آم کے آم گٹھلیوں کے دام
سزا یافتہ قیدی کو 11 لاکھ روپیے
از ڈاکٹر عبدالواحد شیخ ممبئی
8108188098
سپریم کورٹ کا ایک حیرت انگیز فیصلہ سامنے آیا ہے جس میں جیل میں قید ایک سزا یافتہ قیدی کو سپریم کورٹ نے 11 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم جاری کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سزا میں ہوتے ہوئے بھی قیدی نے اپنے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو ثابت کرنے میں کامیاب ہو گیا جس کے نتیجے میں اسے 11 لاکھ روپے مل گئے۔ اسی کو کہتے ہیں آم کے آم گٹلیوں کے دام۔
الور ، راجستھان میں 1967 میں مار پیٹ اور قابل گرفت
قتل کے ایک معاملے میں ایک ملزم دودیال (Daudayal) کو گرفتار کیا گیا۔سیشن عدالت نے 1988 میں ملزم کو چار سال کی سزا سنائی۔ملزم نے ہائی کورٹ میں اس سزا کے خلاف اپیل کی . 2021 میں اپیل مسترد ہو گئی۔دسمبر 2023 کو اس نے پرماننٹ پیرول کی درخواست کی جو جنوری 2024 کو ریجیکٹ کر دی گئی۔اس ریجیکشن کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔نومبر 2024 میں عدالت نے ملزم کو رہا کرنے کا حکم دیا۔اس وقت تک ملزم جیل میں تین سال دو مہینے کی سزا کاٹ چکا تھا ۔تمام فارملٹی پوری کرنے کے باوجود 24 دن گزر گئے پھر بھی ملزم کو جیل سے رہا نہیں کیا گیا اس لیے اس نے ہائی کورٹ کی دوہری بینچ کو اپروچ کیا۔ جس نے دسمبر 2024 کو فی الفور اسے رہا کرنے کا حکم دیا۔
ملزم نے سپریم کورٹ میں اپیل کی کہ ہائی کورٹ کے سنگل جج نے جو آرڈر دیا اس کے باوجود 24 دن تک اسے رہا نہیں کیا گیا اور ہائی کورٹ کے ڈویژنل ججوں کے آرڈر کے بعد اسے رہا کیا گیا ہے ۔اس لیے 24 دن جو اس نے جیل میں کاٹے ہیں وہ غیر قانونی حراست مانا جائے اور اسے آٹھ لاکھ معاوضہ دیا جائے۔ سزایافتہ مجرم کا کہنا ہے کہ ریاست کے افسران نے قانون اپنے ہاتھوں میں لیا ہے اس لیے ان کو جوابدہ بنانے کے لیے معاوضہ دینا ضروری ہے۔ مجرم کا کہنا ہے کہ جیل مینول میں پروویژن ہونے کے باوجود اور ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود اسے غیر قانونی حراست میں رکھا گیا جو کہ اس کے بنیادی حقوق اور دستور کی آرٹیکل 21 کو مجروح کرتا ہے۔ اس لیے اسے معاوضہ دیا جائے ۔سزا یافتہ قیدی نے اس ضمن میں ڈی کے باسو ، ردل شاہ و دیگر فیصلوں کا اور عالمی قوانین کا حوالہ دیا۔
راجستھان حکومت کا کہنا ہے کہ کسی بھی سزا یافتہ مجرم کو رہا کرنے کے لیے جیل مینول میں جو طریقہ بتایا گیا ہے اس طریقے پر ہی ملزم کو رہا کیا جاتا ہے ۔ یہ ملزم انڈر ٹرائل یا بے گناہ نہیں ہے یا اسے باعزت بری نہیں کیا گیا ۔ ہائی کورٹ کا فیصلہ ان کی نگاہ میں درست نہیں تھا جسے وہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا چاہتے تھے( اور آگے چل کر اس کی اپیل کی گئی) ۔اسی لیے اس قیدی کو آگاہ اور رہا نہیں کیا گیا ۔
سپریم کورٹ کے سامنے حکومت نے یہ دلیل پیش کی کہ جب تک سزا یافتہ قیدی دو تین بار پیرول پر رہا نہیں ہو جاتا اسے پرماننٹ پیرول نہیں دی جا سکتی جبکہ ہائی کورٹ نے پرماننٹ پیرول پر ریلیز کرنے کا حکم دیا ہے اس لیے وہ آرڈر نامناسب ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ یہ اعتراض انہوں نے پہلی بار سپریم کورٹ کے سامنے اٹھایا ہے اگر ہائی کورٹ کا فیصلہ غلط تھا تو انہوں نے اس کو چیلنج کیوں نہیں کیا اتنی دیر پر یہ اعتراض اٹھانا نامعقول بات ہے۔عدالت کا کہنا ہے کہ اصولی بات تو یہ ہے کہ "اوبے فرسٹ اپیل لیٹر” پہلے کہا مانو پھر اپیل کرو۔ اگر کسی عدالت نے کوئی حکم دیا ہے تو پہلے اس کو مانا جائے بعد میں اس کی اپیل کی جائے۔ صرف عرضی فائل کر دینے سے وہ حکم کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک کہ باقاعدہ اس حکم کے خلاف کوئی آرڈر, اپیل کرنے کی صورت میں سامنے نہ آجائے۔
حکومت کا ایک اعتراض یہ ہے کہ چونکہ سزا یافتہ قیدی پہلے سے جیل میں تھا اس لیے رہا نہ کیے جانے کی صورت میں اسے غیر قانونی حراست نہیں کہا جا سکتا۔ عدالت نے ہیبیس کارپس (heabeas corpus )کے تحت سنائے گئے سپریم کورٹ کے بہت سے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہا کہ انسان کسی بھی صورت میں قید کیا گیا ہو اگر قانون کے مطابق وہ قید نہیں ہے تو اسے غیر قانونی حراست ہی کہا جائے گا۔قانون کے مطابق اگر عدالت نے پیرول دیا تھا اور کورٹ کو مطمئن کرتے ہوئے ضمانت بھی جمع کی جا چکی تھی اس صورت میں رہا نہ کرنا یہ قیدی کو غیر قانونی حراست میں رکھنے کے برابر ہے۔
سزا لگنے کے بعد بھی سزا یافتہ قیدی کے حقوق معطل نہیں ہو جاتے ہیں عدالت نے سپریم کورٹ کے اور ہائی کورٹ کے کئی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر قانونی حراست میں عدالت نے معاوضے دیے ہیں۔اس لیے عدالت نے ملزم کے بینک اکاؤنٹ میں 11 لاکھ روپیے جمع کرنے کا ریاستی حکومت کو آرڈر دیا ہے ۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے جسٹس سنجے کرول اور اگستین جیورج مسیح نے 29 مئی 2026 کو ایس ایل پی کریمینل نمبر2026 / 5036 میں دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ قیدی نے اضآٹھ لاکھ معاوضہ مانگا تھا لیکن سپریم کورٹ نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 11 لاکھ روپے دے دیے۔ بھارت میں آئے دن مسلمانوں کو پولیس غیر قانونی حراست میں بند رکھتی ہیں۔ ۔ ٹارچر کرتی ہیں اور کئی کئی دنوں کے بعد زندہ یا مردہ حالت میں انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ کیس ہم سب کے لیے ایک سبق ہے کہ اگر آپ کو ایک جرم میں سزا لگنے کے باوجود بھی غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے تو وہ بھی قانون کی نگاہ میں غلط ہے اور آپ معاوضے کے حقدار ہوتے ہیں۔اور اگر آپ کو بے گناہ ہوتے ہوئے بھی غیر قانونی حراست میں رکھا جائے تو آپ معاوضے کے اس سے زیادہ حقدار ہیں۔