یزید کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے بادشاہت قائم کی، اظہار رائے کی آزادی ختم کی، بیت المال کے استعمال کا اسلامی طریقہ بدل دیا، شورائی نظام ختم کیا، اور اللہ کے سامنے اور اللہ کے بندوں کے سامنے جواب دہ ہونے اور جواب دہی کا تصور ختم کیا۔
اسی تناظر میں ہم آج دیکھیں گے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ انسانوں پر دائمی حکومت قائم کرنے، ان پر اپنی مرضی جبراً مسلّط کرنے، اُنہیں اپنا غلام بنانے، اُنہیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنے، اُن کے ہر قسم کے وسائل پر قبضہ اور تسلط کرنے، اُنہیں بنیادی تعلیمات اور عقیدے پر عمل کرنے سے روکنے کے لیے اُن کی مسلسل جاسوسی کرنے، اُن کے معاشی معاملات اپنے قبضے میں کر لینے اور اُنہیں مسلسل معاشی معاملات میں اُلجھا کر رکھنے، اُنہیں ایک روٹی کے لیے ذلیل کرنے اور معاشی غلام بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
پہلی جنگ کے دوران ہی سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ جرمنی اور اس کے حلیف ترکی کی شکست کے بعد پہلے تو جرمنی پر ذلت آمیز شرائط لگائی گئیں، اسے تاوان جنگ بھرنے پر مجبور کیا گیا۔ فاتح ممالک نے سلطنت عثمانیہ کے علاقوں کو آپس میں بانٹ لیا۔ شام کے تین ٹکڑے کیے گئے۔ لبنان اور شام پر فرانسیسی اور فلسطین پر برطانوی تسلط قائم ہوا۔
فاتح ممالک نے لیگ آف نیشنز قائم کیا، ایک نیا نظام ترتیب دینے کا آغاز کیا۔ ساتھ ہی روس میں بالشویک انقلاب آیا، مارکس کے نظریات کو فتح حاصل ہوئی، سرخ افواج نے سینٹرل ایشیا کے ممالک پر بزور طاقت قبضہ کر لیا۔
سوائے ترکی کے کوئی بھی مسلم ملک آزاد نہیں رہا۔ وحشی یوروپین قوموں نے مسلم ممالک پر قبضہ کر لیا اور امت مسلمہ اپنی تاریخ کی بدترین غلامی میں مبتلا ہو گئی۔ وحشی یوروپین قوموں نے مسلم تہذیب و تمدن ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ شریعت کے قوانین کے بجائے سیکیولر لادینی قوانین اُمت مسلمہ پر زبردستی مسلّط کیے گئے۔ سب سے پہلے نظام تعلیم پر حملے ہوئے۔ لبرل ازم، دہریت اور بے دینی نظام تعلیم کا حصہ قرار پائے۔اسی دوران مصر میں حسن البنا نے اخوان المسلمین کی بنیاد رکھی اور اسلام کو ایک مذہب کے بجائے ایک نظام حیات کے طور پر پیش کیا، اور مغربی نظام کے سبھی شعبوں پر علمی تنقید کی۔
ہمارے ملک میں مدارس اسلامیہ نے دینیات، عربی علوم اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے بچانے اور دینی ماحول کو فروغ دینے میں ایک مثبت کردار ادا کیا۔
1930 کی دہائی میں جرمنی میں ہٹلر نے اقتدار سنبھالا، اور پہلی جنگ عظیم کی شکست کے بعد جو شرائط و تاوان جنگ لگائے گئے تھے، اس پر غصے کا اظہار کیا گیا۔ ساتھ ہی وہاں یہودیوں کے ساتھ نفرت انگیز سلوک کا بھی آغاز ہوا۔ جرمنی میں بدلا لینے کا رجحان پنپا اور ہٹلر نے جنگ کے لیے زبردست تیاری کی۔ 1939 میں دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہوا۔ ابتدائی ہفتوں اور مہینوں میں جرمن افواج نے فرانس اور پولینڈ پر قبضہ کر لیا۔
چھ سال تک چلنے والی اس جنگ عظیم میں جرمنی اور اس کے اتحادیوں کو شکست ہوئی، برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے فتح حاصل کی۔ امریکا نے جاپان پر دو ایٹم بم مارے، قریب چھ کروڑ افراد کی جان اس جنگ میں گئی۔
جنگ عظیم کے بعد فاتح قوموں نے اقوام متحدہ قائم کیا، فاتح ممالک کو ویٹو پاور دیا گیا، ایک طرح سے دنیا پر حکمرانی کا لائسنس دیا گیا۔ جنگ عظیم کے نتیجے میں یوروپین قومیں کمزور ہو گئیں اور اس کے نتیجے میں تقریباً تمام ہی مسلم ممالک آزاد ہوئے۔ شمالی افریقہ اور ایشیا کی قوموں نے بڑی قربانی دے کر اپنی آزادی حاصل کی۔ مگر جاتے جاتے سامراجی طاقتیں اپنا نظام زندگی اور اپنے پسندیدہ حکمران تقریباً تمام ہی مسلم ممالک میں چھوڑ گئیں۔ کچھ نے تو خون خرابے کی انتہا کر دی، جیسے حافظ الاسد اور اس کا بیٹا بشار الاسد۔ شام کی خانہ جنگی اور جنگ آزادی میں قریب دس لاکھ افراد شہید ہوئے اور تقریباً پورا ملک مکمل طور پر تباہ و برباد ہو گیا۔ ایران میں بھی امریکا نے 1979 تک وہاں کے بادشاہ کی پشت پناہی کی، جسے ایرانی انقلاب کے بعد فرار ہونا پڑا۔ امریکا نے اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں مسلط کر رکھا ہے جس نے قتل و غارتگری کے وہ کارنامے انجام دیئے دنیا جس کی مثال دینے سے قاصر ہے پورے فلسطین کو کربلا بنا ڈالا ہے یورپ اور امریکہ تماشا دیکھ رہے ہیں ۔
تمام ہی مسلم ممالک میں آزادی حاصل ہونے کے بعد بھی حقیقی آزادی حاصل نہیں ہوئی۔ ہر جگہ ایک سے بڑھ کر ایک حکمران بیٹھا ہے جس نے امریکی پشت پناہی سے اور اپنی ہی فوج سے اپنے ہی عوام پر حکومت قائم کی ہوئی ہے۔ جاسوسی کے جدید ترین نظام تقریباً سبھی ممالک میں ہیں، اظہار رائے کی آزادی کیا ہے، بیچارے عوام کو پتہ ہی نہیں چلتا۔ بیت المال پوری طرح حکمرانوں کے قبضے میں ہے۔ پریس کی آزادی کیا ہے، کسی کو معلوم نہیں۔شورائی نظام کیا بلا ہے معلوم نہیں، حکمرانوں کے نزدیک نہ خدا کو جواب دہی کا کوئی تصور ہے، نہ عوام کو جواب دہی کا۔ایسے ہی نازک حالات میں تقریباً سبھی ممالک کی عوام جی رہی ہے۔اور
قافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں
گرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات!
عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشق
عشق نہ ہو تو شرع و دیں بتکدۂ تصورات!
صدق خلیل بھی ہے عشق صبر حسین بھی ہے عشق!
معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق!
بر صغیر ہند و پاک ایران کے خطیب اس یزید کو کوسنے میں کوئی کمی نہیں کرتے مگر کاش اپنی ماتمی مجالس اور جلوسوں میں آج کے دور کے یزیدوں کا بھی ذکر کر دیں جنھوں نے خلق خدا کا جینا حرام کر رکھا ہے اور اُن سے بھی اعلان براءت کر دیں۔
سر اٹھاتے ہیں یہاں بھی عصر حاضر کے یزید
مجھ کو اپنے دور کے شمر و ستم گر سے ہے خوف