Breaking
جمعرات. جون 11th, 2026
نہرو کا ریکارڈ ٹوٹ گیا مگر …

نہرو کا ریکارڈ ٹوٹ گیا مگر …

ازقلم:(حافظ)افتخاراحمدقادری

 

ہندوستانی سیاست میں گزشتہ دنوں ایک اہم واقعہ پیش آیا جب وزیر اعظم نریندر مودی نے آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے منتخب وزیر اعظم کے طور پر طویل مدتِ اقتدار کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ بی جے پی اور اس کے حامی حلقوں نے اس موقع کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیا، سوشل میڈیا پر مبارک بادوں کا سلسلہ شروع ہوا، حکومتی حامیوں نے اسے عوامی اعتماد کی سب سے بڑی سند بتایا اور مختلف ذرائع ابلاغ میں اس ریکارڈ پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ لیکن ایک سوال آج بھی کروڑوں ہندوستانیوں کے ذہن میں موجود ہے کہ کیا صرف ریکارڈ توڑ دینا ہی کامیاب حکمرانی کی علامت ہے یا پھر اصل معیار عوام کی زندگیوں میں آنے والی بہتری ہوتی ہے؟ جمہوریت میں اقتدار کی طوالت یقیناً ایک اہم بات ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ اہم یہ ہے کہ اقتدار کے اس طویل سفر میں عوام کو کیا ملا؟ ان کے مسائل کتنے حل ہوئے؟ ان کی زندگی کتنی آسان ہوئی؟ ان کے بچوں کا مستقبل کتنا محفوظ ہوا؟ اور ان کے خوابوں کو کتنی تعبیر ملی؟ اگر یہ سوالات جواب طلب رہ جائیں تو پھر ریکارڈز کی چمک بھی عوامی مشکلات کے اندھیروں کو روشن نہیں کر سکتی۔ آج جب ہم مودی حکومت کے ایک طویل دور اقتدار کو دیکھتے ہیں تو ایک طرف ترقی، ڈیجیٹل انقلاب، عالمی وقار اور بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں کے دعوے سنائی دیتے ہیں لیکن دوسری طرف عوام کی ایک بڑی تعداد روزگار، مہنگائی، کسانوں کے بحران، تعلیمی بدانتظامی اور سماجی بے چینی جیسے مسائل سے بھی دو چار نظر آتی ہے۔ یہی وہ حقائق ہیں جنہیں کسی بھی سنجیدہ تجزیے میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کی معیشت کو دنیا کی تیز رفتار معیشتوں میں شمار کیا جاتا ہے لیکن عام آدمی کی زندگی میں اس ترقی کا عکس ہمیشہ واضح نہیں ہوتا۔ اقتصادی ترقی کے بڑے اعداد و شمار اپنی جگہ اہم ہیں مگر جب نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں دربدر پھرتے ہوں تو ان اعداد و شمار کی چمک ماند پڑ جاتی ہے۔ بے روزگاری آج بھی ہندوستان کے سب سے بڑے مسائل میں شمار ہوتی ہے۔ لاکھوں نوجوان ہر سال تعلیم مکمل کرتے ہیں، سرکاری نوکریوں کے اشتہارات کا انتظار کرتے ہیں اور پھر چند سو آسامیوں کے لیے لاکھوں درخواستیں جمع ہو جاتی ہیں۔ یہ منظر اس بات کا ثبوت ہے کہ روزگار کا بحران ابھی تک پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔ سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں پیپر لیک کے واقعات نے نوجوانوں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایک طالب علم کئی سال محنت کرتا ہے، راتوں کی نیند قربان کرتا ہے، والدین اپنی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں، کوچنگ سینٹروں کے چکر لگائے جاتے ہیں لیکن جب امتحان سے پہلے یا بعد میں پیپر لیک کی خبر سامنے آتی ہے تو صرف ایک امتحان منسوخ نہیں ہوتا بلکہ لاکھوں خواب بھی بکھر جاتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں مختلف ریاستوں اور مختلف امتحانات میں پیپر لیک کے واقعات نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ نوجوانوں کی محنت کا کوئی تحفظ نہیں۔ یہ وہ سوال ہے جو حکومت سے پوچھا جانا چاہیے کہ اگر ملک ڈیجیٹل انقلاب کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے تو پھر امتحانی نظام کو شفاف اور محفوظ بنانے میں اتنی مشکلات کیوں پیش آ رہی ہیں؟ اگر ٹیکنالوجی مالی لین دین کو محفوظ بنا سکتی ہے تو تعلیم اور روزگار کے نظام کو کیوں نہیں؟ اسی طرح کسانوں کا مسئلہ بھی ہندوستانی سیاست کا ایک مستقل زخم بن چکا ہے۔ کسان اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ آج بھی لاکھوں کسان قرض، کم آمدنی، موسمی تباہیوں اور بڑھتی ہوئی لاگت کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ کئی علاقوں سے کسانوں کی خودکشیوں کی خبریں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں۔ ایک کسان جو پورے ملک کے لیے اناج پیدا کرتا ہے اگر وہ خود معاشی پریشانیوں سے نجات حاصل نہ کر سکے تو یہ صرف ایک فرد کا المیہ نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے سوالیہ نشان ہے۔ کسان تحریک نے بھی اس حقیقت کو آشکار کیا کہ زرعی شعبے میں بے چینی موجود ہے۔ لاکھوں کسانوں نے سڑکوں پر آ کر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہوتا ہے، لیکن جب اختلاف اتنا وسیع ہو جائے کہ پورے ملک کی توجہ حاصل کر لے تو اس کے اسباب پر سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ مہنگائی ایک اور ایسا مسئلہ ہے جو براہ راست عوام کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ جب گیس سلنڈر مہنگا ہوتا ہے، جب دال، آٹا، تیل اور سبزیاں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونے لگتی ہیں، جب بچوں کی تعلیم اور علاج کے اخراجات مسلسل بڑھتے ہیں تو عوام کے لیے ترقی کے دعووں پر خوش ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔ معاشی ترقی کا اصل مقصد عام آدمی کی زندگی آسان بنانا ہوتا ہے، اور اگر وہی عام آدمی روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں مشکلات محسوس کرے تو ترقی کے دعووں کا ازسرِ نو جائزہ لینا پڑتا ہے۔
گزشتہ برسوں میں سماجی اور سیاسی تقسیم کے حوالے سے بھی متعدد سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ جمہوریت صرف انتخابات جیتنے کا نام نہیں بلکہ مختلف طبقات، برادریوں اور نظریات کو ساتھ لے کر چلنے کا نام ہے۔ ایک مضبوط حکومت کی اصل کامیابی یہ ہوتی ہے کہ وہ اختلاف رکھنے والوں کو بھی اعتماد میں لے سکے اور ملک کے ہر شہری کو یہ احساس دلا سکے کہ وہ اس قوم کا برابر کا حصہ ہے۔ مودی حکومت کے حامی یہ کہتے ہیں کہ ملک نے عالمی سطح پر نئی شناخت حاصل کی ہے، انفراسٹرکچر میں اضافہ ہوا ہے اور ہندوستان کی بین الاقوامی حیثیت مضبوط ہوئی ہے۔ ان دعووں میں یقیناً کچھ حقیقت موجود ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عالمی سطح کی کامیابیاں داخلی مسائل کا متبادل بن سکتی ہیں؟ کیا عالمی کانفرنسوں کی تصویریں ایک بے روزگار نوجوان کو نوکری فراہم کر سکتی ہیں؟ کیا سفارتی کامیابیاں ایک قرض میں ڈوبے کسان کے آنسو پونچھ سکتی ہیں؟ کیا بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے ایک ایسے طالب علم کی مایوسی دور کر سکتے ہیں جس کا امتحان پیپر لیک کی وجہ سے منسوخ ہو گیا ہو؟ جمہوریت میں حکومتوں کا احتساب اسی لیے ضروری ہوتا ہے تاکہ اقتدار صرف کامیابیوں کی داستان نہ سنائے بلکہ ناکامیوں کا سامنا بھی کرے۔ ریکارڈ ٹوٹنے کی خوشی اپنی جگہ لیکن عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پوچھیں: ہمارے لیے کیا بدلا؟ ہمارے مسائل کیوں برقرار ہیں؟ ہمارے نوجوان کیوں پریشان ہیں؟ ہمارے کسان کیوں بے حال ہیں؟ ہمارے تعلیمی نظام میں خامیاں کیوں موجود ہیں؟ نہرو کا ریکارڈ توڑنا ایک سیاسی کامیابی ہو سکتی ہے، لیکن عوام کے دلوں میں مستقل جگہ بنانے کے لیے صرف ریکارڈ کافی نہیں ہوتے۔ تاریخ صرف اس بات کو یاد نہیں رکھتی کہ کوئی حکمران کتنے عرصے تک اقتدار میں رہا، بلکہ یہ بھی یاد رکھتی ہے کہ اس نے اپنے دور میں عوام کی زندگیوں میں کیا تبدیلی پیدا کی۔ اقتدار کی لمبائی سے زیادہ اہم اس کا معیار ہوتا ہے۔
آج ہندوستان ایک نوجوان ملک ہے۔ اس کے پاس دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں سے ایک موجود ہے۔ یہ نوجوان صرف نعروں سے مطمئن نہیں ہوں گے۔ انہیں روزگار چاہیے، بہتر تعلیم چاہیے، شفاف امتحانی نظام چاہیے، محفوظ مستقبل چاہیے اور ایسے مواقع چاہیے جن کے ذریعے وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کر سکیں۔ اگر یہ خواب پورے نہ ہوئے تو پھر ترقی کے تمام دعوے ادھورے محسوس ہوں گے۔ اسی طرح کسان صرف وعدے نہیں چاہتے بلکہ ایسی پالیسیاں چاہتے ہیں جو ان کی آمدنی میں حقیقی اضافہ کریں۔ متوسط طبقہ صرف اعلانات نہیں چاہتا بلکہ مہنگائی سے نجات چاہتا ہے۔ غریب طبقہ صرف تقاریر نہیں چاہتا بلکہ ایسی معاشی صورتحال چاہتا ہے جس میں اس کی بنیادی ضروریات آسانی سے پوری ہو سکیں۔
لہٰذا آج جب نریندر مودی کے طویل دور اقتدار اور نہرو کے ریکارڈ کے ٹوٹنے پر بحث ہو رہی ہے تو اس بحث کا مرکز صرف سیاسی کامیابی نہیں ہونا چاہیے۔ اصل موضوع یہ ہونا چاہیے کہ ہندوستان کے عوام کی زندگی کتنی بدلی؟ کیا بے روزگاری کم ہوئی؟ کیا کسان خوشحال ہوئے؟ کیا تعلیم کا نظام مضبوط ہوا؟ کیا مہنگائی پر قابو پایا گیا؟ کیا نوجوانوں کے خوابوں کو نئی منزل ملی؟
اگر ان سوالوں کے جوابات تسلی بخش نہیں ہیں تو پھر صرف ریکارڈز پر جشن منانا شاید وقت سے پہلے خوشی منانے کے مترادف ہوگا۔ کیونکہ تاریخ کے صفحات پر صرف اقتدار کے دن نہیں گنے جاتے، وہاں عوام کے دکھ اور سکھ بھی درج ہوتے ہیں۔ وہاں صرف یہ نہیں لکھا جاتا کہ کون کتنے عرصے تک حکمران رہا بلکہ یہ بھی لکھا جاتا ہے کہ اس دور میں عام آدمی کی زندگی کیسی تھی۔ اسی لیے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ریکارڈ ٹوٹنے کے شور میں عوامی مسائل کی آواز دبنے نہ پائے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، ریکارڈ بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں، لیکن ایک قوم کی اصل طاقت اس کے خوشحال عوام ہوتے ہیں۔ اگر عوام مطمئن نہیں، نوجوان پریشان ہیں، کسان بے حال ہیں اور عام آدمی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے تو پھر اقتدار کی طوالت اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔ تاریخ آخرکار یہی سوال پوچھتی ہے کہ آپ کتنے دن اقتدار میں رہے یہ اہم نہیں آپ نے ان دنوں میں عوام کے لیے کیا کیا؟ اصل سوال یہ ہے۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے