اترپردیش کی سیاسی، تعلیمی اور قانونی تاریخ میں محمد علی جوہر یونیورسٹی، رامپور ایک ایسا ادارہ ہے جو اپنے قیام کے ابتدائی مراحل ہی سے مسلسل مختلف قانونی، انتظامی اور سیاسی مباحث کا محور رہا ہے۔ اس ادارے کے گرد گردش کرنے والے تنازعات نے نہ صرف ریاستی سیاست بلکہ ملک کے تعلیمی حلقوں اور قانونی ماہرین کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول رکھی ہے۔ حالیہ پیش رفت میں یونیورسٹی کو ایک ہی دن میں دو ایسے قانونی مواقع میسر آئے ہیں جنہیں اگرچہ حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جاسکتا تاہم یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ان سے ادارے کو اپنی قانونی جدوجہد جاری رکھنے کے لیے ایک قابلِ لحاظ مہلت اور موقع حاصل ہوا ہے۔
مرادآباد کے ڈویژنل کمشنر کی جانب سے یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کے انہدام کے حکم پر فی الحال روک لگا دینا اور دوسری جانب الٰہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے معاملے کو متعلقہ رجسٹرار کے سامنے قانونی طریقہ کار کے مطابق پیش کرنے کی ہدایت، دونوں فیصلے اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ کسی بھی بڑے انتظامی یا تعلیمی تنازع میں قانونی ضابطوں اور فطری انصاف کے اصولوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگرچہ دونوں فیصلوں سے یونیورسٹی کو وقتہ اطمینان ضرور ملا ہے، لیکن یہ معاملہ ابھی اپنی آخری قانونی منزل تک نہیں پہنچا۔
رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اترپردیش ٹاؤن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1973 کی دفعہ 27(1) کے تحت کارروائی کرتے ہوئے یونیورسٹی کی چالیس میں سے اڑتیس عمارتوں کو غیر مجاز قرار دیا اور انہیں منہدم کرنے کا حکم صادر کیا۔ اتھارٹی کا موقف یہ تھا کہ دستیاب ریکارڈ، نقشوں اور تعمیراتی منظوریوں کے جائزے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ مذکورہ عمارتیں مقررہ قانونی تقاضوں کے مطابق تعمیر نہیں کی گئیں۔ اس حکم کے منظر عام پر آتے ہی تعلیمی حلقوں میں بے چینی پیدا ہوئی اور یونیورسٹی کے طلبہ نے بھی اس کارروائی کے خلاف احتجاج شروع کردیا۔ یہ امر اپنی جگہ اہم ہے کہ کسی بھی ترقیاتی اتھارٹی کو اگر قانون کے مطابق کسی تعمیر کو غیر قانونی قرار دینے کا اختیار حاصل ہے تو اسی طرح متاثرہ فریق کو بھی اپیل، نظر ثانی اور قانونی چارہ جوئی کا مکمل حق حاصل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے متعلقہ فورم سے رجوع کیا اور مرادآباد کے ڈویژنل کمشنر کے سامنے انہدامی کارروائی پر روک لگانے کی درخواست پیش کی۔ کمشنر نے ابتدائی طور پر اس درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے انہدامی کارروائی پر فی الحال روک لگا دی جس کے نتیجے میں فوری انہدام کا خطرہ ٹل گیا۔ یہ حکم اگرچہ عارضی نوعیت کا ہے تاہم اس کی قانونی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انتظامی اپیل کے مرحلے پر متعلقہ حکام نے معاملے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت محسوس کی ہے۔ اب اس مقدمے کی آئندہ سماعت مرادآباد ڈویژنل کمشنر کی عدالت میں ہوگی جہاں دونوں فریق اپنے اپنے دلائل، دستاویزات اور قانونی نکات پیش کریں گے۔ انہدامی کارروائی کا مستقبل اسی سماعت کے بعد ہونے والے فیصلے سے وابستہ ہوگا۔
اسی روز ایک دوسری اہم قانونی پیش رفت الٰہ آباد ہائی کورٹ میں سامنے آئی جہاں مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور ایک دیگر درخواست گزار کی جانب سے دائر رِٹ پٹیشن پر سماعت ہوئی۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے براہِ راست مداخلت کی استدعا کی تھی تاہم ریاستی حکومت کی جانب سے یہ ابتدائی اعتراض پیش کیا گیا کہ درخواست ایسے فرد کی جانب سے دائر کی گئی ہے جو نہ یونیورسٹی کا رجسٹرار ہے اور نہ ہی کوئی ایسا مجاز عہدیدار جسے ادارے کی نمائندگی کا اختیار حاصل ہو۔
ریاستی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار محمد یوسف ایک کاروباری شخصیت ہیں اور ان کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو یونیورسٹی کی سرکاری یا قانونی درخواست تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اس اعتراض نے مقدمے کا رخ قانونی اہلیت اور اختیار کے سوال کی طرف موڑ دیا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد یہ مناسب سمجھا کہ اس مرحلے پر براہِ راست عدالتی مداخلت کے بجائے پہلے متعلقہ انتظامی اتھارٹی اس معاملے کا جائزہ لے۔ جسٹس سوربھ شیام شمشیری نے اپنے حکم میں کہا کہ درخواست گزار تین ہفتوں کے اندر اپنی نمائندگی متعلقہ رجسٹرار کے سامنے پیش کریں۔ رجسٹرار کو ہدایت دی گئی کہ وہ تمام متعلقہ فریقین کو سننے، دستیاب ریکارڈ، قانونی دفعات اور سابقہ عدالتی نظائر کا جائزہ لینے کے بعد قانون کے مطابق ابتدائی فیصلہ صادر کریں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کردیا کہ موجودہ مرحلے پر رِٹ دائر کرنے کے بجائے پہلے انتظامی فورم سے رجوع کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔
اس فیصلے کو بعض حلقوں نے یونیورسٹی کے حق میں ایک مثبت پیش رفت قرار دیا، جبکہ قانونی ماہرین کے نزدیک عدالت نے کسی بھی فریق کے حق یا مخالفت میں کوئی حتمی اظہارِ رائے نہیں کیا بلکہ صرف قانونی طریقۂ کار پر عمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس اعتبار سے یہ فیصلہ فریقین کو اپنے اپنے دلائل متعلقہ فورم پر پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
محمد علی جوہر یونیورسٹی گزشتہ کئی برسوں سے مختلف نوعیت کے مقدمات، زمین کے تنازعات، انتظامی کارروائیوں اور قانونی جانچ پڑتال کا سامنا کرتی رہی ہے۔ ان تنازعات کے باعث نہ صرف ادارے کی انتظامیہ بلکہ وہاں زیرِ تعلیم طلبہ بھی مسلسل غیر یقینی کیفیت سے دوچار رہے ہیں۔ ہر نئی کارروائی کے ساتھ یہ سوال شدت اختیار کرجاتا ہے کہ آیا اس تعلیمی ادارے کا مستقبل معمول کے مطابق آگے بڑھ سکے گا یا نہیں۔ تعلیمی ادارے ہزاروں طلبہ کے علمی مستقبل، اساتذہ کی پیشہ ورانہ وابستگی اور سماجی ترقی کے مراکز ہوتے ہیں۔ اسی لیے جب کسی یونیورسٹی کے خلاف بڑے پیمانے پر انتظامی کارروائی کی جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف انتظامیہ تک محدود نہیں رہتے بلکہ طلبہ، والدین اور پورے تعلیمی ماحول پر مرتب ہوتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ عدالتیں اور انتظامی فورمز ایسے معاملات میں قانونی ضابطوں کے ساتھ ساتھ فطری انصاف کے اصولوں کو بھی ملحوظ رکھتی ہیں۔
دوسری طرف یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ اگر کسی تعمیر یا ادارے میں قانونی بے ضابطگیاں موجود ہوں تو ان کا جائزہ لینا اور قانون کے مطابق کارروائی کرنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ قانون کی حکمرانی اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب اس کا اطلاق تمام افراد اور اداروں پر یکساں طور پر ہو۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کارروائی کا ہر مرحلہ قانونی تقاضوں، شفافیت اور مناسب سماعت کے اصولوں کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ کسی فریق کو ناانصافی کا احساس نہ ہو۔ مرادآباد کے ڈویژنل کمشنر کی جانب سے دی گئی عبوری راحت اور الٰہ آباد ہائی کورٹ کی ہدایت کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ دونوں فورمز نے کسی بھی فریق کے حق میں قطعی فیصلہ صادر کرنے کے بجائے قانونی عمل کو مکمل ہونے کا موقع دیا ہے۔ اس سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ عدالتیں اور انتظامی ادارے جلدبازی کے بجائے مکمل قانونی عمل کو ترجیح دیتے ہیں۔ آئندہ چند ہفتے اس پورے معاملے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایک طرف مرادآباد ڈویژنل کمشنر کے روبرو انہدامی کارروائی سے متعلق اپیل زیرِ سماعت ہوگی، جبکہ دوسری جانب متعلقہ رجسٹرار درخواست گزاروں کی نمائندگی پر قانونی فیصلہ صادر کریں گے۔ ان دونوں مراحل کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ یونیورسٹی کو حاصل ہونے والی موجودہ راحت مستقل قانونی کامیابی میں تبدیل ہوتی ہے یا معاملہ مزید اعلیٰ عدالتی فورمز تک پہنچتا ہے۔ اس وقت دستیاب صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کو اگرچہ ایک ہی دن میں دو اہم قانونی راحتیں ضرور ملی ہیں، لیکن یہ دونوں راحتیں عبوری اور طریقۂ کار سے متعلق ہیں، نہ کہ حتمی نوعیت کی۔ اس لیے نہ اسے مکمل کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی تنازع کے اختتام کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔ اب نظریں مرادآباد ڈویژنل کمشنر کی آئندہ سماعت اور متعلقہ رجسٹرار کے فیصلے پر مرکوز ہیں، کیونکہ انہی دونوں مراحل کے بعد اس اہم قانونی تنازع کی آئندہ سمت متعین ہوگی۔ قانون کی بالادستی، شفاف انتظامی عمل اور منصفانہ سماعت ہی اس معاملے کے پائیدار اور قابلِ قبول حل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com