نہرو سے مودی تک___ ہندوستانی سیاست کا ایک جائزہ!

نہرو سے مودی تک___ ہندوستانی سیاست کا ایک جائزہ!

نہرو سے مودی تک____
ہندوستانی سیاست کا ایک جائزہ!

ازقلم: (حافظ)افتخاراحمدقادری

ہندوستان کی سیاسی تاریخ حکمرانوں کی تبدیلی کی داستان نہیں بلکہ مختلف نظریات، پالیسیوں، کامیابیوں، ناکامیوں اور سماجی تبدیلیوں کا ایک طویل سفر ہے۔ اس سفر میں بعض شخصیات ایسی ابھریں جنہوں نے اپنے عہد پر گہرے نقوش چھوڑے اور ملک کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو اور نریندر مودی دو ایسے ہی نام ہیں جن کے گرد ہندوستان کی دو مختلف سیاسی کہانیاں گردش کرتی ہیں۔ ایک طرف نہرو ہیں جنہوں نے آزادی کے بعد ایک نو زائیدہ ریاست کی بنیادیں استوار کیں اور دوسری جانب نریندر مودی ہیں جو اکیسویں صدی کے ہندوستان کو عالمی طاقت بنانے کے دعوے کے ساتھ ملک کی قیادت کر رہے ہیں۔ اگرچہ دونوں کے درمیان دہائیوں کا فاصلہ ہے لیکن آج جب نریندر مودی نے منتخب وزیر اعظم کے طور پر مدتِ اقتدار کے اعتبار سے نہرو کا ریکارڈ عبور کر لیا ہے تو یہ موقع محض اعداد و شمار کے موازنے کا نہیں بلکہ ہندوستان کی سیاسی سمت اور قومی مزاج کے جائزے کا بھی ہے۔
پنڈت جواہر لعل نہرو کا دور آزادی کے بعد کی تعمیر و تشکیل کا زمانہ تھا۔ ملک تقسیم کے زخموں سے چور تھا، کروڑوں افراد بے گھر ہو چکے تھے، معیشت کمزور تھی اور ریاستی ادارے ابھی ابتدائی مراحل میں تھے۔ ایسے میں نہرو نے جمہوری اداروں کے استحکام، سیکولر طرزِ حکمرانی اور منصوبہ بند معیشت کے ذریعے ایک جدید ریاست کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی۔ ان کے دور میں بڑے ڈیم، اسٹیل پلانٹ، تحقیقی ادارے اور اعلیٰ تعلیمی مراکز قائم ہوئے جنہیں جدید ہندوستان کے مندر قرار دیا گیا۔ ناقدین اگرچہ ان کی بعض معاشی پالیسیوں کو سست رفتار ترقی کا سبب قرار دیتے ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے جمہوری روایت، پارلیمانی نظام اور ادارہ جاتی استحکام کو فروغ دیا۔ اس کے برعکس نریندر مودی کا عہد ایک ایسے ہندوستان کا عہد ہے جو پہلے ہی ایک بڑی معیشت اور ایٹمی طاقت کے طور پر دنیا میں اپنی شناخت قائم کر چکا تھا۔ مودی نے اقتدار سنبھالتے ہی ترقی، گڈ گورننس، قومی سلامتی اور مضبوط قیادت کے نعروں کو اپنی سیاست کا مرکز بنایا۔ 2014 کے انتخابات میں کانگریس مخالف فضا، بدعنوانی کے الزامات اور عوامی بے چینی نے انہیں ایک غیر معمولی سیاسی موقع فراہم کیا۔ گجرات ماڈل کو ترقی کی علامت بنا کر پیش کیا گیا اور عوام کو یقین دلایا گیا کہ ملک تیز رفتار معاشی ترقی کے نئے دور میں داخل ہونے والا ہے۔ ابتدائی برسوں میں مودی حکومت نے متعدد بڑے فیصلے کیے جنہوں نے سیاسی منظرنامے کو یکسر بدل دیا۔ جن دھن یوجنا کے ذریعے بینکنگ نظام سے محروم کروڑوں افراد کو مالیاتی دھارے میں لانے کی کوشش کی گئی۔ سوچھ بھارت مہم کو عوامی تحریک کے طور پر پیش کیا گیا۔ ڈیجیٹل انڈیا، میک ان انڈیا اور اسکل انڈیا جیسے پروگراموں کو ترقی کے نئے ستون قرار دیا گیا۔ ان اقدامات نے حکومت کو ایک متحرک اور سرگرم انتظامیہ کے طور پر پیش کرنے میں مدد دی۔ تاہم 2016 میں اچانک نوٹ بندی کے فیصلے نے پورے ملک کو حیرت میں ڈال دیا۔ حکومت نے اسے کالے دھن، جعلی کرنسی اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف تاریخی قدم قرار دیا لیکن اس کے فوری اثرات نے لاکھوں چھوٹے تاجروں، مزدوروں اور غیر رسمی معیشت سے وابستہ افراد کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا۔ بینکوں کے باہر طویل قطاریں، کاروباری سرگرمیوں میں سست روی اور روزگار کے بحران نے اس فیصلے پر سوالات کھڑے کیے۔ اگرچہ حکومت اپنے موقف پر قائم رہی لیکن معاشی ماہرین کے درمیان اس کے نتائج پر اختلافات آج بھی موجود ہیں۔ اسی دوران جی ایس ٹی کا نفاذ بھی ایک بڑا معاشی اقدام تھا۔ ایک قوم ایک ٹیکس کے تصور کو اقتصادی اصلاحات کی سمت اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ تاہم چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو نئے نظام سے ہم آہنگ ہونے میں خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ متعدد تاجروں نے پیچیدہ قواعد و ضوابط اور بار بار ہونے والی تبدیلیوں پر اعتراضات کیے جبکہ حکومت کا مؤقف تھا کہ طویل مدت میں یہی نظام معیشت کو زیادہ شفاف اور منظم بنائے گا۔
مودی حکومت کے سیاسی سفر میں قومی سلامتی ایک اہم موضوع کے طور پر ابھری۔ اڑی حملے کے بعد سرجیکل اسٹرائیک اور پلوامہ حملے کے بعد بالاکوٹ کارروائی کو حکومت نے مضبوط قیادت کی علامت کے طور پر پیش کیا۔ ان واقعات نے قوم پرستی کے بیانیے کو مزید تقویت دی اور سیاسی سطح پر بھارتیہ جنتا پارٹی کو خاطر خواہ فائدہ پہنچایا۔ ناقدین کے مطابق قومی سلامتی کے معاملات بعض اوقات انتخابی سیاست کا حصہ بھی بنے لیکن عوامی سطح پر ان اقدامات نے مودی کی مقبولیت میں اضافہ کیا۔ 2019 میں دوسری مرتبہ اقتدار میں واپسی کے بعد حکومت نے کئی ایسے فیصلے کیے جن کے اثرات سیاسی مباحث میں آج بھی نمایاں ہیں۔ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ، آرٹیکل 370 کی منسوخی اور ریاست کی تنظیمِ نو کو حکومت نے قومی یکجہتی کے لیے ضروری قرار دیا۔ دوسری جانب ناقدین نے اسے وفاقی ڈھانچے اور جمہوری مشاورت کے اصولوں سے متصادم قرار دیا۔ اس فیصلے نے ملک کے سیاسی مباحث کو ایک نئی سمت دی۔ اسی عرصے میں شہریت ترمیمی قانون یا سی اے اے متعارف کرایا گیا جس نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک کو جنم دیا۔ حکومت کے مطابق یہ قانون پڑوسی ممالک سے آنے والے مظلوم اقلیتی پناہ گزینوں کو شہریت دینے کے لیے بنایا گیا تھا لیکن ناقدین نے اسے مذہبی بنیادوں پر امتیاز قرار دیا۔ دہلی کے شاہین باغ سے لے کر ملک کے مختلف شہروں تک ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ اس احتجاج نے ہندوستانی جمہوریت، آئینی اقدار اور شہریت کے تصور پر ایک وسیع قومی بحث کو جنم دیا۔ سماجی سطح پر مودی دور کا سب سے حساس پہلو مذہبی تعلقات اور اقلیتوں کے حوالے سے جاری مباحث رہے ہیں۔ بابری مسجد مقدمے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد رام مندر کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ ایک بڑی آبادی نے اسے تاریخی انصاف قرار دیا جبکہ دوسری جانب بہت سے لوگوں نے اسے ہندوستان کے سیکولر تشخص کے تناظر میں دیکھا۔ اس معاملے نے مذہبی شناخت، تاریخی یادداشت اور قومی سیاست کے باہمی تعلق کو مزید نمایاں کر دیا۔
گزشتہ برسوں میں گؤ رکشا کے نام پر تشدد، ہجومی حملوں، نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے متعدد واقعات بھی سامنے آئے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کیا اور قانون کی مؤثر عملداری پر سوالات اٹھائے۔ حکومت کا موقف رہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی بھی مجرمانہ کارروائی کے خلاف مناسب اقدامات کیے جاتے ہیں لیکن یہ موضوع مسلسل سیاسی اور سماجی بحث کا مرکز بنا رہا۔ کووڈ 19 وبا نے مودی حکومت کے لیے ایک غیر معمولی چیلنج پیدا کیا۔ ابتدائی لاک ڈاؤن کو عالمی سطح پر ایک جرات مندانہ اقدام قرار دیا گیا لیکن اچانک بندش کے باعث لاکھوں مزدوروں کی نقل مکانی اور معاشی مشکلات نے سنگین سوالات بھی پیدا کیے۔ بعد ازاں ویکسینیشن مہم کو حکومت نے اپنی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا۔ دنیا کے سب سے بڑے ویکسین پروگراموں میں سے ایک ہونے کے باعث اس اقدام کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا، تاہم وبا کی دوسری لہر کے دوران صحت کے نظام پر شدید دباؤ اور آکسیجن بحران کے مناظر بھی عوامی یادداشت کا حصہ بن گئے۔ معاشی میدان میں حکومت مسلسل یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ ہندوستان دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی بڑی معیشتوں میں شامل ہے۔ ایکسپریس ویز، وندے بھارت ٹرینیں، ہوائی اڈوں کی توسیع، بندرگاہوں کی ترقی اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے پھیلاؤ کو ترقی کی نئی علامتوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یو پی آئی نظام نے واقعی مالی لین دین کے انداز کو بدل کر رکھ دیا ہے اور ہندوستان کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبے میں نمایاں مقام دلایا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی بے روزگاری، مہنگائی، زرعی بحران اور آمدنی کے تفاوت جیسے مسائل بھی مسلسل زیر بحث رہے ہیں۔
زرعی قوانین اور کسان تحریک مودی حکومت کے لیے ایک اور بڑا سیاسی امتحان ثابت ہوئی۔ پنجاب، ہریانہ اور دیگر ریاستوں کے کسانوں نے ان قوانین کے خلاف طویل احتجاج کیا۔ حکومت نے انہیں زرعی اصلاحات قرار دیا جبکہ کسان تنظیموں نے انہیں اپنے مفادات کے خلاف سمجھا۔ ایک سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی تحریک کے بعد حکومت کو قوانین واپس لینے کا اعلان کرنا پڑا۔ اس واقعے نے یہ ثابت کیا کہ مضبوط اکثریت رکھنے والی حکومت بھی عوامی دباؤ اور جمہوری مزاحمت کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کر سکتی۔ خارجہ پالیسی کے میدان میں مودی نے ہندوستان کی عالمی موجودگی کو زیادہ فعال بنانے کی کوشش کی۔ امریکہ، یورپ، مشرق وسطیٰ اور ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت دی گئی۔ کواڈ جیسے علاقائی اتحادوں میں سرگرم کردار ادا کیا گیا اور عالمی فورمز پر ہندوستان کی آواز کو زیادہ مؤثر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی اور بعض علاقائی چیلنجز نے یہ واضح کیا کہ عالمی سیاست میں کامیابیوں کے باوجود مشکلات بدستور موجود ہیں۔
نہرو اور مودی کے تقابل میں سب سے اہم یہ ہے کہ ہندوستان کی روح کس سمت میں جا رہی ہے۔ نہرو کا ہندوستان تنوع، سیکولرزم اور ادارہ جاتی جمہوریت کے تصور سے وابستہ تھا جبکہ مودی کا ہندوستان قوم پرستی، ثقافتی شناخت اور مضبوط قیادت کے بیانیے کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ایک عہد میں ریاست کی تعمیر بنیادی مقصد تھی جبکہ دوسرے عہد میں عالمی طاقت بننے کا خواب سیاسی گفتگو کا مرکز ہے۔ دونوں ادوار کی کامیابیاں اور ناکامیاں اپنی جگہ موجود ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی موجودہ سیاست انہی دو تصورات کے درمیان مسلسل کشمکش کا منظر پیش کرتی ہے۔ آج جب نریندر مودی نے منتخب وزیر اعظم کے طور پر نہرو کا ریکارڈ عبور کر لیا ہے تو یہ محض ایک سیاسی سنگ میل نہیں بلکہ ہندوستانی جمہوریت کے ارتقا کی ایک نئی علامت بھی ہے۔ تاہم تاریخ صرف مدتِ اقتدار کو یاد نہیں رکھتی بلکہ اس بات کا بھی فیصلہ کرتی ہے کہ اقتدار کے دوران قوم کو کس سمت میں لے جایا گیا۔ آنے والے برسوں میں یہ بحث مزید شدت اختیار کرے گی کہ کیا مودی کا دور ہندوستان کو معاشی اور عالمی طاقت کے طور پر نئی بلندیوں تک لے گیا یا سماجی اور سیاسی تقسیم کے نئے سوالات بھی چھوڑ گیا۔ اسی طرح نہرو کے ورثے پر بھی بحث جاری رہے گی کہ آیا انہوں نے جدید ہندوستان کی مضبوط بنیاد رکھی یا بعض ایسی کمزوریاں بھی چھوڑ گئیں جن کے اثرات بعد کی نسلوں نے محسوس کیے۔ ہندوستان کی سیاسی تاریخ کا سفر ابھی جاری ہے۔ نہرو سے مودی تک کا راستہ دراصل مختلف نظریات، خوابوں، کامیابیوں، ناکامیوں اور عوامی توقعات کا سفر ہے۔ اس سفر کو سمجھنے کے لیے کسی ایک شخصیت کی مدح یا مذمت کافی نہیں بلکہ ایک متوازن، سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ جائزہ ضروری ہے، کیونکہ قوموں کی تقدیر صرف حکمرانوں کے ناموں سے نہیں بلکہ ان فیصلوں سے متعین ہوتی ہے جو آنے والی نسلوں کے مستقبل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے