Breaking
منگل. جون 9th, 2026

معاشی میدان : کہاں منموہن سنگھ اور کہاں نریندر مودی؟

معاشی میدان : کہاں منموہن سنگھ اور کہاں نریندر مودی؟

معاشی میدان : کہاں منموہن سنگھ اور کہاں نریندر مودی؟

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

قومی سطح پر جو معاشی بدحالی کے لیے مودی سرکار کے ذریعہ پرانی حکومتوں خاص طور پر منموہن سرکار کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس لیے معیشت کے میدان میں اس حکومت کی کارکردگی کا گزشتہ حکومت سے موازنہ ضروری ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کی روشنی میں ان دعووں کی قلعی بہ آسانی کھولی جاسکتی ہے ۔ 2013 میں سارے مسائل کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی نے ڈاکٹر منموہن سنگھ پر شدید بدعنوانی کے الزامات لگائے اور ’اچھے دن آنے والے ہیں‘ کا نعرہ لگا کر اقتدار پر فائز ہوگئے ۔ وقت کے ساتھ بی جے پی کے زمانے میں ملک کی عدالتوں کے اندر وہ دعوے نہیں ٹِک سکے اور منموہن سنگھ کو سارے معاملات میں کلین چٹ مل گئی۔ اس طرح پہلا الزام تو غلط ثابت ہوگیا ۔مودی حکومت کے حمایت یافتہ پینل نے معروف ماہرِ اقتصادیات سُدیپتو منڈل کی قیادت میں ایک ہوش اڑانے والی رپورٹ تیار کی تھی جسے حکومت نے خود اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیاتھا۔ اس رپورٹ کے مطابق ملک کے 2010-11 میں ریکارڈ 10.8 فیصد ترقی کی تھی۔ اس میں پرانی سیریز (2004-05) اور 2011-12 کی قیمتوں پر مبنی نئی سیریز کے درمیان ترقی کی شرحوں کا موازنہ بھی کیا گیا تھا لیکن چونکہ وہ اعدادو شمار حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرتے تھے اس لیے اس کا اسقاطِ حمل کرادیا گیا۔
ڈاکٹر منموہن سنگھ کے نام نہاد برے دنوں کے مقابلے مودی جی کے اچھے دن عام لوگوں پر کس طرح اثر انداز ہوا یہ دیکھنا ضروری ہےتا کہ معلوم ہوسکے کب عوام کا کتنا بھلا اور کتنا نقصان ہوا؟ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے 10 برسوں یعنی 2004 تا14 کے اعداد ملاحظہ فرمائیں ۔ 2004 میں ہندوستان کا جی ڈی پی 58.05 لاکھ کروڑ روپیہ تھا اس طرح فی کس آمدنی 51,074/ روپئے تھی۔ 2014 میں ملک کی جی ڈی پی 173.69 لاکھ کروڑ پر پہنچی اور فی کس آمدنی1,27,686 روپئے ہوگئی ۔ یعنی 2004 سے 2014 کے درمیان جی ڈی پی میں 299.20% اضافہ ہوا نیز ان دس سالوں میں فی کس آمدنی کا اضافہ 250% تھا۔ان اعدادو شمار کو پیش نظر رکھ کر 2014 سے 2023 کے دس سالوں میں مودی حکومت کی کارکردگی دیکھیں ۔ہندوستان کا جی ڈی پی جو 272.41 لاکھ کروڑ تھا اس میں 2014 سے 2024 کے دوران صرف 56.83% کا اضافہ ہوا۔یعنی جہاں 2004 سے 2014 کے دوران جی ڈی پی میں اضافہ کی شرح 299.20% تھی وہ گھٹ کر56.83 % پر آگئی ۔ اس سے قومی سطح پر جی ڈی پی کی نمو میں کمی کا پتہ چلتا ہے ۔ اسی طرح منموہن سنگھ کے زمانے میں جو فی کس آمدنی میں اضافے کی شرح 250% تھی وہ گھٹ کر 34.52% پر آگئی یعنی انفرادی جھٹکا اجتماعی سے بھی بڑا تھا۔
یہ کون سے قوم پرستی اور اچھے دن ہیں کہ جس میں قومی معیشت کے ساتھ فی کس آمدنی کی شرح بھی کئی گنا گھٹ جائے؟ مودی جی نے وزیر اعلیٰ کے طور ڈالر کے مقابلے روپیہ کی قیمت پر خوب طنز کسا تھا مثلاً وزیراعظم کی عمر اور ڈالر کی قیمت میں مسابقہ چل رہا ہے کہ کون کتنا بڑھتا ہے ؟ خود مودی کے زمانے میں پہلے دس سالوں کے دوران روپیہ 52% گرا، جبکہ UPA حکومت کے دوران یہ کمی صرف 33% تھی۔ مودی کہا کرتے تھے روپیہ کی قیمت کی گراوٹ دراصل قو می وقار گرنے کے مترادف ہے لیکن فی الحال وہ سنچری کے دہانے پر پہنچ گیا ہے اور وزیر خزانہ اسے فائدے کا سودہ بتا رہی ہیں ۔ اس طرح گویا وقار کا گرنا فائدے کا سودہ ہوگیا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے ’میک ان انڈیا‘ کا کاغذی شیر کھڑا کیا تھا مگر وہ فی الحال نہ جانے کس بِل میں چھپ کر بیٹھ گیا ہے۔ آج کل گھریلو صنعتیں یکے بعد دیگرے بند ہورہی ہیں اور چینی بر آمدات میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ہم اپنے نوجوانوں کو بیروزگار کرکے اسی چین کا مال زور و شور سے خریدرہے ہیں جو کبھی گلوان میں حملہ کردیتا تو کبھی اروناچل پردیش میں ہندوستانی سرزمین پر تعمیرات کرنے لگتا ہے۔ فی الحال چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ $100 بلین ہے ۔ مودی جی نے جب اقتدار سنبھالایعنی 2013-14 میں یہ تجارتی خسارہ صرف $31 بلین تھا۔ یہ تین گنا سے زیادہ کا اضافہ نہ صرف دشمن کو تقویت پہنچاتا ہے بلکہ اپنوں کو بیروزگار بھی کرتا ہے۔
قومی معیشت کی مضبوطی کو ناپنے کا ایک معیار اس پر قرض کا بوجھ بھی ہے۔ فی الحال ہندوستان پر کل قرض 205 لاکھ کروڑ روپئے ہے جوجی ڈی پی کا 60% بنتا ہے۔2014 میں جب ڈاکٹرمنموہن سنگھ نےمودی جی کواقتدار سونپا تھا توان کی حکومت پر کل قرض 55.87 لاکھ کروڑ روپئے تھا یعنی GDP کا صرف 32.16% ۔ اس کا مطلب ہے کہ قرض بازاری میں بھی مودی جی کا اضافہ ڈاکٹر منموہن کے مقابلے لگ بھگ 2.77 گنا زیادہ ہے۔ملک کی معیشت جسے مودی جی تیسرے نمبر پر لے جانا چاہتے تھے پچھلے ہفتے کھسک کر چوتھے سے چھٹے نمبر پر آچکی ہے اس سے بے نیازان کی سیاسی جماعت دنیا بھر میں اول مقام پر فائز ہے ۔ اس نے دن دونی اور رات چوگنی ترقی کرتے ہوئے اپنی آمدنی میں خوب اضافہ کیا ۔ مودی کے دور میں قومی معیشت کے سست روی کا تو اوپر ذکر ہوچکا اب بی جے پی کی تیز رفتاری بھی ملاحظہ فرمائیں۔ بی جے پی کی آمدنی 2014–15 میں 970 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2023–24 میں 4,340 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی یعنی %450کا غیر معمولی اضافہ ہوا۔ کاش کے عام لوگوں کے ساتھ بھی ہوتا یا سرکاری خزانے میں ہی اتنی رقم بڑھ جاتی تو کچھ نہ کچھ اچھے دن آہی جاتے ۔
مودی جی پوری قوم کو برے دنوں سے ڈرا کر سونا نہ خریدنے سے لے کر تیل تک کااستعمال کم کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں مگر پارٹی کی آمدنی میں 2024–25 کے اندر بھی خوب اضافہ ہوا اور وہ 6,088 کروڑ روپے ہوگئی ۔اگر یہی پارٹی کے فائدے پر قومی مفاد کو ترجیح دینا ہے تو ایسی منافقت پر لعنت ہو۔ 20؍ جنوری 2026 کو منظر عام پر آنے والے ایک جائزے کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں، بھارتیہ جنتا پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں آمدنی اور اخراجات کے اندر چار گنا سے زیادہ کا اضافہ کیا ۔ یہ حزب اختلاف کاالزام نہیں بلکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا میں جمع کرائی گئی بی جے پی کی سالانہ آمدنی اور اخراجات کی رپورٹس کے تجزیے کا خلاصہ ہے۔ 2014–15 میں پارٹی کی آمدنی 970 کروڑ روپے سے زائد اور اخراجات 913 کروڑ روپے سے زائد تھے۔یہ رقم 2023–24 میں بڑھ کر 4,340 کروڑ روپے سے زائد ہو گئی، اور پارٹی نے انکشاف کیا کہ پوری رقم اسی سال خرچ کر دی گئی، کیونکہ یہ دولت لوک سبھا کے عام انتخابات اور بعد ازاں ہریانہ اسمبلی انتخابات میں استعمال ہوئی تھی۔
حیرت انگیز بات یہ ہے اس قدر رقم خرچ کرنے کے بعد بھی بی جے پی چار سو پار کا سپنا ساکار نہیں کرسکی۔ ساری چوری چکاری کے باوجود اس کا نہ صرف ووٹ فیصد گھٹا بلکہ وہ 303 نشستوں سے گھٹ کر 240 پر آگئی یعنی اسے 63 نشستوں کا نقصان ہوا ۔اس متحدہ قومی محاذ بھی 293 پر سمٹ گیا اوراسے60 نشستوں کا خسارہ ہوا۔ اس کا مطلب ہے کہ عوام میں تو اس کی مقبولیت کم ہوئی مگر سرمایہ دار اس کی محبت کے جنون میں مبتلا ہوگئے۔ انہوں نے سال 2024–25 میں بھی بی جے پی کی آمدنی بڑھاتے ہوئے اس پر عطیات کی مد میں 6,088 کروڑ روپے نچھاور کیے۔ اس طرح یہ ثابت ہوگیا بی جے پی عوام کی نہیں سرمایہ داروں کی جماعت ہے ۔ اسی لیے عوامی فلاح پر خواص کے مفادات کو ترجیح دیتی ہے۔ واضح اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آنے سے ایک سال قبل، بی جے پی نے 309 کروڑ روپے سے زائد آمدنی ظاہر کی تھی۔ اس کے بعد 2015–16 کے 570 کروڑ روپے اور2020–21 کے 752 کروڑ روپے کو چھوڑ دیا جائے تو اس میں مسلسل اضافہ نظر آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ الیکشن سے قبل غیر معمولی بڑھوتری اور اس کے بعد والے سال میں کمی ۔ ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی نے پیشگی رقم وصول کرکے الیکشن لڑا اور پھر اگلے سال اپنے معاونین کو سہولت دے دی۔
پچھلے انتخاب میں اگر بی جے پی چار سو پار ہوجاتی تو ممکن ہے 2024–25 میں یہ آمدنی کم ہو جاتی لیکن صوبائی انتخابات جیت کر اپنی کھوئی ساکھ بچانے کے چکر میں بی جے پی نے حسب سابق کی آمدنی کم کرنے کے بجائے اور بڑھا دی ۔ اس طرح 6,088 کروڑ روپے جمع کرلیے ۔ وزیر اعظم پوری قوم سے خرچ کم کرنے کی توقع کرتے ہیں مگر اپنی پارٹی کے خزانے سے ایک نیا پیسہ قومی خزانے میں نہیں ڈالتے کیونکہ ان کے نزدیک قومی معیشت بعد میں اور اقتدار پر فائز رہنا پہلے ہے۔ مالی سال 2013–14 میں بی جے پی کو 673 کروڑ میں نصف سے بھی کم، یعنی 328 کروڑ روپے خرچ کیے تھے لیکن اب پورا کے پورا لٹا دیا گیا تاکہ کسی طرح زیادہ سے زیادہ صوبوں میں کمل کھلا کر خود کو ناقابلِ تسخیر ثابت کیا جائے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے