تلنگانہ و دیگر ریاستوں میں ایس آئی آر. عوامی بیداری اور منظم زمینی سرگرمیوں کا لائحۂ عمل

تلنگانہ و دیگر ریاستوں میں ایس آئی آر. عوامی بیداری اور منظم زمینی سرگرمیوں کا لائحۂ عمل

تلنگانہ و دیگر ریاستوں میں ایس آئی آر.
عوامی بیداری اور منظم زمینی سرگرمیوں کا لائحۂ عمل

تحریر: محمد اعجاز الدین احمد عاجزؔ
رابطہ: 9700389755

ملک کی مختلف ریاستوں میں پایہ تکمیل کو پہنچے ایس آئی آرکے عمل سے حاصل ہونے والے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں یہ رہنما اصول مرتب کیے گئے ہیں۔ ان کا مقصد فہرست ہائے رائے دہندگان کی درستی، شفافیت اور جامعیت کو فروغ دینا، اہل رائے دہندوں کے حقِ رائے دہی کا تحفظ یقینی بنانا اور ممکنہ بے ضابطگیوں کی بروقت نشاندہی اور اصلاح میں معاونت فراہم کرنا ہے۔چونکہ مختلف علاقوں کے حالات اور انتظامی تجربات یکساں نہیں ہوتے، اس لیے کوئی ایک حکمتِ عملی ہر جگہ مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی۔ اسی بنا پر مقامی سطح پر آگاہی، منظم نگرانی، باہمی تعاون اور بروقت رہنمائی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر )کو محض انتظامی کارروائی نہیں بلکہ شہریوں کے آئینی حقِ رائے دہی کو مضبوط بنانے کے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے تاکہ ہر اہل رائے دہندہ اپنی معلومات کی درستگی اور بروقت اندراج کے ذریعے جمہوری عمل میں بھرپور شرکت یقینی بنا سکے۔عوامی تعاون اور منظم زمینی سرگرمیوں کے ذریعے یہ یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ خواتین، مہاجر مزدور، اقلیتیں، دلت، آدیواسی، پسماندہ طبقات، غیر رسمی شعبے کے کارکنان اور دیگر کمزور گروہ بھی اپنے حقِ رائے دہی کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے سابقہ اور موجودہ فہرست ہائے رائے دہندگان کا تقابلی جائزہ نہایت مفید ثابت ہوگا۔
الف: ابتدائی تیاری۔بوتھ سطح نگرانی کمیٹیوں کی تشکیل،نگرانی اور کام کا طریقہ کار
۱۔ بوتھ سطح نگرانی کمیٹیاں: ہر پولنگ بوتھ پر مقامی رضاکاروں پر مشتمل ایک نگرانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو اپنے علاقے کے رائے دہندوں سے واقف ہو۔ بہتر ہوگا کہ اس میں خواتین، نوجوانوں اور مختلف سماجی طبقات کی نمائندگی شامل ہو۔کمیٹی کی ذمہ داریوں میں ووٹرلسٹوں کا جائزہ، اہل رائے دہندوں کی نشاندہی، حذف یا اعتراض سے متعلق نوٹسوں کی نگرانی اور ضرورت مند افراد کو متعلقہ حکام تک رسائی میں مدد فراہم کرنا شامل ہو۔
۲۔ مرکزی نگرانی نظام:محلہ، وارڈ، ضلع اور ریاستی سطح پر ایک مربوط نگرانی نظام قائم کیا جائے جو مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی معلومات جمع کرے، رجحانات کا تجزیہ کرے، مسائل کی درجہ بندی کرے اور ان کے حل کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطہ قائم کرے۔
شکایات، سماعتوں، اپیلوں، بحالی کے معاملات اور اہم مشاہدات کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے تاکہ مؤثر پیروی ممکن ہو سکے۔
۳۔ عوامی آگاہی اور رابطہ مہم:شہریوں کو نظرِ ثانی کے عمل، تصدیق، دستاویزات، سماعتوں اور اپیلوں کے بارے میں بروقت اور واضح معلومات فراہم کی جائیں۔عوام کو یہ بھی بتایا جائے کہ فہرست رائے دہندگان میں اپنا نام کیسے تلاش کریں، مطلوبہ دستاویزات کون سی ہیں۔اس مقصد کے لیے سوشل میڈیا، مساجد، مقامی تنظیموں، کمیونٹی پلیٹ فارموں، واٹس ایپ گروپوں، رہنما کتابچوں اور مقامی زبان میں تیار کردہ مواد سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
ب: زمینی سطح پر عملی اقدامات
۱۔قواعد و ضوابط سے مکمل واقفیت: ہر رضاکار کو چاہیے کہ وہ الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ ضابطوں کا تفصیلی مطالعہ کرے، خصوصاً: قابلِ قبول دستاویزات، میپنگ کے اصول، منطقی تضادات کے معیارات، اصلاح کی تدابیر، سماعت اور اپیل کا نظام، بحالی کا طریقۂ کار۔
ذمہ دار ان کی جانب سے رضاکاروں کے لیے مختصر تربیتی نشستوں کا انعقاد بھی مفید ہوگا۔
۲۔ اندراج (اینومریشن )کا مرحلہ:ی تلنگانہ میں یہ مرحلہ ۲۵ جون سے ۲۴ جولائی تک جاری رہے گا۔ اس دوران بی ایل اوز کی جانب سے گھر گھر سروے فارم تقسیم کیے جائیں گے اور انہیں مکمل کرنے کے لیے وقت دیا جائے گا۔ اس مرحلہ کے آغاز کے ساتھ ہی کام کرنے والی ٹیموں کی توجہ فارموں کی بروقت تکمیل، اور رائے دہندوں کی معلومات کی ابتدائی جانچ پر مرکوز ہونی چاہیے۔ چونکہ مجوزہ عمل میں ۲۰۰۲ء کی رائے دہندہ فہرست کو بنیادی حوالہ بنایا جا رہا ہے، اس لیے ۲۰۰۲ء اور ۲۰۲۶ء کی فہرستوں کا تقابلی جائزہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔بوتھ سطح کمیٹیاں درج ذیل امور کی نشاندہی کریں
وہ خاندان جو ۲۰۰۲ء میں درج تھے اور آج بھی اسی علاقے میں مقیم ہیں۔
وہ خاندان جن کے بعض افراد کے نام موجود ہیں لیکن بعض کے نہیں۔
میپنگ کی صورتِ حال۔
ایسے افراد جن کے نام، عمر، پتہ یا خاندانی تفصیلات میں نمایاں فرق موجود ہو۔
نئے آباد ہونے والے خاندان اور مہاجر افراد۔
وفات پا جانے والے یا مستقل طور پر منتقل ہو جانے والے افراد۔
ہر بوتھ کے لیے ایک نگرانی رجسٹر تیار کیا جائے جس میں یہ تمام معلومات درج ہوں۔
اندراج کے مرحلہ کے دوران رضاکاروں کی ذمہ داریاں۔رضاکار درج ذیل امور میں عوام کی معاونت کریں
فارم کے تمام خانے درست طور پر پُر کروانا۔
نام، والد یا شوہر کا نام، عمر اور پتہ دستاویزات کے مطابق درج کروانا۔
۲۰۰۲ء کی فہرست کے مطابق متعلقہ فرد یا اس کے والدین یا اجداد کی معلومات احتیاط سے درج کروانا۔
مطلوبہ دستاویزات کی فہرست فراہم کرنا،موجود دستاویزات میں درج تفصیلات میں یکسانیت کو جانچنا۔
بزرگوں، خواتین، معذور افراد اور ناخواندہ شہریوں کی خصوصی مدد کرنا۔
فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ سے آگاہ کرنا۔
آن لائن فارم جمع کرنے والوں کی تصدیق بی ایل او کی جانب سے ہوئی یا نہیں اس کے موقف کا جائزہ لینا۔
: دستاویزات کی جانچ۔فارم جمع کرانے سے پہلے درج ذیل نکات کی جانچ کی جائے
تمام دستاویزات میں نام یکساں ہے یا نہیں۔ عمر یا تاریخِ پیدائش میں غیر معمولی فرق تو موجود نہیں۔ پتہ اور مکان نمبر درست درج ہیں یا نہیں۔خاندانی تعلقات واضح طور پر درج ہیں یا نہیں۔تمام مطلوبہ دستاویزات مکمل ہیں یا نہیں۔
روزانہ نگرانی:ہر بوتھ کمیٹی روزانہ درج ذیل معلومات مرتب کرے
تقسیم شدہ فارموں کی تعداد۔ جمع شدہ فارموں کی تعداد۔ زیرِ التوا فارموں کی تعداد۔ دستاویزاتی مسائل والے معاملات۔
خصوصی مدد کے محتاج افراد کی فہرست۔ غیر حاضر یا رابطے سے باہر خاندانوں کی فہرست۔
اس سے آخری تاریخ سے قبل باقی رہ جانے والے معاملات کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگی۔
خصوصی توجہ کے متقاضی معاملات:اگر کسی علاقے میں درج ذیل رجحانات سامنے آئیں تو فوری توجہ دی جائے
بڑی تعداد میں فارم جمع نہ ہونا۔ کسی مخصوص بستی یا برادری میں کم رجسٹریشن۔ خواتین کے اندراج میں غیر معمولی کمی۔
مہاجر مزدوروں یا طلبہ تک رسائی میں دشواری۔ دستاویزات یا اندراجات میں بڑے پیمانے پر تضادات۔
ایسے معاملات کو فوراً وارڈ اور ضلعی سطح کی نگرانی ٹیموں کے علم میں لایا جائے۔
۳۔مسودۂ فہرست کے بعد کی کارروائی:مسودۂ انتخابی فہرست ۳۱ جولائی کو شائع کی جائے گی۔ اندراج کی مدت کے دوران جن رائے دہندوں نے مکمل طور پر پُر شدہ اندراجی فارم جمع کرائے ہوں گے، بشمول وہ فارم جو دستخط کے ساتھ آن لائن جمع کرائے گئے ہوں، ان کے نام مسودۂ انتخابی فہرست میں شامل کیے جائیں گے۔دعووں اور اعتراضات کی مدت ۳۱ جولائی سے ۳۰ اگست تک رہے گی۔ اس مرحلے کے دوران انتخابی رجسٹریشن افسران دعووں اور اعتراضات سے متعلق سماعتیں، تصدیقی کارروائیاں اور ضروری تحقیقات انجام دیں گے۔ یہ کارروائیاں ۲۸ ستمبر تک جاری رہیں گی۔جو رائے دہندہ مقررہ اندراجی مدت کے دوران اپنا اندراجی فارم جمع نہیں کرا سکیں گے، وہ دعووں اور اعتراضات کی مدت کے دوران مقررہ ڈکلیریشن کے ساتھ فارم نمبر ۶ جمع کرا کر اندراج کے لیے درخواست دے سکیں گے۔علاوہ ازیں تصحیح اور پتہ کی تبدیلی کے لیے بھی درخواست دی جاسکتی ہے۔
مسودۂ فہرست کی اشاعت کے بعد رضاکاروں کی ذمہ داریاں:مسودۂ فہرست جاری ہوتے ہی سابقہ اور نئی فہرستوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے، حذف شدہ ناموں کی الگ فہرست تیار کی جائے، حذف کی معقول وجہ کو تحریر کیا جائے۔نئے اندراجات کا جائزہ لیا جائے اور خاندانوں کے اندر اندراجات کا موازنہ کیا جائے۔نام، عمر، پتہ یا خاندانی تفصیلات میں غیر معمولی تبدیلیوں کی فوری نشاندہی کی جائے اور مشتبہ معاملات متعلقہ نگرانی کمیٹیوں تک پہنچائے جائیں۔اگر کسی کا نام غلطی سے یا تکنیکی دشواری کی بناء پر حذف ہوا ہو تو فوراً اپیل کی جائے۔
۴۔مصنوعی ذہانت اور سافٹ ویئر کی نگرانی:اگر سافٹ ویئر یا مصنوعی ذہانت استعمال کی جائے تو اس کی شفافیت اور درستگی پر نظر رکھی جائے۔ کسی خودکار نظام کی نشاندہی کو حتمی فیصلہ نہ سمجھا جائے بلکہ انسانی جانچ اور تصدیق کو لازمی قرار دیا جائے۔نام،ہجے،عمر،تاریخ پیدائش،عمر،اور دیگر کسی بھی ایسی تفصیل میں اختلاف یا تضاد کو حذف کی وجہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ایسے معاملات میں رائے دہندوں کو وضاحت کا موقع دیا جانا اور تصدیق کے ذریعہ حل کر نا چاہیے۔
۵۔ مقامی زبان اور ثقافتی تنوع کا احترام:ناموں، املا، تلفظ، خاندانی القاب، شادی کے بعد نام کی تبدیلی اور علاقائی روایات کو مدنظر رکھا جائے تاکہ کسی اہل رائے دہندہ کو محض لسانی یا تکنیکی اختلاف کی بنا پر مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
۶۔روزمرہ وار نگرانی:درج ذیل زمروں کا الگ الگ ریکارڈ رکھا جائے تا کہ رحجانات کی بروقت نشاندہی و یکسوئی ہوسکے۔
اے ایس ڈی ڈی –Absent – Shifted -Dead -Duplicate
غیر میپ شدہ رائے دہندے- منطقی تضادات
– زیرِ سماعت معاملات- حذف شدہ نام
بحال شدہ نام- زیرِ التوا معاملات
اپیلیں اور ان کے نتائج
۵۔ مؤثر نوٹس اور منصفانہ سماعت:ہر رائے دہندےکو واضح نوٹس، مناسب وقت اور اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے۔ نوٹس مقامی زبان میں ہوں اور ان میں وجہ، مطلوبہ دستاویزات اور اپیل کا طریقۂ کار واضح طور پر درج ہو۔ رضاکار وں کو چاہیے کہ وہ نوٹس موصول ہونے کے بعد متعلقہ رائے دہندوں سے فوری رابطہ کریں، نوٹس میں درج وجہ اور اس کا درست جواب اورمنسلک کیے جانے والے مطلوبہ دستاویزات کی فہرست تیار کریں اور سماعت سے قبل تمام کاغذات کا جائزہ لیں۔ بزرگ، معذور یا ناخواندہ افراد کو خصوصی معاونت فراہم کی جائے۔
۶۔ خواتین، مہاجرین اور کمزور طبقات کی معاونت:خواتین، طلبہ، مہاجر مزدوروں، اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقات کے لیے خصوصی رہنمائی اور معاونت کا انتظام کیا جائے تاکہ نقل مکانی، دستاویزاتی مسائل یا سماجی رکاوٹوں کے باعث ان کا حقِ رائے دہی متاثر نہ ہو۔کسی بھی مخصوص برادری میں غیر معمولی رحجانات سامنے آئیں تو فوری جائزہ،رہنمائی اور ضروری اصلاحی اقدامات کیے جائیں تا کہ ہر اہل رائے دہندہ کی شمولیت کو یقینی بنایا جاسکے۔
۷۔قانونی، انتظامی اور نفسیاتی معاونت:ضرورت مند افراد کو قانونی مشورہ، دستاویزات کی تیاری، سماعتوں اور کارروائیوں میں رہنمائی کے ساتھ ساتھ حوصلہ افزائی، اعتماد کی بحالی اور ذہنی دباؤ کے ازالے کے لیے مناسب مشاورت و معاونت فراہم کی جائے۔
۸۔ مشترکہ ڈیٹا اور تحقیقاتی ذخائر:سیاسی جماعتوں، وکلاء، صحافیوں، محققین اور سول سوسائٹی اداروں کو مشترکہ ڈیٹا بیس قائم کرنا چاہیے تاکہ معلومات محفوظ رہیں اور مختلف ٹیموں کے درمیان تعاون ممکن ہو سکے۔
۹۔ سماعتوں اور اپیلوں کے نتائج کی نگرانی:صرف ابتدائی حذف شدہ فہرست پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ سماعتوں، اپیلوں اور بحالی کے نتائج کا بھی باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے۔
۱۰۔ جدوجہد جاری رکھنا۔یہ مسئلہ صرف ایس آئی آر کے شیڈول تک محدود نہیں۔تمام مراحل کے بعد بھی درج ذیل سرگرمیاں جاری رہنی چاہئیے
رائے دہندوں کی فہرست میں بحالی کی کوششیں، حذف شدہ رائے دہندوں کاسروے، قانونی چارہ جوئی، عوامی رپورٹس، جوابدہی کے اقدامات، متاثرہ خاندانوں سے رابطہ، طویل المدتی رائے دہندہ رجسٹریشن مہمات۔
۱۱۔ شفافیت اور عوامی نگرانی:بڑے پیمانے پر ہونے والی تبدیلیوں کی آزادانہ نگرانی، سماجی آڈٹ اور عوامی جائزوں کے ذریعے عوامی اعتماد کو مضبوط بنایا جائے۔
فہرست ہائے رائے دہندگا ن کی نظرِ ثانی کا بنیادی مقصد شہریوں کے حقِ رائے دہی کو مزید مضبوط، شفاف اور جامع بنانا ہے تاکہ ہر اہل شہری اعتماد کے ساتھ جمہوری عمل میں اپنا کردار ادا کر سکے۔اس مقصد کے حصول کے لیے بروقت معلومات، درست دستاویزات، منظم مقامی نیٹ ورک، مسلسل نگرانی اور قانونی طریقۂ کار سے واقفیت ناگزیر ہے۔ رضاکاروں، سماجی تنظیموں، وکلاء، اساتذہ، مذہبی و سماجی رہنماؤں اور ذمہ دار شہریوں کے باہمی تعاون ہی سے یہ یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ کوئی اہل رائے دہندہ محض لاعلمی، انتظامی پیچیدگی یا تکنیکی خامی کے باعث اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ رہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے