از قلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
جامعہ عربیہ توپران ضلع میدک
حصولِ علم ایک مستقل عبادت ہے ا
اللہ رب العزت نے انسان کو بے شمار ظاہری و باطنی نعمتوں سے نوازا ہے، لیکن ان تمام نعمتوں میں علم کی نعمت کو منفرد اور بلند مقام عطا فرمایا ہے۔ علم وہ نور ہے جو دلوں کو زندہ کرتا ہے، عقلوں کو جلا بخشتا ہے، کردار کو سنوارتا ہے اور انسان کو اپنے رب کی معرفت، اپنی ذمہ داریوں کے شعور اور اپنی زندگی کے حقیقی مقصد تک پہنچاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نزولِ وحی کا آغاز "اقرأ” سے ہوا، تاکہ واضح ہو جائے کہ اسلام کی بنیاد جہالت پر نہیں بلکہ علم، حکمت اور بصیرت پر قائم ہے۔ نئے تعلیمی سال کا آغاز ہر طالب علم کے لیے محض نئی کتابوں، نئی جماعت اور نئے نصاب کا آغاز نہیں بلکہ نیتوں کی تجدید، مقاصد کی اصلاح اور اپنی علمی زندگی کو عبادت میں تبدیل کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔
اسلام کی نگاہ میں عبادت صرف نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کا نام نہیں بلکہ ہر وہ عمل جو خلوصِ دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دیا جائے عبادت بن جاتا ہے۔ اسی لیے ایک طالب علم جب کتاب اپنے ہاتھ میں لیتا ہے، استاد کے سامنے ادب سے بیٹھتا ہے، سبق یاد کرنے میں مشقت برداشت کرتا ہے، تحقیق و مطالعہ میں وقت صرف کرتا ہے اور علم کے حصول کے لیے اپنی خواہشات کو قربان کرتا ہے تو اگر اس کی نیت رضائے الٰہی، خدمتِ دین، خدمتِ خلق اور امت کی بھلائی ہو تو اس کی پوری تعلیمی زندگی عبادت میں شمار ہوتی ہے اور اس کا ہر لمحہ قربِ الٰہی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرئ ما نوى” یعنی "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔” یہ حدیث اسلامی تربیت کا بنیادی اصول ہے۔ ایک ہی درسگاہ میں بیٹھنے والے دو طالب علم بظاہر ایک ہی کتاب پڑھتے ہیں، لیکن ایک کی نیت صرف مال، شہرت اور منصب ہوتی ہے جبکہ دوسرا اللہ تعالیٰ کی رضا، امت کی خدمت، غریبوں کی مدد اور معاشرے کی اصلاح کو اپنا مقصد بناتا ہے۔ دونوں کی محنت ایک جیسی ہوتی ہے مگر ان کے درجات میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے، کیونکہ نیت ہی عام عمل کو عبادت اور معمولی کوشش کو صدقۂ جاریہ بنا دیتی ہے۔
قرآن کریم نے علم والوں کو غیر معمولی فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾ اور ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ﴿يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ﴾۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ علم صرف معاشی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایمان کے بعد انسان کی سب سے بڑی دولت ہے، جو فرد کو بصیرت عطا کرتی ہے، خاندان کو سنوارتی ہے، معاشرے کی اصلاح کرتی ہے اور پوری امت کی ترقی کا سبب بنتی ہے۔
علم چونکہ عبادت ہے اس لیے اس کی روح اخلاص ہے۔ جس طرح روح کے بغیر جسم بے جان ہوتا ہے، اسی طرح اخلاص کے بغیر علم اپنی برکت اور تاثیر کھو دیتا ہے۔ اگر تعلیم کا مقصد صرف دوسروں پر برتری، شہرت یا دنیاوی مفادات کا حصول ہو تو وہ علم دلوں میں نور پیدا نہیں کرتا، لیکن جب یہی علم اللہ تعالیٰ کی رضا، دین کی سربلندی، انسانیت کی خدمت اور ملتِ اسلامیہ کی فلاح کے لیے حاصل کیا جاتا ہے تو وہی علم انسان کو اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کی صف میں کھڑا کر دیتا ہے۔ ایک ڈاکٹر مریضوں کے لیے رحمت بن جاتا ہے، ایک انجینئر قوم کی امانت کا محافظ بن جاتا ہے، ایک استاد نسلوں کا معمار بن جاتا ہے اور ہر شعبۂ زندگی عبادت کا میدان بن جاتا ہے۔
اکابرِ امت نے ہمیشہ نیت کی اصلاح کو علم سے پہلے اہمیت دی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "نیت کی اصلاح نفس پر سب سے زیادہ دشوار عمل ہے۔” کیونکہ دل ہر لمحہ دنیا کی خواہشات کی طرف مائل ہوتا رہتا ہے۔ اسی لیے ہر طالب علم کو چاہیے کہ وہ اپنے مطالعہ، تحقیق اور تعلیم کا آغاز اس یقین کے ساتھ کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا، والدین کی خوشنودی، امت کی خدمت اور اپنی آخرت کی کامیابی کے لیے علم حاصل کر رہا ہے۔ جب نیت خالص ہو جاتی ہے تو تھکاوٹ عبادت، محنت سعادت اور تعلیم ذریعۂ نجات بن جاتی ہے۔
تاریخِ اسلام کے عظیم علماء کی زندگیاں اسی حقیقت کی روشن دلیل ہیں کہ ان اکابر کی عظمت کا راز صرف ان کی ذہانت نہیں بلکہ ان کا اخلاص و للّٰہیت تھی، اسی لیے ان کا علم صدیوں بعد بھی زندہ ہے اور آج بھی پوری دنیا ان کے علمی سرمایہ سے فیض یاب ہو رہی ہے۔
نئے تعلیمی سال کے آغاز پر سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ طالب علم اپنے مقصدِ تعلیم کا ازسرِنو جائزہ لے، اپنی نیت کو دنیا کی آلائشوں سے پاک کرے اور اپنے علم کو اللہ تعالیٰ کی رضا، والدین کی خوشنودی، ملتِ اسلامیہ کی سربلندی، غریبوں کی خدمت، انسانیت کی فلاح اور معاشرے کی اصلاح کے لیے وقف کرنے کا عزم کرے۔ یہی اخلاص علم میں برکت، عمل میں قبولیت، زندگی میں کامیابی اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنتا ہے، اور یہی وہ فکر ہے جو ایک عام طالب علم کو امت کا سرمایہ، معاشرے کا معمار اور اللہ تعالیٰ کا محبوب بندہ بنا دیتی ہے۔
بچوں کی نگرانی، رفاقتوں کی اصلاح اور زبان و اخلاق کی حفاظت
تعلیم کا اصل مقصد ایک صالح، مہذب، باکردار اور ذمہ دار انسان کی تشکیل ہے، اور اس مقصد کے حصول میں صالح صحبت سب سے بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "المرء على دين خليله فلينظر أحدكم من يخالل” (ابوداؤد، ترمذی) یعنی "آدمی اپنے دوست کے طریقے پر چلنے لگتا ہے، اس لیے ہر شخص کو دیکھ لینا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔” امام ابن سیرین رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: "إن هذا العلم دين فانظروا عمن تأخذون دينكم” یعنی "یہ دین ایک امانت ہے، لہٰذا دیکھ لو کہ تم اسے کس سے حاصل کر رہے ہو۔” یہی اصول دوستی اور رفاقت پر بھی صادق آتا ہے، کیونکہ انسان اپنے ساتھیوں سے صرف علم نہیں بلکہ عادات، اخلاق، گفتگو، سوچ اور طرزِ زندگی بھی سیکھتا ہے۔ نیک دوست انسان کو عبادت، علم اور حسنِ اخلاق کی طرف لے جاتا ہے، جبکہ بری صحبت آہستہ آہستہ ایمان، کردار اور مستقبل تینوں کو کمزور کر دیتی ہے۔
موجودہ دور میں بچوں کی زبان اور گفتگو خصوصی توجہ کی محتاج ہے۔ افسوس کہ گالی گلوچ، تمسخر، بے ادبی، "ارے”، "ترے”، "اوئے” اور سخت لہجہ بعض بچوں کے نزدیک معمولی بات بن چکی ہے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ليس المؤمن بالطعان ولا اللعان ولا الفاحش ولا البذيء” (جامع ترمذی) یعنی "مومن نہ طعنہ دینے والا ہوتا ہے، نہ لعنت کرنے والا، نہ بے حیائی کی گفتگو کرنے والا اور نہ بدزبان۔” ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا: "من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرًا أو ليصمت” (بخاری و مسلم) یعنی "جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔” اس لیے بچے کی زبان اس کی تربیت، اس کی صحبت اور اس کے گھر کے ماحول کا آئینہ ہوتی ہے، اور والدین کو اس پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: "نحن إلى قليل من الأدب أحوج منا إلى كثير من العلم” یعنی "ہمیں زیادہ علم سے زیادہ تھوڑے ادب کی ضرورت ہے۔” امام مالک رحمہ اللہ فرماتے تھے: "تعلم الأدب قبل أن تتعلم العلم” یعنی "علم حاصل کرنے سے پہلے ادب سیکھو۔” اسی لیے ہمارے اسلاف اپنے بچوں کی ذہانت سے پہلے ان کے اخلاق، گفتگو، بڑوں کے احترام اور چھوٹوں پر شفقت کو اہمیت دیتے تھے، کیونکہ خوش اخلاق طالب علم اپنے کردار سے دل جیت لیتا ہے، جبکہ بدزبان اور بدتمیز شخص اپنے علم کے باوجود لوگوں کے لیے باعثِ نفرت بن جاتا ہے۔
ضروری ہے کہ والدین اپنے بچوں کے دوستوں اور ان کے ماحول سے بھی واقف رہیں۔ اگر کسی رفاقت میں سگریٹ، گٹکا، جھوٹ، چوری، بے حیائی، موبائل کا ناجائز استعمال، نماز سے غفلت یا اساتذہ کی بے ادبی جیسی خرابیاں نظر آئیں تو حکمت اور محبت کے ساتھ بچے کو اس ماحول سے دور کیا جائے۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے تھے: "لا تجالس صاحب الهوى فإنه يمرض القلب” یعنی "برے رجحان والے شخص کی صحبت اختیار نہ کرو، کیونکہ وہ دل کو بیمار کر دیتی ہے۔”
ایک باشعور اور دور اندیش والد وہی ہے جو اپنے بچے کی کتابوں کے ساتھ اس کے دوستوں کو بھی دیکھے، اس کے بستے کے ساتھ اس کی مجلس کا بھی جائزہ لے اور اس کے نمبروں کے ساتھ اس کے اخلاق، گفتگو اور کردار کا بھی محاسبہ کرے۔ کیونکہ اچھی صحبت علم میں برکت، اخلاق میں حسن، زبان میں شائستگی اور زندگی میں کامیابی پیدا کرتی ہے، جبکہ بری صحبت رفتہ رفتہ انسان کے ایمان، کردار، زبان اور مستقبل کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس لیے نئے تعلیمی سال میں علمی محنت کے ساتھ صالح رفاقت، پاکیزہ اخلاق اور مہذب گفتگو کی نگرانی بھی والدین کی بنیادی ذمہ داری ہونی چاہیے، تاکہ اولاد علم و عمل، ادب و اخلاق اور صالح کردار کا حسین نمونہ بن کر ملت و معاشرے کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ ثابت ہو۔
بچوں کی جسمانی و ذہنی نشوونما کے لیے طاقتور ناشتے کی اہمیت
ماہرینِ طب اور ماہرینِ تعلیم اس حقیقت پر متفق ہیں کہ بچے کی جسمانی صحت، ذہنی یکسوئی، قوتِ حافظہ اور تعلیمی کامیابی کا مضبوط تعلق اس کے صبح کے ناشتے سے ہے۔ جو بچے بغیر ناشتے کے گھر سے نکلتے ہیں یا روزانہ بازاری اور غیر معیاری غذاؤں پر انحصار کرتے ہیں، ان میں سستی، کمزوری، چڑچڑاپن، توجہ کی کمی اور ذہنی انتشار زیادہ پایا جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم پاکیزہ غذا کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا﴾ (المؤمنون: 51) یعنی "پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو۔” مفسرین نے لکھا ہے کہ پاکیزہ غذا جسم کی قوت کے ساتھ فکر و عمل کی پاکیزگی کا بھی ذریعہ بنتی ہے۔
جدید غذائی ماہرین کے مطابق متوازن ناشتہ کرنے والے بچوں کی یادداشت، سیکھنے کی صلاحیت اور تعلیمی کارکردگی نسبتاً بہتر ہوتی ہے۔ معروف غذائی ماہر ڈاکٹر والٹر ولیٹ کے مطابق صبح کا متوازن ناشتہ دماغ کو مسلسل توانائی فراہم کرتا ہے، جبکہ ماہرینِ اعصابیات کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ جسم کی توانائی کا بڑا حصہ استعمال کرتا ہے، اس لیے صبح مناسب غذائیت نہ ملنے سے توجہ، حافظہ اور ذہنی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ دودھ، کھجور، شہد، بادام، اخروٹ، انڈے، دلیہ، ستو اور موسمی پھل جیسی قدرتی غذائیں بچوں کی جسمانی و ذہنی نشوونما کے لیے نہایت مفید ہیں۔
اسلامی تعلیمات بھی ایسی ہی قوت بخش غذاؤں کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بيت لا تمر فيه جياع أهله” (صحیح مسلم) یعنی "جس گھر میں کھجور موجود ہو اس کے اہل بھوکے نہیں رہتے۔” قرآن کریم شہد کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ﴾ (النحل: 69) یعنی "اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔” اسی طرح زیتون کو قرآن نے "شجرۃ مبارکۃ” قرار دیا ہے۔ یہ غذائیں نہ صرف سنت اور قدرتی نعمتیں ہیں بلکہ جدید تحقیق بھی انہیں جسمانی قوت، مضبوط مدافعتی نظام اور دماغی صحت کے لیے انتہائی مفید قرار دیتی ہے۔
اکابرِ امت کی زندگیوں میں بھی سادہ مگر طاقتور غذا کو نمایاں اہمیت حاصل تھی۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر بزرگ ذائقہ پرستی کے بجائے غذائیت کو ترجیح دیتے تھے۔ خالص دودھ، دیسی گھی، خشک میوہ جات اور قدرتی غذائیں ان کے معمولات میں شامل تھیں، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مضبوط جسم، قوی حافظہ اور متوازن طبیعت ہی مسلسل علم، عبادت اور خدمتِ دین کا سہارا بن سکتی ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کو روزانہ ہوٹل کے دوشہ، بڑا، سموسہ، پف، چپس، کولڈ ڈرنکس اور مصنوعی مشروبات کا عادی بنانے کے بجائے گھر کے پاکیزہ دسترخوان پر دودھ، شہد، کھجور، انڈے، دلیہ، ستو، چنے، بادام، اخروٹ اور موسمی پھلوں پر مشتمل طاقتور ناشتہ فراہم کیا جائے۔ یہی سادہ مگر غذائیت سے بھرپور غذا بچوں کے جسم کو طاقت، دماغ کو تازگی، حافظے کو مضبوطی اور تعلیم میں کامیابی کے لیے مطلوبہ توانائی فراہم کرتی ہے، اور یہی ایک صحت مند، باصلاحیت اور متوازن نسل کی تعمیر کی بنیادی ضمانت ہے۔
بچوں کے سونے کے اوقات کی درست ترتیب،
بچوں کی جسمانی صحت، ذہنی یکسوئی، قوتِ حافظہ اور تعلیمی کامیابی کا بنیادی تعلق ان کے منظم نظامِ نیند سے ہے۔ موجودہ دور میں موبائل فون، ٹیلی ویژن، غیر ضروری دعوتوں اور رات گئے تک جاگنے کی عادت نے بچوں کو فجر کی نماز، صبح کی تازہ ہوا اور دن کی برکتوں سے محروم کر دیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِبَاسًا وَالنَّوْمَ سُبَاتًا وَجَعَلَ النَّهَارَ نُشُورًا﴾ (الفرقان: 47) یعنی "اللہ نے رات کو آرام اور دن کو جدوجہد کے لیے بنایا ہے۔”
رسول اللہ ﷺ کا معمول یہ تھا کہ آپ عشاء کے بعد بلا ضرورت دیر تک بیدار رہنا پسند نہیں فرماتے تھے۔ حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: "كان رسول الله ﷺ يكره النوم قبل العشاء والحديث بعدها” (بخاری، مسلم) یعنی آپ ﷺ عشاء سے پہلے سونے اور عشاء کے بعد غیر ضروری گفتگو کو ناپسند فرماتے تھے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے دعا فرمائی: "اللهم بارك لأمتي في بكورها” (ترمذی، ابوداؤد) یعنی "اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما۔”
جدید طبی تحقیقات بھی یہی ثابت کرتی ہیں کہ بروقت اور مکمل نیند بچوں کی یادداشت، ذہنی نشوونما، مدافعتی نظام اور تعلیمی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے، جبکہ رات گئے تک جاگنے سے توجہ میں کمی، سستی، ذہنی دباؤ اور کمزور حافظہ پیدا ہوتا ہے۔ ماہرینِ اطفال بھی اسکول جانے والے بچوں کے لیے عمر کے مطابق آٹھ سے دس گھنٹے کی معیاری نیند کو ضروری قرار دیتے ہیں۔
ہمارے اکابر بھی سحر خیزی کو علم و عمل کی برکت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ صبح کے وقت ذہن کی صفائی، قلب کا سکون اور مطالعہ کی برکت دن کے دوسرے حصوں میں کم ہی حاصل ہوتی ہے۔ اسی لیے وہ طلبہ کو فجر کے بعد مطالعہ کی ترغیب دیتے تھے۔
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف بچوں کو نصیحت نہ کریں بلکہ خود بھی جلد سونے اور جلد بیدار ہونے کا عملی نمونہ پیش کریں، کیونکہ بچے والدین کے کردار سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: "اپنی اولاد کی اصلاح اپنے عمل سے کرو، کیونکہ ان کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہوتی ہیں۔” اگر گھر کا ماحول عشاء کے بعد سکون، فجر کے ساتھ بیداری، صبح کی عبادت، مطالعہ اور نظم و ضبط کا عادی ہوگا تو یہی عادت بچوں کی شخصیت کا مستقل حصہ بن جائے گی۔
اس لیے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر بچوں کے لیے سونے، جاگنے، نمازِ فجر، صبح کے مطالعہ، ہلکی ورزش اور قوت بخش ناشتے کا ایک منظم نظام بنایا جائے۔ یہی معمول جسمانی صحت، ذہنی تازگی، علمی کامیابی اور صالح شخصیت کی تعمیر کی مضبوط بنیاد ہے۔
دینی تعلیم سے وابستگی، صالح صحبت اکی ضرورت
آج امتِ مسلمہ کو صرف ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، تاجر اور اعلیٰ ڈگریوں کے حامل افراد کی ضرورت نہیں، بلکہ ایسے دیندار، متقی، باکردار اور تربیت یافتہ افراد کی ضرورت ہے جن کے ہاتھ میں جدید تعلیم ہو اور دل میں قرآن و سنت کی روشنی، جن کے پاس قابلیت بھی ہو اور دیانت بھی، مہارت بھی ہو اور خوفِ خدا بھی۔ کیونکہ علم جب ایمان اور تقویٰ سے جدا ہو جاتا ہے تو وہ صرف دنیا سنوارتا ہے، لیکن جب علم کے ساتھ دین، اخلاص اور صالح تربیت شامل ہو جائے تو وہ دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ﴾ (فاطر: 28) یعنی "اللہ تعالیٰ سے حقیقی ڈر رکھنے والے اس کے بندوں میں علماء ہیں۔”
بچوں کے ایمان، کردار اور دینی شعور کی مضبوطی کا سب سے مؤثر ذریعہ مسجد کا مکتب ہے، جہاں قرآن کریم، نماز، دعا، سنت، طہارت، اسلامی آداب اور بنیادی عقائد کی عملی تربیت حاصل ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "خيركم من تعلم القرآن وعلمه” (صحیح بخاری) یعنی "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔” اسی طرح صالح علماء، اہلِ دل اور نیک لوگوں کی صحبت بھی بچے کی شخصیت کو سنوارتی ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مثل الجليس الصالح والجليس السوء كحامل المسك ونافخ الكير” (بخاری، مسلم) یعنی "نیک ساتھی خوشبو فروش کی مانند اور برا ساتھی بھٹی پھونکنے والے کی طرح ہے۔” اسی لیے دعوت و تبلیغ کی مبارک محنت، علماء کی مجالس اور صالح ماحول سے وابستگی بچوں کے دلوں میں نماز، قرآن، حیا، ادب، سنت کی محبت اور نیک اعمال کا شوق پیدا کرتی ہے۔
گھر کا دینی ماحول بھی تربیت کی بنیادی اکائی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لا تجعلوا بيوتكم قبورًا، فإن الشيطان ينفر من البيت الذي تقرأ فيه سورة البقرة” (صحیح مسلم) یعنی "اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، کیونکہ جس گھر میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے وہاں سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔” اس لیے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت، دینی کتابوں کا مطالعہ، مسنون دعاؤں کی تعلیم، ذکرِ الٰہی اور دینی مذاکرے کا معمول ہونا چاہیے تاکہ پورا گھر ایمان، رحمت، سکون اور برکت کا مرکز بن جائے۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے تھے: "جس گھر میں اللہ کا ذکر زیادہ ہوتا ہے وہاں رحمت نازل ہوتی ہے اور برکت بڑھتی ہے۔”
آج فتنوں کا دائرہ موبائل، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور مختلف فکری یلغاروں کے ذریعے ہر گھر تک پہنچ چکا ہے۔ ایسے حالات میں حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ درد بھرا قول ہر والدین کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ: "پہلے زمانے میں اگر کوئی شخص دین سے پھر جاتا تھا تو پورا معاشرہ جان لیتا تھا، لیکن آج انسان مسلمان گھر میں رہ کر بھی اپنے عقائد، افکار اور عملی زندگی سے دین سے دور ہو جاتا ہے اور کسی کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔” اس لیے نئی نسل کی ایمانی حفاظت کو اپنی سب سے پہلی ذمہ داری سمجھنا چاہیے۔
خلاصہ یہ ہے کہ صالح نسل محض نصابی کتابوں، اعلیٰ اسکولوں اور بڑی ڈگریوں سے تیار نہیں ہوتی، بلکہ اخلاصِ نیت، صحیح عقیدہ، مکتب کی تعلیم، مسجد سے تعلق، علماء ربانیین اور اہلِ دل کی صحبت، دعوت و تبلیغ کے ماحول، پاکیزہ گھرانے، حسنِ اخلاق، منظم زندگی اور والدین کی عملی تربیت سے پروان چڑھتی ہے۔ اگر یہ بنیادیں مضبوط ہوں تو ڈاکٹر بھی امت کا خادم ہوگا، انجینئر بھی دین کا داعی ہوگا، تاجر بھی دیانت کا نمونہ ہوگا اور ہر تعلیم یافتہ نوجوان اپنے علم کو اللہ تعالیٰ کی رضا، انسانیت کی خدمت اور ملت کی سربلندی کے لیے استعمال کرے گا۔ یہی وہ نسل ہے جو امت کی عزت، معاشرے کی اصلاح، والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دنیا و آخرت کی دائمی کامیابی کی حقیقی ضمانت بن سکتی ہے۔