دھرمیندر پردھان : بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے ؟

دھرمیندر پردھان : بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے ؟

دھرمیندر پردھان :
بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے ؟

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو بالآخر ذلیل ہوکر جانا پڑا لیکن وہ جاتے جاتے اپنے پورے سنگھ پریوار کو رسوا کرگئے لیکن یہ ان کی غلطی نہیں ہے۔ یہ دراصل پردھان کو پناہ دینے والے مودی اور شاہ کی ذلت ہے۔ اس موقع پر موجودہ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور اس وقت کے وزیر داخلہ کا ایک جملہ یاد آتا ہے ۔ یہ24؍ جون 2015 کی بات ہے ۔ اس وقت بطور وزیر داخلہ ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے اکڑ کر کہا تھاکہ "ہمارے یہاں وزراء کے استعفے نہیں ہوتے” ۔اس وقت کانگریس للت مودی تنازعہ اور دیگر معاملات کو لے کر سشما سوراج اور وسندھرا راجے کے استعفوں کا مطالبہ کر رہی تھی تو اس کے جواب میں راج ناتھ سنگھ نے صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا، "نہیں نہیں، اس پر وزراء کے استعفے نہیں ہوتے بھائی، یہ یو پی اے (UPA) نہیں، این ڈی اے (NDA) کی حکومت ہے”۔ اچھا تو جناب اب دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ہوگیا تو کس کی حکومت ہے؟ اپنے وزیر داخلہ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ۔ سابق وزیر قانون روی شنکر پرساد نے فوراً یہ جوڑاتھا کہ ہمارے وزراء وہ کام نہیں کرتے جو یو پی اے حکومت کے وزراء کیا کرتے تھے۔ اس منطق ثابت ہوگیا دھرمیندر نے تو وہ کیا جس کا الزام وہ یو پی اے پر لگاتے تھے۔
جون 2026 میں جب کانگریس نے ‘آپریشن سندور’ کے دوران ہلاک ہونے والے فوجیوں کے معاملے پر خود راج ناتھ سنگھ سے استعفیٰ مانگا، تو سوشل میڈیا پر موصوف کا وہی پرانا بیان پھر سے گردش کرنے لگا ۔ ابھی تین دن قبل جنتر منتر میں احتجاج کے حوالے سے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا "یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ کچھ لوگ اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے ہمارے طلبہ اور نوجوانوں کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہماری حکومت نوجوانوں کی امنگوں کو پورا کرنے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔” اتنا بڑا الزام لگانے والے راج ناتھ سنگھ کے بیان کو سن کر ان نوجوانوں کے دل پر کیا گزری ہوگی جن پر پولس اور سنگھ کے غنڈوں کے تشدد کا پہاڑ توڑا تھا ان کی ہمدردی میں راجناتھ سنگھ کی زبان سے ایک لفظ نہیں نکلا ۔ رجناتھ یہ بھی کہا تھا کہ "ہمارے طلبہ کے ہر خدشے کو سننا اور اس کا ازالہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ مجھے کامل یقین ہے کہ بھارت کے باشعور، بالغ فکر اور صاحبِ بصیرت نوجوان ایسے گمراہ کن ہتھکنڈوں کو بخوبی سمجھتے ہیں اور وہ ترقی، خوشحالی اور قوم کی تعمیر کے راستے ہی کا انتخاب کریں گے۔” لیکن اس کے بعد مودی جی ٹویٹ اور ویڈیو کی نوٹنکی کرنے میں مصروف ہوگئے۔ امیت شاہ مظاہرین کو این ایس اے سے ڈراتے رہے لیکن کسی ایک نہ چلی دھریندر کو استعفی دینا پڑا جن پر غالب کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے
پچھلے ہفتے وزیرِ اعظم مودی نےایک ٹویٹ کیا کردیا کہ اس کے بعد ان کے حواریوں کی تائید کا تانتا لگ گیا ۔ وزیر داخلہ سے لے کر وزیر انصاف تک ہر کوئی وزیر اعظم کو سراہنے لگا ۔ ایسا لگتا ہے ان سب کو اپنے رہنما کے جاگنے کا انتظار تھا ۔ وہ جیسے ہی بیدار ہوئے یہ بھجن منڈلی مودی جی کی قصیدہ خوانی میں مصروف ہوگئی اور جو مشہور لوگ مودی جی کے خوف سے دُم دبا کربیٹھے تھے ان کی زبان کے قفل بھی کھل گئے۔ ایک کے بعد ایک بیانات کی جھڑی لگ گئی لیکن جب ان کا جنتر منتر کے مظاہرین پر کوئی اثر نہیں ہوا تو کسی نے مودی جی کو یہ احمقانہ مشورہ دے دیا کہ وہ بھی نوجوانوں کی مانند موبائل پر آکر اپنا بیان شوٹ کرکے ویڈیو اپلوڈ کریں ۔ اس احمقانہ مشورے نے ساراکھیل بگاڑ دیا۔ وہ اگر اپنی میڈیا ٹیم کی مدد سے ویڈیو بنواتے تو پہلے پریکٹس ہوتی ، پھر میک اپ ہوتا۔ ٹیلی پرامپٹرپر بیان چلتا اسے کئی بار کٹ کرکے ایڈٹنگ اور پھر لوگوں تک پہنچتا تو رنگ جمتا مگر ایسا نہیں ہوا۔ کلوز اپ نے مودی کے چہرے کی جھریوں کو ظاہر کرکے ان کی عمر کئی سال بڑھا دی۔ آواز میں جوش و خروش کے فقدان نے رہی سہی کسر پوری کردی اور احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو احساس دلا دیا کہ صرف دھرمیندر پردھان کو ہٹانے سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس کے آقا نریندر مودی کو بھی ہٹانا ہی پڑے گا۔
ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دھرمیندر پردھان کوکیوں بچایا جارہا ہےبلکہ اسے وزیر تعلیم کے عہدے پر فائز ہی کیوں گیا ؟ اور اس کو ہٹانے میں دقت کیا ہے؟ دراصل یہ پردھان جی 1994 سے 1997 کے درمیان دو مرتبہ آر ایس ایس کی طلبا تنظیم اے بی وی پی کے قومی سیکریٹری رہ چکے ہیں اس طرح وہ بی جے پی میں شامل ہونے سے پہلے ملک بھر میں سنگھی طلبہ تحریکوں کی قیادت کرچکےہیں ۔ ان کے بارے یہ خوش فہمی پائی جاتی ہے کہ وہ طلبہ کی نفسیات سے واقف ہیں ۔ یہ غلط فہمی بھی تھی کہ وہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کے لیے آگے بڑھتے تھے لیکن یہ تیس سال پرانی بات ہے جب انہوں نے اقتدار کا مزہ نہیں چکھا تھا ۔ اب تو یہ حالت ہے اپنے خلاف احتجاج کرنے والے طلبا انہیں دہشت گرد نظر آتے ہیں۔ ان کی کرسی بچانے کے لیے کیا جانے والا جبر و تشدد بھی ان کا دل نہیں پگھلاتا اور وہ اپنی کرسی سے فیویکول لگا کر چپکے ہوئے ہیں۔ اس احتجاج کے دوران بے شمار طلبا کو اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ ایک 21 سالہ خاتون تو وینٹی لیٹرپر چلی گئی۔ پولیس کے ساتھ سنگھ کے غنڈے بھی سرکاری تحفظ میں تشدد کرتے نظر آئے ۔ لڑکوں لڑکیوں کے ساتھ کھلے عام دہلی کےسڑکوں پرناقابلِ یقین ظلم ہوا ۔ اس کے باوجود اپنے ماضی کو بھول کر دھرمیندر پردھان اپنے عہدے پر بے شرمی سے براجمان ہے۔
بی جے پی نے جب تک رام مندر کی تحریک چلاکر اس پر نفرت انگیزی اور سیاسی روٹیاں سینکنے کا کاروبار نہیں شروع کیا تھا تو ملک میں دسہرا سے قبل دس دنوں تک رام لیلا ہوتی تھی۔ اس سے متعلق ایک کہانی میں ایک شخص راون کا کردار ادا کرنے کے لیے آتا ہے اور منتخب ہوجانے کے بعد دسہرا کمیٹی کے دفتر میں تیاری شروع کردیتا ہے۔کمیٹی کے لوگ اس سے پوچھتے ہیں آپ تو یہاں کے سارے انتظامات جانتے ہیں مگر ہم نے آپ کوکبھی نہیں دیکھا تو وہ جواب دیتا ہے تیس سال پہلے جب تم لوگ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اسکول جایا کرتے تھے میں رام لیلا میں رام کا کردار کیا کرتا تھا مگر گردشِ زمانہ نے مجھے راون بنادیا ۔ دھرمیندر پردھان کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اقتدار کے نشے نے اس کو رام سے راون بنادیا ۔ اس لیے کاکروچ پارٹی کے لوگ اب اس کا پتلا جلارہے ہیں تاکہ وہ کرسی چھوڑ کر جائے۔ مودی سرکاراگر اس کو بچانے کی کوشش کرتی رہی تو حکومت کو جانا ہوگا ۔ یہ معاملہ آگے بڑھے گا اور اس بار دسہرا میں اس ملک کے نوجوان آر ایس ایس کا پتلا جلا کر خاک کردیں گے ۔ اترپردیش سمیت ملک کے کئی حصوں میں سنگھ کے دفاتر کو گھیرا جارہا ہے۔ ناگپور میں سنگھ کے مرکزی دفتر کے باہر بھی مظاہرہ ہوچکا ہے۔ راون علم اور حربی وسائل کے باوجود اپنے آہنکار(رعونت) کے سبب مارا گیا تھا اور مودی سرکار کو بھی اس کا غرور و تکبر لے ڈوبے گا ۔ کاکروچ اسے چبا کر کھاجائیں گے۔
راون کا بھائی کمبھ کرن ۶؍ ماہ سونے کے بعد ۶؍ ماہ کے لیے جاگ جاتا تھا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی بارہ سالہ شب خوابی نے رزمیہ داستان رامائن کے کمبھ کرن کا ریکارڈ توڑ کر سری لنکا کے ساحل پر بحر ہند میں پھینک دیا۔ مودی جی نے اپنی میٹھی نیند سے بیدار ہوکر ایک ٹویٹ کیا اور ۶؍ منٹ بعد پھر خوابِ خرگوش میں مبتلا ہوکر یہ سپنے دیکھنے لگے کہ سی جے پی کے رہنما ان کے پیغام کو دیکھ کر خوشی سے جھوم اٹھیں گے ۔ وہ ان کا شکریہ ادا کرکے اپنا احتجاج ختم کردیں گے اور چہار جانب خوشی کے شادیانے بجنے لگیں گے ۔ یہ احتجاج اگر آر ایس ایس کی طلبا تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کا ہوتا تو ایسا ہی ہوتا مگر وزیر اعظم بھول گئے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے پرچم تلے یہ احتجاج ہورہا ہے جنھیں وزیر تعلیم دہشت گردوں کی ’بی‘ ٹیم قرار دے چکے ہیں۔ ان کو’ہِٹ‘ سے مارنے کی کوشش میں جب بی جے پی ناکام ہوگئی تو پولس کے ساتھ اپنے پالتوں غنڈوں کو ان پر چھوڑ دیا ۔ سی جے پی نے اس جھانسے آنے کے بجائے وزیر اعظم کے گھڑیالی آنسووں کے جعلی سیلاب میں بہنے سے انکار کردیا ۔ اس طرح ’دل کے ارماں آنسووں میں بہہ گئے۔ وہ وفا کرکے بھی تنہا رہ گئے ‘ کیونکہ مودی نے سی جے پی کوکھلونوں سے بہلانے کی کوشش کی مگرنوجوان ان کے جھانسے میں نہیں آئے اور مودی جی جھکنے پر مجبور کردیا ۔ اس رسوا کن انجام پر یہ نغمہ صادق آتا ہے؎
سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کیا
دن میں اگر چراغ جلائے تو کیا کیا

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے