خونِ صدق و وفا: یومِ عاشورہ کا پیغام

خونِ صدق و وفا: یومِ عاشورہ کا پیغام

خونِ صدق و وفا: یومِ عاشورہ کا پیغام

ازقلم:(حافظ)افتخاراحمدقادری

آج یوم عاشورہ ہے یعنی اسلامی تاریخ کا وہ عظیم دن جس کی سنگینی، روحانی عظمت و اخلاقی بلندی قیامت تک باقی رہے گی۔ محرم الحرام کی یہ دسویں تاریخ ابتدا سے ہی مقدس رہی ہے۔ مختلف انبیاء کے ادوار میں بھی یہ دن تاریخی اہمیت رکھتا رہا۔ روایات میں آتا ہے کہ اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر آکر ٹھہری تھی، اسی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات ملی تھی، نبی کریم ﷺ نے مدینہ ہجرت کے بعد یہودیوں کو روزہ رکھتے پایا تو اس دن کے روزے کو مستحب قرار دیا جو اسلامی روایت میں یومِ عاشورہ کو ایک مقدس دن کی حیثیت دیتا ہے۔ لیکن یوم عاشورہ کو جو لازوال عظمت ملی وہ میدان کربلا میں پیش آنے والے اس واقعے سے وابستہ ہے جس نے تاریخِ انسانیت کو خونِ صداقت سے رنگین کر دیا ۔ دس محرم الحرام اکسٹھ ہجری کو امام حسین اور ان کے خانوادے نے ظلم و جبر کے خلاف ایک بے مثال قربانی پیش کی۔ یزید کی باطل حکومت کے خلاف حق کی آواز بلند کرنا اور دینِ اسلام کی اصل روح کو بچانے کے لئے سر ہتھیلی پر رکھ کر نکلنا امام عالی مقام کی وہ جرات تھی جو قیامت تک کے حریت پسندوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ امام حسین نے نہ صرف خلافت کے نام پر قائم ملوکیت کو مسترد کیا بلکہ ظلم کے سامنے خاموشی کو بھی گناہ قرار دیا۔ کربلا کا سانحہ ایک خونی معرکہ نہیں بلکہ ایک فکری و اخلاقی اور روحانی تحریک ہے۔ امام حسین کا پیغام یہ نہیں تھا کہ وہ حکومت کے حصول کے لئے نکلے تھے بلکہ وہ دین کے احیاء، عدل کے قیام اور ظلم کے انکار کے لئے میدان میں اترے تھے۔ ان کے ساتھ 72 جانثاروں کی شہادت نے یہ ثابت کر دیا کہ فتح ہمیشہ تلوار کی نہیں ہوتی بلکہ اصولوں کی ہوتی ہے۔ کسی بھی نظام میں اگر انصاف ختم ہو جائے اور طاقت کو حق پر فوقیت دی جانے لگے تو وہاں حسین کھڑے ہوتے ہیں اور یزید کا انکار کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ امام حسین نے ہر قدم پر تقویٰ، اخلاص اور رضائے الٰہی کو ترجیح دی۔ ان کا عمل قرآن کے اُس پیغام کی عملی تفسیر تھا جو ہمیں بسم الله سے سکھایا جاتا ہے یعنی ہر کام کا آغاز الله کے نام سے اور ہر فیصلے میں الله کی رضا مقدم۔ یوم عاشورہ اسی شعور کی بیداری کا دن ہے کہ ہم بھی زندگی کے ہر موڑ پر باطل کے بجائے حق کے ساتھ کھڑے ہوں۔ جس طرح امام نے لا الہ الا الله کے علم کو سربلند رکھنے کے لئے اپنی جان نچھاور کی اسی طرح ہمیں بھی اپنے کردار، نیت اور اجتماعی فیصلوں میں الله کی طرف رجوع اور سنتِ نبوی کی پیروی کو اختیار کرنا چاہئے۔ یوم عاشورہ کا تقاضا خود احتسابی، معاشرتی بیداری، اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی تحریک ہے۔ آج مسلم معاشروں کو اگر کربلا کا پیغام سمجھ آجائے تو وہ ہر طرح کی ناانصافی، فرقہ واریت اور ظالمانہ نظام کے خلاف متحد ہو سکتے ہیں۔ یوم عاشورہ ہمیں صرف ماضی کا ایک واقعہ نہیں سناتا بلکہ موجودہ حالات میں جینے کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے۔ آج کے دن بالخصوص نوجوان نسل کو چاہئے کہ وہ امام حسین کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرنے کا عہد کرے، اپنے اندر علم، کردار اور جرات کی وہ روشنی پیدا کرے جو کربلا کے سورج سے پھوٹتی ہے۔ آج ہمیں اپنے معاشرے میں ظلم، بدعنوانی، نفرت و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے حسینی فکر کو زندہ رکھنا ہوگا۔ اگر ہم نے یوم عاشورہ کو صرف رسمی یاد بنادیا تو ہم اُس پیغام کے اصل تقاضوں سے دور ہو جائیں گے جس کے لئے امام حسین نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ یہی وقت ہے کہ ہم اپنے دلوں، تحریروں، تقریروں اور اپنے عمل سے کربلا کے چراغ کو روشن رکھیں، تاکہ انسانیت ایک بار پھر عدل محبت اور سچائی کی روشنی میں سانس لے سکے۔
یوم عاشور ملت اسلامیہ کو حسینیت کے پیغام اور اس کے تاریخ ساز کردار کی یاد دلاتا ہے۔ شہیدان کربلا نے اپنے قول و فعل سے حق و صداقت کی راہ میں جانثاری کی عظیم تاریخ رقم کی۔ یہ وہی تاریخ ہے جس کے اوراق کی روشنی میں عالم اسلام اور اہل وطن کو اپنے گمشدہ آدرش اور ملی نشاۃ ثانیہ کی بازیافت کرنی ہے۔ امام عالی مقام کی تعلیمات عمل پیرا ہو کر ہی عالم اسلام تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ اسلام نے باطل قوتوں کی شکست و ذلت کو کربلا کے باب میں حقانیت کے درس کی صورت پیش کر دیا ہے۔ اسلام کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والے اہل بیت نے ایک جابر حکمراں کو چیلنج کیا۔ یہ حکومت و اقتدار کی جنگ نہ تھی بلکہ اصولوں کی بقا اور حق کی سربلندی کے لیے سر کٹانے کا فیصلہ تھا۔ امام حسین نے فاسق حکمران کی بیعت کرنے سے انکار کی جس روایت کی بنا ڈالی ہے۔ عالم انسانیت کا فرض ہے کہ وہ کسی ظالم اور جابر و فاسق کو حق کے ساتھ کھلواڑ کی اجازت نہ دے، اس سے ستیزہ کاری کی وہ روایت قائم کرے کہ رہتی دنیا تک بربریت’ ظلم و ستم اور نا انصافی و باطل حکمرانی کو کبھی داء میت نصیب نہ ہو بلکہ حق کے سامنے اسے ہمیشہ شکست و ذلت کا سامنا ہو۔ باطل قوتوں کے لیے حسینیت ہمیشہ صدائے مستمانہ کی صورت فضائے آسمانی میں سر بلند ہو۔ بلاشبہ ان شعروں میں ابدی حقیقت آج بھی جھلکتی ہے۔
معرکہ کربلا کے اسباب و علل پر غور اور تحقیق کی جائے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ معرکہ دراصل حق اور ناحق اور ظلم و جبر کے درمیان تھا۔ یزید محض ایک حکمران ہی نہیں تھا بلکہ اس کردار کو ایک نظریے اور فکر کے طور پر لینا چاہیے ۔ ایسا نظریہ جو خدائی منشور کے برعکس دنیاوی قوت اور جاہ و حشمت کو پروان چڑھاتا ہے۔ دین اسلام میں مسلمانوں پر حکمرانی کا حق کس کو حاصل ہو گا’اس کے اصول و ضوابط اور کردار و سیرت قرآن پاک اور خاتم النبین آنحضرت کی حیات مبارکہ میں واضح کر دیے گئے ہیں ۔ امام حسین اور ان کے ساتھی اسی نظریے اور منشور کے علمبردار تھے اور انھوں نے بلا خوف و خطر ملوکیت کو اسلام کے اصولوں کے منافی قرار دیا اور اسلامی خلافت کی عملی تفسیر اپنی اور اپنے جانثاروں کی شہادت پیش کر کے بیان کر دی۔ شہدائے کربلا کی تعلیمات قوم کو اس بات کا یقین دلاتی ہیں کہ پاکستان باقی رہنے کے لیے قائم ہوا ہے۔ اہل بیت کا اہل وطن پر فرض ہے کہ وہ جمہوریت کو انسانیت سے متصادم نہ ہونے دیں۔ حکمراں حق و صداقت کا حسینی معیار قائم کریں۔ ظالم و بے انصافی کا ہر دروازہ بند کریں’ ریاست مدینہ سے کمٹمنٹ کی ہے تو اس کو اس کی روح کے مطابق پورا کریں’ یہی حسینیت کا پیغام ہے۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت یوپی

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے