للن مشرا نے کلن شرما سے کہا یار ہماری قیادت کو کیا ہوگیا ہے سمجھ میں آتا ؟
کیوں ایسی کون سی بات ہے جوتمہاری سمجھ سے باہرہے ؟
ارے بھائی وہی دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ؟ ساری دنیا مذاق اڑا رہی ہے کہ ہمارےخود ساختہ پردھان جی کاکروچ سے ڈر گئے ۔ یار بہت برا لگتا ہے۔
اس میں برا لگنے کی کیا بات ہے؟ انسان کو حقیقت پسند ہونا چاہیے ۔ ڈر گئے تو ڈر گئے اس میں حیرت کس بات کی ؟ ہر کوئی کسی نہ کسی سے ڈرتا ضرور ہے۔
یار کلن تم تو نئی منطق لے آئے ہر کوئی کسی نہ کسی سے ڈرتا ہے کا کیا مطلب ؟
میں ایک مثال سے سمجھاتا ہوں ۔ اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر سچ سچ بتاو کیا تم ہماری بھابی میرا مطلب ہے اپنی بیوی سے ڈرتے ہو یا نہیں ؟
للن پھنس گیا تو بولا وہ تو ہر کوئی ڈرتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ تھوڑی نا ہے کہ میں ہر عورت سے ڈرتا ہوں ۔ کیا تم اپنے گھر کی کام والی سے بھی ڈرتے ہو؟
جی نہیں میں تو صرف تمہاری بھابی یعنی اپنے بچوں کی ماں سے ڈرتا ہوں اور کسی سے نہیں ڈرتا۔ نہ شاہ سے اور نہ یوگی سے کسی سے بھی نہیں۔
مگر اپنے پردھان جی پہلے تو ٹرمپ سے ڈرتے تھے ، پھر راہل گاندھی سے ڈرنے لگے اور اب تو حد ہوگئی کہ کاکروچ سے ڈرکر وزیر تعلیم کو ہٹا دیا ۔
کلن ہنس کر بولا ارے بھیا تم یشودھا بین کو بھول گئے ؟
ارے بھائی ان سے ڈر کرازدواجی زندگی سے سنیاس لے لیا تو اب سیاسی سنیاس لے بن باس پر چلے جائیں ۔
جی ہاں پردھان جی کے مارگ درشک منڈل میں جانے کی عمرتو ہوگئی ہےمگر بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟خیر چھوڑو نہ نومن تیل ہوگا۰۰۰۰۰
بھیا لوگ تم رادھا کے چکر میں پڑے ہو ہمیں جنتا تگنی کا ناچ نچا رہی ہے ۔ گلی محلے میں چلنا پھرنا مشکل ہوگیا ۔ ہر جگہ طنز و تمسخر کا نشانہ بن جاتے ہیں۔
کلن نے سوال کیا اچھا یہ بتاو کہ کیا دھرمیندر پردھان جیسے نااہل وزیر تعلیم کو ہٹانا غلط تھا ؟
ارے بھائی ہٹانے کی نوبت کیوں آئی؟ اس کا بنانا ہی غلط تھا ۔
بھیا کسی کے ماتھے پر تھوڑی نا لکھا ہوتا ہے کہ وہ نااہل ہے۔ وہ تو موقع دینے پر پتہ چلتا ہے اور اب معلوم ہوگیا تو ہٹا دیا ۔
لیکن یہ معلوم کرانے کے لیے ابھیجیت دیپکے کو امریکہ سے آنا پڑا ۔ پورا سنگھ پریوار بھنگ پی کر سو رہا تھا کیا؟
کلن بولا یار تم راہل گاندھی والی زبان مت بولو۔ سمجھ لو کے ’ جب جاگے تب سویرا‘۔
وہی تو میرا اعتراض ہے کہ اتنی دیر میں کیوں جاگے؟ ابھیجیت دیپکے نے جب امریکہ میں بیٹھے بیٹھے پارٹی بناکر یہ مطالبہ کیا تو اسی وقت استعفیٰ لے لیتے ۔
بھائی اس وقت ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ کاکروچ اتنے طاقتور ہوں گے ۔ ہم تو سوچ رہے تھے کہ جب چاہیں گے کچل مسل کر پھینک دیں گے ۔
وہی تو میں کہتا ہوں ہمارا اندازہ اتنا غلط کیسے ہوگیا؟ ہمارے ترجمان تو کہہ رہے تھے کہ وہ انسٹا گرام اور فیس بک سے نکل کر زمین پر آہی نہیں سکیں گے ۔
جی ہاں بھائی انہوں نے تو ہمیں آسمان سے زمین پر اتار دیا بلکہ ہماراوقار و دبدبہ پاتال میں دفن کردیا۔
للن بولا وہی تو! وہ دہلی آیا توہم نے اسے دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینے کے بجائے اس کو دھرنے کا اجازت نامہ پکڑا دیا ۔
ہاں بھائی مجھے تو لگتا ہے کہ اگر اس کی واپسی کے پہلے ہٹا دیا جاتا تو واپس ہی نہیں آتا۔
جی ہاں مگر اپنے علامتی دھرنے کے بعد جب وہ ایک ہفتے میں آنے کا وعدہ کرکے لوٹ گیا تو اسی وقت استعفیٰ لے کر کاکروچ کی ہوا نکالی جاسکتی تھی ۔
یہ صحیح ہے اس نے تو واپس آکر ہماری ہوا نکال دی ۔ہم توسوچ رہے تھے نہ وہ دہلی لوٹے گا اور نہ کوئی اس کی حمایت میں کوئی آئے گا؟
یار ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم سب کو اپنے جیسا سمجھتے ہیں۔ وعدہ کرتے ہیں بھول جاتے ہیں۔ ہم نے سوچا وہ بھی بھول جائے گا یا ڈر کر سمجھوتہ کرلے گا۔
جی ہاں کلن سب ہمارے طرح بزدل اور لالچی نہیں ہوتے ۔ کاکروچ تو نہ ہماری دھمکی سے ڈرے اور نہ لاٹھی سے بلکہ اپنی بات منوا کر ہی ہٹے ۔
ارے بھائی وہ تو اتنے بدمعاش نکلے کہ پردھان جی نے کہا دھرمیندر پردھان کی وزارت بدل کر عزت بچائیں گے مگر وہ نہیں مانے اور ہمیں مانناپڑا۔
کلن نے پوچھا اچھا ! ایسی بے عزتی؟ تم کو یہ اندر کی بات کس نے بتائی؟
بھیا یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ تمام اخبارات میں چھپا ہے لیکن اس سے بڑی بے عزتی مظاہرین کے خلاف مقدمات واپس لینے سے ہوئی ۔
تو کیا تم چاہتے تھے کہ ان مظلوم طلبا اور نوجوانوں کو جنھیں بلاوجہ پولیس اور ہمارے غنڈوں نے پیٹا ہے جیلوں میں ٹھونس دیا جاتا ؟
نہیں بھائی میں یہ نہیں چاہتا۔ میرا تو کہنا یہ ہے کہ پہلے تو انہیں مارا کیوں ؟ اور پھر معاہدے کے باوجود ان پر مقدمات کیوں لگے ان کو گرفتار کیوں کیا؟
یار للن تم سمجھتے کیوں نہیں؟ مرکزی حکومت نے معاہدہ کیا مگر مقدمہ تو بہار ، آسام اور بنگال کی ریاستی حکومتوں نے کیے ۔ کیادونوں میں فرق نہیں ہے؟
خاک فرق ہے۔ ان تینوں ریاستوں میں ڈبل انجن سرکاریں ہیں۔ وہ مرکزی حکومت کے وعدے کا پاس و لحاظ کیوں نہیں کرتیں؟
کلن بولاارے بھائی دونوں کا خمیر تو ایک ہی ہے نا؟ وہ بھی مرکز کی طرح وعدہ خلافی کرتی ہیں اور پہلے ڈراتی ہیں پھر ڈر جاتی ہیں ۔ کوئی فرق نہیں ہے۔
بھائی ہمارے اس رویہ کی وجہ سے لوگ اب ہمیں ایسے لاتوں کے بھوت کہنے لگے ہیں جو باتوں سے نہیں جوتوں سے مانتے ہیں ۔
یار تم کو ایسے لوگ نہ جانے کہاں مل جاتے ہیں ؟ مجھے تو کبھی نہیں ملتے ۔
بھائی صاحب آپ تو کنوئیں کے مینڈک کی مانند اپنے خول میں بند رہتے ہیں اور سوشل میڈیا بھی نہیں دیکھتے وہاں جھانک کرہماری درگت تو دیکھو۔
بھیا یہ سارا ہمارے سی جی آئی کا کیا دھرا ہے۔ نہ تو وہ اپنے بیروزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر ان کے زخموں پر نمک چھڑکتے اور نہ یہ مصیبت آتی ۔
وہ تو سرکار اشارے پر کام کرتے ہیں ۔ ان کے تضحیک آمیز جملے پر نہ تو سرکار کچھ بولی اور نہ سنگھ نے اعتراض کیا ۔ یہ تو سب کے من کی بات تھی۔
وہ تو ٹھیک ہے مگر اتنی بڑی ٹھوکر کھانے کے بعد تو انسان کی آنکھ کھلنی چاہیے۔ اسے اپنا رویہ بدلنا چاہیے۔
کلن نے سوا کیاکیوں اب کیا کردیا موصوف نے؟
ارے بھائی ایک وکیل پی آئی ایل لے کر ان کی عدالت میں پہنچا اور طلبا پر ہونے والے تشدد کی بابت گہار لگائی ۔
یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔ اس پر جسٹس سوریہ کانت نے کیا کہا ؟
وہ بولے جائیے ۔ اپنا اور میرا وقت ضائع نہ کیجیے ۔ سپریم کورٹ نے سماعت سے انکار کردیا ۔
اور وکیل مان گیا۔ اسے اصرار کرنا چاہیے تھا ۔
تم اس وکیل کو موردِ الزام نہ ٹھہراو ۔ اس نے مظالم کی ویڈیو دے کرجج صاحبان سےکہا آپ ان کو دیکھ سکتے ہیں۔
اس معقول مطالبہ پر سی جی آئی کیا بولے ؟
انہوں نے جواب دیا مجھے ویڈیو دیکھنے میں دلچسپی اور اس کے لیے وقت نہیں ہے۔
یار غضب سنگدلی ہے؟ مجھے تو یہ ہماری شاکھا میں دی جانے والی تربیت کا اثر لگتا ہے ۔
للن بولا اس کی اصلاح ہم تو نہیں مگر لوگ کررہے ہیں ۔
لوگ ہمارے تربیتی نظام کی اصلاح کیسے کرسکتے ہیں؟ وہ تو ہماری اجازت کے بغیراندر قدم نہیں رکھ سکتے ۔
ارے بھائی باہر کے دباو سے بھی بہت کچھ ہوجاتا ہے۔ جب سرکار نے گھٹنے ٹیکے تو سی جی آئی سجدے میں گرپڑے اور کہا ہمارا دروازہ24 گھنٹے کھلا ہے۔
دروازہ کھلا رہنے سے کیا ہوتا ہے؟ انصاف ہونا چاہیے۔
جی ہاں اب کورٹ کا کہنا ہے پر امن احتجاج عوام کا حق ہے ۔ اس پر تشدد نہیں ہونا چاہیے ۔
یہ تو بڑی اچھی بات ہے لیکن کیا سرکاری وکیل نے پولیس پر تشدد کی بات نہیں کہی ؟
جی ہاں عدالت نے کہا کہ دونوں برابر ہے مگر بیچ میں سیوان کے اندر پولیس کے اے 47لے کر گھس جانے کا معاملہ سامنے آگیا ۔
ارے وہ تو بہت سنگین معاملہ تھا۔ مجھے تو لگتا ہے اب وزارت داخلہ کا قلمدان یوگی جی کو سونپ دینا چاہیے کیونکہ یہ شاہ جی سے نہیں سنبھل رہا ہے۔
ارے یہ تم نے کس کا نام لے لیا ۔ انہوں نے محمد جنید کے اہل خانہ کو گرفتار کرکے اپنی خوب بے عزتی کروائی اور پھر انہیں چھوڑ دیا ۔
ہاں بھیا اب جوہر یونیورسٹی کے انہدام سے بھی پیچھے ہٹ گئے ۔سمجھ میں نہیں آتا کہ جب دم نہیں تھا تو ہنگامہ کھڑا کرنے کی ضرورت کیا تھی ؟
بھیا مجھے تو لگتا ہے کہ اب ناگپوری ٹوکری کے سارے سنترے سڑ گئے ہیں ۔ اب کسی کو کسی سے بدلنے سے کچھ نہیں بدلے گا ۔
ہاں یار اب تو لگتا ہے لوگ باگ جب ہمیں کو بدل دیں گے تو کچھ بدلے گا ۔ مجھے تو لگتا ہے منیر نیازی نےہمارے ہی بارے میں کہا تھا:
’’ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں‘‘۔