مودی اور ٹرمپ: ہم ہی سے محبت ہم ہی سے لڑائی

مودی اور ٹرمپ:  ہم ہی سے محبت ہم ہی سے لڑائی

مودی اور ٹرمپ:
ہم ہی سے محبت ہم ہی سے لڑائی

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

 

ایران اور امریکہ جنگ کے براہ راست اثرات ہندوستان تک پہنچ گئے ۔ ہندوستانی وزارتِ خارجہ نے امریکہ پر الزام لگایا کہ اس نے عمان کے شِناس بندرگاہ کے قریب ہندوستانی ملاحوں کو لے جانے والے تیسرے جہاز کو نشانہ بنایا ۔ یہ حملہ گنی بِساؤ کے پرچم بردار جہاز ایم ٹی جَل ویر پر کیا گیا جس میں 20 ہندوستانی ملاح سوار تھے۔ایک پریس کانفرنس کے دوران وزارتِ خارجہ نے مان لیا کہ سیٹبیلو، میریویکس اور جَل ویر پر ہونے والے تینوں حملے ’امریکی بحریہ‘ کی جانب سے کیے گئے تھے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی سیٹبیلو اور میریویکس پر حملوں کی تصدیق کی ۔ رپورٹس کے مطابق 10 جون کوجب سیٹبیلو نامی جہاز پر حملہ ہوا تو اس پر 24 بھارتی سوار تھے۔ ان میں سے 21 کو بچا یا جاسکا مگر تین جان بحق ہوگئے ۔ہماچل پردیش کا 23 سالہ بھارتی ملاح آدتیہ شرما بھی ان میں سے ایک تھا۔ آدتیہ کا قصوریہ تھا کہ وہ ایک ایسے آئل ٹینکر پر خدمات انجام دے رہا تھا جسے ایرانی تیل کی نقل و حمل کے الزام میں امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے نشانہ بنایا گیا ۔وہ ہماچل پردیش کے ضلع ہمیر پور کا باشندہ تھا ۔
آدتیہ شرما چونکہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا اس لیے شرما خاندان شدیدکرب و غم میں مبتلا ہے۔ اب وہ مرکزی و ریاستی حکومت سےآخری رسومات کی ادا ئیگی کے لیے آدیتیہ کی لاش واپس لانے کا مطالبہ کررہا ہے لیکن اسی کے ساتھ مہلوک کے والد راجیش شرما سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیاہے ۔سماجی ذرائع ابلاغ کےصارفین نے کہ جب راجیش شرما کے ماضی میں لکھے جانے والے ایکس (ٹوئٹر) اور فیس بک کے پیغامات دیکھے تو لوگوں کی ان سے ہمدردی ہوا ہوگئی کیونکہ موصوف فلسطین غزہ سمیت عام مسلمانوں کے خلاف سخت اور اشتعال انگیز تبصرے کرتے رہے ہیں۔ بعض صارفین ان کے پیغامات کا حوالہ دے کر غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں پر راجیش شرما کی خوشی کے اظہار کو پیش کیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ اسرائیل کی ظالمانہ کارروائیوں کی خوب حمایت کرتے تھے۔ ان الزامات کی تائید میں صارفین نے مختلف پلیٹ فارمز پر اسکرین شاٹس بھی شیئر کئے۔ پہلے تو کسی نے راجیش شرما کی جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی مگر آدتیہ شرما کی ہلاکت کے بعد ان کے سابقہ بیانات کا حوالہ سے شدید ردِعمل آنا شروع ہوگیا ۔ متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ جنگ نفرت اور تشدد کا درد بالآخر ہر انسان اور ہر خاندان تک پہنچتا ہے خواہ اس کا مذہب قومیت یا نظریہ کچھ بھی ہو۔
یہ سانحہ اس لیے اہم ہے کہ راجیش شرما کو مسلم دشمنی کے سبب اسرائیل بے پناہ محبت تھی ۔ اس نے ایک بار یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ امن کے قیام واحد صورت یہی ہے کہ اب اسرائیل پورے غزہ سے مسلمانوں کا نام نشان مٹا کر اسے غیر مسلم علاقہ بنادے ۔ موساد اور آئی ڈی ایف یعنی اسرائیلی فوج کو مبارکباد ۔ بہترّ ہزار لوگوں کا قتل عام جس میں بڑی تعداد بے قصور خواتین اور بچوں کی تھی اس سنگدل کے اندر ہمدردی کے جذبات نہیں پیدا کرسکا ۔ وہ کھلے عام سوشیل میڈیا اس نسل کشی کا جشن مناتا رہا۔ آدیتیہ اگر حماس یا ایران کے ہاتھوں ہلاک ہوتا تو وہ کہتا کہ اسی لیے اس نے اسرائیل کو وہ مشورہ دیا تھا مگر یہ قسمت کی ستم ظریفی دیکھیں کہ اسرائیل کے سرپرست ِ اعلیٰ امریکہ بہادر نے اس سے نوجوان بیٹا چھین لیا ۔ اس لیے پھر ایک بار پھر یہ سوال کھڑا ہوگیا کہ کیا جنگوں اور تنازعات میں ہونے والی انسانی جانوں کی تباہی کو سیاسی یا مذہبی عینک سے دیکھناچاہیے؟ معصوم جانوں کا نقصان چاہے غزہ میں ہو یا کہیں اورکیا اس میں تفریق و امتیاز مناسب ہے؟ کیا کسی انسانی المیےپر خوشی منانا بلکہ اس پرخاموش رہنا بھی انسانی اقدار کے منافی نہیں ہے؟ راجیش شرما کے لیے اس کے چہیتے رہنما ہندو ہردیہ سمراٹ مودی جی نے ہمدردی کا ایک لفظ کہنا بھی گوارہ نہیں کیا ۔
مثل مشہور ہے’ روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا‘۔ بظاہر کسی سربراہ مملکت کا اس قدر بے حس و سفاک ہوجانا قبلِ یقین نہیں ہے لیکن جب وزیر اعظم نریندر مودی کو مسلسل تین دنوں تک تین ہندوستانی جہاز رانوں پر امریکی حملے کے باوجود صدر ٹرمپ کی مبارکباد کا شکریہ ادا کرتے دیکھا تو نیرو بھی بونا نظر آیا یعنی مودی جی نہرو تو دور نیرو سے بھی آگے نکل گئے۔ موصوف 2014 میں اپنے عہدے پر منتخب ہوئے تھے۔اس طرح گزشتہ بدھ کو انہوں نے مسلسل 4,399 دن وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر چپکےرہ کر ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہرلعل نہرو کا ریکارڈتوڑ دیا ۔ ویسے جواہر لعل تو اس کے پہلے سے وزیر اعظم تھے مگر منتخبہ نہیں تھے اور وزیر اعظم اندرا گاندھی بھی زیادہ دنوں تک وزیر اعظم رہیں مگر درمیان میں توقف ہوگیاتھا اس لیے یہ اعزاز بلاتوقف اور منتخبہ کی شرائط کا محتاج ہے۔ ویسے ان تفصیلات میں جائے بغیر چار دانگِ عالم میں مودی جشن منایا جارہا ہے۔ بی جے پی کامیابی کے شادیانے بجانا شروع کیاتو سونے پہ سہاگہ کی مانند د یگر عالمی رہنماوں کے ساتھ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی مبارک باد ی کے پیغام بھی واردہوگیا ۔بس پھر کیا تھا پی ایم مودی نے موقع غنیمت جان کر امریکی صدر کی پوسٹ کا بڑے جوش و خروش سے جواب دے دیا ۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے صدر ٹرمپ کے جواب میں لکھا ، آپ کی پُرتپاک نیک خواہشات کے لیے شکریہ۔ میں دونوں ممالک اور پوری دنیا کے فائدے کے لیےہندوستان -امریکہ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کے لیے آپ کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں۔ یہ جملہ لکھتے ہوئے مودی جی کو یہ خیال ہی نہیں آیا اسی دن امریکی فوج نے حملہ کرکے ہندوستان کے تین جہازرانوں کو ہلاک کردیا ۔ ایسے میں ہندوستانی جہازوں یا ملاحوں پر لگاتا ر حملہ کرنے والے ملک سے تزویرانی شراکت داری دوستی ہے یا سپرڈال دینا ؟ ایسے میں اگر حزب اختلاف کے رہنما ’نریندر سرینڈر‘ کہتے ہیں تو کیا غلط ہے؟ وزیر اعظم نریندر مودی دراصل امریکی صدرٹرمپ کے ذریعہ انہیں ایک عظیم رہنما کے خطاب سے نوازے جانے اور مزید کامیابی کی خواہش کے اظہار سے خوش ہوکر آبنائے ہر مز کے قریب ہونے والے حملوں کوبھول گئے ۔ ٹرمپ نے لکھاکہ’’ میرے دوست پرائم منسٹر نریندر مودی کو بھارت کا طویل ترین عرصہ خدمات انجام دینے والے وزیر اعظم بننے پر مبارک باد اور وہ واقعی ایک عظیم رہنما ہیں! وہ ایک مضبوط، صحت مند اور دانش مند انسان ہیں اور ان کے سامنے عظمت اور کامیابی کے کئی سال ہیں!‘‘ ٹرمپ کے شکریہ میں مودی یہ نغمہ لکھ بھیجنا چاہیے تھا؎
ہم ہی سے محبت ہم ہی سے لڑائی ارے مارڈالا دہائی دہائی
ہمیں ٹرمپ کی ہر ادا ہے گوارہ ٹرمپوں کا غصہ بھی لگتا ہے پیارا
ادھر تم نے تیر ِنظر دل پے مارا ادھر ہم نے بھی جان پر چوٹ کھائی
سچ تو یہ ہے کہ خلیج فارس میں ہونے والے حملوں سے آنکھیں موند کر وزیر اعظم مودی نے خود اپنے عمل سے دانشمندی اور مضبوطی کے دعویٰ کی تردید فرما دی ۔ ویسے ٹرمپ کوتو ایسے ہی اطاعت گزار اور فرمانبردار رہنماوں کی ضرورت ہے جو ان کے ہر ظلم و ستم کو ہنستے ہوئے سہہ جائیں اور اُف تک نہ کہیں۔ عام طور پر چین اگر اروناچل پر دیش کی سرحد پر دراندازی کرلے یا امریکہ کی جانب سے کوئی نامعقول پابندی یا ٹیرف مسلط کردی جائے تو حکومت ہند اس کو نظر انداز کردیتی ہے مگر موجودہ صورتحال اتنی سنگین ہو گئی کہ مودی نہ سہی ان کی حکومت کو اس پر ردعمل کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
اقوام متحدہ می ہندوستانی سفیر پی ہریش کو چاہیے تھا کہ وہ اسے عالمی سطح پر اٹھا کر امریکہ کی مذمت کرتے مگر انہوں نے صرف تنازع پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں اضافہ نہ کریں اور شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیں۔انہوں نے تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کی سخت مذمت تو کی مگر حملہ آور کا نام نہیں لیا۔ وہ بولے ہندوستان ان حملوں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے کیونکہ کئی ہندوستانی شہری عالمی میری ٹائم شعبے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان میں سے متعدد ملاح مختلف حملوں کے نتیجے میں جان کی بازی ہار چکے ہیں یا لاپتہ ہیں۔ اس بابت موصوف نےامریکہ کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائےخطے کے ممالک کو بحری جہازوں اور مواصلاتی سمندری راستوں پر کیے جانے والے حملوں کا الزام ٹھو نک دیا ۔ انہوں نے مودی جی کی مانند پروچن دیتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی تباہی، اموات اور معمولات زندگی و معاشی سرگرمیوں کا تعطل، ہندوستان جیسے قریبی ہمسایہ ملک کو شدید طور پر متاثر کر رہا ہے۔ان کے مطابق اس خطے کے امن و استحکام سے ہندوستان کے بنیادی مفادات وابستہ ہیں۔ وہ بولے خلیجی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی شہری رہتے اور کام کرتے ہیں، اور ان کی حفاظت اور فلاح و بہبود ہندوستان کی اولین ترجیح ہے لیکن وہ نہیں جانتے کہ مودی جی کو اپنا اقتدار اور اڈانی و امبانی کا مفادسب سے زیادہ عزیز ہے۔
)۰۰۰۰۰جاری)

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے