پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں نہایت سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ کیوں نہ عام دینی جلسوں کے لیے یومِ جمعہ کو اختیار کیا جائے؟ کیوں نہ خطبہ جمعہ سے پہلے ایک منظم، باوقار، مختصر مگر مؤثر علمی نشست رکھی جائے؟ کیوں نہ لوگوں کو ایک ہفتہ پہلے اعلان کے ذریعے تیار کیا جائے کہ آئندہ جمعہ فلاں موضوع پر فلاں عالم خطاب فرمائیں گے اور لوگ وقت سے پہلے مسجد پہنچ کر تلاوت، نعت، وعظ اور دعا سے مستفید ہوں گے؟ یہ تجویز صرف ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ دینی اجتماعات کو اصل مقصد کی طرف واپس لانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ جمعہ کا دن خود الله تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے خصوصی فضیلت والا دن مقرر کیا گیا۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: ”اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو الله کے ذکر کی طرف دوڑو“۔(الجمعہ: 9) اس آیتِ کریمہ میں ذکر الله صرف نماز تک محدود نہیں بلکہ وعظ، نصیحت، خطبہ، دینی تعلیم اور اصلاحِ امت کے تمام پہلوؤں کو شامل ہے۔ جمعہ کا دن دراصل مسلمانوں کے اجتماعی شعور کو بیدار کرنے کا دن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے جمعہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے“۔ (سنن ابوداؤد) جمعہ کے دن پہلے ہی مسلمانوں کی بڑی تعداد مسجد میں جمع ہوتی ہے۔ دیہات ہوں یا شہر، عام دنوں کے مقابلے میں جمعہ کے موقع پر مسجدوں میں کہیں زیادہ لوگ موجود ہوتے ہیں۔ اگر اسی اجتماع کو حکمت کے ساتھ دینی تربیت کے لیے استعمال کیا جائے تو یقیناً اس کے نتائج زیادہ مؤثر ہوسکتے ہیں۔ آج ایک عام مسئلہ یہ ہے کہ رات کے جلسوں میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو محض ماحول، ملاقات یا تفریح کے جذبے سے آتے ہیں۔ تقریر کے دوران شور و غل، آمد و رفت، موبائل فون، غیر سنجیدگی اور بے ترتیبی عام منظر بن جاتی ہے۔ کئی لوگ محض کھانے یا مشہور مقرر کو دیکھنے کے لیے شریک ہوتے ہیں جبکہ اصل پیغام کم ہی لوگوں کے دل میں اتر پاتا ہے۔ اس کے بر خلاف جمعہ کے دن مسجد کا ماحول پہلے ہی سنجیدہ، باوقار اور روحانی ہوتا ہے۔ لوگ وضو کرکے عبادت کی نیت سے اور دینی کیفیت کے ساتھ آتے ہیں۔ ایسے ماحول میں کہی جانے والی بات دل میں زیادہ اثر پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح رات بھر کے جلسوں کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ طلبہ کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، مزدور اور محنت کش طبقہ نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے اگلے دن پریشان رہتا ہے، بزرگوں اور مریضوں کے لیے شرکت مشکل ہو جاتی ہے، خواتین اور بچوں کے لیے آمد و رفت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور بعض مقامات پر رات گئے تک شور شرابہ آس پاس کے لوگوں کے لیے اذیت کا سبب بھی بنتا ہے۔ اسلام نے کبھی بھی عبادت یا دین کے نام پر دوسروں کو تکلیف پہنچانے کی تعلیم نہیں دی۔ رسول الله ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں“۔ (صحیح بخاری) اگر دینی پروگرام ہی لوگوں کے لیے مشقت اور پریشانی کا باعث بننے لگیں تو ہمیں اپنے طریقہ کار پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ جمعہ کے دن مختصر مگر جامع پروگرام کا ایک بڑا فایدہ یہ بھی ہوگا کہ فضول اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔ آج بعض علاقوں میں ایک جلسہ کرانے کے لیے لاکھوں روپے خرچ کردیے جاتے ہیں۔ اسٹیج، ساؤنڈ، بینر، لائٹنگ، کھانا، مہمان نوازی، تشہیر اور دیگر انتظامات پر اتنا سرمایہ خرچ ہو جاتا ہے کہ اگر وہی رقم کسی غریب بچے کی تعلیم، کسی مدرسے کی لائبریری، کسی یتیم کی کفالت یا کسی دینی تربیتی مرکز پر خرچ کی جائے تو زیادہ دیرپا فایدہ ہوسکتا ہے۔ اسلام نے فضول خرچی سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: ” بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں“۔ (بنی اسرائیل: 27) افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات چندہ جمع کرنے کے لیے لوگوں کے سامنے اس انداز میں ہاتھ پھیلائے جاتے ہیں کہ دین کی وقعت متاثر ہونے لگتی ہے۔ مسجد مسجد، بازار بازار، دکان دکان چندہ مہم چلتی ہے پھر بھی اخراجات پورے نہیں ہوتے۔ کہیں قرض لیا جاتا ہے، کہیں اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں اور کہیں محض مالی معاملات کی وجہ سے دلوں میں کدورتیں جنم لینے لگتی ہیں۔ اگر جمعہ کے دن سادہ انداز میں پروگرام ہوں تو یہ تمام مشکلات بڑی حد تک ختم ہوسکتی ہیں۔ اس طریقہ کار کا ایک اہم فایدہ یہ بھی ہوگا کہ جلسے کا معیار بہتر ہوسکتا ہے۔ جب پروگرام مختصر ہوگا تو مقرر بھی غیر ضروری طوالت سے بچیں گے، موضوع پر توجہ دیں گے اور سنجیدہ انداز میں گفتگو کریں گے۔ سامعین بھی پوری توجہ کے ساتھ سن سکیں گے۔ اس وقت ہمارے معاشرے میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے اجتماعات محض جذباتی نعروں اور وقتی جوش تک محدود ہوکر رہ جاتے ہیں جبکہ امت کو اصل ضرورت فکری بیداری، اخلاقی اصلاح اور عملی تربیت کی ہے۔
آج مسلمان جن مسائل سے دو چار ہے ان میں اخلاقی زوال، تعلیمی پسماندگی، نوجوانوں کی بے راہ روی، گھریلو انتشار، سوشل میڈیا کا غلط استعمال اور دینی شعور کی کمی نمایاں ہیں۔ ان مسائل کا حل صرف لمبی لمبی تقریروں سے نہیں بلکہ مسلسل، سنجیدہ اور مربوط تربیت سے ممکن ہے۔ اگر ہر جمعہ کسی ایک اہم موضوع پر علمی گفتگو ہو تو آہستہ آہستہ معاشرے میں شعور بیدار ہوسکتا ہے۔ مثلاً ایک جمعہ والدین کے حقوق پر گفتگو ہو، دوسرے جمعہ نوجوانوں کی ذمہ داریوں پر، تیسرے جمعہ تجارت میں دیانت داری پر، چوتھے جمعہ نماز کی اہمیت پر، پھر اخلاق، تعلیم، اتحادِ امت، سیرتِ نبوی ﷺ اصلاحِ معاشرہ اور دیگر اہم موضوعات پر مسلسل رہنمائی دی جائے تو یقیناً اس کے مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔ چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں دو تین مخلص افراد بھی آسانی سے اس قسم کا پروگرام منعقد کرسکتے ہیں۔ نہ بڑے انتظامات کی ضرورت ہوگی، نہ زیادہ مالی بوجھ ہوگا اور نہ غیر ضروری تشہیر کی۔ مسجد ہی اس کا مرکز ہوگی اور مسجد سے بہتر تربیتی مرکز کون سا ہوسکتا ہے؟ رسول الله ﷺ نے مسجد کو ہی تعلیم، تربیت، مشاورت اور اصلاحِ امت کا مرکز بنایا تھا۔ صحابہ کرام رضی الله عنہم کی تربیت بڑے بڑے ہالوں میں نہیں بلکہ مسجد نبوی ﷺ کے سادہ ماحول میں ہوئی تھی مگر وہی لوگ دنیا کے عظیم ترین انسان بن گئے۔ آج ہمیں بھی اپنی ترجیحات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم دین کی روح کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں یا صرف رسموں کو؟ کیا ہمیں واقعی لوگوں کی اصلاح مطلوب ہے یا صرف بڑے اجتماعات کی تعداد؟ کیا ہمارا مقصد الله کی رضا ہے یا وقتی شہرت اور واہ واہی؟ یاد رکھنا چاہیے کہ مؤثر دعوت ہمیشہ اخلاص، حکمت اور سادگی سے پیدا ہوتی ہے۔ حضرت حسن بصری رحمۃ الله علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ”دلوں میں اترنے والی بات وہی ہوتی ہے جو دل سے نکلتی ہے“ اگر ہمارے اجتماعات میں اخلاص، علم اور اصلاح کا جذبہ ہوگا تو مختصر نشست بھی انقلاب برپا کرسکتی ہے۔ اس تجویز کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ تمام بڑے اجتماعات یا خصوصی دینی کانفرنسیں ختم کردی جائیں۔ یقیناً بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جہاں بڑے پیمانے پر پروگرام کی ضرورت پیش آتی ہے جیسے ختمِ بخاری، عظیم اصلاحی اجتماعات، قومی سطح کے سیمینار یا اہم دینی تحریکات کے اجتماعات مگر عام اور معمول کے جلسوں کے لیے اگر جمعہ کے دن کو استعمال کیا جائے تو یہ زیادہ مفید، آسان اور بابرکت ہوسکتا ہے۔ لہذا! وقت بدل چکا ہے آج لوگوں کی مصروفیات پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔ نوجوان تعلیم اور روزگار میں مشغول ہیں، مزدور طبقہ سخت محنت کرتا ہے، طلبہ امتحانات میں مصروف رہتے ہیں۔ ایسے میں اگر دین کی بات آسان، مختصر اور مؤثر انداز میں پہنچائی جائے تو اس کے قبول ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اسلام آسانی کا دین ہے۔ رسول الله ﷺ نے فرمایا: ”دین آسان ہے“۔(صحیح بخاری) اور ایک موقع پر صحابہ کرام سے فرمایا: ”لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو دشواری پیدا نہ کرو“۔(صحیح بخاری) لہٰذا! اگر دینی اجتماعات کو بھی آسان بامقصد اور کم خرچ بنایا جائے تو یہ عین اسلامی مزاج کے مطابق ہوگا۔ آج امت کو شور سے زیادہ شعور، ہجوم سے زیادہ تربیت، جذباتی نعروں سے زیادہ عملی اصلاح کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے اپنے دینی پروگراموں کو وقت کے تقاضوں کے مطابق حکمت کے ساتھ نہ بدلا تو اندیشہ ہے کہ نئی نسل ان اجتماعات سے دور ہوتی جائے گی۔ لیکن اگر ہم جمعہ جیسے مبارک دن کو اصلاحِ امت کے لیے منظم انداز میں استعمال کریں تو یہ ایک خاموش مگر مؤثر دینی انقلاب کا آغاز بن سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ علما، آئمہ مساجد، دینی تنظیمیں اور اہلِ خیر اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کریں۔ مساجد کو صرف نماز تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں حقیقی معنوں میں اصلاحِ معاشرہ اور تربیتِ امت کا مرکز بنایا جائے۔ جمعہ کے اجتماعات کو محض ایک رسمی عبادت نہ سمجھا جائے بلکہ انہیں امت کی فکری اور روحانی بیداری کا ذریعہ بنایا جائے۔ اگر ہم اخلاص کے ساتھ یہ قدم اٹھائیں تو یقیناً کم خرچ، مختصر مگر بامقصد اجتماعات دین کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف وقت، مال اور توانائی کی بچت ہوگی بلکہ لوگوں میں دین کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنانے کا جذبہ بھی بڑھے گا۔ الله تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ، اخلاصِ نیت اور امت کی حقیقی خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے تمام دینی کاموں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔
کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے