نفرتوں کے اندھیرے میں محبت کا چراغ. بھیونڈی کے مسلمانوں نے انسانیت، اخوت اور ہندوستانی تہذیب کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی

نفرتوں کے اندھیرے میں محبت کا چراغ. بھیونڈی کے مسلمانوں نے انسانیت، اخوت اور ہندوستانی تہذیب کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی

نفرتوں کے اندھیرے میں محبت کا چراغ.
بھیونڈی کے مسلمانوں نے انسانیت، اخوت اور ہندوستانی تہذیب کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی

ازقلم: ڈاکٹراسداللہ خان

آج کے دور میں جب اخبارات، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر ہر طرف نفرت، تعصب، فرقہ واریت اور تقسیم کی خبریں زیادہ نمایاں نظر آتی ہیں، ایسے میں اگر کہیں محبت, اخوت، خدمت اور انسانیت کی خوشبو بکھرتی ہے تو وہ صرف ایک واقعہ نہیں رہتا بلکہ پوری قوم کے لیے امید کا چراغ بن جاتا ہے۔ بھیونڈی کی سرزمین نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ ہندوستان کی اصل روح نفرت میں نہیں بلکہ محبت میں، تقسیم میں نہیں بلکہ اتحاد میں، اور مذہبی برتری میں نہیں بلکہ انسانی برابری میں پوشیدہ ہے۔ نیٹ (NEET) جیسے قومی سطح کے اہم امتحان کے موقع پر بھیونڈی کے مسلمانوں، مساجد، مدارس، جماعت خانوں، تعلیمی اداروں اور نوجوان رضاکاروں نے جس عظیم ظرف، وسیع القلبی اور بے مثال مہمان نوازی کا مظاہرہ کیا، وہ صرف ایک انتظامی خدمت نہیں بلکہ انسانیت کے ماتھے کا جھومر اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا روشن استعارہ بن گیا۔

شدید گرمی کا دن تھا اور ملک کے مختلف شہروں سے سینکڑوں والدین اپنے بچوں کو NEET کے امتحان دلوانے کے لیے بھیونڈی پہنچے تھے۔ گرمی، بھیڑ، ٹریفک اور لمبا انتظار؛ ہر شخص ذہنی طور پر ایک مشکل دن کے لیے تیار تھا، لیکن جیسے ہی وہ امتحانی مراکز کے آس پاس پہنچے، ان کے سامنے ایک ایسا منظر تھا جس کی شاید انہوں نے کبھی توقع بھی نہ کی ہوگی۔ مساجد کے دروازے کھلے ہوئے تھے، مدارس کے ہال مہمانوں سے بھرے ہوئے تھے اور جماعت خانوں میں پانی، چائے، کولڈ ڈرنکس اور ناشتے کا انتظام کیا جا چکا تھا اور مسجدیں صرف عبادت گاہیں نہیں بلکہ انسانیت کی پناہ گاہیں بن گئیں۔

رضاکار ہر آنے والے کو اپنا مہمان سمجھ کر خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ کوئی یہ نہیں پوچھ رہا تھا کہ آپ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور کوئی یہ نہیں دیکھ رہا تھا کہ آپ کس زبان یا کس ریاست سے آئے ہیں۔ وہ صرف ایک بات جانتے تھے کہ “یہ ہمارے مہمان ہیں، اور مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔”
مولانا نے صرف دروازے ہی نہیں، اپنے دل بھی کھول دیے۔دارالعلوم دینیات ، مسجد اور مدرسہ کے ذمہ داران نے صرف ہال مہیا نہیں کیے بلکہ ایک ایسا کام کیا جس نے ہزاروں دل جیت لیے۔ مولانا قاری غلام نے طلبہ کے کمروں کو بھی خالی کروا دیا تاکہ دور دراز سے آنے والے والدین چند گھنٹے سکون سے آرام کر سکیں۔ زمین پر بچھی ہوئی سادہ چٹائیاں شاید دنیا کے کسی مہنگے ہوٹل کے نرم بستروں سے کہیں زیادہ قیمتی محسوس ہو رہی تھیں، کیونکہ وہاں آرام کے ساتھ عزت، احترام اور محبت بھی موجود تھی۔ یہ وہ جذبہ تھا جو کتابوں میں نہیں پڑھایا جاتا، یہ کردار مدارس کی حقیقی تعلیم کا آئینہ تھا۔

مہندی کے چند نقوش اور محبت کے ہزاروں رنگ:
بھیونڈی کے خاتون رضاکاروں نے ایک ایسا خوبصورت منظر بھی پیش کیا جس نے ہر دیکھنے والے کا دل موہ لیا۔ امتحان کے دوران انتظار کرتی ہوئی ہندو ماؤں اور بہنوں کے ہاتھوں پر مہندی لگائی جا رہی تھی۔ بظاہر یہ ایک معمولی عمل تھا لیکن حقیقت میں یہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، بھائی چارے اور ثقافتی حسن کی ایک خاموش مگر نہایت مؤثر علامت تھی۔ محبت کا اظہار ہمیشہ بڑی تقریروں سے نہیں ہوتا، کبھی کبھی مہندی کا ایک چھوٹا سا نقش بھی دلوں کے درمیان صدیوں کے فاصلے مٹا دیتا ہے۔

بہت سے والدین نے اعتراف کیا کہ یہ ان کی زندگی کا پہلا موقع تھا جب وہ کسی مسجد یا مدرسے کے اندر داخل ہوئے تھے۔ ان کے ذہنوں میں نہ جانے کتنے سوال، خدشات اور غلط فہمیاں تھیں، لیکن چند لمحوں میں ہی وہ تمام فاصلے ختم ہو گئے۔ جب پہلی مرتبہ مسجد میں قدم رکھا تو کیفیت کچھ اور تھی اور تھوڑی ہی دیر میں خوف ،محبت میں بدل گیا۔
صلاح الدین ایوبی اردو ہائی اسکول و جونیئر کالج میں قیام کرنے والے تھانے کے رہائشی نریش شرما جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ انہوں نے کہا: “ہمارا خیال جس محبت، عزت اور خلوص کے ساتھ رکھا گیا، وہ ہماری زندگی کا ناقابلِ فراموش تجربہ ہے۔ یہ انسانیت کی بہترین مثال ہے۔” یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا، یہ برسوں سے ذہنوں میں قائم ہونے والی دیواروں کے گرنے کی آواز تھی۔
جب احترام نے مذہب کی تمام سرحدیں مٹا دیں
وہ منظر یقیناً دیکھنے والوں کی آنکھیں نم کر دینے والا تھا جب کئی ہندو بزرگوں نے محبت اور احترام کے جذبے سے متاثر ہو کر مولانا صاحبان کے قدم چھو لیے۔ بعض خواتین نے ہچکچاتے ہوئے کہا: “ہم پہلی مرتبہ مسجد کے اندر آئی ہیں۔” تو مولانا قاری غلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا: “یہ اللہ کا گھر ہے… اور اللہ کا گھر سب کا گھر ہے۔ آپ بلا جھجھک اندر آئیے، یہ آپ کا بھی اپنا گھر ہے۔” یہ چند الفاظ شاید ہزاروں خطبات سے زیادہ مؤثر تھے۔

اصل ہندوستان یہی ہے
نریش شرما کی ایک بات پورے واقعے کا خلاصہ بن گئی۔ انہوں نے کہا: “براہِ کرم اس واقعے میں مذہب کو درمیان میں نہ لائیں۔ نہ مولانا صاحبان نے مذہب کی بات کی، نہ ہم نے۔ یہ صرف انسانوں کی طرف سے انسانوں کی خدمت تھی۔” یہی ہندوستان کی اصل پہچان ہے اور یہی وہ تہذیب ہے جس نے صدیوں سے مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور روایات کو ایک دھاگے میں پرو رکھا ہے۔
بھیونڈی نے صرف امتحان نہیں سنبھالا… قوم کو راستہ دکھا دیا
اس پورے عمل میں صرف مساجد ہی نہیں بلکہ رئیس ہائی اسکول، صمدیہ ہائی اسکول، صلاح الدین ایوبی اردو ہائی اسکول، مختلف جماعت خانے، دینی ادارے اور بھیونڈی اسٹوڈنٹس ہیلپ فورم جیسے نوجوانوں کے گروہ بھی برابر شریک رہے۔ یہ کسی ایک فرد یا ایک ادارے کی خدمت نہیں تھی بلکہ پورے شہر کی اجتماعی انسان دوستی تھی۔ یہ وہ سبق ہے جس کی آج ہندوستان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ آگے کیا؟
اگر بھیونڈی یہ مثال قائم کر سکتا ہے تو ملک کا ہر شہر ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟ اگر ایک امتحان کے دن مسجدوں کے دروازے سب کے لیے کھل سکتے ہیں تو پھر دوسرے مواقع پر کیوں نہیں؟ آئیے ہم سب چند عملی عہد کریں:
مذہبی مقامات کو انسانیت کے مراکز بنائیں۔ مساجد، مندر، گردوارے، گرجا گھر اور دیگر عبادت گاہیں صرف عبادت تک محدود نہ رہیں بلکہ مشکل وقت میں انسانیت کی خدمت کے مراکز بھی بنیں۔
تہواروں کو دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنائیں۔ رمضان میں افطار، عید پر محبت،ہر تہوار انسانوں کو قریب لانے کا ذریعہ بنے، دور کرنے کا نہیں۔نوجوانوں کی مشترکہ ٹیمیں قائم ہوں۔ہر شہر میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے نوجوان مل کر بلڈ ڈونیشن، شجرکاری، تعلیمی معاونت، قدرتی آفات میں امداد اور سماجی خدمت کے منصوبے چلائیں۔بچوں کو ایک دوسرے سے ملائیں۔اسکولوں میں بین المذاہب مطالعاتی دورے، ثقافتی تبادلے اور مشترکہ سرگرمیاں ہوں تاکہ آئندہ نسلیں نفرت کی زبان نہیں بلکہ محبت کی زبان سیکھیں۔
اسلام کی حقیقی تعلیم بھی یہی ہے
اسلام نے انسانیت کی خدمت کو عبادت قرار دیا ہے۔ قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے: “جو شخص ایک جان کو بچائے گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔” (سورۃ المائدہ: 32)۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: “لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔” بھیونڈی کے مسلمانوں نے ان تعلیمات کو صرف بیان نہیں کیا بلکہ اپنے کردار سے زندہ کر دکھایا۔
نفرت کی آگ کو محبت کے پانی سے بجھائیے
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف بحثیں کریں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے گھروں، دلوں، اداروں اور عبادت گاہوں کے دروازے کھولیں۔ نفرت کا جواب نفرت نہیں بلکہ محبت ہے، تعصب کا علاج دلیل نہیں بلکہ کردار ہے، اور فاصلے ختم کرنے کا بہترین ذریعہ مکالمہ نہیں بلکہ خدمت ہے۔
سلام اے بھیونڈی!
سلام ہے بھیونڈی کے علماء کو، سلام ہے وہاں کے مدارس کو، سلام ہے وہاں کی مساجد کو، سلام ہے وہاں کے نوجوان رضاکاروں کو اور سلام ہے ان تمام تعلیمی اداروں کو جنہوں نے ثابت کر دیا کہ ہندوستان ابھی زندہ ہے، انسانیت ابھی زندہ ہے، محبت ابھی زندہ ہے۔ آپ نے صرف چند گھنٹوں کے لیے مساجد کے دروازے نہیں کھولے بلکہ لاکھوں دلوں کے بند دروازے بھی کھول دیے۔
!آخری پیغام
آئیے عہد کریں کہ بھیونڈی کا یہ واقعہ صرف ایک خبر بن کر اخبار کے صفحات میں دفن نہ ہو جائے۔ یہ ایک تحریک بنے، ایک سوچ بنے اور ایک قومی مزاج بنے۔ جب بھی کوئی امتحان ہو، جب بھی کوئی قدرتی آفت آئے اور جب بھی کوئی انسان مشکل میں ہو، ہم سب اپنے مذہب، زبان، ذات اور شناخت سے اوپر اٹھ کر صرف ایک شناخت اختیار کریں: “ہم انسان ہیں، اور انسانیت ہی ہمارا سب سے بڑا مذہب ہے۔”
اگر بھیونڈی کا یہ چراغ ملک کے ہر شہر میں روشن ہو گیا، تو یقین جانیے نفرت کے تمام اندھیرے خود بخود ختم ہو جائیں گے، اور ہمارا ہندوستان واقعی محبت، امن، اخوت اور باہمی احترام کا وہ گلستان بن جائے گا جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے