کیا مہنگائی اور معاشی بحران ’’جذبات کے نشے‘‘کو کم کر پائے گا؟

کیا مہنگائی اور معاشی بحران ’’جذبات کے نشے‘‘کو کم کر پائے گا؟

کیا مہنگائی اور معاشی بحران ’’جذبات کے نشے‘‘کو کم کر پائے گا؟

ازقلم: اڈوکیٹ طاہر حُسین۔
موبائل :9448727396

آج کا ہندوستان ایک ایسے چوراہے پر کھڑا ہے جہاں اس کی شناخت دو متوازی حصوں میں بٹی ہوئی نظر آتی ہے۔ایک طرف ڈیجیٹل انڈیا،سٹارٹ اپس اور عالمی سطح پر تیزی ترین ترقی کرتی معیشت کا چمکتا ہوا اشتہار ہے، تو دوسری طرف زمینی سطح پر روز مرہ کی بقاء کے لیے جوجھتا ہوا عام ہندوستانی۔حالیہ دنوں میں ملک نے نظریاتی سیاست،مذہبی پولرائزیشن اور جذباتی نعروں کا ایک عروج دیکھا ہے۔جسے ناقدین ‘جذبات کا نشہ’قرار دیدتے ہیں۔لیکن اب سوال یہ پیدا ہورہا ہے کہ کیا آسمان چھوتی مہنگائی اور گہرا ہوتا معاشی بحران اس جذباتی خمار کو اُتارنے کا سبب بنے گا؟ یا پھر یہ بحران نفرت کی یاست کو مزید آکسیجن فراہم کرے گا؟
معاشی بحران کا زمینی سچ:۔کسی بھی معاشرے میں جب جذبات کا طوفان حقیقت کی چٹان سے ٹکراتا ہے،تو فتح ہمیشہ حقائق کی ہوتی ہے۔ہندوستان کے موجودہ معاشی اشارے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ عام آدمی کی جیب اب نظریاتی عیاشی کے متحمل نہیں ہوسکتی۔کنزیومر پرائس انڈیکس(concumer price index)کے حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خوردنی اشیاء کی مہنگائی(Food Inflation) مسلسل 6سے7فیصد کے آس پاس بنی ہوئی ہے،جبکہ دالوں،سبزیوں اور مصالحوں کی قیمتوں میں یہ شرح بعض مہینوں میں10فیصد کو بھی پار کر چکی ہے۔ریزرو بینک آف انڈیا(RBI)کے طے کردہ 4فیصد کے ہدف سے مسلسل اُوپر رپہنے والی یہ مہنگائی ظاہر کرتی ہے کہ غریب کی تھالی سے غذائیت غائب ہو رہی ہے اور متوسط طبقے کی بچت(Savings)ختم ہو رہی ہے۔سنٹر فار مانیٹرنگ اکانومی(CMIE)کی حالیہ رپورٹس کے مطابق ملک میں مجموعی بے روزگاری کی شرح(Unemployment Rate)مسلسل7.5%سے8%کے درمیان اتار چڑھاوٗ کا شکار ہے۔سب سے زیادہ تشویشناک صورتِ حال تعلیم یافتہ نوجوانوں)عمر20سے30سال(کی ہے ،جہاں بے روزگاری کا گراف40فیصد کی خطرناک سطح کو چھورہا ہے۔یہ عدادا و شمار ثابت کرتے ہیں کہ ڈگریا ہاتھوں میں لیئے لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع مٹی ہو رہے ہیں۔شہروں میں روزگار نہ ملنے کی وجہ سے دیہی علاقوں میں منریگا(MANREGA)کے تحت کام مانگنے والے خاندانوں کی تعدادس میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔یہ اس بات کی واضع علامت ہے کہ صنعتی اور مینو فیکچرنگ سیکٹرس نئے روزگار پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں اور معیشت کی بنیادیں اندر سے کمزور ہو رہی ہیں۔آکسفم(Oxfam)کی رپورٹیں مسلسل یہ واضع کر رہی ہیں کہ ملک کی70فیصد سے زائد دولت محض چند فیصد کارپوریٹ گھرانوں کے پاس ہے،جبکہ نچلی50فیصد آبادی کے حصے میں صرف اُونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر وسائل ہیں۔
توجہ بھٹکانے کی سیاست اور فرقہ وارانہ واقعات:۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی معاشی محاذ پر ناکامی ہوتی ہے ،تو فرقہ وارانہ خطوط(Communal Fault Lines)کو متحر کر دیا جاتا ہے۔نیشنل کرائم ریکارڈذ بیورو(NCRB) کے حالیہ سالوں کے ڈیٹا اور میڈیا رپورٹس کے مطابق،ہیٹ سپیچ،ہجوم کے تشدد اور مذہبی جلوسوں کے نام پر ہونے والے تصادم کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔اس کے پیچھے ایک سادہ سیاسی ریاضی کا م کرتی ہے۔’جب تک عوام شناخت کی جنگ’میں اُلجھے رہیں گے،وہ حکومت سے اسکول،ہسپتال،سستی بجلی اور رزگار پر سوال نہیں کریں گے۔دنگا فساد اور نفرت انگیز بیانات دراصل معاشی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کا ایک سستا اور آزمودہ نسخہ بن چکے ہیں۔
کیا یہ خمار اُترے گا۔۔؟: ۔ شدید معاشی بحران اور بے روزگاری سے پیدا ہونے والی مایوسی نوجوانوں کو مزید پر تشدد بنا دیتی ہے ،جب نوجوانوں و کو مستقبل تاریک نظر آتا ہے تو وہ بڑی آسانی سے نفرت کی سیاست کا ایندھن بن جاتے ہیں۔سیاستدان ان کی اس مایوسی کا رُخ فرضی دشمن)اقلیتوں یا دوسرے طبقوں(کی طرف موڑ دیدتے ہیں۔تاہم ہندوستان کے حالیہ کچھ ریاستی انتخابات کے نتائج اور زمینی تحریکوں نے ایک بالکل مختلف تصویر پیش کی ہے۔جب گیس سلنڈر،پیٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی،اور بچوں کی اسکول فیس دینا ناممکن ہو گیا ،تو ووٹروں نے زات پات اور مذہب کی دیوارں کوتوڑ کر ‘روزگار اور مہنگائی’کو اپنا بنیادی مدعا بنایا۔کرناٹک کے اسمبلی انتخابات سے پہلے بی جے پی نے حجاب،حلال،اذان اور ٹیپو سلطان جیسے شدید مذہبی اور جذباتی مسائل کو اُچھالا تاکہ رائے دہندگان کو پولرائز کیا جا سکے۔لیکن زمینی سطح پر عوام مہنگائی اور مبینہ کرپشن40%)کمیشن(سے عاجز آچکے تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ عوام نے ان تمام مذہبی مدعوں کو درکنار کر "سستی بجلی،خواتین کے لیے مفت بس سفر اور بے روزگاری بھتے”جیسی معاشی ضمانتوں(Guarantees)کے حق میں ووٹ دیا۔ہماچل پردیش میں قوم پرستی اور نظریاتی بیانیے کے مقابلے عام ملازمین کا معاشی مسئلہ یعنی اوپی ایس(Old Pension Scheme)سب سے بڑا مدعا بن گیا۔ووٹرز نے یہ واضع کر دیا کہ ان کے لیے ریٹائرمنٹ کے بعد کا معاشی تحفظ کسی بھی جذباتی نعرے سے زیادہ اہم ہے۔ہندوستان کی حالیہ تاریخ میں ‘کسان تحریک’اس بات کی سب سے بڑی مثال ہے کہ معاشی مفاد کس طرح بڑی سے بڑی سیاسی اور نظریاتی دیوار کو گرا سکتا ہے۔اس تحریک میں پنجاب،ہریانہ اور مغربی اُتر پردیش کے کسان شامل تھے۔مغربی اُتر پردیش وہ خطہ ہے جو 2013کے مظفر نگر فسادات کے بعد شدید فرقہ وارانہ پولرازیشن کا شکار ہو چکا تھا اور وہاں جاٹ اور مسلم برادریوں کے بیچ گہری خلیج پیدا ہو گئی تھی،لیکن جب تینوں زرعی قوانین کی شکل میں کسانوں کو اپنی زمین اور روزی روٹی)معاشی مستقبل(خطرے میں نظر آیا،تو اسی جاٹ اور مسلم برادری نے تما م پُرانی رنجیشیں بھلا کر ایک ہی اسٹیج سے ‘ہر ہر مہادیو اور اللہ اکبر’کے نعرے بلد کیے۔معاشی بحران نے اس نفرت کو چند مہنوں میں دفن کر دیا جو سالوں سے سیاست کا ایندھن بنی ہوئی تھے۔لداخ میں دفعہ 370کے خاتمے کے بعد ابتدائی طور پر جشن کا ماحول تھا)جو کہ ایک سیاسی اور جذباتی فتح تھی)،لیکن جلد ہی وہاں کے لوگوں کو احساس ہوا کہ ان کی زمین،نوکریاں اور ماحولیات معاشی طور پر غیر محفوظ ہو رہے ہیں۔آج لداخ کے بدھسٹ اور کارگل کے مسلمان جو تاریخی طور پر ایک دوسرے کے سیاسی حریف رہے ہیں،اپنے معاشی اور آئینی حقوق(Sixth Schedule)کے لیے ایک ساتھ مائنس ڈگری درجہ حرارات میں ہڑتال اور احتجاج کر ررہے ہیں۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھوک کا کوئی مذہب نہیں ہوتا،جب پیٹ خالی ہو تو جذباتی نعرے کھوکلے ہوجاتے ہیں۔
کثرت میںوحدت :۔ ہندوستان کا تانا بانا کثرت میں وحدت(Unity in Diversity)پر قائم ہے۔مہنگائی اور معاشی بحران نے جہاں ایک طرف غریب کونڈھال کیا ہے،وہیں اس نے اکثریت اور اقلیت کے درمیان ایک مشترکہ دردبھی پیدا کر دیا ہے۔ایک ہندو مزدور اور ایک مسلمان ریڑھی والے کے مسائل الگ نہیں ہیں،دونوں کو ایک ہی منڈی سے مہنگی دال خریدنی ہے اور دونوں کے بچے ایک ہی جیسے تاریک مستقبل کا سامنا کر رہے ہیں۔جذبات کا نشہ وقتی ہو سکتا ہے،لیکن معاشی سچائی دائمی ہے۔جیسے جیسے معاشی بحران گہرا ہوگا ،عوام میں یہ شعور بیدار ہوگا کہ ملک کی ترقی نفرت کے بازار گرم کرنے سے نہیں،بلکہ کارخانوں کے چلنے ،نوجوانوں کو روزگار ملنے اور امن و امان قائم رہنے سے ہوگی۔یہ معاشی بحران بھلے ہی تکلیف دہ ہو ،لیکن یہ ہندوستانی عوام کو دوبارہ حقیقی مسائل کی طرف لوٹنے اور سیاست دانوں سے ان کا ‘رپورٹ کارڈ’مانگنے پر مجبور کر رہا ہے۔اور یہی ا س ملک کی جمہوریت کی سب سے بڑی اُمید ہے۔
تصویر منسلک ہے

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے