حجاب، مذہبی شناخت اور عالمی ضمیر .اصول یا دوہرا معیار؟

حجاب، مذہبی شناخت اور عالمی ضمیر  .اصول یا دوہرا معیار؟

حجاب، مذہبی شناخت اور عالمی ضمیر
اصول یا دوہرا معیار؟

✍️۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

دنیا میں انسان کی شناخت صرف اس کے نام، زبان یا قومیت سے نہیں بنتی، بلکہ اس کے عقیدے، تہذیب، ثقافت، لباس، طرزِ فکر اور اخلاقی اقدار سے بھی تشکیل پاتی ہے۔ ہر تہذیب نے اپنے مذہبی اور سماجی تصورات کے مطابق لباس اور طرزِ زندگی کو محض ظاہری زینت نہیں، بلکہ اپنی شناخت اور فکری وابستگی کی علامت سمجھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تقریباً ہر مذہب میں ایسے ظاہری شعائر موجود ہیں جو اس کے ماننے والوں کی انفرادی اور اجتماعی شناخت کو نمایاں کرتے ہیں۔ دنیا کے بڑے مذاہب میں مذہبی لباس کو روحانی وابستگی اور اخلاقی شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہودیوں میں حریدی اور دیگر قدامت پسند طبقات مخصوص لباس، سر ڈھانپنے اور مذہبی ہیئت کو اپنی دینی روایت کا حصّہ سمجھتے ہیں۔

عیسائیت میں راہباؤں اور بعض مذہبی فرقوں کا مخصوص لباس صدیوں سے احترام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ سکھ مذہب میں دستار اور پانچ ککار مذہبی شناخت کا حصّہ ہیں، جب کہ ہندو مت کے بعض سنیاسی مخصوص لباس اختیار کرتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مذہبی لباس کسی ایک مذہب کا منفرد تصور نہیں بلکہ انسانی تہذیب کی ایک مشترکہ مذہبی روایت ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی تصویر یا ویڈیو کو پہلی نظر میں دیکھ کر انسان ایک خاص تاثر قائم کر لیتا ہے۔ اگر کوئی مرد ڈھیلا ڈھالا روایتی جبہ پہنے ہو، اس کے ساتھ ایک باوقار پردہ نشین خاتون موجود ہو، اور ننھی بچیاں بھی مکمل جسم ڈھانپنے والے لباس میں ہوں، تو بہت سے لوگوں کے ذہن میں فوراً یہ خیال آتا ہے کہ شاید یہ کسی مسلمان خاندان کا منظر ہے۔ لیکن بعض اوقات حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔

ایسی ہی بہت سی تصاویر اور ویڈیوز میں نظر آنے والے خاندان دراصل یہودیوں کے الٹرا آرتھوڈوکس طبقے، یعنی حریدی سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ طبقہ مذہبی روایات پر سختی سے عمل کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک تورات اور تلمود کی تعلیمات زندگی کی بنیاد ہیں۔ مرد و خواتین کے اختلاط پر مختلف درجوں میں پابندیاں، باوقار لباس، شادی شدہ خواتین کے لیے سر ڈھانپنا، مردوں کا مخصوص مذہبی لباس، اور جدید سیکولر ثقافت سے حتی الامکان فاصلہ رکھنا ان کی مذہبی زندگی کا حصّہ ہے۔ اسی حریدی معاشرے کے اندر ایک قدامت پسند گروہ "نیشوت ہا شالیم” بھی پایا جاتا ہے، جس کی بعض خواتین سر سے پاؤں تک سیاہ برقع نما لباس اوڑھ کر مکمل پردہ اختیار کرتی ہیں۔ یہ طرزِ لباس پورے حریدی معاشرے کی نمائندگی نہیں کرتا، بلکہ ایک مخصوص گروہ کی مذہبی تعبیر اور طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے بہت سے تعلیمی ادارے بھی مذہبی نصاب پر مرکوز ہوتے ہیں، جہاں نئی نسل کی تربیت مذہبی روایات کے مطابق کی جاتی ہے۔

ان خاندانوں کو دیکھ کر ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ وہ اپنی مذہبی شناخت پر کسی احساسِ کمتری کا شکار دکھائی نہیں دیتے۔ جدید معاشرتی دباؤ، میڈیا کی تنقید یا سماجی رجحانات کے باوجود وہ اپنی روایات کو اپنی مذہبی ذمّہ داری سمجھ کر اختیار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مذہب صرف عبادت کا نام نہیں بلکہ مکمل طرزِ زندگی ہے۔ اگر کسی ویڈیو میں ایک ننھی بچّی اپنے روایتی لباس میں مسکراتی، کھیلتی یا خوشی کا اظہار کرتی ہوئی نظر آئے تو کم از کم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ایک مختصر منظر سے اس کے احساسات یا زندگی کے تمام پہلوؤں کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ایسے مناظر اس تصور کو ضرور چیلنج کرتے ہیں کہ مذہبی لباس پہننے والا ہر بچہ لازماً جبر کا شکار ہی ہوتا ہے۔ کسی فرد کے تجربے اور اس کی رضامندی کا فیصلہ محض لباس دیکھ کر نہیں کیا جا سکتا۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے مذہبی شعائر کو عالمی سطح پر یکساں معیار سے دیکھا جاتا ہے؟

یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ حجاب، مذہبی لباس اور مذہبی علامات کے بارے میں مختلف معاشروں میں مختلف رویے دیکھنے میں آتے ہیں۔ بعض مواقع پر غیر مسلم مذہبی برادریوں کے روایتی لباس کو "ثقافتی ورثہ”، "مذہبی آزادی” یا "روایتی شناخت” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جب کہ بعض اوقات مسلمان خواتین کے حجاب یا دیگر اسلامی شعائر پر گفتگو نسبتاً زیادہ تنقیدی زاویے سے کی جاتی ہے۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے ممالک، ادارے، عدالتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلمانوں کے مذہبی حقوق اور حجاب کی آزادی کے حق میں بھی آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ اس لیے تمام عالمی میڈیا یا تمام سیکولر حلقوں کے بارے میں ایک ہی عمومی فیصلہ دینا درست نہیں ہوگا، البتہ دوہرے معیار کے الزامات اور ان پر ہونے والی بحث ایک حقیقی علمی موضوع ضرور ہیں۔

دنیا کے مختلف ممالک میں مذہبی لباس کے بارے میں یکساں پالیسی موجود نہیں۔ بعض ممالک میں حجاب اور دیگر مذہبی علامات کے اظہار کو مذہبی آزادی کا حصّہ سمجھا جاتا ہے، جب کہ بعض ممالک میں سرکاری اداروں یا مخصوص عوامی مقامات پر مختلف نوعیت کی قانونی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان قوانین کے حق اور مخالفت میں عدالتی، آئینی اور انسانی حقوق کی سطح پر مسلسل بحث جاری رہتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف اسلام یا حجاب کا نہیں بلکہ مذہبی آزادی اور ریاستی پالیسی کے درمیان توازن کا بھی ہے۔

اصل مسئلہ لباس نہیں بلکہ اصول کا ہے۔ مذہبی آزادی صرف ایک اخلاقی تصور نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون میں بھی بنیادی انسانی حق تسلیم کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی اعلامیۂ حقوقِ انسانی (Universal Declaration of Human Rights) کے آرٹیکل 18 کے مطابق ہر انسان کو اپنے مذہب یا عقیدے کو اختیار کرنے، تبدیل کرنے، اس پر عمل کرنے اور انفرادی یا اجتماعی طور پر اس کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) بھی مذہبی آزادی کو بنیادی حق قرار دیتا ہے، اگرچہ بعض ریاستیں عوامی نظم، سلامتی یا دیگر قانونی بنیادوں پر مخصوص پابندیاں عائد کرتی ہیں، جن پر مختلف قانونی اور سماجی حلقوں میں بحث جاری رہتی ہے۔

اگر مذہبی آزادی ایک بنیادی انسانی حق ہے تو اس کا اطلاق ہر مذہب، ہر ثقافت اور ہر برادری پر یکساں ہونا چاہیے۔ اگر ایک یہودی، سکھ، عیسائی، ہندو یا بدھ مت کا ماننے والا اپنے مذہبی لباس کی بنیاد پر احترام کا مستحق ہے، تو ایک مسلمان بھی اسی اصول کے تحت اپنی مذہبی شناخت کے اظہار کا حق رکھتا ہے، بشرطیکہ اس کا طرزِ عمل پُرامن ہو اور دوسروں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔ یہی وہ اصول ہے جسے انسانی حقوق کے عالمی تصورات بھی بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔ حقیقی مذہبی آزادی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ انسان اپنی پسند کا طرزِ زندگی اختیار کرے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں کے پُرامن مذہبی انتخاب کا احترام کرے، خواہ وہ انتخاب اس کی ذاتی پسند یا فکر سے مختلف ہی کیوں نہ ہو۔

اسلام نے حیا، عفت، پاکیزگی، خاندانی نظام، اخلاقی ذمّہ داری اور انسانی وقار کو اپنی تہذیب کے بنیادی ستون قرار دیا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں لباس صرف جسم ڈھانپنے کا ذریعہ نہیں بلکہ شخصیت، اخلاق، عاجزی اور سماجی ذمّہ داری کی علامت بھی ہے۔ اسی طرح دنیا کے دوسرے مذاہب میں بھی مذہبی لباس کو روحانی وابستگی اور دینی شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں حجاب کا مقصد صرف ظاہری پردہ نہیں بلکہ نگاہ، گفتار، کردار، باہمی احترام اور معاشرتی پاکیزگی کا فروغ بھی ہے۔ قرآنِ مجید مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے، پاکدامنی اختیار کرنے اور حیا کے تقاضے پورے کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسی لیے اسلامی نقطۂ نظر میں حجاب ایک وسیع اخلاقی تصور ہے جو صرف لباس تک محدود نہیں بلکہ انسان کی پوری شخصیت اور معاشرتی رویے کا حصّہ ہے۔

ابلاغِ عامہ صرف خبروں کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ رائے عامہ کی تشکیل کا ایک طاقتور وسیلہ بھی ہے۔ ابلاغیات کے ماہرین کے مطابق میڈیا کسی بھی واقعے کو جس زاویے (Framing) سے پیش کرتا ہے، عوام کی بڑی تعداد اسی زاویے سے اس کی تعبیر کرنے لگتی ہے۔ چنانچہ اگر کسی مذہبی علامت کو بار بار انتہاء پسندی، جبر یا پسماندگی کے تناظر میں دکھایا جائے تو اس کے بارے میں مخصوص ذہنی تاثر پیدا ہونا فطری امر ہے۔ اسی لیے متوازن صحافت کا تقاضا ہے کہ مختلف مذہبی برادریوں کے طرزِ زندگی کو یکساں انصاف اور غیر جانب داری کے ساتھ پیش کیا جائے۔ بدقسمتی سے عصر حاضر میں بہت سی بحثیں اصولوں کے بجائے شناختوں کے گرد گھومنے لگی ہیں۔ ایک ہی عمل مختلف مذہبی یا تہذیبی گروہوں سے صادر ہو تو اس کی تعبیر بھی مختلف انداز میں کی جاتی ہے۔ یہی رویہ علمی اور اخلاقی انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔

ایک مہذب، کثیرالثقافتی دنیا کا حسن اسی میں ہے کہ وہ تنوع کو برداشت ہی نہ کرے بلکہ اس کا احترام بھی کرے۔ کسی مذہبی لباس سے اختلاف رکھنا ایک بات ہے، لیکن اس لباس کو پہننے والے ہر فرد کے ارادوں، شعور یا آزادی کے بارے میں یکساں منفی مفروضے قائم کر لینا انصاف کے اصول سے مطابقت نہیں رکھتا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مذہبی آزادی، انسانی وقار، ثقافتی تنوع اور بنیادی حقوق کے اصولوں کو جذبات یا سیاسی وابستگیوں کے بجائے یکساں معیار پر پرکھا جائے۔ اگر آزادی ایک عالمگیر قدر ہے تو اس کا دائرہ صرف ان لوگوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے جن کے خیالات اکثریت یا غالب بیانیے سے ہم آہنگ ہوں، بلکہ اس میں وہ تمام افراد بھی شامل ہونے چاہییں جو اپنے مذہبی اور ثقافتی تشخص کے ساتھ پُرامن زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

اگر دنیا واقعی تنوع (Diversity)، شمولیت (Inclusion) اور مساوات (Equality) کے اصولوں پر یقین رکھتی ہے تو ان اصولوں کی حقیقی آزمائش اسی وقت ہوتی ہے جب وہ ان لوگوں کے لیے بھی یکساں احترام کا اظہار کرے جن کے مذہبی یا ثقافتی انتخاب اکثریتی رجحانات سے مختلف ہوں۔ انسانی حقوق کی اصل روح یہ نہیں کہ صرف مقبول طرزِ زندگی کو تحفّظ دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ہر پُرامن مذہبی شناخت کو مساوی عزّت اور قانونی تحفّظ حاصل ہو۔ حقیقی انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ اصول افراد کے مطابق نہ بدلے جائیں بلکہ افراد کو اصولوں کے مطابق پرکھا جائے۔ جب دنیا مذہبی آزادی، انسانی حقوق اور ثقافتی تنوع کی بات کرتی ہے تو ان اقدار کا حسن اسی وقت برقرار رہ سکتا ہے جب ان کا اطلاق ہر مذہب، ہر قوم اور ہر انسان پر یکساں ہو۔ یہی مساوات انصاف کی روح ہے، اور یہی ایک مہذب عالمی معاشرے کی بنیاد بھی۔

مسلمانوں کے لیے حجاب محض ایک لباس یا سماجی روایت کا نام نہیں، بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل، حیا و عفت کے تحفّظ، انسانی وقار کے اظہار اور اسلامی تہذیب سے وابستگی کی ایک زندہ علامت ہے۔ اس کی اصل روح جبر نہیں بلکہ شعوری اطاعت، اخلاقی پاکیزگی اور بندگیِ ربّ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے مرد و عورت دونوں کو نگاہوں کی حفاظت، کردار کی پاکیزگی اور باہمی احترام کا حکم دیا ہے، تاکہ ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے جہاں انسان کی قدر اس کے اخلاق، کردار اور تقویٰ سے ہو، نہ کہ محض ظاہری کشش یا مادّی معیار سے۔ آج اُمّتِ مسلمہ کی ذمّہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ اپنے مذہبی شعائر کا دفاع کرے، بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ وہ ان شعائر کی حقیقی روح کو اپنی زندگی میں نمایاں کرے۔

جب حجاب کے ساتھ علم، کردار، دیانت، عدل، حسنِ اخلاق، خدمتِ خلق اور اعلیٰ انسانی اقدار بھی جمع ہو جائیں تو یہی اسلامی تہذیب کا وہ روشن چہرہ بن جاتا ہے جو بغیر کسی شور کے دلوں کو متاثر کرتا ہے۔ دنیا نظریات سے پہلے کردار کو دیکھتی ہے، اور کردار ہی کسی بھی تہذیب کا سب سے مؤثر تعارف ہوتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلمانوں کو ہر اختلاف کا جواب اشتعال، شکایت یا ردِّ عمل سے نہیں، بلکہ علم، حکمت، مکالمے، صبر اور اپنے بہترین اخلاق سے دینا چاہیے۔ قرآنِ کریم نے دعوت کا یہی اسلوب سکھایا ہے کہ "اپنے ربّ کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلاؤ”۔ اس لیے اگر کہیں دوہرے معیار پائے جاتے ہیں تو ان کا جواب بھی انصاف، دلیل، وقار اور مثبت طرزِ عمل سے دیا جانا چاہیے، کیونکہ حق کی سب سے بڑی طاقت اس کا اخلاقی استحکام اور فکری قوت ہے۔

یہ بحث صرف حجاب یا کسی ایک مذہبی علامت کی نہیں، بلکہ اس اصول کی ہے کہ کیا دنیا واقعی ہر انسان کے مذہبی تشخص، ضمیر کی آزادی اور ثقافتی شناخت کا یکساں احترام کرنے کے لیے تیار ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو یہ احترام ہر مذہب، ہر تہذیب اور ہر انسان کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ اللّٰہ تعالیٰ اُمّتِ مسلمہ کو اپنے دین کی صحیح سمجھ، اس پر استقامت، حکمت کے ساتھ دعوتِ حق پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے کردار کو اسلام کا بہترین تعارف بنائے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو حق کو پہچانتے بھی ہیں، اس پر ثابت قدم بھی رہتے ہیں اور عدل و انصاف کے ساتھ اس کی گواہی بھی دیتے ہیں۔ (اور ہمارے ذمّے تو صرف صاف صاف حق پہنچا دینا ہے۔)
🗓️ (28.07.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
○○○○○○○○○

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے