مدھیہ پر دیش میں فی الحال بی جے پی کی ایک ایسی نااہل حکومت برسرِ اقتدار ہے جو پہلے تو لوگوں کو پینے صاف پانی نہیں دے پارہی تھی اور اب تو گندہ پانی بھی غائب ہوگیا ایسے میں وہ کام کرنے کے بجائے نام بدلنے کی سیاست کررہی ہے۔ اس سال کے پہلے دن اندور سے 13؍لوگوں کے آلودہ پانی سے موت کی خبر آئی اور بیمار ہونے والے تو بے شمار میں ایک ہزار سے زیادہ اسپتالوں میں داخل تھے ۔ اس بابت بی جے پی رہنما نے سوال کرنے پر کہا تھا ’بکواس سوال نہ کرو‘ لیکن اگر اس سے پوچھا جاتا کہ برکت اللہ یونیورسٹی کا نام کیوں بدلا جارہا ہے تووہ واگ دیوی بھجن کرنے لگتا۔ اندور کو ہندوستان کا بہترین شہر مانا جاتا ہے مگر وہاں پچھلے ماہ لوگوں کو پانی کے لیے چلچلاتی دھوپ میں سڑکوں پر لیٹ کر احتجاج کرنا پڑا۔بی جے پی انتظامیہ نے سکھلیا محلے میں پانی فراہم کرنے کے بجائے مقامی کانگریسی رہنما ببو یادو کے ذریعہ سپلائی کیے جانے والے بارہ سال سے جاری پائپ لائن کو بند کردیا ۔ انتظامیہ مظاہرین کو ہٹانے کے پانی کے ٹینکر لائےگئے تو وہ بولے اس کی بوچھار سے مارنے کے بجائے یہ ہمیں پینے کے لیے دے دو۔ افسوس کہ اپنا کام کرنے کے بجائے ایسی ناکارہ سرکار برکت اللہ یونیورسٹی کا نام بدلنا چاہتی ہے۔
مولانا برکت اللہ کو لوگ بھول گئے تھے مگر ان سےمنسوب یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کی تجویز کے تنازع نے ایک عظیم شخصیت کو پھر سے موضوعِ بحث بنا کر ہندوتوانوازوں کی منافقت کو اجاگر کرنے کا ایک نادر موقع بھی عنایت کردیا ہے ۔ اس لیے اسے بی جے پی کی مسلمانوں دشمنی تک محدود رکھنے کے بجائے مولانابرکت اللہ جیسےعظیم مجاہد آزادی کے تئیں ہندوتونوازوں کے حسد اورکینہ پروری کو بھی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔یہ ان کا احساسِ کمتری ہے کہ آر ایس ایس اس سال اپنی ایک صدی پوری کرنے کے باوجود مولانا برکت اللہ جیسا ایک جیالا پیدا نہیں کرسکی۔ اس کے دس سال قبل جنم لینے والی ہندو مہا سبھا کے پاس بھی ایسا کوئی سپوت نہیں ہے جس کامولانا برکت اللہ کی عظیم شخصیت اور ان کے کارناموں سےموازنہ کیا جاسکے ۔ یہی احساسِ جرم ان لوگوں سے ایسی اوچھی حرکت کرواتا ہے اور انہیں ذلت و رسوائی کے اندھیروں میں ڈھکیل دیتا ہے ۔
مولانا برکت اللہ ہندوستان کی پہلی جلاوطن حکومت کے وزیراعظم تھے اور پوری زندگی برطانوی نو آبادیاتی نظام کےخلاف لڑتے رہے۔ اس کے برعکس بی جے پی کے پہلے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی پر انگریزوں کے لیےمخبری کا الزام لگا اور ساورکر نے تو برطانوی سامراج سے معافی مانگ کر اپنی تاحیات وفاداری کا یقین دلا دیا۔ برطانوی سامراج کے زمانے میں ہندو مہا سبھا وزیر اعظم تو دوراپنا وزیر اعلیٰ بھی نہیں بناسکی ۔وہ بنگال اور سندھ کی مسلم لیگ حکومتوں میں وزیر بن کر اقتدار کا مزہ لوٹتی رہی۔مولانا برکت اللہ کو سب سے خطرناک مجاہد آزادی کا الزام لگا کربرطانیہ سے نکالا گیا جبکہ ونایک ساورکر عصمت دری کے الزام میں برطانیہ سے فرار ہوئے ۔مولانا برکت اللہ نے آزادی کے لیےجاپان، امریکہ، ترکی، افغانستان ،روس اور جرمنی کا دورہ کیا جبکہ ہندوتوانواز مونجے اٹلی کے فسطائی رہنما مسولینی سے ملے جن کوخود اطالوی عوام نے قتل کردیا اور ہٹلر کو اپنے لیے نمونہ بنایا جس نے آگے چل کر خودکشی کرلی۔ اسی لیےایک ’فریڈم فائٹر‘ سے’ فریڈم ٹریٹرز(غداروں)‘ کو شرم آتی ہے اور مولانا برکت اللہ سے جلتا ہے۔
ہندوستان کے پہلے اور حالیہ وزیر اعظم کا موازنہ دلچسپ ہے۔ محمد برکت اللہ بھوپالی کے تعلیمی سلسلہ کا آغاز بھوپال کے ایک مدرسے سے ہو ۔ اس کے بعد وہ جبل پور سے ہوتے ہوئے ممبئی آئے اور پھر 1890ء میں لندن پہنچ گئے۔ ان کے پاس مودی جی کی مانند کوئی جعلی ڈگری نہیں تھی جس کو چھپایا جاتا ہے۔ وہ ۷؍زبانوں کے ماہر تھے جبکہ موجودہ وزیر اعظم تو ٹیلی پرامپٹر کے بغیر انگریزی میں شکریہ تک ادا نہیں کرسکتے۔ 1897ء میں انہوں لندن میں مسلم پیٹرارٹک(حب الوطن ) لیگ کے جلسے میں شرکت سے اپنی آزادی کی جدجہد شروع کی تو خوفزدہ برطانوی حکومت نے انہیں ملک بدر کردیا۔ اس کے بعد وہ امریکہ گئے اور 1905ء میں استنبول آگئے ۔ اسی سال انہوں نے ’مکمل خودمختاری‘ کا نعرہ دیا۔ کانگریس نے 24سال بعد 1929 میں اسے منظور کیا۔ ترکی میں ڈیڑھ سال گزارنے کے بعد۹؍سال جاپان میں درس و تدریس کا کام کیا ۔ وہاں ’اسلامک فٹرنیٹی ‘نامی اخبار نکالا تو انگریزوں نے جاپانی حکمرانوں کی مدد سے اسے بند کروایااس کے باوجود وہ انہوں نے جاپانی حکام سے ہندوستان کی آزادی میں تعاون کے لیے ماقات کی ۔
برطانوی حکام کے دباؤ میں ملازمت سے بھی دستبردار کیے گئے تو 1912ء میں پیرس پہنچ کر ’الانقلاب ‘اخبار جاری کیا۔ ہندوتوانواز بزدلوں کے پاس ایسی کوئی انقلابی شخصیت ہوتو بتائیں؟13 مارچ 1913 ء کو غدر پارٹی بنی تو اس کے بانی ارکان میں سوہن سنگھ اورلالہ ہردیال کے ساتھ مولانا برکت اللہ پیش پیش تھے۔ اس کا بنیادی مقصد مسلح جدوجہد کے ذریعے برطانوی اقتدار کا تختہ پلٹ کر ہندوستان کی آزادی تھا۔آگے چل بھگت سنگھ اور سبھاش چندر بوس نے اس سے ترغیب لی۔ غدر پارٹی نے امریکہ مظلومین کےلیے بھی آواز اٹھائی تو 1914ء میں وہاں سے ملک بدر کیے گئے ۔وہاں جرمنی آ کر ہندوستانی انقلابیوں کی برلن کمیٹی کے رکن بن گئےا ورجرمن حکمرانوں سے ہندوستان کی مسلح جنگ آزادی میں تعاون کی یقین دہانی حاصل کی اور حکومت جرمنی کی ایما پر انڈو جرمن وفد کے ہمراہ استنبول میں انور پاشا سے ملاقات کی ۔
1915ء میں کابل کے اندر عارضی آزاد ہند حکومت کا قائم ہوئی تو اس کے صدر راجہ مہندر پرتاپ سنگھ، وزیر اعظم مولانا برکت اللہ بھوپالی اور وزیر داخلہ مولانا عبیداللہ سندھی مقرر ہوئے۔ پہلی عالمی جنگ کے سبب یہ لوگ انگریزی حکومت پر حملہ کرکے ہندوستان کو آزاد نہیں کرا سکے۔روسی انقلاب کے بعد افغانستان کے شاہ امیر امان اللہ خاں نے انہیں اپنا سفیربناکر ماسکو بھیجا، جہاںوہ راجہ مہندر پرتاپ کے ساتھ لینن سے ملے اور انہیں بتایا کہ اگر برطانوی سامراج سے ہندوستان آزاد ہوجائے تو اس کی کمر ٹوٹ جائے گی ۔ انڈین نیشنل پارٹی کے فعال رکن بن کرہندوستان کی آزادی کے لیے عالمی رائے عامہ کی حمایت حاصل کرنے کے لیےانہوں نے یورپی ممالک کا دورہ کیااور1921ء میں دوبارہ روس جاکر لینن سے ملاقات کی۔ 1922ء میں جرمنی آئے اور 1925ء میں برلن کی انڈین انڈیپنڈس پارٹی کے صدرمنتخب ہوے۔ فروری 7192ء میں بروسیلز میں سامراج مخالف عالمی کانفرنس میں غدر پارٹی کے نمائندے کی حیثیت سے پنڈت جواہر لعل نہرو سے ملے جو ہندوستان سے وہاں گئے تھے۔ دنیا بھر کا دورہ کرنے والے برکت اللہ کا نام مودی کی طرح کسی ایپسٹین فائل میں نہیں آیا۔
وطن عزیز کی آزادی کی خاطر اپنا گھر بار، وطن کو چھوڑ کر پوری دنیا کی خاک چھاننے والے عظیم مجاہد آزادی کے نام پر بھوپال یونیورسٹی کو 1988 میں ان سے منسوب کیاگیا ۔ آج اسے بدلنے کی مذموم کوشش کرنے والےپوچھ رہے ہیں کہ مولانا نے بھوپال کے لیے کیا کیا؟ وہ تو باہر تھے لیکن کسی میلونی کے ساتھ سیلفی نہیں نکال رہےتھے بلکہ ہندوستان کی آزادی کے لیے لڑرہے تھےتو کیا بھوپال ہندوستان میں نہیں تھا؟ مولانا برکت اللہ بھوپالی نے موت کے وقت کہا تھا، ’’میں پوری زندگی خلوص کے ساتھ اپنے مادر وطن کی آزادی کی خاطر جنگ لڑتا رہا۔ خوش قسمتی سےمیری زندگی میرے پیارے ملک کے لیے کام آئی۔ مگر افسوس کہ میں زندگی میں کامیاب نہیں ہوسکا، لیکن مجھے اطمینان ہے کہ آج لاکھوں لوگ میرے ملک کو آزادی دلانے کے لیے آگے آئے ہیں، جو سچے ہیں، بہادر ہیں اور جان پر کھیلنے والے ہیں اور اطمینان کے ساتھ میں اپنے ملک کی تقدیر ان کے حوالے کر کے جا رہا ہوں‘‘۔ بدقسمتی سے فی الحال مدھیہ پردیش میں انگریز نواز سندھیا خاندان کے وارث کو وزیر بنانے والے برسرِ اقتدارہوکر نام بدلنا چاہتے ہیں۔
مولانا برکت اللہ کے بارے میں کہا جارہا وہ بھوپال میں پیدا تو ہوئے مگرباہر چلے گئے شہر کے لیے کچھ نہیں کیا اس لیے یونیورسٹی کا نام واگ دیوی یونیورسٹی رکھ دیا جائے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا واگ دیوی بھوپال میں پیدا ہوئی تھیں اور انہوں نے شہر کے لیے کیا کیا؟ دیوی دیوتاوں کو چھوڑیں تو یہ لوگ راجہ بھوج کے نام پر بھوپال کا نام بھوجپال رکھنا چاہتے ہیں۔ راجہ بھوج بھی چونکہ دھار کے تھے اس لیے بھوپال کو ان سے کیوں منسوب کیا جائے ؟ 2021 میں حبیب گنج ریلوے اسٹیشن کا نام بدل کر رانی کملاپتی کر دیا گیاجبکہ وہ گونڈ راجکماری تھیں۔ انہوں نےتو بھوپال کے لیے کچھ بھی نہیں کیا تھا۔ بھوپال کی آخری حکمران بیگم سلطان جہاں کے بڑے بیٹے نصراللہ خان نے ریلوے اسٹیشن کی تعمیر کے لیے زمین عطیہ کی تھی مگر اس پر بنے ریلوے اسٹیشن کا نام بدل گیا۔ایوانِ اسمبلی کی عمارت کو کشابھاؤ ٹھاکرے سے منسوب کرنے والے بتائیں کہ موصوف نے کون سا کارنامہ انجام دیا تھا۔ مغل سرائےکودین دیال اپادھیائے کا نام دیا گیاجبکہ وہ نہ تو وہاں پیدا ہوئے اور نہ اس کے لیے کچھ کیا۔ ان کی لاش وہاں ملی تھی مگراس قتل سنگھیوں کی آپسی رنجش کہا جاتاہے۔ مودی جی نے خود اپنے محسن ولبھ بھائی پٹیل کے نام سے منسوب کرکٹ گراونڈ کو اپنے نام کرلیا ہے۔ اس لیے ملک میں اب ناموں کی تبدیلی ایک بے بنیاد سیاسی تماشا ہے۔