مودی بن گئے’پی ایم نمبر ون‘

مودی بن گئے’پی ایم  نمبر ون‘

مودی بن گئے’پی ایم نمبر ون‘

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

 

جی ۷ ؍ اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی نے صدر ٹرمپ کے سامنے سمندری راستوں کے تحفظ کی گول مول باتیں تو کیں مگر یہ نہیں پوچھ سکے کہ امریکہ نے ہندوستانی ملاحوں کو کیوں ہلاک کیا اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کوسزا کیسے ہوگی؟مودی کے اس بزدلانہ رویہ نے منموہن سنگھ کی یاد دلا دی جنہوں نے دیویانی کھوبرا گڑے تنازع میں اپنی دلیری سے اوبامہ انتظامیہ کو جھکادیا تھا۔ دسمبر 2013میں نیویارک پولیس نے دیویانی کو ویزا فراڈ کے الزام میں گرفتار کرکے الزام لگایا تھا کہ انھوں نے امریکہ میں کم سے کم یومیہ اجرت کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ہندوستانی خادمہ کو کم تنخواہ پر ملازم رکھا۔انھیں بعد میں ڈھائی لاکھ ڈالر کی ضمانت پر رہا کر دیا گیا لیکن چونکہ سفارتکار ہونے کے باوجود گرفتار کرکے تلاشی لی گئی تھی اس لیے حکومت ہند نے ردعمل میں نئی دہلی کے امریکی سفارتخانے کو اپنے تمام قونصلروں کے شناختی کارڈ وزارتِ خارجہ میں جمع کروانے کا حکم دیا ۔ حکام سے کہا گیا کہ وہ تمام سفارتکاروں ، قونصلروں اور سفارتخانے میں کام کرنے والےہندوستانی ملازمین کی تنخواہوں کی تفصیلات پیش کریں نیزامریکی سکول میں تعلیم دینے والے اساتذہ کے ویزے کی نوعیت اور سفارتکاروں کے گھریلو ملازمین کی تنخواہوں کی تفصیل بھی طلب کی گئی۔

دیویانی کھوبراگڑے کیس پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے دیویانی کے خلاف کیس واپس لینے اور معافی مانگنے مطالبہ کیا گیا ۔امریکی سفارتکاروں کو امریکن کمیونٹی سپورٹ ایسوسی ایشن کے تحت جاری تجارتی سرگرمیاں بند کرنے کا حکم دیاگیا۔ امریکی سفارتخانے میں بنے ریسٹورنٹ، بار، بولنگ کلب، سوئمنگ پول، بیوٹی پارلر اور جم بھی بند کروادئیے گئے۔ امریکن سینٹر میں بھارتی فلم کی نمائش کے لیے لائسنس کا حصول لازمی کیاگیا۔ امریکی سفارت کاروں کوحاصل ہوائی اڈوں کی خصوصی مراعات ختم کردی گئیں۔ دہلی پولیس نےامریکی سفارت خانے اور امریکی سکول پر لگائی گئی اضافی حفاظتی رکاوٹوں کو بھی ہٹا دیا ۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی اور وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے امریکی کانگریس کے ارکان سے ملنے سے انکار کر دیا۔ وزیرِ خارجہ سلمان خورشید نے امریکی حکام کے اس رویے کو ناقابلِ قبول قرار دیا ۔امریکی وزیر توانائی ارنسٹ مورنز کو ہندوستانی دورہ منسوخ کرنا پڑا۔ نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے ایک اہلکار کو ملک چھوڑنے کاحکم دیا گیا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مار چ 2014 میں دیويانی كھوبراگڑے کے خلاف ل الزامات کو عدالت نے مسترد کر دیا ۔

اس وقت وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے بھی امریکی وفد سے نہ ملنے کا فیصلہ کردیا تھا مگر اب تو ملاحوں کا قتل ہوگیا پھر کوئی مذاکرات منسوخ ہوئیں نہ کوئی عملی اقدام ہوا۔ جس دن یہ سانحہ پیش آیا مودی جی اور ان کی پارٹی طویل ترین وزیر اعظم ہونے کا جشن منارہی تھی ۔مودی نے 26؍ مئی 2014ء کو پہلی بار وزیرِ اعظم کے عہدے کا حلف لیا اور گزشتہ ہفتے 8؍جون کو اپنی مدتِ کار کے4398؍ دن مکمل کرلیے ۔ یہ پنڈت نہرو کی منتخب وزیرِ اعظم کی مدتِ کار کے برابر ہیں البتہ پنڈت جی آزادی کے بعد 15؍ اگست 1947ء کو ہندوستان کے پہلے وزیرِ اعظم بنے تھے، لیکن اس وقت وہ منتخب نہیں بلکہ عبوری حکومت کے سربراہ تھے۔ سابق وزیرِ اعظم اندراگاندھی نے مسلسل منتخب وزیرِ اعظم کے طور پر 4077؍ دن حکومت کی تھی ۔ آگے چل کر 1980ء میں وہ پھر سے وزیرِ اعظم منتخب ہوگئیں لیکن چونکہ درمیان میں تسلسل ٹوٹ گیا تھا اس لیے مودی جی ان کا ریکارڈ توڑنے میں کامیاب ہوگئے ۔ اس طرح گویا وزیر اعظم نریندر مودی نے منتخبہ اور لگاتار کی شرائط کے ساتھ سابق وزر ائے اعظم اندرا گاندھی اور پنڈت جواہر لعل نہرو کا ریکارڈ توڑ دیا ۔ ان شرطوں کے بغیر وہ ملک کے طویل ترین عرصے تک اپنے عہدے پر بنے رہنے والے ’نمبرون ‘ (پہلے نمبر کے) وزیر اعظم نہیں بن پاتے خیر جس طرح بی جے پی گیانیش کی مدد سے گھپلا کرکے الیکشن جیت جاتی ہے ویسے ہی مودی جی نے ریکارڈ توڑ دیا۔

اس دوران لوگ بھول گئے کہ پنڈت نہرو یا اندرا گاندھی نے نریندرمودی کی طرح کوئی کھچڑی سرکار نہیں چلائی بلکہ وہ کانگریس کی اکثریت والی حکومت کے سربراہ تھے ۔ بیچارے مودی جی اس اعزاز سے محروم ہیں ۔ بی جے پی پہلی دو میعاد میں ایوانِ زیریں کے اندر اکثریتی جماعت تھی مگر تیسری بار وہ اقلیت میں آگئی ۔ 2014میں بی جے پی کو مرتے پڑتے معمولی اکثریت مل گئی تھی مگر 2019 میں سرجیکل اسٹرائیک کرکے اس نے 300 پار کرلیا اور303 نشستیں جیت گئی ۔ اس کے بعد 2024 میں وہ 400پار کرنا چاہتی تھی مگر 240 پر اٹک گئی اس طرح اکثریت جٹانے میں ناکام نریندرمودی کو شرم ہوتی تو کسی اورزمامِ کار سونپتے اور جھولا اٹھا کر چلے جاتے لیکن اقتدار کی ہوس میں انہوں اقلیت کے باوجود ’ہم تو فقیر آدمی ہیں ‘ کا چولا اتار کر دوسروں کی مدد سے سرکار بنالی ۔یہی وجہ ہے ریکارڈ ٹوٹنے پر بی جے پی کے بجائے قومی جمہوری اتحاد نے قرارداد منظور کی کیونکہ اب وہ کمل چھاپ پارٹی کے نہیں بلکہ این ڈی اے کے مرہونِ منت وزیر اعظم ہیں۔ مودی حکومت کی ستائش میں منظور ہونے والی تہنیتی قراردادآندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے پیش کی جبکہ ناگالینڈ کے وزیر اعلیٰ نیفیو ریو نے تائید کی ۔ یہ دونوں بھاجپائی نہیں ہیں ۔
مودی کے پیش رو نہرویا اندرا پر اس طرح بیساکھیوں کے سہارے حکومت کرنے کی نوبت کبھی نہیں آئی ۔ ویسے سب سے طویل عرصے تک وزارت عظمیٰ کی کرسی پر فیویکول لگا کر چپکے رہنا اپنے آپ میں کون سا بڑا کارنامہ ہے؟ ایک ایسی سرکار جس کے بارے میں عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمان سنجے سنگھ نے ایک ویڈیو جاری کرکےسوال کیا ’’بارہ سال ،دیش بے حال۔مودی نے پھیلایا نفرت کا جال۔دوست کو کیا مالا مال ، دیش کو کیاکنگال‘‘کیا یہی ہیں اچھے دن؟ ‘‘ ایسی حکومت کا سربراہ بنے رہنا نیک نامی ہے یا بدنامی؟ مودی جی کی کارکردگی تو نہایت مختصر عرصے کے لیے وزیر اعظم بننے والے لال بہادر شاستری کے برابر بھی نہیں ہے جنھوں نے’ جئے جوان جئے کسان‘ کا نعرہ دیا تھا۔ مودی راج میں تو کسان اپنی فصل کی ’کم ازکم ‘ قیمت پانے کے لیے خودکشی پر مجبور ہے اور فوجی جوانوں کو ’اگنی ویر‘ بناکر ٹھیکے پربھرتی کیا جارہا ہے۔ اس کے باوجود اِدھر ریکارڈ ٹوٹا اُدھر بی جے پی سمیت گودی میڈیا نے گویا 1997کی فلم ’ہیرونمبر ون ‘ کا نغمہ گانا شروع کردیا ؎
سونا کتنا سونا ہے سونے جیسا تیرا من ،
سن ذرا سن کیا کہتی ہے دیوانے دل کی دھڑکن
تو میرا، تومیرا، تومیرا ،تو میرا ،تو میرا’ پی ایم نمبر ون ‘

بی جے پی نے اپنے ڈھول ، باجے اور باراتیوں سے ثابت کردیا کہ ایونٹ مینجمنٹ میں مودی سرکار کا کوئی ثانی نہیں وہ بلا شک و شبہ ’نمبرایک‘ پرہے ۔ اس خوشی میں بھگت یہ بھول گئے کہ مودی جی کو تو 2047 تک ملک چلانا ہے۔ اس لیے کچھ دن صبر کرلیتے تو بلا شرط سارے ریکارڈ ازخود ٹوٹ جاتے لیکن شاید اندر ہی اندر ان کا اعتماد ٹوٹ کر بکھر گیا ہے اس لیے شرائط کے ساتھ ہی ’نمبر ون‘بن جانے پر اکتفاء کرلیا ۔ اس موقع پر بھارت منڈپم میں این ڈی اے کے اجلاس سے خطاب میں مودی جی کانگریس پر برس پڑے ۔ انہوں نےکہا کہ ’’12؍ برسوں میں ملک کانگریس کے چکر سے آزاد ہوگیا ہے‘‘۔ رام مندر کی بنیاد رکھتے وقت وہ ایک ہزار سال کی غلامی سے آزادی کا دعویٰ کررہے تھے لیکن اب کانگریس کے چند سالہ دورِ اقتدار تک سمٹ گئےیہ ترقی ہے یا تنزل؟ مودی نےہندوستان کی سست رفتار ترقی کو ’’ہندو گروتھ ریٹ‘‘ کا نام دینے کیلئے کانگریس کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ اس کے ذریعہ ہندوؤں کو بدنام کیاگیا جبکہ اس سست روی کی وجہ کانگریس تھی اس لئے اس کا نام ’’کانگریس گروتھ ریٹ ‘‘ ہونا چاہئے تھا۔ یہ ہندو گروتھ ریٹ کی اصطلاح مودی جی کی اپنی ایجاد ہے۔ اس سے پہلے یہ اصطلاح کسی نے سنی ہی نہیں تھی اس لیے اسے کانگریس سے جوڑنا کھلی شرارت ہے۔

جہاں تک ہندووں کا سوال ہے ان کا نام تو مودی کے دورِ حکومت نے روشن کردیاہے ۔ موصوف جس دن اپنی پیٹھ تھپتھپارہے تھے اسی روز ایودھیا کی نئی بدعنوانی یعنی رام مندر سے چندہ چوری کی خبر آگئی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جوشِ خطابت میں الزام لگا دیا کہ کانگریس کے دور میں ’’نہ گورننس تھی، نہ پالیسی، نہ عزم اور نہ ہی بروقت فیصلے۔ ناکامی کانگریس کی تھی لیکن اس کا داغ ہندو آبادی پر لگایا گیا۔‘‘ مودی جی کی ساری گورننس تو صرف امریکہ میں اڈانی کو بچانے کے لیے وقف ہے۔ پالیسی گزشتہ حکومت کی صنعتوں کو نجی دوستوں کے ہاتھوں فروخت کرنے کی ہے ۔ عزم تو اس وقت نظر آگیا کہ جب گلوان میں چینی در اندازی کے باوجود وزیراعظم نے اس کا انکار کرکے اپنی ذمہ داری سے دامن چھڑا لیا۔ وزیر اعظم میں قوت فیصلہ ہوتی تو وہ اندرا گاندھی کی طرح امریکہ سے کہہ دیتے کہ ہمیں یہ مت سکھائیے کہ کیا کرنا ہے ؟ بی جے پی اور مودی کو طویل ترین مدت تک اقتدار میں رہنے پر بغلیں بجانے کے بجائے ٹیپو سلطان کا وہ تاریخی جملہ یاد رکھنا چاہیے کہ ’’ شیر کی ایک دن کی زندگی(یااقتدار)، گیدڑ کی سو سالہ زندگی(یاسرکار) سے بہتر ہے‘‘ ۔ ٹیپو سلطان نے فیویکول لگا کر اقتدار سے چپکے رہنےکے بجائے لڑتے ہوئے موت کو گلے لگاکر شیر میسور کہلائے ۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے