Gen-Z کے دور میں AI اور دینی رہنمائی: سہولت یا احتیاط؟

Gen-Z کے دور میں AI اور دینی رہنمائی: سہولت یا احتیاط؟

Gen-Z کے دور میں AI اور دینی رہنمائی: سہولت یا احتیاط؟

از قلم: محمد طارق اطہر حسین
جامعہ دار الہدیٰ الاسلامیہ، کیرالہ

موجودہ دور ترقی، جدت اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ آج کا انسان اپنی زندگی کے ہر شعبے میں آسانی، سرعت اور سہولت کا خواہاں ہے۔ ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا کام کم سے کم وقت اور محنت میں مکمل ہو جائے، اسی لیے وہ ہر اس راستے کو اختیار کرتا ہے جو اسے آسان اور مختصر دکھائی دیتا ہے۔ بظاہر یہ رجحان عقل و قیاس کے بھی موافق معلوم ہوتا ہے، لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ انسان سہولت کی تلاش میں اکثر اس بات پر غور نہیں کرتا کہ جس ذریعہ کو وہ اختیار کر رہا ہے، وہ حقیقتاً درست بھی ہے یا نہیں، اس کے نتائج قابلِ اعتماد ہیں یا نہیں، اور اس کے ممکنہ اثرات کیا ہوں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ زمانہ نت نئی ایجادات اور بے شمار سہولیات کا زمانہ ہے۔ انسان کے پاس ہر کام کے لیے متعدد ذرائع موجود ہیں، مگر بسا اوقات سستی، کاہلی اور جلد بازی کے باعث وہ تحقیق و تنقیح کے بجائے صرف آسان راستے کو اختیار کر لیتا ہے، حالانکہ ہر آسان راستہ ضروری نہیں کہ درست اور محفوظ بھی ہو۔ یہی بے احتیاطی بعض اوقات علمی، فکری اور دینی اعتبار سے سنگین نتائج کا سبب بن جاتی ہے۔

نئی نسل (Gen-Z) اور سہولت پسندی

آج کی نوجوان نسل، جسے دنیا "جنریشن زی (Gen-Z)” کے نام سے جانتی ہے، جدید ٹیکنالوجی سے غیر معمولی طور پر وابستہ ہے۔ اس نسل کی ایک بڑی تعداد یہ چاہتی ہے کہ ہر کام چند لمحوں میں، اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے انجام پا جائے اور انہیں زیادہ محنت یا تحقیق کی ضرورت پیش نہ آئے۔ اسی مقصد کے لیے وہ انٹرنیٹ پر موجود مختلف مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی پلیٹ فارمز سے رجوع کرتی ہے۔بلاشبہ یہ پلیٹ فارمز معلومات تک فوری رسائی فراہم کرتے ہیں، لیکن اگر ان سے حاصل ہونے والی معلومات کو تحقیق اور تصدیق کے بغیر قبول کر لیا جائے تو بعض اوقات نتائج حقیقت کے بالکل برعکس بھی ہو سکتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے نوجوان اس پہلو پر توجہ نہیں دیتے اور جو جواب انہیں مل جاتا ہے، اسی کو حتمی اور مستند سمجھ لیتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے معروف پلیٹ فارمز

آج کل مصنوعی ذہانت کے متعدد پلیٹ فارمز عام استعمال میں ہیں، جن میں ChatGPT، Gemini، Claude AI، Perplexity AI، Grok AI، DeepSeek اور دیگر بے شمار ذرائع شامل ہیں۔ یہ تمام پلیٹ فارمز معلومات کی فراہمی میں معاون ثابت ہوتے ہیں اور بہت سے شعبوں میں مفید بھی ہیں، لیکن ان کی فراہم کردہ معلومات کو ہر حال میں قطعی اور مستند سمجھ لینا درست نہیں، کیونکہ ان میں غلطی، ادھوری معلومات یا سیاق و سباق سے ہٹ کر جواب آنے کا امکان موجود رہتا ہے۔

دینی علوم میں احتیاط کی ضرورت

خصوصاً جب معاملہ اسلامی علوم کا ہو، خواہ وہ علمِ کلام سے متعلق ہو، فقہ و فتاویٰ کا ہو، تفسیر، حدیث یا عقائد کا، تو محض مصنوعی ذہانت کے جوابات پر اعتماد کرنا مناسب نہیں۔ یہ پلیٹ فارمز بعض اوقات درست رہنمائی فراہم کرتے ہیں، لیکن بعض مواقع پر غلط، ناقص یا غیر مستند معلومات بھی پیش کر سکتے ہیں، خصوصاً اگر سوال پیچیدہ، اختلافی یا فقہی جزئیات سے متعلق ہو۔
افسوس یہ ہے کہ بہت سے نوجوان ان جوابات کی تحقیق کیے بغیر انہیں آگے نقل کر دیتے ہیں یا دوسروں کے سامنے بطور دلیل پیش کر دیتے ہیں۔ اگر ایسا جواب حقیقت کے خلاف ہو اور اسے دینِ اسلام کی طرف منسوب کر دیا جائے تو یہ نہ صرف علمی بددیانتی کا باعث بن سکتا ہے بلکہ دینی اعتبار سے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت کو صرف ایک معاون ذریعہ سمجھا جائے، نہ کہ شریعت اور دینی احکام کا آخری اور قطعی ماخذ۔ دینی مسائل میں قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ، معتبر فقہی کتب اور مستند اہلِ علم و مفتیانِ کرام کی طرف رجوع کرنا ہی صحیح اور محفوظ راستہ ہے۔ اگر AI سے کوئی دینی معلومات حاصل کی جائیں تو انہیں لازماً معتبر علمی مصادر سے جانچ لیا جائے، تاکہ کسی غلطی یا گمراہی کا اندیشہ باقی نہ ہو۔
مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارمز سے شرعی مسئلے پوچھنے کی شرعی حیثیت
شرعی مسائل کا درست اور معتبر حل محض کسی سوال کے ظاہری الفاظ جان لینے سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے مسئلے کی مکمل نوعیت، تمام متعلقہ تفصیلات، سائل کے حالات، زمان و مکان، عرف و رواج، اور بعض اوقات فقہی اختلافات کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اسی طرح بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حکم سائل کی نیت، مجبوری، حالات اور دیگر قرائن کے بدلنے سے مختلف ہو جاتا ہے۔ ان تمام پہلوؤں کا صحیح جائزہ لے کر قرآن و سنت، اجماع اور فقہی اصولوں کی روشنی میں درست حکم بیان کرنا صرف ایک ماہر اور مستند عالمِ دین یا مفتی کا کام ہے۔ اسی لیے شریعتِ اسلامیہ نے دینی احکام اور شرعی مسائل میں اہلِ علم کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾{سورة النحل (الآية 43) یعنی: اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو۔۔ "۔
” اس لیے شرعی رہنمائی کے لیے مستند علماء اور مفتیانِ کرام سے رجوع کرنا ہی شرعاً مطلوب اور محفوظ طریقہ ہے۔
جہاں تک ChatGPT اور دیگر مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) پر مبنی پلیٹ فارمز سے شرعی مسائل پوچھنے کا تعلق ہے تو ان پر اعتماد کر کے فتویٰ یا حتمی شرعی حکم لینا درست نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ نظام مختلف النوع اور متنوع معلومات کی بنیاد پر جوابات تیار کرتے ہیں، جن میں صحیح و غلط، معتبر و غیر معتبر، اور مختلف مکاتبِ فکر کی آراء یکجا موجود ہو سکتی ہیں۔ یہ پلیٹ فارمز ازخود کسی مذہبی موقف کی صحت کا شرعی معیار کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے، بلکہ اپنے تربیتی مواد اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر متن تیار کرتے ہیں۔ اس لیے یہ امکان موجود رہتا ہے کہ کسی شرعی مسئلے میں غیر معتبر، کمزور یا کسی خاص مکتبِ فکر کی رائے جواب میں شامل ہو جائے، جسے عام قاری صحیح اور قطعی شرعی حکم سمجھ لے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے ذرائع کو شرعی فتویٰ کا مستقل اور قابلِ اعتماد ماخذ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مزید یہ کہ فتویٰ دینا محض معلومات نقل کرنے کا نام نہیں، بلکہ ایک علمی و اجتہادی عمل ہے، جس میں قرآن و حدیث، فقہی اصول، ائمہ مجتہدین کی آراء، سائل کے حالات اور دیگر متعلقہ امور کو یکجا کر کے حکم بیان کیا جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ فقہائے کرام نے غیر ماہر شخص سے دینی مسائل دریافت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ مشہور تابعی حضرت امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا ارشاد ہے: "إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ، فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ): أخرجه مسلم في مقدمة الصحيح (1/16
” یعنی”یہ علم، دین ہے، غور سے دیکھو تم کس سے حاصل کر رہے ہو؟“ اس ارشاد سے واضح ہوتا ہے کہ دینی رہنمائی ہمیشہ ایسے اہلِ علم سے حاصل کرنی چاہیے جو علمی صلاحیت، دیانت اور شرعی اہلیت رکھتے ہوں۔
یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ خود ChatGPT اور اس جیسے دیگر AI پلیٹ فارمز اپنے جوابات کو حتمی شرعی فتویٰ قرار نہیں دیتے، بلکہ واضح کرتے ہیں کہ ان کے جوابات معلوماتی نوعیت کے ہیں اور دینی یا قانونی معاملات میں مستند ماہرین سے رجوع کیا جانا چاہیے۔ اس اعتراف سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان ذرائع کو شرعی احکام کے قطعی اور معتبر ماخذ کے طور پر اختیار کرنا درست نہیں۔
رہا یہ سوال کہ ہر شخص اپنی فقہی مسلک کے مستند علماء و مفتیان سے ہی کیوں رجوع کرے؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن و حدیث سے براہِ راست احکام کا استنباط ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لیے علومِ قرآن، علومِ حدیث، اصولِ فقہ، اصولِ حدیث، ناسخ و منسوخ، لغتِ عرب، صرف، نحو، بلاغت، منطق اور دیگر متعدد علوم میں گہری مہارت درکار ہوتی ہے۔ اسی بنا پر امتِ مسلمہ میں ائمۂ مجتہدین اور فقہائے کرام نے ان اصولوں کی روشنی میں مسائل کی تفصیل بیان کی ہے، اور عام مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے دینی مسائل میں مستند اہلِ علم اور اپنے فقہی مسلک کے قابلِ اعتماد علماء و مفتیان کی رہنمائی پر عمل کریں۔ یہی طریقہ شرعاً زیادہ محفوظ، محتاط اور امت کے تعامل کے مطابق ہے۔
قرآن پاک میں ہے: ﴿فَسْــٴَـلُـوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْن ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اے لوگو! اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو۔ (القرآن، سورة النحل، پارہ 14، آیت: 43)
اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر روح المعانی میں ہے: ”و استدل بھا ایضاً علی وجوب المراجعۃ للعلماء فیما لا یعلم‘‘ ترجمہ: اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ جس چیز کا علم نہ ہو، اس میں علماء سے رجوع کرنا واجب ہے۔ (تفسیر روح المعانی، سورۃ النحل، تحت الآیۃ: 43، ج 7، ص 387، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
سنن ابی داؤد میں ہے: "قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: من أفتي بغير علم كان إثمه على من أفتاه” ترجمہ: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے بِغیر علم کے فتویٰ دیا تو اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہے۔ (سنن ابی داؤد، جلد 03، صفحہ 321، حدیث: 3657، المكتبة العصرية، بيروت)
حکیمُ الامت حضرتِ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: "اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں: ایک یہ کہ جو شخص علماء کو چھوڑ کر جاہلوں سے مسئلہ پوچھے اور وہ غلط مسئلہ بتائیں تو پوچھنے والا بھی گنہگار ہوگا کہ یہ عالم کو چھوڑ کر اس کے پاس کیوں گیا نہ یہ پوچھتا نہ وہ غلط بتاتا اس صورت میں اَفتٰی بمعنی اِستَفتٰی ہے۔ دوسرے یہ کہ جس شخص کو غلط فتویٰ دیا گیا تو اس کا گناہ فتوےٰ دینے والے پر ہے اس صورت میں پہلا افتِی مجہول ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ بے علم کو مسئلہ شرعی بیان کرنا سخت جرم ہے۔” (مرآۃ المناجیح، جلد 01، صفحہ 212،
قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ دین کے ایسے مسائل جن کا علم عام مسلمان کو خود حاصل نہ ہو، ان میں اہلِ علم اور فقہائے کرام کی طرف رجوع کرنا شرعاً مطلوب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ نساء میں اہلِ ایمان کو اللہ، اس کے رسول ﷺ اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا، جبکہ مفسرین نے "اولی الامر” سے فقہاء اور علماء مراد لیے ہیں۔ اسی طرح سورۂ انبیاء میں ارشاد فرمایا: ﴿فَسْئَلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴾) سورة النحل (الآية 43)
یعنی اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو۔۔ مفسرینِ کرام نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ عام مسلمانوں کے لیے دینی و فقہی مسائل میں اہلِ علم کی رہنمائی اختیار کرنا اور مجتہدین کی تقلید کرنا جائز بلکہ ضرورت کے درجے میں ہے۔
اسی مضمون کی تائید احادیثِ نبویہ سے بھی ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "ألا سألوا إذ لم يعلموا فإنما شفاء العي السؤال”، کیوں نہ پوچھا جب معلوم نہ تھا کہ مرض جہل (لا علمی) کی شفا سوال ہی ہے۔ (سنن ابی داؤد، جلد 1، صفحہ 93، حدیث 336، مکتبہ عصریہ، بیروت) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کو کسی شرعی مسئلے کا علم نہ ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ خود رائے قائم کرنے کے بجائے اہلِ علم سے رجوع کرے۔ لہٰذا قرآن و سنت، اقوالِ صحابہ اور مفسرین و فقہاء کی تصریحات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ عام مسلمان کے لیے دینی احکام میں مستند علماء اور مجتہدین کی رہنمائی اختیار کرنا ہی شریعت کا مقرر کردہ اور محفوظ طریقہ ہے۔
اگر مصنوعی ذہانت کو اس کی حقیقی حیثیت سے بڑھا کر دین و شریعت کا فیصلہ کن مرجع بنا لیا گیا، تو اس کے نتائج نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ سہولت کی خاطر تحقیق کو ترک کرنا، مستند علماء سے بے نیازی اختیار کرنا، اور مصنوعی ذہانت کے ہر جواب کو بلا تحقیق قبول کر لینا ایک ایسا رویہ ہے جو رفتہ رفتہ علمی گمراہی، فکری انتشار اور دینی بے احتیاطی کا سبب بن سکتا ہے۔ جب دین کے مسائل میں صحیح اور غلط، معتبر اور غیر معتبر، اور حق و باطل کے درمیان تمیز ختم ہونے لگے تو انسان شعوری یا لاشعوری طور پر ایسے راستے پر چل پڑتا ہے جس کا انجام دنیا و آخرت دونوں کے اعتبار سے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ ٹیکنالوجی کبھی عالمِ دین کا نعم البدل نہیں بن سکتی، نہ ہی مصنوعی ذہانت اجتہاد، افتاء اور شرعی رہنمائی کا مقام حاصل کر سکتی ہے۔ جو قومیں سہولت کو حقیقت پر، اور رفتار کو تحقیق پر ترجیح دیتی ہیں، وہ آخرکار اپنی علمی بنیادوں سے محروم ہو جاتی ہیں۔ اگر ہم نے دین کے باب میں بھی یہی روش اختیار کی تو آنے والی نسلوں کے لیے حق اور باطل، سنت اور بدعت، اور صحیح و غلط کے درمیان امتیاز کرنا دشوار ہو جائے گا۔
لہٰذا وقت کا تقاضا یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت سے فائدہ ضرور اٹھایا جائے، مگر اسے اس کی حدود میں رکھا جائے۔ دینِ اسلام کی بنیاد آج بھی وہی ہے جو چودہ سو سال پہلے تھی: قرآنِ کریم، سنتِ رسول ﷺ، اجماعِ امت، معتبر فقہی ذخیرہ اور مستند اہلِ علم کی رہنمائی۔ انہی مصادر سے وابستگی میں سلامتی ہے، اور انہی سے بے رغبتی علمی انحطاط اور دینی خسارے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھ کر اس پر عمل کرنے اور باطل کو باطل جان کر اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اگر اس فقیرِ ناچیز سے اس تحریر میں کسی قسم کی کوئی غلطی، لغزش یا کوتاہی سرزد ہوئی ہو تو اللہ تعالیٰ اپنے محبوبِ کریم ﷺ کے صدقے و طفیل اسے معاف فرمائے آمین

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے