مجیب علی خان: دوست نواز چہرہ
(21 جون ، یوم پیدائش پر ایک تحریر)
ازقلم:ڈاکٹر غضنفر اقبال
گلبر گہ میں عوامی سطح پر تہذیبی، سماجی اور فلاحی خوش گوار سرگرمی اور متحرک کار کردگی کو نہایت خلوص، سلیقہ مندی اور ذمہ داری سے بحسن وخوبی ادا کرنے والے اشخاص میں الحاج مجیب علی خان کا اسم گرامی نمایاں ہے۔ حیدر آباد دکن ان کا آبائی وطن ہے لیکن اب وہ گلبرگہ کے مستقبل باسی ہیں۔ مجیب علی خان نے حیدرآباد میں 21 جون 1963 کو اس عالم آب و گل میں آنکھ کھولی۔ ان کی عمر تین برس تھی ان کے والدین قاضی محمد محبوب علی خان، محترمہ قیصر بانو اپنے خاندان کے ہمراہ گلبر گہ منتقل ہوئے تھے۔ گلبر گہ میں ہی مجیب خان کی رسم بسم اللہ خوانی ہوئی۔ان کی ابتدا سے جو نیئر کالج تک کی تعلیم گلبر گہ میں انجام پذیر ہوئی۔ انھوں نے 1990 میں بی پی ایڈ کی تکمیل کی تھی۔ مجیب علی خان نے گلبرگہ کے مختلف تعلیمی اداروں میں بہ حیثیت فزیکل ایجوکیشن ٹیچر اور یوگا ماسٹر خدمات ثابت قدمی اور خود اعتمادی سے انجام دیں ہیں۔ علاوہ ازیں وہ محکمہ پولیس میں ہوم گارڈ اور چند برس سعودی عرب میں بھی برسر روزگار رہے۔
مجیب علی خان کو بچپن ہی سے فوٹو گرافی سے گہری دلچسپی رہی ہے۔ ان کے قریب ترین دوست اور روزنامہ انقلاب دکن گلبرگہ کے مدیرِ شہیر محترم الحاج محمد محی الدین پا شاہ صاحب نے ان کو اپنے موقر اخبار میں فوٹو گرافر کی ذمہ داری سونپی تھی۔ ان کی تہذیبی، سیاسی، علمی تقاریب کی کھینچی تصاویر روزنامہ انقلاب دکن میں اہتمام سے شائع کی جاتی تھی۔ فوٹو صحافت کے ساتھ ساتھ انھیں ادب و شعر سے بھی عشق ہے۔ ان کا خاندان تعلیم یافتہ ادبی اور ثقافتی ماحول رکھتا تھا۔ ان کے والدین بھائی اور بہنیں زبان وادب کے دلدادہ رہے ہیں۔ ان کی بڑی ہمشیرہ محترمہ نفیس بانو (2002 – 1956) ارد و لیکچر ر، افسانہ نگار اور شاعرہ تھیں۔ان کی نصف بہتر محترمہ سیدہ رقیہ کی اردو تدریس سے وابستگی رہی ہے اور وہ اردو علم و ادب کا نہایت اعلیٰ ذوق رکھتی ہیں۔ مجیب خان کے عزیز ترین اعزا ماموں زاد بھائی میر بدر الدین علی (2003 – 1945) روزنامہ سالار بنگلور کے مدیر محترم تھے۔ خالہ زاد بھائی جناب محمد فاروق نشتر معروف اردو طنز و ظرافت نگارہیں۔ اپنی ابتدائی زندگی میں مجیب خان نے اپنے محبوب مصنف ابن صفی (1980 – 1928) اورپسندیدہ شاعر ساحر لدھیانوی (1980-1921) کو شوق سے پڑھا اور متاثرہوئے۔ گلبرگہ کی دنیائے معرفت کی نابغہ عصر ہستی محترم حضرت سید شاہ محمد محمد الحسینی صاحب علیہ الرحمہ (2007 – 1922) سے مجیب علی خان کو روحانی عقیدت قلبی اور ذہنی لگاؤ تھا۔
مجیب علی خان کو طویل دوڑ اور نشانہ بازی سے شغف ہے۔ ان کا موسم سرما پسندیدہ موسم ہے۔ وہ صحت مند جسم اور صحت مند ذہن کے لیے متوازن غذا کا استعمال کرتے ہیں لیکن مٹن بریانی اور خوبانی کا میٹھا کو بہت پسند کرتے ہیں۔ ان کو سفید رنگ اچھا لگتا ہے۔ مجیب خان کو ملنسار احباب پسند اور مغرور افراد نا پسندہیں۔ ان کے دل میں دینِ اسلام سے گہری محبت ہے نماز اور روزے کی پابندی کرتے ہیں۔ اذان، اقامت اور مسجد کی صفائی ستھرائی ان کی دینی زندگی کا وصفِ خاص ہے۔ وہ تین مرتبہ فریضہ ٔحج کی ادائیگی اور 2004 تا 2018 تک ہر برس عمرہ کی سعادت حاصل کر چکے ہیں۔
مجیب علی خان کے والد گرامی قدر قاضی محبوب علی خان کے حقیقی برادران اوربہنیں تقسیمِ ہند کے وقت پاکستان مراجعت کر گئے تھے۔ 1997 میں مجیب خان نے تین ماہ اپنے اقارب کے ہمراہ کراچی میںبسر کیے ۔ انھوں نے اپنی 34 ویں سالگرہ کراچی میں اقامت پذیر اپنے رشتہ داروں اور متعلقین کے درمیان منائی تھی۔ حیدر آباد دکن میں ملبوسات کے مشہور شوروم، مخدوم بر ادرس، اقبال برادرس اور بگ باس کے مالکان مجیب علی خان کے قریب ترین اقربا واعزہ ہیں۔ وہ جب کبھی حیدرآباد جاتے ہیں اپنے عزیزوں کی خیر خیریت دریافت ضرور کرتے ہیں۔
بات 1984 کی ہے۔ مجیب علی خان یر مرس رائے چور میں این سی سی کے تربیتی کیمپ کے سلسلے میں مقیم تھے۔ ایک دن ان کو کھیت میں انگوٹھی کا نگینہ دستیاب ہوا تھا۔ ان کو اس نگینے سے ہی نو ادرات جمع کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ 2016 میں اپنی جمع کردہ اشیا کی ناظرین کے مشاہدے کے لیے میوزیم کی بنیاد رکھی۔ اس میوزیم کا نام ممتاز ارد و قلم کار محترم منظور و قار صاحب نے مجیب علی خان میوزیم اینڈ کلچرل فارم گلبرگہ رکھا۔ میوزیم کے مشاہدے سے علم ہوتا ہے کہ یہ ایک نجی میوزیم ہے۔ جس میں گھڑی، ٹیلی فون، ٹیپ ریکارڈ، مائیکروفون و غیر ہم اگرچہ قدیم اشیا ہونے کے باوجود آج بھی قابل استعمال ہیں۔ میوزیم کے منتظم مجیب خان نے نمائش کے لیے اشیا کے ذخیرے کو سلیقے سے رکھا ہے ۔وہ اپنے میوزیم کی محافظت کی ذمہ داری بڑی خوبی سے نبھا رہے ہیں۔ اس میوزیم کی خاص بات یہ ہے کہ ان کے نا نا محترم نواب میر وحیدالدین خان مرحوم کا عنایت کردہ قرآن کریم کا سب سے چھوٹے سائز کا نایاب نسخہ موجود ہے۔ 15 فروری 2025 کو مجیب علی خان نے اپنے میوزیم کی دسویں سالگرہ کے پر مسرت موقع پر گلبرگہ سے متعلق پرنٹ میڈیا، الیکٹرونک میڈیا اور سوشیل میڈیا سے وابستہ 45 مسلم صحافیان کو تہنیت پیش کی تھی۔
مجیب علی خان نے اپنے والد محترم قاضی محبوب علی خان (1995-1925)کی صد سالہ یوم پیدائش کے موقع پر تین مشاہیر گلبرگہ محترم منظور و قار صاحب ،محترم ڈاکٹر انیس صدیقی صاحب اور غضنفر اقبال کی علم و ادب میں عمدگی، لگن اور شاندار خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے محبوب علی خان ایوارڈ تفویض کیا تھا۔تقریبِ تفویض اعزازات میں محترم الحاج حکیم شاکر صاحب ،محترم الحاج محمد محی الدین پاشا صاحب اورمحترم عالم خان صاحب بہ حیثیتِ مہمانانِ خصوصی شریک رہے۔اس تقریب میں مجیب علی خان کے قریبی رشتہ دار اور عالمی سطح پر معروف نعت خواں محترم اسد محی الدین خان صاحب بھی حیدر آباد دکن سے تشریف لائے تھے۔1986میں مجیب علی خان نے این سی سی کی جانب سے دہلی میں انعقاد پذیر یومِ جمہوریپ پریڈ میں حصہ لیا اور انھوں نے سابق بھارتی وزیر اعظم آنجہانی راجیو گاندھی (1944-1991)سے ملاقات کی تھی۔ مجیب خان اپنے احباب کی سالگرہ اور شادی کی سالگرہ کے موقع پر تہنیت پیش کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اردو طلبہ میٹرک،پی یوسی، گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن میں امتیازی نشانات سے کامیاب ہوتے ہیں ان کو بھی تہنیت پیش کرتے ہیں۔ ٹیچرس ڈے، چلڈرنس ڈے، ڈاکٹر س ڈے اور انجینئرس ڈے کا اہتمام مجیب خان کرتے ہیں۔
2007 میں روٹری کلب گلبرگہ کی جانب سے مجیب علی خان کو مثالی ٹیچر ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔مجیب علی خان ملبوسات میں ہر طرح کا لباس زیب تن کرتے ہیں۔ انھوں نے مجیب علی خان ڈیولپمنٹ سوسائٹی رجسڑڈ کروائی ہے جس کے وہ صدر نشین ہیں۔ اپنی سوسائٹی کے اراکین کو موسم کے لحاظ سے ٹوپیاں اور چھتری تحفۂ خلوص کے طور پر عنایت کر چکے ہیں۔
مجیب علی خان سے خاکسار کو ایک طویل عرصے سے شناسائی کا شرف حاصل ہے۔ وہ سنجیدہ مزاج، خوش اخلاق اور مہمان نواز شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ کم گفتار انسان ہیں لیکن دوسروں کی تمام باتوں کو غور سے سماعت کرتے ہیں۔ عہد موجود کے مسلم معاشرے میں ہر جانب خود غرضی اور منافقت کا دور دورہ ہے۔ ایسے منظر نامے میں انھوں نے صلہ و ستائش کی کبھی پروا نہیں کی خدمت خلق کو زندگی کے دیگر امور پر فوقیت دی ہے۔ان کے شب و روز خدمت ِخلق میں صرف ہوتے ہیں ۔ مجیب علی خان سراپا ایثا ر ہیں انتہائی غریب پرور ہیں۔ وہ غریبوں کی امداد اس انداز سے کرتے ہیںکہ کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔ 2020 میں کو رونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب زندگی تلپٹ ہوگئی تھی۔ مجیب خان نے عوام الناس کی بے مثال خدمت کی تھی۔ جن کا ایک زمانہ معترف ہے۔
مجیب علی خان کی زندگی کا بڑا اہم قابل ذکر واقعہ ہے کہ وہ ماہ اپریل 2022 میں حیدر آباد سے گلبرگہ کے لیے ٹرین حسین ساگر میں سوار ہوئے۔ ٹرین نے کچھ فاصلہ ہی طے کیا تھا ان کی نگاہ ٹرین میں سوار اُس مسافر پر پڑی جس کے چہرے سے کرب جھلک رہا تھا۔ مجیب خان نے اُس شخص سے سوال کیا آپ پریشان نظر آرہے ہیں؟ اس شخص نے کہا میری خطیر رقم کسی نے چوری کر لی ہے۔ مجیب خان اُس شخص کے جواب کے بعد خاموش رہے۔ اپنے شرٹ کی جیب سے موبائیل فون نکالا اور اُس شخص کا موبائیل فون دریافت کیا فوری طور پر پانچ ہزار روپے اس شخص کے اکاونٹ میںمنتقل کر دئیے۔ وہ شخص ممبئی کا مسافر تھا۔ اپنی منزل کی طرح چل پڑا۔ مجیب خان، گلبرگہ ریلوے اسٹیشن پر اُترے اور اپنے گھرآگئے۔ پندرہ دن کے بعد اچانک مجیب علی خان کو ایک میسیج موبائیل فون پرموصول ہوا۔ لکھا تھا میں آرہا ہوں۔ یہ اُس شخص کا لکھا ہوا میسیج تھاجو حیدر آباد گلبرگہ کے سفر میں مجیب علی خان کو ملا تھا۔ ایک شام وہ شخص ممبئی ٹرین سے آیا ۔ گلبرگہ ریلوے اسٹیشن پر مجیب علی خان سے ملاقات کرکے ان کی رقم لوٹا دی اور چند منٹوں کے توقف کے بعد اور دوسری ٹرین سے ہی ممبئی چل پڑا۔
مجیب علی خان، نیک دل ،دوست نواز، رفیق، مونس و غم خوار ہیں۔ بڑوں کا احترام، چھوٹوں سے اخلاص ومحبت کرتے ہیں۔ سماجی رابطوں پر ان کا یقین ہے۔ ان کے مراسم سماجی، سیاسی، مذہبی ،ادبی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کی اہم شخصیات سے ہیں۔ وہ عوامی پذیرائی اور عوام کی خدمت کے بعد فرصت کے اوقات میں بھارتی موسیقی کی دنیا کے دومشہور گلوکار طلعت محمود (1998-1924) اور میکش (1976- 1923) کے نغمات سماعت کرتے ہیں اور کبھی کبھی گنگناتے ہیں ؎ زندگی دینے والے سن تیری دنیا سے دل بھر گیا اور کسی کی مسکراہٹوں پہ ہونثار کسی کا درد مل سکے تو لے اُدھار۔
مجیب علی خان کی زندگی کی متاع عزیز ان کا دوستانہ اخلاص، باہم تعلقات اور آپسی ربط وضبط ہے جس میں نہ مقابلہ آرائی ہے اور نہ ہی احساسِ کمتری۔ بس لطیف اور پرسکون مسکراہٹ جو دلوں کو روشنی دیتی ہے۔ الحاج مجیب علی خان اپنے دوستوں اور اپنوں سے پرجوش اور با عزم انداز میں ساحر لدھیانوی کی زبان میں گویا ہوتے ہیں۔
آپ دولت کے ترازو میں دلوں کو تو لیں
ہم محبت سے محبت کا صلہ دیتے ہیں
٭٭٭
Dr. Ghazanfar Iqbal ”Saiban” Zubair Colony
Hagarga Cross Ring RoadGulbarga-585104(K.S)Mob Phone: 9945015964
E-mail :ghazanfaronnet@gmail.com