حالاتِ حاضرہ سے آگاہی اور نئے چیلنجز کا مقابلہ فضلاء مدارس کا اہم ترین فریضہ. المعہد العالی الاسلامی میں سہ روزہ علمی وفکری اور تربیتی ورکشاپ کا انعقاد. مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی، سید قاسم رسول الیاس اور علماء ودنشوران کے خطابات
حالاتِ حاضرہ سے آگاہی اور نئے چیلنجز کا مقابلہ فضلاء مدارس کا اہم ترین فریضہ.
المعہد العالی الاسلامی میں سہ روزہ علمی وفکری اور تربیتی ورکشاپ کا انعقاد.
مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی، سید قاسم رسول الیاس اور علماء ودنشوران کے خطابات
حیدرآباد،31جولائی(پریس نوٹ) علم وتحقیق کے مشہور ومعروف باوقار اور تربیتی ادارہ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کے آڈیٹوریم دارالتربیۃ میں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے اشتراک سے سہ روزہ علمی وفکری ورک شاپ کا انعقاد عمل میں آیا۔فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا، بانی وناظم معہد نے صدارت کی ، مولانا امتیاز احمد قاسمی اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا نے اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا تعارف پیش کیا اور کہا کہ اکیڈمی کے اہم مقاصد میں یہ بھی ہےکہ عصری ودینی درسگاہوں کے طلبہ اور ریسرچ اسکالرز کے لیے ایسے محاضرات اور کیمپس کا نظم کیا جائے جس کے ذریعہ ان کو اسلام کے مختلف شعبوں کی بنیادی معلومات اور اسلام کی ہر عہد میں امت کی راہنمائی کی صلاحیت اور ضروری اصطلاحات سے واقف کرایا جائے،
جناب ڈاکٹر قاسم رسول الیاس صاحب نے ”مسلم پرسنل لاء سے متعلق عدالتوں میں زیر دوراں مقدمات اور قانونی چیلنجیز“ کے عنوان سے محاضرہ پیش کیا اور کہا: عدالتوں میں چند سالوں سے ایسے افراد کو متعین کیا جا رہا ہے جو ایک رخ کے مطابق فیصلہ کریں ؛ اس لئے اب فیصلے زیادہ تر دلیل اور ثبوت وشواہد کی بنیاد پر نہیں ہوتے ہیں، خواہ کوئی بھی قانون بن جائے، جیساکہ places of worship act بنا، اس کے باؤجود گیان واپی مسجد، متھرا کی عید گاہ اور کمال مولی مسجد کے خلاف قانونی داؤ پینچ کھیلا گیا، ، اسی طرح دلفریب باتیں کرکے UCC لانے کی کوشش جاری ہے،
اتراکھنڈ، آسام اور مدھیہ پردیش میں کامیاب ہو چکے اور مہاراشٹر و بنگال میں اس کی تیاری جاری ہے، وندے ماترم پڑھنا لازم کیا جا رہا ہے۔اب ایسے ماحول میں ہمیں اسلام کی مصلحت بتانی پڑے گی،اسلامی قانون کی معنویت و افادیت کو اہل ملک کے سامنے ان کی زبان میں پیش کرنی چاہیے، دوسرے طبقات کے ساتھ ڈائیلاگ کرنے کی کوشش کریں، جمہوری ملک کے اندر عوام کی طاقت ہی سب سے بڑی طاقت ہے جس کا عملی نمونہ ہم نے جنتر منتر پر دیکھا، فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا : دین کے بہت سے کام ہیں، ہر کام اپنی جگہ قابل تحسین ہے ؛ اس لیے جس کام سے بھی مناسبت ہو وہ کریں ؛ لیکن ہمیشہ دین اور ملت کے تمام کاموں میں معاون رہیں، کبھی مخالف نہ بنیں ؛
لیکن ایک کام ایسا ہے جو بنیادی طور پر علماء کا ہے اور وہ کام دفاع دین ہے ؛ اس لیے اسلاموفوبیا کے زمانہ میں اسلامی احکامات کو عقل اور فطرت کے ترازو پر کس کر پیش کیے جائیں، یہ کام علماء اور فضلاء مدارس کا ہے اور اس کی سخت ضرورت ہے ؛ کیوں کہ اگر آپ اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات کی فہرست بنانی شروع کریں تو پوری ایک مکمل کتاب بن جائے ؛ اس لیے آپ ایسے تیار ہوں کہ کسی بھی مسئلہ پر سامنے والے کی ذہنیت کے مطابق بات رکھ سکیں، اس کے لیے خود اپنے گھر سے اچھی واقفیت ضروری ہے اور دوسروں کے گھر سے آگہی بھی ؛ تاکہ آپ اپنی خصوصیات اور دوسرے کی خامیوں اور نقصانات سے باخبر رہیں، آپ اعداد و شمار اور ڈیٹا سے بات کریں، عصری معلومات سے لیس ہوکر ان کا جواب دے سکیں، تب ہی ہم اورآپ اسلام کا صحیح اور مؤثر انداز میں دفاع کرسکیں گے
ورک شاپ کی دوسری نشست میں مولانا ڈاکٹر احمد نورعینی قاسمی نے ”سنگھ پریوار کی مذہبی تعلیمی ، معاشی اور سیاسی میدان میں سرگرمیاں- ایک تعارف“ کے عنوان سے محاضرہ پیش کیا اور کہا: سنگھ پریوار کا مطلب سنگھ خاندان ہے اور سنگھ سے مراد RSS اور پریوار سے وہ تنظیمیں مراد ہیں جو ہندوتوادی نظریہ کو اپناتے ہیں، یہ تنظیمیں تعلیمی میدان میں بہت زیادہ سرگرم ہیں،مولانا نوشاد اختر ندوی نے ”سنگھ پریوار کے ہندوستانی سماج پر اثرات اور طریقہ کار ایک تعارف“ کے عنوان سے اپنا محاضرہ پیش کیا، اور کہا : سنگھ پریوار کی آغاز 1925ء میں نہیں ہوا ؛ بل کہ اس کی جڑیں بہت پہلے سے موجود تھیں، شروع میں یہ اصلاحی تحریک تھی، راجا رام موہن رائے نے برہمو سماج کی بنیاد رکھی، پھر آریہ سماج آئے، سوامی دیانند سرسوتی نے ستیارتھ پرکاش لکھی، ہندوستانی تہذیب کو برہمن تہذیب ثابت کرنے کی کوشش کی، لالہ لاجپت رائے وغیرہ نے ہندو سبھا قائم کی، یہی پھر بعد میں ہندو مہا سبھا بنا، تمام طبقوں کو بادل ناخواستہ اپنے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی،
انہوں نے شدھی تحریک شروع کی ؛ تاکہ اچھوتوں کو ہندو مذہب کے فولڈ میں ہی رکھا جائے، یہی تحریک آج کل ”گھر واپسی“ کے نام سے چل رہی ہے، مولانا نوید سیف حسامی ایڈوکیٹ نے ”مسلم پرسنل لا سے متعلق عدالتوں کے فیصلے“ پر اپنا محاضرہ پیش کیا اور کہا:شریعت ایکٹ کا مطلب یہ ہے کہ فریقین اگر مسلمان ہیں، اور معاملہ عائلی ہے تو شریعت کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا ؛ لیکن آج کل عدالتیں محض ظاہری جذبات کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہیں، جیسے طلاق اور نان و نفقہ سے متعلق مقدمات وغیرہ ۔
ڈاکٹر سراج احمد قاسمی اسسٹنٹ پروفیسر مانو یونیورسٹی نے ”فضلاء مدارس کے لئے عصری اداروں میں تعلیم کے مواقع“ عنوان سے محاضرہ پیش کیا اور کہا : مدارس کا دائرہ صرف اسلامی اداروں تک محدود نہیں ہے ؛ اس لیے موجودہ دنیا کے مسائل کو سمجھنے اور دین وشریعت کی روشنی میں ان کا حل سمجھانے کے لیے دینی مدارس ایک برج کا کام کرے اور یونیورسٹیوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جائے ؛ کیونکہ بعض بڑی یونیورسٹیاں مدارس کو تسلیم کرتی ہیں،مولانا انصار اللّٰہ قاسمی نے ”ہندوستانی مذاہب کے درمیان مشترکہ اقدار“ کے عنوان پر محاضرہ پیش کیا اور کہا: وطن عزیز میں نفرت و تشدد کے موجودہ ماحول کو ختم کے لیے انسانی ہمدردی و خیر خواہی اور انسانی اخوت و بھائی چارگی پر مبنی اور ظلم و انصافی کے خلاف مذاہب کی مشترکہ تعلیمات کو پیش کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تب ہی یہاں کی تمام مذہبی برادریاں پرامن بقائے باہمی کی زندگی گزار سکتی ہیں ،مذہبی اقلیتوں اور کمزور طبقات کے خلاف ظلم و تشدد اور نفرت و اشتعال انگیزی کی کاروائیوں پر روک لگ سکتی ہے ،
مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی نائب ناظم معہد نے ” نئی تعلیمی پالیسی اور دینی مدارس کا مستقبل“ کے عنوان سے محاضرہ پیش کیا اور کہا:ملک کی تعلیمی پالیسی مستقبل کی تشکیل کرتی ہے ؛ اس لیے اس وقت ہمیں ماضی کی بازیافت سے زیادہ مستقبل کی تعمیر کی کوشش کرنی چاہئے، اب یہاں ہمارے پاس اپنا تاریخی ورثہ ایک ہی بچا ہے اور وہ ہے دینی مدارس، ہمیں اس کو بچانے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔ ورک شاپ کی تیسری نشست میں اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) کے اشتراک سے المعہد العالی الاسلامی، حیدرآباد میں منعقدہ سہ روزہ تربیتی پروگرام کی تیسری نشست حضرت مفتی اشرف علی قاسمی صاحب معتمد مالیات المعہد العالی الاسلامی کی زیر صدارت منعقد ہوئی،
اس نشست میں سید غیاث الدین ایڈوکیٹ نے "یکساں سول کوڈ اور اسلامی شریعت پر اس کے اثرات” کے عنوان سے محاضرہ پیش کیا اور کہا: ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک میں مختلف مذہبی طبقات کو اپنے اپنے شخصی قوانین پر عمل کرنے کا آئینی حق حاصل ہے، جس کی ضمانت دستورِ ہند نے بھی فراہم کی ہے، یکساں سول کوڈ کا مسئلہ محض ایک قانونی مسئلہ نہیں؛ بل کہ اس کا تعلق تہذیبی شناخت اور اقلیتوں کے آئینی حقوق سے بھی ہے،جناب ایم۔ ایس۔ شبیر نے "غیر مسلم ممالک میں اجتماعی تکافل اور اس کی صورتیں” کے عنوان پر محاضرہ پیش کیا اور کہا: اسلام میں باہمی تعاون، ذمہ داری اور اجتماعی کفالت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور یہی تصور جدید دور میں تکافل (اسلامی انشورنس) کی شکل میں سامنے آتا ہے، انہوں نے مختلف غیر مسلم ممالک میں اسلامی مالیاتی اداروں اور تکافل کے کامیاب تجربات کا تعارف پیش کیا اور بتایا کہ دنیا کے کئی ممالک میں اسلامی مالیاتی نظام تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تکافل اور روایتی انشورنس کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ تکافل تعاون، ذمہ داری اور شرعی اصولوں پر قائم ہوتا ہے ؛ جبکہ روایتی انشورنس سود، غرر اور قمار جیسے شرعی اشکالات سے خالی نہیں، انہوں نے اس میدان میں فضلاء مدارس کے لیے موجود امکانات کی طرف بھی توجہ دلائی اور کہا کہ اگر علماء عصری معاشی نظام، اسلامی بینکاری اور مالیاتی قوانین سے واقف ہوں تو وہ اس میدان میں امت کی بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں، مولانا مفتی اشرف علی قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں دین کی صحیح خدمت کے لیے صرف روایتی علوم پر اکتفا کافی نہیں؛ بلکہ بدلتے ہوئے حالات سے واقفیت بھی ناگزیر ہے، مولوی محمد ملحان پٹیل ،مولوی حمید احمد سیداور مولوی محمد حماد نے مختلف نشستوں میں تلاوت کی، مولوی محمد سعد، مولوی محمد انس اور مولوی محمد عمار نے ہدیہ نعت پیش کی،
اختتامی نشست میں مولانا ناظر انور قاسمی صدر شعبہ انگریزی معہد،مولانا فرقان پالنپوری رفیق علمی شعبہ تحقیق معہد کے علاوہ مولوی آیت اللّٰہ اعجازی ،مولوی محمد عمار اختر فاروقی اور مولوی حماد قاسمی،مولوی محمد سعد طلبہ معہد نے تاثرات پیش کئے ہرنشست کے ختم پر سوال وجواب کا سیشن رہا اس کے علاوہ مولانا ڈاکٹر محمد اعظم ندوی، مولانا مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی، مولانا ارشد قاسمی ، مولانا ڈاکٹر احمد نور عینی اورمولانا امتیاز احمد قاسمی نے ورک شاپ کی مختلف نشستوں کی کاروائی چلائی ، اس موقع پر شرکاء کے درمیان اسنادات بھی تقسیم کی گئیں