بنتِ حوا کا وقار حجاب میں!

بنتِ حوا کا وقار حجاب میں!

بنتِ حوا کا وقار حجاب میں!

از: محمد عمر قاسمی کاماریڈی
استاذ ابوہریرہ اکیڈمی اورنگ آباد

 

” حجاب “ صرف اسلامی شعار اور مذہبی فریضہ ہی نہیں ؛ بلکہ عزت و ناموس کا محافظ، تحفظِ شرم و حیا کا ضامن ، فطرتِ نسواں کا متقاضی ، انسدادِ فواحش کا باعث ، پاک باز اور عزت مآب خواتین کا وقار اور انتخاب ، بےحیائی و بدکاری کے روک تھام کا مؤثر اور بہترین ذریعہ ، جوہرِ عفت وعصمت کا پاسباں ، بد قماش اور شرپسند بھیڑیوں اور ہوس پرست درندوں سے ڈھال اور سپر ، اور پاک دامن و بدکردار کے مابین حدِ فاصل ہے ؛ مختصر یہ کہ “حجاب” فطرتِ نسوانی اور رمزِ مسلمانی ہے ، تہذیب و شائستگی کی بنیاد اور عظمت کی نشانی ہے ؛ کیوں کہ
اسلام میں ہر طرح بجا ہے پردہ
نسواں کے لیے حسن وحیا ہے پردہ
پردے کی حقیقت میں وہ عظمت ہے رفیقؔ
خالق نے بھی خلقت سے کیا ہے پردہ

حجاب کا مقصد اور مقام!
اسلام میں حجاب کا مقصد خواتین کو تحفظ فراہم کرنا ہے نہ کہ قید و پابند کرنا ؛ یہی وجہ ہے کہ جذبات و احساسات اور اخلاق و کردار کو آوارگی سے بچائے رکھنے ، تہذیب وتمدن کو زوال و سقوط سے محفوظ رکھنے ، معاشرتی برائیوں کا سدباب کرنے ، اور خانگی زندگی کو خوش گوار اور کام یاب بنانے میں حجاب کا اہم کردار رہا ہے ، عقل اور قیاس کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ جو شئی جتنی قیمتی ہوتی ہے اس کو اتنا ہی چھپا کر رکھنا چاہیے ، نہ کہ اسے سڑکوں پر برسر عام نکالا جائے ، اور لوگ اس سے مستفید ہو ؛ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے عورت کے لیے اجتماعی نماز کی بہ نسبت انفرادی نماز کو ترجیح دی ہے ، اور یہ سب صرف جوہرِ عفت کے تحفظ کی خاطر ہے ۔

مذہبِ اسلام، جوہرِ عفت کا نگہبان
دینِ اسلام کی پاکیزہ شریعت میں فرائض کی ادائیگی کے بعد جس حکم کو سب سے زیادہ اہمیت اور اولیت حاصل ہے، وہ عفت، پردہ اور حجاب ہے۔ یہ محض ایک ظاہری رسم نہیں ؛ بلکہ روح کی طہارت اور معاشرتی پاکیزگی کا ضامن ہے۔ تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ ہجرت کے پانچویں سال جب پردے کی فرضیت کا حکمِ الٰہی نازل ہوا، تو اس نے مسلم معاشرے کو حیا کے ایک نئے سانچے میں ڈھال دیا۔ قرآنِ کریم کی سات مبارک آیات اور سرورِ کائنات ﷺ کی ستر سے زائد احادیثِ مبارکہ اس امر کی گواہ ہیں کہ شریعتِ مطہرہ نے عورت کے وقار اور اس کی عفت کے تحفظ کے لیے حجاب کو لازم قرار دیا ہے۔
حجاب کا اصل مقصود عورت کی نسوانیت کو فتنوں کی زد سے بچانا ہے۔ اس سرمایۂ حیا میں سب سے کلیدی حیثیت "چہرے کے پردے” کو حاصل ہے؛ کیوں کہ چہرہ ہی انسانی حسن کا مرکز، جاذبیت کا محور اور فتنوں کا بنیادی سبب بنتا ہے۔ جسم کے باقی اعضاء تو عموماً لباس کی تہوں میں مستور ہوتے ہی ہیں، لیکن اصل امتحان چہرے کا ہے۔ اسی لطیف نکتہ کی جانب رہنمائی کرتے ہوئے خالقِ کائنات نے سورۃ الاحزاب میں ارشاد فرمایا:
” یٰۤاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِھِنَّ “ (سورۃ الاحزاب ، آیت : ۵٩٠)
ترجمہ: ” اے نبی ﷺ! اپنی ازواجِ مطہرات، اپنی بیٹیوں اور مؤمن عورتوں سے فرما دیجیے کہ اپنے (چہروں) پر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں۔“
ایسی ہی ایک اور ربانی ہدایت امہات المؤمنین کے حوالے سے نازل ہوئی جو قیامت تک کی خواتین کے لیے مشعلِ راہ ہے: ” وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْھُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ “ (سورۃ الاحزاب ، آیت : ۵٣)
ترجمہ: ” اور جب تم ان سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔“

حجاب: عادت بھی، عبادت بھی
شریعتِ اسلامی میں زندگی کا کوئی گوشہ، کوئی عادت یا عبادت ایسی نہیں جہاں عورت کو حجاب کی قید سے آزاد کیا گیا ہو۔ جب کوئی ناگزیر ضرورت عورت کو گھر کی چہار دیواری سے باہر قدم رکھنے پر مجبور کرے، تو اس کے لیے بھی ایک خاص قرآنی دستور اور ضابطہ مقرر ہے کہ جب وہ باہر نکلے تو: چادر یا برقع کا اہتمام ہو۔
خوشبو کی مہک سے فضا معطر نہ ہو۔
ایسے زیورات سے پرہیز ہو جو اپنی جھنکار سے متوجہ کریں۔
شاہراہوں کے بیچ میں چلنے کے بجائے راستوں کے کناروں کا انتخاب کیا جائے۔
مردوں کے ہجوم اور اختلاط سے دامن بچا کر گزرا جائے۔
یہ تمام سختیاں دراصل پابندیاں نہیں، بلکہ اس "جوہرِ عفت” کی حفاظت کے لیے لگائے گئے پہرے ہیں جو اسلام نے عورت کو عطا کیا ہے۔
اہلِ حقیقت اور صاحبانِ بصیرت کی نظر میں ایک نیک بخت عورت کا اصل حسن و جمال اس کا خوفِ خدا ہے۔ اس کی دولت قناعت ہے اور اس کا سب سے قیمتی زیور عفت و عصمت اور تہمت کی جگہوں سے اجتناب ہے۔

حجاب، احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
کتابِ الٰہی کے ان محکم احکام کی تائید و تشریح احادیثِ نبویہ کے بحرِ بے کنار سے بھی ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ فَإِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ (سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: ١١٧٣)
ترجمہ: ” عورت سراپا پردہ (چھپانے کی چیز) ہے، جب وہ گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کے پیچھے لگ جاتا ہے۔ “
اس فرمانِ عالی شان سے واضح ہوتا ہے کہ پردے کا تعلق کسی ایک عضو سے نہیں، بلکہ عورت کے پورے وجود سے ہے۔
حیا کا یہ معیار کس قدر بلند تھا، اس کا اندازہ مسندِ احمد کی اس روایت سے لگائیے کہ ایک مرتبہ درِ رسول ﷺ پر ایک نابینا صحابی، حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ حاضر ہوئے۔ وہاں امہات المؤمنین حضرت ام سلمہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہما موجود تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "ان سے پردہ کرو۔” انہوں نے حیرت سے عرض کیا: "یا رسول اللہ! وہ تو نابینا ہیں (وہ ہمیں نہیں دیکھ سکتے)۔” تو معلمِ انسانیت ﷺ نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو رہتی دنیا تک کے لیے اصول بن گیا: "کیا تم دونوں بھی نابینا ہو؟” (مسند احمد ، ٦ /٢٩٦)
غور کیجیے! جہاں ایک نابینا مرد سے بھی پردے کا حکم دیا جارہا ہو، وہاں بینا مردوں کے سامنے بے حجاب ہونا کس قدر بڑی غفلت ہوگی۔

خیر القرون کا درخشندہ طرزِ عمل
اگر ہم تاریخ کے اس پاکیزہ ترین دور—خیر القرون—پر نظر ڈالیں، تو دل حضرات صحابہ ؓ اور صحابیات ؓ کے جذبۂ امتثالِ حکمِ الٰہی سے ورطۂ حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔
چناں چہ ایک صحابیہ کا لختِ جگر شہید ہوگیا۔ وہ دل پر پتھر رکھ کر، نقاب اوڑھے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں اپنے بیٹے کا حال پوچھنے حاضر ہوئیں۔ اس کٹھن گھڑی میں بھی نقاب دیکھ کر کسی نے حیرت سے کہا: "اس مصیبت کے وقت بھی نقاب؟” تو اس غیرت مند خاتون کے تاریخی الفاظ تھے: "میں نے اپنا بیٹا کھویا ہے، اپنی حیا نہیں کھوئی!” (سنن ابی داؤد ، کتاب الجھاد)
سبحان اللہ! یہ شدید ترین غم بھی ان کے ہاتھ سے حیا کا دامن نہ چھڑا سکا۔
صرف یہی نہیں ؛ بلکہ عبادت کی غرض سے گھر سے نکلتی تو اس طرح کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ خواتین فجر کی نماز کے لیے مسجدِ نبوی میں حاضر ہوتیں، وہ اپنی چادروں میں اس طرح لپٹی ہوتی تھیں کہ جب نماز کے بعد اپنے گھروں کو لوٹتیں تو اندھیرے اور پردے کی کثرت کے باعث کوئی انہیں پہچان نہ پاتا تھا۔ (صحیح بخاری ، کتاب الصلوٰۃ)
یہ روایت واضح کرتی ہے کہ چہرہ سمیت پورا جسم چادروں میں نہاں ہوتا تھا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا "افلح” جب ان سے ملنے آئے، تو انہوں نے انتہائی احتیاط کے پیشِ نظر پردہ فرما لیا اور ملاقات سے انکار کردیا۔ بعد میں جب آپ ﷺ نے آ کر شرعی مسئلہ واضح کیا کہ وہ رضاعی چچا ہونے کے ناطے محرم ہیں، تب جا کر انہوں نے ملاقات کی ۔ (صحیح مسلم ، کتاب الرضاع)

مشہورِ زمانہ واقعۂ افک میں جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا قافلے سے بچھڑ گئیں اور بیدار ہو کر انہوں نے دیکھا کہ حضرت صفوان بن معطل سلمی ؓوہاں پہنچ چکے ہیں (جنہوں نے پردے کا حکم آنے سے پہلے آپؓ کو دیکھا تھا اور پہچان کر بلند آواز سے انا للہ پڑھا)، تو حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: "ان کی آواز سن کر میں بیدار ہوئی اور فوراً اپنی چادر سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔” (صحیح بخاری ، کتاب المغازی)
الغرض یہ پاکیزہ تذکرے، یہ نورانی واقعات اور یہ قرآنی فرامین ہمیں جھنجھوڑتے ہیں۔ صحابہ کرام ؓ اور صحابیات ؓ کی نظر میں پردے کی کیا اہمیت تھی اور وہ اس پر کس سختی سے کاربند تھے، یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ جسم کے ساتھ ساتھ چہرے کا پردہ ان کا شعار تھا۔ مگر افسوس! آج ہم اپنی عارضی خواہشات کی تکمیل اور فیشن کی مسموم ہواؤں کے جھونکوں میں آ کر حجاب کو ایک "بوجھ” تصور کرنے لگے ہیں اور بے حجابی کو آزادی کا نام دے بیٹھے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس قرآنی دستور کو دوبارہ اپنائیں تاکہ معاشرہ پھر سے امن، طہارت اور حیا کا گہوارہ بن سکے۔

ہندو دھرم میں حجاب کا تصور!
حجاب اور پردے کا تصور صرف دینِ اسلام تک محدود نہیں ہے، بلکہ قدیم ہندو تہذیب اور سنسکرتی میں بھی اس کے واضح شواہد ملتے ہیں۔ ان کے مذہبی لٹریچر اور تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عہد میں بھی خواتین کے لیے حیا کا خاص اہتمام کیا جاتا تھا۔
اس کی ایک نمایاں مثال مہابھارت کے ایک واقعے سے ملتی ہے۔ جب متھرا کے راجہ اور سری کرشن کے ماموں، کنس نے دنگل (کشتی کے مقابلے) کا انعقاد کیا، تو مستورات کے بیٹھنے اور تماشہ دیکھنے کے لیے الگ اور مخصوص بالا خانے تعمیر کروائے گئے۔ یہ مقامات اس قدر بلندی پر واقع تھے کہ فضا میں اڑتے ہوئے راج ہنس بھی وہاں سے نیچے دکھائی دیتے تھے۔ ان بلند مقامات پر باریک جالیوں کا پردہ لٹکایا گیا تھا، تاکہ خواتین پردے میں رہ کر باہر کے مناظر دیکھ سکیں، لیکن نیچے موجود ہجوم کی نظریں ان پر نہ پڑ سکیں۔ (مہا بھارت:وشوپرب ادھیائے ۱۹)

ہماری ناگفتہ بہ صورت حال
موجودہ دور میں سماجی اقدار کا زوال اور معاشرتی ترجیحات کی تبدیلی ایک لمحۂ فکریہ بن چکی ہے۔ مادی منفعت اور ہوسناکی کے اس ماحول میں صنفِ نازک کو تجارتی تشہیر اور بازاری مفادات کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ جدید فیشن اور طرزِ لباس کے نام پر ایسے ملبوسات متعارف کروائے جارہے ہیں جو ستر پوشی کے بجائے عریانیت کو فروغ دیتے ہیں، اور آرائش و زیبائش کے ایسے مصنوعی طریقے اپنائے جارہے ہیں جو فطری حسن کو مسخ کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس مہم جوئی کو ‘حقیقی آزادی’ کا نام دے کر قبول کیا جارہا ہے، جب کہ اخلاقی و مذہبی حدود کو قدامت پسندی اور قید و بند سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ حقیقت میں وہ آزادی محض ایک فریب ہے جو عفت مآب کو مجروح کرے، اور وہ مساوات ایک سراب ہے جو انسان کو اس کی اصل اخلاقی ذمہ داریوں اور مقصدِ تخلیق سے غافل کردے۔
تباہی کا یہ سیلاب صرف غیروں تک محدود نہیں رہا، بلکہ مسلم معاشرے کا وہ طبقہ بھی اس کی زد میں ہے جو خود کو دین دار تصور کرتا ہے۔ معاشرتی زندگی میں حجاب کی اہمیت دھندلا چکی ہے؛ غیر محرموں کے ساتھ بلا جھجک میل جول، بے تکلف گفتگو، اور ڈیجیٹل ذرائع (اسمارٹ فون ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز) پر غیر ضروری رابطوں کو اب معیوب ہی نہیں سمجھا جاتا۔
دوسری طرف، جہاں پردے کی روایت برقرار بھی ہے، وہاں وہ اکثر حقیقی روح سے خالی اور محض ایک رسمی عادت بن کر رہ گئی ہے۔ جسم پر برقع تو موجود ہوتا ہے، مگر چہرہ بے نقاب رہتا ہے، یا پھر برقع خود اس قدر چست، زرق برق اور دیدہ زیب ہوتا ہے کہ وہ حجاب بننے کے بجائے خود توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ خروج کسی ضرورت کے تحت نہیں، بلکہ زیبائش کی نمائش اور بہ ظاہر دوسروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے ہے۔ یہ طرزِ عمل حجاب کے اصل فلسفے—جو کہ حیا اور وقار کا ضامن ہے—کے سراسر منافی ہے۔

فرقہ پرستوں کی سازش !
ہمارا وطنِ عزیز اپنی صدیوں پرانی مشترکہ تہذیب اور کثرت میں وحدت کے حسن کے لیے جانا جاتا ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں ملکی سیاست کا رخ جس طرح مذہبی خطوط پر موڑا جارہا ہے، وہ ایک سنجیدہ فکر کا متقاضی ہے۔ اقتدار اور سیاسی مفادات کے لیے اکثر ایسے مسائل کو ہوا دی جاتی ہے جن کا مقصد عوامی توجہ کو حقیقی سماجی و معاشی مسائل سے ہٹانا ہوتا ہے۔ گذشتہ سالوں میں مختلف ریاستوں، جیسے کرناٹک اور راجستھان میں حجاب کے معاملے کو جس طرح پبلک ڈسکورس (عوامی بحث) کا حصہ بنا کر ہنگامہ آرائی کی گئی، وہ اسی سیاسی حکمتِ عملی کا ایک مظہر معلوم ہوتا ہے۔
اس پورے تناظر میں ایک بڑا تضاد بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایک طرف عوامی نمائندے اور مختلف رہنما خود پارلیمنٹ، اسمبلیوں اور دیگر عوامی مقامات پر اپنے مخصوص مذہبی یا روایتی ملبوسات آزادی کے ساتھ زیبِ تن کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف جب مسلم طالبات تعلیمی اداروں کے ضابطوں کے مطابق لباس کے ساتھ حجاب کا اہتمام کرنا چاہتی ہیں، تو اسے متنازع بنادیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل سے صرف اور صرف دوغلا پن جھلکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ان تنازعات کو کھڑا کرنے والوں کا مقصد کسی مذہبی روایت کا تحفظ یا اصلاح نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے خالصتاً سیاسی مفادات کارفرما ہوتے ہیں۔ انتخابی سیاست کے دوران معاشرے کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنا، نفرت انگیز بیانات کے ذریعے فضا کو مسموم کرنا، اور شہریوں کے مابین خلیج پیدا کرنا ایک باقاعدہ حربہ بن چکا ہے۔ یہ کوششیں ملک کے جمہوری اور سیکولر تانے بانے کو نقصان پہنچاتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ تاریخی خطہ باہمی خلفشار کا شکار ہورہا ہے۔

حجاب اور برقع کیسا ہونا چاہیے ؟
دورِ نبوت کی پاکیزہ زندگی اور اس عہد کا معاشرہ ہمارے لیے رشد و ہدایت کا وہ مینارِ نور ہے، جہاں حجاب اور پردے کا تصور کسی بناوٹی زیبائش یا ہیجان انگیزی سے پاک تھا۔ اس عہدِ زریں میں برقع اور چادریں سادگی، وقار اور کشادگی کا مظہر تھیں، جس کے سائے میں خواتینِ اسلام سر تا پا مستور رہ کر عفت و حیا کی وہ اعلیٰ مثالیں قائم کرتی تھیں جو رہتی دنیا تک پوری انسانیت کے لیے لائقِ تقلید ہیں۔
اگر ہم آج بھی اپنے حجاب کو شریعت کے حقیقی سانچے میں ڈھالنا چاہتے ہیں، تو اس کے لیے درج ذیل بنیادی شرائط کا لحاظ رکھنا ناگزیر ہے:
(١) جامع ستر پوشی: برقع اس طرح ہو جو پورے جسم کو ڈھانپ لے۔
(٢) دبیز پن: کپڑا اتنا باریک نہ ہو کہ اس سے جسم کی ساخت نمایاں ہو۔
(٣) کشادگی اور وسعت: لباس کشادہ ہو، اس میں اس درجے کا تنگ پن نہ ہو جو جسم کے خدوخال کو ظاہر کرے۔
(٤) سادگی: نقاب اور برقع بذاتِ خود اظہارِ زینت اور توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہ ہوں۔
(۵) خوشبو سے احتراز: باہر نکلتے وقت عطر یا ایسی خوشبو کا استعمال نہ کیا گیا ہو جو دوسروں کو متوجہ کرے۔
(٦) مردانہ شباہت سے دوری: لباس مردوں کے مخصوص طرزِ پوشاک سے مشابہ نہ ہو۔
(٧) تشبہ بالکفار سے پاک ہو : غیر مسلموں کے مذہبی یا مخصوص تہذیبی لباس کی نقل نہ کی گئی ہو۔
(٨) حسنِ نیت کا لحاظ ہو یعنی لباس پہننے میں ریاکاری، نمود و نمائش یا سماجی تفاخر کا کوئی جذبہ کارفرما نہ ہو۔
جب یہ اوصاف کسی حجاب کا حصہ بنتے ہیں، تبھی وہ ‘حجابِ شرعی’ کا درجہ پاتا ہے، اور اسی کے ذریعے بنتِ حوا کی چادرِ عفت زمانے کے ہوسناک طبقے سے محفوظ رہ سکتی ہے۔

کرنے کے اہم کام
اگر ہماری خواہش ہے کہ نئی نسل اور دخترانِ ملت کی عزت و آبرو پامال نہ ہو، اور ان کے اخلاق و کردار بے داغ رہے تو انفرادی و اجتماعی اصلاح کے لیے درج ذیل ترجیحات پر عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے:
(١) شریعت کی کامل تابعداری :
ہمیں چاہیے کہ اسلامی تعلیمات کا گہرا مطالعہ کریں، منشائے شریعت کو سمجھیں اور اسے اپنی عملی زندگی کے ہر گوشے میں نافذ کریں۔ اپنی نفسانی خواہشات کو ترک کرکے احکامِ الٰہی کو مقدم رکھیں اور دین پر چلنے کے معاملے میں کسی ملامت گر کی پروا نہ کریں۔
(٢) اغیار کی نقالی سے اجتناب:
موجودہ دور کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم زندگی کے اکثر معاملات میں غیروں کی اندھی تقلید اور فیشن پرستی کے نشے میں مست ہوچکے ہیں۔ یہاں تک کہ مسرت و شادمانی کے مواقع پر مسلم اور غیر مسلم کا امتیاز ہی مٹ جاتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اپنی تہذیبی شناخت کو کھو کر دوسروں کے رنگ میں رنگ جانا اخلاقی اور شرعی طور پر سخت ناپسندیدہ ہے۔
(٣) تعلیم اور ایجوکیشن کو فروغ دیں:
موجودہ پسماندگی سے نکلنے اور ایک روشن مستقبل کی تعمیر کا واحد راستہ تعلیم و تربیت کا فروغ ہے۔ اس کے لیے اسلامک اسکولز کا قیام ضروری ہے ، اگر ہم نے علم و دانش کے چراغ روشن نہ کیے تو جہالت کا اندھیرا ہماری شناخت کو نگل جائے گا۔ عصری اور دینی علوم کا امتزاج ہی ہماری بقا کا ضامن ہے۔
(٤) اسوۂ صحابیات کا مطالعہ :
امتِ مسلمہ کے لیے معیارِ ایمان صحابہ کرامؓ کی مقدس جماعت ہے۔ ہمیں اپنے اندر وہی دینی حمیت اور ایمانی غیرت بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ خواتینِ اسلام کو چاہیے کہ وہ صحابیات کی پاکیزہ اور باحیا زندگی کو اپنے لیے نمونۂ عمل بنائیں۔ چمک دمک اور عارضی فیشن کی قربانی دے کر اس شرعی حجاب کو اپنائیں جو ان کی حقیقی عزت اور وقار کا محافظ ہے۔
(۵) نامساعد حالات میں سنجیدہ حکمتِ عملی:
حالات کا ناسازگار ہونا اور مخالفتوں کا سامنا کرنا زندگی کا ایک فطری حصہ ہے۔ ایسے ہنگامی مواقع پر محض وقتی جذبات کے تحت فیصلے کرنے اور پھر ٹھنڈا پڑ جانے سے کوئی تعمیری نتیجہ حاصل نہیں ہوتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حدودِ شریعت اور قانون کے دائرے میں رہ کر، مکمل سنجیدگی اور دور اندیشی کے ساتھ ایسے مؤثر اقدامات کیے جائیں جو طویل المیعاد بنیادوں پر مفید ثابت ہوں۔
(٦) نسلِ نو کی فکری و اخلاقی تربیت
ایک انسان کے لیے صرف اپنی ذات کی حد تک نیک ہوجانا کافی نہیں ہے، بلکہ اپنے اہل و عیال اور اولاد کی صحیح خطوط پر تربیت کرنا بھی اس کا اولین فریضہ ہے۔ ہمیں یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے زیرِ اثر افراد اور اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے۔ (صحیح بخاری: ٤٩٠٤)
مختصر یہ کہ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے گھروں کے ماحول کو اسلامی نہج پر استوار کریں۔ روزمرّہ کی مصروفیات میں سے کچھ وقت نکال کر ان کے ساتھ بیٹھیں، ان کی تعلیمی و اخلاقی صورت حال کا جائزہ لیں، اور انہیں بُری صحبتوں سے بچائیں۔ خاص طور پر اسمارٹ فون کے بے جا اور غیر ضروری استعمال سے انہیں دور رکھیں، جو اکثر اوقات اخلاقی بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے ذہنوں میں حجاب کی حقیقی اہمیت اور اس کے فلسفے کو اجاگر کریں۔
دوسری طرف، نئی نسل کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خود کو اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنے کی مخلصانہ کوشش کرے۔ جب فکر اور عمل کی یہ دوطرفہ اصلاح ہوگی، تبھی معاشرے میں کوئی حقیقی اور پائیدار تبدیلی رونما ہوسکتی ہے۔

پیغامِ تحریر
سلامِ عقیدت قوم کی ان باہمت، غیور اور مخلص بیٹیوں، بہنوں اور ماؤں کے نام! جنہوں نے آئینی و مذہبی آزادی اور اسلامی شعار کی بقا و تحفظ کے لیے جرأت و استقامت کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ وقت کی جابرانہ روش، تعصب اور تانا شاہی کے سامنے سرنگوں ہونے کے بجائے، انہوں نے مخلوق کی خوشنودی پر خالقِ کائنات کی فرماں برداری کو ترجیح دی۔
ان باوقار خواتین نے قانونی حدود اور آئینی دائرۂ کار کے اندر رہتے ہوئے، جس شجاعت اور عزمِ صمیم کے ساتھ فرقہ پرست عناصر کی زہریلی ہنگامہ آرائی کا مقابلہ کیا، وہ لائقِ صد تحسین ہے۔ نامساعد حالات میں ان کا یہ استقلال عہدِ صحابیات کے اس جذبۂ ایمانی کی یاد تازہ کرتا ہے جو باطل کے سامنے کبھی کمزور نہیں پڑا۔ انہوں نے اپنے عمل اور عزم سے یہ ثابت کردیا ہے کہ حیا اور حجاب ان کی کمزوری نہیں، بلکہ ان کا وقار اور ناقابلِ تسخیر حصار ہے۔ اور زبانِ حال وقال سے کہہ دیا کہ
ہے گل کے لیے رنگت، رنگت کے لیے پردہ
سیرت کے لیے صورت، صورت کے لیے پردہ
کیا خوب بنایا ہے ستارِ حقیقی نے
پردے کے لیے عورت، عورت کےلیے پردہ

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے