ٹرمپ، مودی اور بدلتے ہوئے ہند امریکہ تعلقات

ٹرمپ، مودی اور بدلتے ہوئے ہند امریکہ تعلقات

ٹرمپ، مودی اور بدلتے ہوئے ہند امریکہ تعلقات

ازقلم:افتخاراحمدقادری

ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ چند دہائیوں میں مسلسل مضبوط ہوتے رہے ہیں اور دونوں ممالک نے سیاسی، دفاعی، معاشی و سفارتی میدانوں میں ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون قائم کیا۔ تاہم بین الاقوامی سیاست میں مستقل دوستیاں نہیں ہوتیں بلکہ قومی مفادات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ مختلف عالمی حالات، علاقائی تبدیلیاں اور قیادتوں کے طرزِ فکر میں فرق تعلقات کی نوعیت کو متاثر کرتا رہتا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات بھی اسی قسم کے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں جس نے نئی دہلی میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
حال ہی میں جی سیون ممالک کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی ملاقات نے ایک بار پھر عالمی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی۔ دونوں کی ملاقات کے دوران جو گرمجوشی نظر آئی اس نے یہ تاثر پیدا کیا کہ باہمی اختلافات کے باوجود ذاتی سطح پر دونوں کے تعلقات ابھی بھی مضبوط ہیں۔ خاص طور پر جب ٹرمپ نے مودی کے بارے میں کہا کہ وہ دیکھنے میں انتہائی سیدھے اور خوش اخلاق نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں بہت سخت مذاکرات کار ہیں اور کسی بھی معاملے میں آسانی سے جھکنے والے نہیں ہیں تو اس بیان کو ہندوستانی ذرائع ابلاغ نے خصوصی اہمیت دی۔ اس سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ دونوں کے درمیان اعتماد اور ذاتی دوستی برقرار ہے لیکن سفارتی تعلقات صرف قائدین کی باہمی دوستی سے نہیں چلتے بلکہ ان کے پیچھے قومی مفادات، معاشی ضروریات اور تزویراتی ترجیحات کار فرما ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جی سیون اجلاس میں ہونے والی خوشگوار ملاقات کے باوجود ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات کے بارے میں کئی سوالات اب بھی موجود ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران متعدد ایسے واقعات پیش آئے ہیں جنہوں نے دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی دوریوں کو نمایاں کیا ہے۔ خلیج عمان میں ایک بحری جہاز پر امریکی کارروائی کے نتیجے میں تین ہندوستانی ملاحوں کی ہلاکت نے ہندوستانی حلقوں میں تشویش پیدا کی۔ اگرچہ یہ واقعہ براہ راست ہندوستان کو نشانہ بنا کر نہیں کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود نئی دہلی میں یہ احساس پیدا ہوا کہ امریکہ اپنے فوجی اقدامات کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے ہندوستانی مفادات کو پہلے جیسی اہمیت نہیں دے رہا۔ ایسے وقت میں جب ہندوستان خود کو امریکہ کا قریبی شراکت دار سمجھتا ہے اس قسم کے واقعات تعلقات میں موجود حساسیت کو نمایاں کرتے ہیں۔ اسی دوران ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بحر الکاہل میں امریکی فوجی کمان کے نام میں تبدیلی کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی پیسیفک کمانڈ کا نام تبدیل کر کے انڈو پیسیفک کمانڈ رکھا تھا۔ اس تبدیلی کو اس وقت ہندوستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کیا گیا کیونکہ اس سے یہ پیغام ملتا تھا کہ امریکہ بحر الکاہل اور بحر ہند کو ایک مشترکہ تزویراتی خطے کے طور پر دیکھ رہا ہے اور اس پورے تصور میں ہندوستان ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن اب جب اس نام کو دو بارہ تبدیل کر کے پیسیفک کمانڈ قرار دیا گیا تو ہندوستانی تجزیہ کاروں میں تشویش پیدا ہونا فطری تھا۔ بہت سے مبصرین کے نزدیک یہ صرف نام کی تبدیلی نہیں بلکہ امریکی ترجیحات میں آنے والی تبدیلی کی علامت ہے۔ اگر انڈو پیسیفک کی اصطلاح کو پس منظر میں دھکیلا جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ امریکہ اپنی حکمت عملی میں ہندوستان کو پہلے جیسی اہمیت نہیں دے رہا۔ اگرچہ واشنگٹن کی جانب سے اس حوالے سے کوئی واضح اعلان نہیں کیا گیا لیکن سفارتی دنیا میں علامتی اقدامات بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں اور انہی علامتوں کی بنیاد پر مختلف اندازے لگائے جاتے ہیں۔ اس معاملے کو مزید حساس اس وقت بنا دیا گیا جب امریکی فوجی نقشوں میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو پاکستان کا حصہ ظاہر کیا گیا جبکہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کو ہندوستانی علاقے کے طور پر دکھایا گیا۔ ہندوستان میں بعض حلقوں نے اسے امریکی پالیسی میں تبدیلی کی علامت قرار دیا اگرچہ امریکہ کی سرکاری پالیسی کشمیر کے معاملے میں اب بھی محتاط ہے لیکن ایسے نقشے ہندوستانی عوام اور میڈیا میں بے چینی پیدا کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔
معاشی میدان میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات مثالی نہیں رہے۔ گزشتہ سال ہندوستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے امریکہ کے ساتھ نئے تجارتی مذاکرات کا آغاز کیا۔ توقع کی جا رہی تھی کہ دونوں ممالک جلد ہی ایک وسیع تجارتی معاہدے تک پہنچ جائیں گے لیکن مذاکرات توقع سے زیادہ پیچیدہ ثابت ہوئے۔ امریکہ نے بعض ہندوستانی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کر دیے جس سے ہندوستانی برآمد کنندگان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ بعد میں ان شرحوں میں کمی آئی اور بعض فیصلے امریکی عدلیہ کی جانب سے کالعدم بھی قرار دیے گئے لیکن اس پورے عمل نے یہ واضح کر دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ تجارت کے معاملے میں اپنے مفادات کے سامنے کسی قسم کی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں۔ ٹرمپ کی اقتصادی پالیسی بنیادی طور پر امریکہ فرسٹ کے اصول پر مبنی ہے۔ ان کے نزدیک ہر تجارتی معاہدے کا بنیادی مقصد امریکی صنعت، امریکی ملازمتوں اور امریکی معیشت کا تحفظ ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے قریبی اتحادیوں کے ساتھ بھی سخت تجارتی رویہ اختیار کرتے رہے ہیں۔ ہندوستان بھی اس پالیسی سے مستثنیٰ نہیں رہا۔ نئی دہلی کی توقع تھی کہ اس کی بڑی منڈی اور بڑھتی ہوئی معیشت کی وجہ سے امریکہ خصوصی رعایت دے گا لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوا۔ اسی طرح کشمیر کے مسئلے پر ٹرمپ کے بیانات نے بھی ہندوستانی حکومت کو مشکل صورتحال سے دو چار کیا۔ ٹرمپ متعدد مواقع پر یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے قیام میں کردار ادا کیا تھا۔ مزید برآں انہوں نے کشمیر کے معاملے میں ثالثی کی پیشکش بھی کی تھی۔ ہندوستان روایتی طور پر کشمیر کو اپنا داخلی معاملہ قرار دیتا ہے اور کسی تیسرے فریق کی مداخلت کو قبول نہیں کرتا۔ اس لیے ٹرمپ کے بیانات نئی دہلی کے لیے باعثِ تشویش رہے۔ دوسری جانب پاکستان نے حالیہ عرصے میں امریکہ کے ساتھ اپنے روابط کو بہتر بنانے میں خاصی کامیابی حاصل کی ہے۔ مختلف علاقائی بحرانوں کے دوران پاکستان نے بعض مواقع پر رابطہ کار اور سہولت کار کا کردار ادا کیا جس سے واشنگٹن کے ساتھ اس کے تعلقات میں نئی گرمجوشی پیدا ہوئی۔ اس صورتحال نے ہندوستانی پالیسی سازوں کو مزید فکر مند کر دیا کیونکہ ایک طویل عرصے سے نئی دہلی یہ سمجھتا رہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امریکہ کی اولین ترجیح اب ہندوستان ہے۔ اگر واشنگٹن دو بارہ اسلام آباد کو اہمیت دینا شروع کرتا ہے تو اس سے علاقائی توازن پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی دوران امریکہ کی سخت امیگریشن پالیسی بھی ہندوستان کے لیے ایک اہم مسئلہ بن گئی ہے۔ لاکھوں ہندوستانی شہری امریکہ میں تعلیم، روزگار اور کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ایچ ون بی ویزا پروگرام طویل عرصے سے ہندوستانی پیشہ ور افراد کے لیے امریکہ میں مواقع فراہم کرتا رہا ہے۔ لیکن ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس پروگرام پر عائد پابندیوں اور سخت شرائط نے ہندوستانی نوجوانوں اور آئی ٹی شعبے کو متاثر کیا ہے۔ ہندوستانی حکومت اس مسئلے پر کھل کر تنقید تو نہیں کرتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس پالیسی نے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر دی ہے۔ ٹرمپ کے پہلے دورِ اقتدار میں امریکہ اور ہندوستان کے تعلقات کو ایک نئی جہت حاصل ہوئی تھی۔ اس دور میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا، متعدد دفاعی معاہدے طے پائے اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں ہندوستان کو امریکہ کے ایک اہم شراکت دار کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس وقت امریکی پالیسی سازوں کا خیال تھا کہ ایشیا میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ہندوستان کا کردار نہایت اہم ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انڈو پیسیفک حکمت عملی میں ہندوستان کو مرکزی حیثیت دی گئی اور کواڈ جیسے پلیٹ فارم کو فعال بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ لیکن اب جبکہ ٹرمپ ایک بار پھر اقتدار میں ہیں تو ان کی ترجیحات میں نمایاں تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ ان کی دوسری میعاد کے دوران ایسے متعدد اقدامات سامنے آئے ہیں جنہوں نے ہندوستانی پالیسی سازوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آیا امریکہ اب بھی ہندوستان کو اسی اہمیت سے دیکھتا ہے جس طرح چند سال قبل دیکھا کرتا تھا۔ حالیہ مہینوں میں کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جن سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی میں جنوبی ایشیا کے حوالے سے ایک نئی سوچ پروان چڑھ رہی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے ہندوستان کے یومِ جمہوریہ کی تقریب میں شرکت سے معذرت اور بعد ازاں کواڈ سے متعلق سرگرمیوں میں محدود دلچسپی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ امریکی حکام ان اقدامات کو معمول کی سفارتی مصروفیات سے تعبیر کرتے ہیں لیکن ہندوستان میں انہیں محض اتفاق قرار نہیں دیا جا رہا۔ سیاسی حلقوں اور دفاعی ماہرین کے نزدیک یہ ایسے اشارے ہیں جو مستقبل کی پالیسی سمت کا اندازہ دینے کے لیے کافی ہیں۔ کواڈ اتحاد کو گزشتہ چند برسوں کے دوران چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک اہم سفارتی اور تزویراتی فورم کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ امریکہ، ہندوستان، جاپان اور آسٹریلیا پر مشتمل یہ اتحاد ایک آزاد اور کھلے انڈو پیسیفک خطے کے تصور کو فروغ دینے کا دعویٰ کرتا ہے۔ ہندوستان نے بھی اس پلیٹ فارم کو اپنی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون قرار دیا تھا۔ لیکن اگر امریکہ خود انڈو پیسیفک کی اصطلاح سے دور ہوتا دکھائی دے تو پھر کواڈ کی افادیت اور اس کے مستقبل کے بارے میں سوالات پیدا ہونا فطری امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی اپوزیشن اور کئی دفاعی تجزیہ کار اس صورتحال کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ کانگریس رہنما ششی تھرور سمیت کئی سیاسی شخصیات نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا امریکہ کی نئی حکمت عملی دراصل کواڈ اتحاد کی اہمیت میں کمی کا اشارہ ہے۔ اگرچہ اس سوال کا کوئی واضح جواب موجود نہیں لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ عالمی سیاست میں علامتی تبدیلیاں بھی دور رس اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ناموں کی تبدیلی، سفارتی تقریبات میں عدم شرکت اور بعض حساس معاملات پر مختلف نوعیت کے بیانات مجموعی طور پر ایک ایسی فضا پیدا کرتے ہیں جس میں شکوک و شبہات جنم لینے لگتے ہیں۔ ہندوستانی دفاعی ماہرین کے ایک طبقے کا خیال ہے کہ امریکہ کی موجودہ ترجیحات میں سب سے اہم مسئلہ چین کے ساتھ براہ راست اقتصادی اور تزویراتی مقابلہ ہے۔ اس مقصد کے لیے واشنگٹن بعض معاملات میں اپنے روایتی اتحادیوں کے کردار کا ازسرنو جائزہ لے رہا ہے۔ اگر امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے چین کے ساتھ کسی حد تک مفاہمت یا محدود تعاون کی پالیسی اختیار کر سکتا ہے تو اس صورت میں ہندوستان کی تزویراتی اہمیت پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ یہی خدشہ نئی دہلی کے کئی پالیسی سازوں کے ذہنوں میں موجود ہے۔ پاکستان کے ساتھ امریکہ کے بڑھتے ہوئے روابط کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ امریکہ نے ہندوستان کو نظر انداز کر کے پاکستان کو اپنی اولین ترجیح بنا لیا ہے تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اسلام آباد نے حالیہ عرصے میں واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ مختلف علاقائی تنازعات اور سفارتی معاملات میں پاکستان کی شمولیت نے امریکہ کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں اپنے روابط کو زیادہ متوازن انداز میں آگے بڑھائے۔ ہندوستان میں بعض حلقے اسے اپنی سفارتی برتری کے لیے ایک چیلنج تصور کرتے ہیں۔ چین کا عنصر بھی اس پوری بحث میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران امریکہ اور ہندوستان کے درمیان قربت کی ایک بڑی وجہ چین کا ابھرتا ہوا کردار تھا۔ دونوں ممالک مختلف سطحوں پر چین کے بڑھتے ہوئے معاشی اور عسکری اثر و رسوخ کے حوالے سے مشترکہ خدشات رکھتے تھے۔ لیکن اگر امریکی پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی آتی ہے یا واشنگٹن اپنی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرتا ہے تو اس کے اثرات براہ راست ہندوستان پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی کے لیے موجودہ حالات نہایت حساس ہیں۔ ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ہندوستان خود بھی اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ خود مختار خارجہ پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ روس کے ساتھ دفاعی تعلقات، مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون اور عالمی جنوب کی قیادت کے دعوے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہندوستان صرف ایک طاقت پر انحصار نہیں کرنا چاہتا۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ امریکہ کے ساتھ تعلقات ہندوستان کے لیے انتہائی اہم ہیں لیکن نئی دہلی اپنی سفارتی گنجائش کو محدود کرنے کے حق میں نہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو موجودہ اختلافات دونوں ممالک کے تعلقات کے مکمل خاتمے کی علامت نہیں بلکہ ایک ایسے مرحلے کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں دونوں فریق اپنے اپنے مفادات کو نئی صورت میں متعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ اور مودی کی ذاتی دوستی اپنی جگہ ایک حقیقت ہو سکتی ہے لیکن بین الاقوامی تعلقات میں شخصیات سے زیادہ اہمیت قومی مفادات کو حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کے خوشگوار بیانات اور ایک دوسرے کے لیے تعریفی کلمات کے باوجود تعلقات میں موجود اختلافات ختم نہیں ہوئے۔ تجارتی تنازعات، امیگریشن پالیسی، کشمیر سے متعلق بیانات، دفاعی ترجیحات میں تبدیلی اور جنوبی ایشیا کے بارے میں امریکی نقطہ نظر وہ عوامل ہیں جو مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کرتے رہیں گے۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت، یو.پی
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے