انسانی معاشرہ محبت، اخوت، ہمدردی اور ایثار کے رشتوں پر قائم ہوتا ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتے ہیں، ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں اور دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں تو معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کے دور میں انسانیت بھی ایک تجارت بنتی جا رہی ہے۔ بہت سے لوگ انسانیت اور خدمت کے نام پر اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے لگے ہیں۔ یہی طرزِ عمل "دکانداریِ انسانیت” کہلاتا ہے۔
دکانداریِ انسانیت سے مراد یہ ہے کہ لوگ بظاہر ہمدردی، محبت اور خدمت کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں، مگر ان کے دل میں صرف اپنا فائدہ، شہرت، دولت یا اقتدار حاصل کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ وہ انسانیت کے نام پر دوسروں کے جذبات سے کھیلتے ہیں اور اپنے مفادات کی دکان چمکاتے ہیں۔ اس رویے نے معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کر دیا ہے۔
قدیم زمانے میں انسانیت کی خدمت خالص جذبے کے تحت کی جاتی تھی۔ لوگ اپنے پڑوسیوں، رشتہ داروں اور غریبوں کی مدد صرف اللہ کی رضا اور انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت کرتے تھے۔ بیماروں کی تیمارداری، بھوکوں کو کھانا کھلانا اور مسافروں کی مدد کرنا ایک عظیم عبادت سمجھا جاتا تھا۔ اس زمانے میں خدمت کا مقصد نہ شہرت تھا اور نہ ہی مالی منفعت۔ لیکن جدید دور میں صورتِ حال کافی حد تک بدل چکی ہے۔
آج کے زمانے میں بعض لوگ فلاحی کاموں کو اپنی تشہیر کا ذریعہ بنا چکے ہیں۔ غرباء میں راشن تقسیم کرتے وقت تصاویر بنائی جاتی ہیں، بیماروں کی مدد کرتے وقت ویڈیوز سوشل میڈیا پر ڈالی جاتی ہیں اور چھوٹے چھوٹے نیکی کے کاموں کو بڑے بڑے اشتہارات کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرزِ عمل سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ انسانیت کے نام پر خدمت کم اور ذاتی مفاد زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید فروغ دیا ہے۔ فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارموں پر انسانیت کے نام پر بہت سا مواد شائع کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ان میں سے کچھ کام واقعی قابلِ تعریف ہوتے ہیں، لیکن بہت سے لوگ صرف زیادہ سے زیادہ لائکس، ویوز اور شہرت حاصل کرنے کے لیے انسانیت کی دکان سجاتے ہیں۔ وہ محتاجوں اور مجبوروں کی مجبوریوں کو دنیا کے سامنے لا کر اپنے لیے تعریفیں سمیٹتے ہیں۔
دکانداریِ انسانیت صرف انفرادی سطح تک محدود نہیں بلکہ بعض ادارے اور تنظیمیں بھی اس بیماری کا شکار ہیں۔ بہت سی فلاحی تنظیمیں عوام سے چندہ اور امداد تو انسانیت کے نام پر جمع کرتی ہیں، مگر اس کا ایک بڑا حصہ انتظامی اخراجات یا ذاتی مفادات پر خرچ کر دیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اصل مستحق افراد تک مناسب مدد نہیں پہنچ پاتی۔ ایسے واقعات سے لوگوں کا اعتماد مجروح ہوتا ہے اور وہ حقیقی خدمت گزاروں پر بھی شک کرنے لگتے ہیں۔
سیاسی میدان میں بھی انسانیت کی دکانداری عام ہوتی جا رہی ہے۔ انتخابات کے دنوں میں غریبوں کی مدد، بیماروں کے علاج اور عوامی مسائل کے حل کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر اقتدار حاصل ہونے کے بعد اکثر یہ وعدے بھلا دیے جاتے ہیں۔ عوام کی خدمت کے نعرے محض ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اس طرح انسانیت کا نام صرف ایک سیاسی ہتھیار بن کر رہ جاتا ہے۔
تعلیمی اداروں میں بھی بعض اوقات یہی رویہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ کچھ لوگ تعلیم کو ایک مقدس فریضہ سمجھنے کے بجائے صرف کاروبار کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ اسی طرح صحت کے شعبے میں بعض ڈاکٹر اور اسپتال مریضوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر ضرورت سے زیادہ فیس وصول کرتے ہیں۔ حالانکہ طب اور تعلیم دونوں انسانیت کی خدمت کے عظیم شعبے ہیں۔
دکانداریِ انسانیت کے فروغ کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ مادہ پرستی ہے۔ آج کا انسان دولت اور شہرت کے حصول کے لیے ہر ممکن راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ اخلاقی تعلیم کی کمی، دینی اقدار سے دوری، مقابلے کی فضا اور سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا اثر بھی اس مسئلے کو جنم دیتا ہے۔ جب معاشرے میں اخلاص اور ایثار کی جگہ نمود و نمائش لے لیتی ہے تو انسانیت بھی ایک تجارت بن جاتی ہے۔
اسلام نے انسانیت کی خدمت کو بہت اہمیت دی ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں بار بار انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک، غریبوں کی مدد اور محتاجوں کی خبر گیری کا حکم دیا گیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔ اسلام میں نیکی کی بنیاد اخلاص پر رکھی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص صرف دکھاوے یا ذاتی مفاد کے لیے نیکی کرے تو اس کی اصل روح ختم ہو جاتی ہے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علیؓ کی زندگیاں انسانیت کی بے لوث خدمت سے بھری ہوئی ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ لوگوں کی مدد کی، مگر کبھی اس کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا۔ یہی وہ اعلیٰ کردار ہے جس سے آج کے معاشرے کو سبق لینے کی ضرورت ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم انسانیت کو تجارت بننے سے بچائیں۔ ہمیں اپنے بچوں کی تربیت اس انداز میں کرنی چاہیے کہ وہ خدمتِ خلق کو محض شہرت اور دولت کا ذریعہ نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک اخلاقی اور دینی ذمہ داری تصور کریں۔ تعلیمی اداروں میں اخلاقی تعلیم کو فروغ دیا جائے اور میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ خالص خدمت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرے۔
ہر فرد کو چاہیے کہ وہ اپنی نیت کا جائزہ لے۔ اگر ہم کسی غریب کی مدد کریں، کسی بیمار کی عیادت کریں یا کسی مجبور کا سہارا بنیں تو اس کا مقصد صرف انسانیت اور اللہ کی رضا ہونا چاہیے۔ جب نیکی صرف نمائش کے لیے کی جائے تو وہ اپنی اصل قدر کھو دیتی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں آج بھی بے شمار لوگ ایسے موجود ہیں جو خاموشی سے انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔ وہ نہ تصاویر بنواتے ہیں، نہ تعریف کے خواہش مند ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی صلے کے منتظر رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ معاشرے کا اصل سرمایہ ہیں۔ ان کی بدولت انسانیت آج بھی زندہ ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انسانیت کوئی کاروبار نہیں بلکہ ایک مقدس جذبہ ہے۔ اگر اسے ذاتی مفادات، شہرت اور دولت کے حصول کا ذریعہ بنا لیا جائے تو معاشرے میں اخلاص، محبت اور اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم انسانیت کی خدمت کو خلوصِ نیت، محبت اور ایثار کے جذبے کے ساتھ انجام دیں تاکہ ایک بہتر، مہذب اور خوش حال معاشرہ وجود میں آ سکے۔ یہی حقیقی انسانیت ہے اور یہی ایک باوقار زندگی گزارنے کا راستہ ہے۔
+++++++++++++++++++++++++
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی