مہاراشٹر کی سیاست گزشتہ چند برسوں سے مسلسل غیر یقینی، جوڑ توڑ، سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی اور اقتدار کی کشمکش کا میدان بنی ہوئی ہے۔ ریاست کی سیاست میں ایک زمانہ تھا جب شیوسینا ایک متحد اور طاقتور سیاسی قوت سمجھی جاتی تھی اور بالا صاحب ٹھاکرے کی شخصیت اس جماعت کی سب سے بڑی شناخت تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ یہی جماعت اندرونی اختلافات اور سیاسی تقسیم کا شکار ہوگئی۔ اب ایک بار پھر ایسے حالات پیدا ہوگئے ہیں جنہوں نے ادھو ٹھاکرے کی سیاسی پوزیشن کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ مہاراشٹر کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے چھ لوک سبھا اراکین پارلیمنٹ نے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا کی حمایت کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان اراکین پارلیمنٹ نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو ایک خط بھی پیش کیا جس میں اپنی سیاسی وابستگی اور حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف ادھو ٹھاکرے کے سیاسی حلقے میں تشویش پیدا کی بلکہ یہ سوال بھی کھڑا کردیا کہ کیا شیوسینا (یوبی ٹی) مزید کمزور ہونے جا رہی ہے یا پھر یہ بحران پارٹی کے لیے نئی سیاسی حکمت عملی اختیار کرنے کا موقع بنے گا۔
جن اراکین پارلیمنٹ کے ایکناتھ شندے کے ساتھ جانے کی خبریں سامنے آئی ہیں ان میں سنجے جادھو، سنجے دیشمکھ، ناگیش پاٹل آشٹیکر، اوم راجے نمبالکر، بھاؤ صاحب واچکرے اور سنجے دینا پاٹل شامل ہیں۔ ان ناموں کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ سب ایسے حلقوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں شیوسینا کی تنظیمی بنیادیں کافی مضبوط سمجھی جاتی رہی ہیں۔ ان اراکین کی سیاسی تبدیلی محض افراد کی تبدیلی نہیں بلکہ اس کے اثرات مستقبل کی انتخابی سیاست پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد ادھو ٹھاکرے کے پاس لوک سبھا میں صرف تین اراکین پارلیمنٹ باقی رہ جانے کی بات کہی جا رہی ہے۔ اگر یہ صورتحال مستقل شکل اختیار کرلیتی ہے تو پارلیمانی سطح پر شیوسینا (یوبی ٹی) کی نمائندگی انتہائی محدود ہو جائے گی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق کسی بھی جماعت کی پارلیمانی طاقت اس کی عوامی ساکھ، سیاسی وزن اور قومی سطح پر اس کے اثر و رسوخ کا اہم پیمانہ ہوتی ہے۔ ایسے میں اراکین پارلیمنٹ کی تعداد میں بڑی کمی کسی بھی جماعت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوا۔ اس کی جڑیں ان سیاسی تبدیلیوں میں تلاش کی جا سکتی ہیں جو گزشتہ چند برسوں میں مہاراشٹر میں رونما ہوئیں۔ ایکناتھ شندے کی بغاوت نے پہلے ہی شیوسینا کو دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔ اس وقت بھی ادھو ٹھاکرے کو شدید سیاسی دھچکا لگا تھا کیونکہ جماعت کے ایک بڑے حصے نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ اب جبکہ ایک بار پھر پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کے حوالے سے ایسی خبریں سامنے آرہی ہیں تو فطری طور پر 2022 کے واقعات کی یاد تازہ ہو رہی ہے۔ دوسری جانب ادھو ٹھاکرے کے قریبی ساتھی اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے راوت نے اس صورتحال پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں انہوں نے نہ صرف باغی اراکین کو چیلنج کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ اگر وہ واقعی پارٹی چھوڑنا چاہتے ہیں تو پہلے استعفیٰ دیں اور پھر عوام کے سامنے جاکر اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کریں۔ سنجے راوت کا موقف دراصل اس سیاسی اخلاقیات کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کے مطابق کسی بھی عوامی نمائندے نے اگر کسی جماعت کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی ہو تو جماعت تبدیل کرنے سے قبل اسے عوام سے دو بارہ اعتماد حاصل کرنا چاہیے۔ سنجے راوت کی پریس کانفرنس خود کئی سوالات کو جنم دے گئی۔ شیوسینا (یوبی ٹی) کے نو اراکین پارلیمنٹ میں سے صرف تین اراکین اس موقع پر موجود تھے۔ اروند ساونت، انل دیسائی اور راجا بھاؤ واجے کی موجودگی نے یہ تاثر مزید مضبوط کیا کہ جماعت کے اندر بے چینی اور غیر یقینی کی کیفیت موجود ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس بات پر بھی تبصرے ہوئے کہ اگر پارٹی مکمل طور پر متحد ہوتی تو اس کے تمام اراکین پارلیمنٹ قیادت کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے۔ سنجے راوت نے اپنی پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ مہاراشٹر کے اراکین پارلیمنٹ کو بھاری رقم کے ذریعے اپنی طرف مائل کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی جماعتوں کو اس انداز میں توڑا جاتا رہا تو جمہوری عمل کا مقصد ہی ختم ہو جائے گا۔ اگرچہ ایسے الزامات بھارتی سیاست میں نئی بات نہیں ہیں لیکن جب بھی کسی جماعت کے اندر بڑے پیمانے پر سیاسی تبدیلی واقع ہوتی ہے تو خرید و فروخت اور سیاسی دباؤ جیسے الزامات ضرور سامنے آتے ہیں۔ ان الزامات کی حقیقت کیا ہے؟ اس کا فیصلہ سیاسی بیانات سے زیادہ حقائق اور شواہد کی بنیاد پر ہی ہوسکتا ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ ایسے بیانات سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیتے ہیں۔
مہاراشٹر کی سیاست میں اس وقت ایک دلچسپ صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ ایک طرف ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا اپنے آپ کو اصل شیوسینا کے طور پر مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے دوسری طرف ادھو ٹھاکرے اپنی جماعت کو دو بارہ منظم اور فعال رکھنے کی جد وجہد میں مصروف ہیں۔ دونوں فریق اپنے اپنے سیاسی وجود کو برقرار رکھنے اور عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ اس تناظر میں اراکین پارلیمنٹ کی وفاداریوں میں تبدیلی ایک اہم سیاسی واقعہ بن جاتی ہے۔ ادھو ٹھاکرے کی جانب سے چند روز قبل دیا گیا بیان بھی خاصی توجہ کا مرکز بنا تھا۔ ممبئی کے ماتوشری میں منعقدہ اجلاس میں انہوں نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ جن اراکین پارلیمنٹ کو جانا ہے وہ جا سکتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک سادہ جملہ معلوم ہوتا ہے لیکن سیاسی اعتبار سے اس کے کئی معنی اخذ کیے جا رہے ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق یہ بیان قیادت کے اعتماد کا اظہار تھا جبکہ کچھ لوگوں کی رائے میں اس سے پارٹی کے اندر موجود اختلافات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس اجلاس میں جن پانچ اراکین پارلیمنٹ کی عدم موجودگی کی خبر سامنے آئی تھی انہی میں سے بیشتر نام اب باغی اراکین کی فہرست میں شامل بتائے جا رہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پارٹی کے اندر اختلافات کافی عرصے سے موجود تھے اور حالیہ پیش رفت انہی اختلافات کا نتیجہ ہے۔ سیاست میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بڑے فیصلے اچانک سامنے آتے ہیں لیکن ان کی بنیادیں کافی پہلے سے تیار ہو رہی ہوتی ہیں۔
مہاراشٹر کی موجودہ سیاست کو سمجھنے کے لیے یہ بات بھی اہم ہے کہ ریاست میں سیاسی اتحاد اور سیاسی وابستگیاں مسلسل تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ عوامی سطح پر بھی ووٹروں کے ایک بڑے طبقے میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ نظریاتی سیاست کے بجائے اقتدار کی سیاست زیادہ نمایاں ہوچکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی جماعت کے منتخب نمائندے دوسری جماعت کی طرف جاتے ہیں تو عوام کے درمیان اس پر مختلف قسم کے ردعمل سامنے آتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے سیاسی حقیقت پسندی قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ اسے عوامی مینڈیٹ سے انحراف سمجھتے ہیں۔ ادھو ٹھاکرے کے لیے موجودہ بحران صرف اراکین پارلیمنٹ کی تعداد میں کمی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ان کی سیاسی قیادت کے لیے ایک بڑا امتحان بھی ہے۔ انہیں اب یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کی جماعت صرف چند منتخب نمائندوں پر منحصر نہیں بلکہ اس کی جڑیں عوام کے درمیان موجود ہیں۔ اگر وہ کارکنوں اور ووٹروں کا اعتماد برقرار رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں تو سیاسی مشکلات کے باوجود مستقبل میں دو بارہ مضبوط پوزیشن حاصل کرسکتے ہیں۔ دوسری جانب ایکناتھ شندے کے لیے یہ پیش رفت سیاسی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ اگر واقعی چھ اراکین پارلیمنٹ ان کی حمایت میں شامل ہو جاتے ہیں تو اس سے ان کے سیاسی قد میں اضافہ ہوگا اور وہ اپنی جماعت کو مزید مستحکم بنانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ تاہم سیاست میں کامیابی صرف اراکین کی تعداد سے طے نہیں ہوتی بلکہ عوامی حمایت بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ اس تبدیلی کا عوامی سطح پر کیا اثر پڑتا ہے۔ مہاراشٹر کی سیاست اس وقت ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ ادھو ٹھاکرے اور ایکناتھ شندے کے درمیان جاری سیاسی کشمکش نے ریاست کی سیاست کو مسلسل متحرک رکھا ہوا ہے۔ ہر نئی پیش رفت کے ساتھ سیاسی صف بندیاں تبدیل ہو رہی ہیں اور سیاسی مبصرین مستقبل کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔ فی الحال جو صورتحال نظر آرہی ہے اس میں ادھو ٹھاکرے کو ایک اور بڑا سیاسی جھٹکا ضرور لگا ہے، لیکن سیاست کی تاریخ گواہ ہے کہ بحران ہی بعض اوقات نئی طاقت اور نئی حکمت عملی کا سبب بنتے ہیں۔ آنے والے مہینے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا شیوسینا (یوبی ٹی) اس بحران سے نکل کر خود کو دو بارہ منظم کر پاتی ہے یا پھر مہاراشٹر کی سیاست میں اس کا کردار مزید محدود ہو جاتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایکناتھ شندے کی سیاسی پیش رفت کس حد تک پائیدار ثابت ہوتی ہے۔ فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ مہاراشٹر کی سیاست ایک بار پھر ہلچل سے دو چار ہے اور ادھو ٹھاکرے کی قیادت کو ایک نئے اور مشکل سیاسی امتحان کا سامنا ہے۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت، یوپی
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com