کیا ممتا بنرجی کی گھر واپسی ہوجائے گی؟ مضبوط اور مستحکم اتحاد ہی حکمراں جماعت کو ٹکر دے سکتا ہے

کیا ممتا بنرجی کی گھر واپسی ہوجائے گی؟ مضبوط اور مستحکم اتحاد ہی حکمراں جماعت کو ٹکر دے سکتا ہے

کیا ممتا بنرجی کی گھر واپسی ہوجائے گی؟
مضبوط اور مستحکم اتحاد ہی حکمراں جماعت کو ٹکر دے سکتا ہے

ازقلم:عبدالعزیز

ترنمول کانگریس بھی کانگریس پارٹی سے ٹوٹ کر بنی تھی۔ مغربی بنگال میں کانگریس کی حکومت ختم ہونے کے بعد کانگریس کمزور ہوتی چلی گئی۔ بایاں محاذ کی حکومت کے دوران کانگریس گروہ بندیوں میں بٹی ہوئی تھی۔ جو لوگ کانگریس میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے ان میں سے اکثر اپنی شرپسندی اور خودغرضی کی وجہ سے اکثر و بیشتر بایاں محاذ کی حکومت سے مدد لیا کرتے تھے۔ ممتا بنرجی اور سومن مترا میں یوتھ کانگریس کے صدارتی عہدے کیلئے مقابلہ ہوا۔ ممتا بنرجی کو اس مقابلے میں شکست ہوگئی۔ اس کے بعد ہی 1998ء میں ممتا بنرجی نے ’’ترنمول کانگریس‘‘ کی بنیاد ڈالی۔ 2006ء میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مغربی بنگال اسمبلی کا الیکشن لڑا۔ ترنمول کانگریس کی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی اس الیکشن میں شرمناک شکست ہوئی۔ ممتا بنرجی بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والے این ڈی اے میں بھی شریک رہیں۔ اس کی حکومت میں وزیر ریلوے کے عہدے پر بھی فائز ہوئیں۔ 2006ء میں اسمبلی الیکشن میں کراری ہار سے کو سمجھ میں آگیا کہ بھاجپا کے ساتھ رہ کر بایاں محاذ کی حکومت کو ٹکر نہیں دے سکتیں۔ 2011ء میں ان کو کانگریس کا دامن تھامنا پڑا۔ بھاری اکثریت سے ممتا بنرجی کی جیت ہوئی۔ اس وقت مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی۔ مغربی بنگال اور مرکز کی مخلوط حکومتوں میں ترنمول کانگریس اور کانگریس کی شمولیت رہی۔ اپنے آمرانہ مزاج کی وجہ سے ممتا بنرجی کانگریس کے ساتھ زیادہ دنوں تک نہیں رہ سکیں۔ بایاں محاذ سے اگر ممتا بنرجی نے کچھ سیکھا ہوتا تو کانگریس کے ساتھ ان کا اتحاد باقی رہتا لیکن ممتا بنرجی مغربی بنگال میں تنہا حکومت کرنا چاہتی تھیں۔
پندرہ سال تک مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی حکومت جیسے تیسے قائم رہی لیکن حالیہ اسمبلی الیکشن میں ان کو زور زبردستی ہرا دیا گیا۔ شکست خوردہ ترنمول کانگریس تاش کے پتے کی طرح چند دنوں میں بکھر گئی۔ مغربی بنگال اسمبلی کے 80 ممبران میں سے 58ممبران ترنمول کانگریس سے الگ ہوگئے۔ لوک سبھا میں ترنمول کانگریس کے ممبران کی تعداد 29 تھی۔ غیر مصدقہ رپورٹ کے مطابق ترنمول کانگریس کے پندرہ یا بیس ارکان پارلیمنٹ اپنا الگ بلاک بناکر این ڈی اے کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ ترنمول کانگریس کے اس بکھراؤ کی وجہ سے ممتا بنرجی کا آمرانہ مزاج جاتا رہا۔ سونیا گاندھی جن سے وہ دوری بنائے ہوئی تھیں اور راہل گاندھی جس کو وہ اپوزیشن لیڈر تسلیم کرنے سے انکار کر رہی تھیں اب وہ دونوں سے دہلی میں بار بار ملاقاتیں کر رہی ہیں۔ ممتا بنرجی کا سلوک کانگریس کے ساتھ دوستانہ کے بجائے معاندانہ تھا۔ حالیہ جنرل الیکشن میں ’انڈیا اتحاد‘ سے الگ رہ کر مغربی بنگال میں قسمت آزمائی کر رہی تھیں۔ دورانِ انتخاب کانگریس پر وہ حملے بھی کیا کرتی تھیں۔ ایک بیان میں انھوں نے کہاکہ پارلیمانی الیکشن میں کانگریس کو 40سیٹوں پر بھی کامیابی نہیں ملے گی۔
اس وقت جو خبریں سوشل میڈیا پر اور اخبارات میں گشت کر رہی ہیں وہ یہ ہیں کہ کانگریس میں ترنمول کانگریس ضم ہوسکتی ہے۔ کانگریس کی طرف سے ممتا بنرجی کو کانگریس کے نائب صدر کا عہدہ اور ابھیشیک بنرجی کو جنرل سکریٹری کے عہدہ کی پیشکش کی گئی ہے۔ کہاں تک یہ بات صحیح ہے کہنا مشکل ہے۔ دوسری خبر یہ ہے کہ کانگریس اور ترنمول کانگریس میں اتحاد کی بات چیت بھی چل رہی ہے۔ بات جو بھی ہورہی ہے اس میں ایک بات بالکل صاف ہے کہ ممتا بنرجی اب کانگریس کا دامن تھامنے کے لئے تیار ہیں۔ اتحاد کس قسم کا ہوگا یہ کہنا فی الحال مشکل ہے۔
شیو سینا (اُدھو ٹھاکرے) کے سنجے راوت کا کہنا یہ ہے کہ کانگریس سے جتنی بھی پارٹیاں ٹوٹ کر بنی ہیں مہاراشٹر، مغربی بنگال، آندھرا پردیش وغیرہ میں سب کو کانگریس میں ضم ہوجانا چاہئے۔ سنجے راوت کی تجویز بہت ہی دانشمندانہ ہے۔
ہندستان میں جب بھی اپوزیشن پارٹیاں متحد ہوئیں حکمراں جماعت کو ہرانے میں کامیاب ہوئیں۔ 1967ء میں پہلی بار اپوزیشن پارٹیاں متحد ہوئی تھیں جس کے نتیجے میں کانگریس کو چار پانچ ریاستوں میں شکست ہوئی تھی۔ 1977ء میں اپوزیشن کی تمام پارٹیاں ’’جنتا پارٹی‘‘ میں ضم ہوگئی تھیں جس کی قیادت جئے پرکاش نرائن کر رہے تھے۔ 1997ء میں تمام اپوزیشن پارٹیاں وی پی سنگھ کی سربراہی میں ایک ہوگئی تھیں۔ اس وقت بھی حکمراں جماعت کانگریس کی ہار ہوئی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں جب تک ایک نہیں ہوتیں، متحد اور مستحکم نہیں ہوسکتیں۔ جب متحد، منظم اور مستحکم نہیں ہوں گی بھاجپا کو کسی قیمت پر ہرا نہیں سکتیں۔ 2024ء میں اگر چہ انڈیا اتحاد مضبوط تو نہیں تھا لیکن ایک دو پارٹیوں کے سوا کسی نہ کسی سطح پر اپوزیشن پارٹیوں کا اتحاد ڈھیلے ڈھالے طریقے سے ہی سہی قائم تھا۔ اس اتحاد سے بھی فائدہ ہوا۔ بھاجپا 240 سیٹوں پر ہی سمٹ گئی۔ اگر ممتا بنرجی اور اروند کجریوال کی بات نہ مانی جاتی ، نتیش کمار کو انڈیا اتحاد کا کنوینر بنا دیا جاتا تو بھاجپا 170، 180 سیٹوں پر سمٹ جاتی۔ اتحاد کی حکومت بھی ہوسکتی تھی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کجریوال اور ممتا بنرجی دونوں نے اتحاد کو کمزور کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ دونوں وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ کجریوال میں تو اب بھی مطلق العنانی باقی ہے۔ پنجاب میں اگر شکست ہوجاتی ہے تو ان کی پارٹی کا بھی حشر ترنمول کانگریس جیسا ہوسکتا ہے۔ کجریوال کی عقل بھی ممتا بنرجی کی طرح ٹھکانے لگ جائے گی، پھر ان کو اتحاد میں بادلِ نخواستہ شامل ہونا پڑے گا۔ 2029ء سے بہت پہلے اپوزیشن اتحاد کا متحد و متفق ہونا ملک اور قوم کے لئے ضروری ہے۔ ریاستی پارٹیوں کو سمجھ میں آگیا ہوگا کہ ان کا دور آہستہ آہستہ ختم ہورہا ہے۔ بھاجپا ہر ایک پارٹی کو کسی نہ کسی طرح کھا جارہی ہے۔ 2029 سے پہلے اگر اتحاد مضبوط و مستحکم نہیں ہوتا ریاستی پارٹیوں کا خاتمہ یقینی ہے۔ ملک میں جمہوریت بھی دم توڑ دے گی۔
کانگریس راہل گاندھی کی قیادت میں نظریاتی جنگ لڑ رہی ہے ۔ اگر کانگریس میں زیادہ سے زیادہ پارٹیاں شامل ہوجاتی ہیں یا انڈیا اتحاد کا یہ فیصلہ دو ماہ بعد ہوجاتا ہے تو 2029ء میں نریندر مودی کے مقابلے میں راہل گاندھی کو اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے وزیر اعظم کے چہرے کے طور پر پیش کیا جائے، جب ہی اتحاد میں جان آسکتی ہے۔ اس وقت نوجوانوں میں، دلت طبقے میں راہل گاندھی کی مقبولیت نریندر مودی سے بہت زیادہ ہے۔ آنے والے وقت میں راہل گاندھی نریندر مودی کو ٹکر دے سکتے ہیں۔ ملکی سطح پر نریندر مودی کی قیادت آہستہ آہستہ ناقابل قبول ہوتی جارہی ہے۔ اس کے برعکس راہل گاندھی کی قیادت کو لوگ آہستہ آہستہ پسند کر رہے ہیں۔ اس حقیقت کا اپوزیشن پارٹیوں کو اعتراف کرلینا چاہئے۔ اعترافِ حقیقت کے بعد ہی اپوزیشن پارٹیوں میں تامل میل ہوسکتا ہے۔ انڈیا اتحاد بھی مضبوط سے مضبوط تر ہوسکتا ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے