مادری زبان میں ابتدائی تعلیم: عالمی تناظر اور سائنسی شواہد. (تعلیمی نظام اور لسانی تنوع: عالمی چیلنجز اور کامیاب تجربات)

مادری زبان میں ابتدائی تعلیم: عالمی تناظر اور سائنسی شواہد. (تعلیمی نظام اور لسانی تنوع: عالمی چیلنجز اور کامیاب تجربات)

مادری زبان میں ابتدائی تعلیم: عالمی تناظر اور سائنسی شواہد.
(تعلیمی نظام اور لسانی تنوع: عالمی چیلنجز اور کامیاب تجربات)

ازقلم: ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت

زبان محض اظہار کا ذریعہ نہیں، بلکہ فکر کی تشکیل، ثقافتی شناخت کی علامت اور تعلیم کی بنیاد ہے۔ جب کوئی بچہ اپنی مادری زبان کے بجائے کسی غیر مانوس زبان میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہوتا ہے، تو اس کا ذہن ایک ایسی تعلیمی سرزمین پر قدم رکھتا ہے جہاں مفاہیم کی جگہ ابہام اور تجسس کی جگہ استیصال غالب آ جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یعنی یونیسکو نے 2016 میں اپنی عالمی تعلیمی نگرانی رپورٹ کے تحت پالیسی پیپر نمبر 24 شائع کیا، جس کا عنوان تھا: "اگر آپ سمجھ نہیں سکتے، تو سیکھ کیسے سکتے ہیں؟” اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ دنیا بھر میں چالیس فیصد افراد کو ایسی زبان میں تعلیم تک رسائی حاصل نہیں ہے جسے وہ بولتے اور سمجھتے ہیں۔ بعض کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں یہ شرح نوے فیصد تک جا پہنچتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ پچیس کروڑ سے زائد سیکھنے والے اس مسئلے سے متاثر ہیں۔
اس رپورٹ میں خاص طور پر اس بات پر زور دیا گیا کہ کم از کم چھ سال تک مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنا بچے کی علمی نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے؛ کیونکہ مادری زبان میں ابتدائی تعلیم نہ صرف خود اعتمادی اور خود آگاہی کو فروغ دیتی ہے، بلکہ جماعت کی تکرار اور اسکول چھوڑنے کی شرح کو بھی نمایاں طور پر کم کرتی ہے۔ چنانچہ یونیسکو کی اس وقت کی ڈائریکٹر جنرل ارینا بوکووا نے اس موقع پر کہا کہ جامع زبان کی پالیسیاں نہ صرف تعلیمی معیار کو بلند کرتی ہیں، بلکہ رواداری، سماجی ہم آہنگی اور بالآخر عالمی امن کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
اس عالمی تناظر کو علمی بنیاد فراہم کرنے والے ماہرینِ لسانیات میں جم کمنز کا نام سرِفہرست ہے، جنہوں نے 1981 میں کیلیفورنیا اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن کی شائع کردہ اہم کتاب "اسکولنگ اینڈ لینگویج مائنورٹی اسٹوڈنٹس: اے تھیوریٹیکل فریم ورک” میں بین اللسانی انحصار کا مفروضہ پیش کیا۔ اس مفروضے کے مطابق پہلی زبان میں مضبوط مہارت دوسری زبان سیکھنے کے عمل کو سہولت فراہم کرتی ہے، اور بنیادی علمی و تعلیمی مہارتیں جو ایک زبان میں منتقل ہوتی ہیں، وہ دراصل تمام زبانوں میں مشترک ہوتی ہیں۔ چنانچہ اس نظریے نے دو لسانی تعلیم کو ایک نیا علمی مرتبہ عطا کیا اور یہ ثابت کیا کہ مادری زبان کو نظرانداز کرنا دراصل بچے کی مجموعی علمی صلاحیتوں کو نقصان پہنچانا ہے۔
اسی طرح بیسویں صدی کے عظیم فلسفیِ تعلیم جان ڈیوی نے اپنی مایۂ ناز کتاب "جمہوریت اور تعلیم” (جو 1916 میں میکملن پبلشرز سے شائع ہوئی) میں تعلیم کو ایک سماجی عمل قرار دیا اور وضاحت کی کہ معاشرہ ترسیل کے عمل سے وجود میں آتا ہے۔ یہ ترسیل رویوں، جذبات اور سوچ کے باہمی تبادلے کے ذریعے ممکن ہوتی ہے جس کا بنیادی ذریعہ زبان ہے؛ اور اگر یہ زبان ہی بچے کی فطری و شناختی زبان نہ ہو، تو پھر یہ سماجی عمل ایک یک طرفہ اور بےجان مشق بن کر رہ جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 4 کے تحت معیاری تعلیم اور تمام افراد کے لیے زندگی بھر سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے کا عزم کیا گیا ہے، اور اس ہدف کے حصول کے لیے مادری زبان میں تعلیم کو ایک کلیدی حکمت عملی کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے؛ کیونکہ لسانی اقلیتوں کے لیے شمولیتی اور معیاری تعلیم کا مطلب یہ ہے کہ جہاں تک عملی طور پر ممکن ہو، تعلیم ان کی اپنی زبان میں فراہم کی جائے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد A/RES/74/135 کے تحت 2022 تا 2032 کو مقامی زبانوں کی بین الاقوامی دہائی قرار دے کر اس عزم کو مزید تقویت بخشی۔
یونیسکو نے 2025 میں بین الاقوامی مادری زبان کے دن کے موقع پر شائع کردہ اپنی رپورٹ "لینگویجز میٹر: گلوبل گائیڈنس آن ملٹی لنگول ایجوکیشن” میں تعلیمی نظاموں میں کثیر لسانیت کو شامل کرنے کی اشد ضرورت پر زور دیا۔ اس رپورٹ میں ایک اور اہم انکشاف یہ کیا گیا کہ آج بھی چالیس فیصد لوگوں کو اس زبان میں تعلیم تک رسائی حاصل نہیں ہے جسے وہ روانی سے بولتے اور سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف افریقہ کے اکتیس ممالک نے کثیر لسانی تعلیمی پالیسیاں اپنا لی ہیں جو پہلے ہی سودمند ثابت ہو رہی ہیں۔ اس رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ ابتدائی جماعتوں سے ہی مادری زبان کو ذریعۂ تعلیم بنایا جائے، تمام سیکھنے والوں کی زبانوں میں تعلیمی مواد تیار کیا جائے، اور اساتذہ کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ مادری زبان اور سرکاری زبان دونوں میں روانی کے ساتھ تدریس کر سکیں۔
عملی طور پر دنیا کے مختلف ممالک نے اس اصول کو اپنے تعلیمی نظام کا حصہ بنایا، جن میں فلپائن کا مادری زبان پر مبنی کثیر لسانی تعلیمی پروگرام خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، جسے 2009 میں محکمانہ حکم نامہ نمبر 74 کے ذریعے نافذ کیا گیا تھا۔ اس میں ابتدائی طور پر بارہ زبانوں کو ذریعۂ تعلیم کے طور پر منتخب کیا گیا، جن میں پانگاسینینسے، الوکو، بکول، سیبیوانو، ہیلیگائنون، وارے اور چار دیگر زبانیں شامل تھیں، اور کنڈرگارٹن سے تیسری جماعت تک مادری زبان کو ذریعۂ تعلیم بنایا گیا؛ جس کے نتیجے میں طلبہ کی غیر حاضری اور اسکول چھوڑنے کی شرح میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور ان کی تعلیمی کارکردگی میں بہتری آئی۔ اسی طرح جنوبی افریقہ نے جولائی 1997 میں اپنی "زبان برائے تعلیم” پالیسی کے تحت گیارہ سرکاری زبانوں میں پرائمری تعلیم کی فراہمی کا پابند کیا اور اس پالیسی کے دیباچے میں واضح کیا کہ جنوبی افریقہ کا ثقافتی تنوع ایک قومی سرمایہ ہے۔ ان تمام بین الاقوامی تجربات سے یہ سبق ملتا ہے کہ مادری زبان میں تعلیم کا حصول کوئی محض جذباتی یا نظریاتی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک عملی اور سائنسی طور پر ثابت شدہ ضرورت ہے۔
بھارت کے آئینی معماروں نے بھی اس حقیقت کو بڑی دوراندیشی سے محسوس کیا اور آئینِ بھارت کی دفعہ 350 الف کے تحت واضح کیا کہ "یہ ہر ریاست اور ہر مقامی اتھارٹی کی کوشش ہوگی کہ وہ لسانی اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو پرائمری سطح پر مادری زبان میں تعلیم کی مناسب سہولیات فراہم کرے”۔ یہ شق 1956 میں آئین میں شامل کی گئی تاکہ بھارت کی کثیر الثقافتی اور کثیر اللسانی اساس کو تحفظ مل سکے۔ اسی فکری تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے قومی تعلیمی پالیسی 2020 نے ایک تاریخی قدم اٹھایا اور اپنی شق 4.12 میں کثیر لسانیت کے علمی فوائد پر زور دیا۔ خاص طور پر ابتدائی مرحلے میں بچوں کو متعدد زبانوں سے روشناس کرانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی اور سفارش کی گئی کہ جہاں تک ممکن ہو، کم از کم پانچویں جماعت اور ترجیحاً آٹھویں جماعت تک مادری زبان، مقامی زبان یا علاقائی زبان کو ذریعۂ تعلیم بنایا جائے، اور تین زبانی فارمولے کو بھی آئینی دفعات، عوامی خواہشات اور کثیر لسانیت کے فروغ کے تناظر میں برقرار رکھا جائے۔
تاہم اس پالیسی کو زمینی سطح پر نافذ کرنے میں متعدد عملی چیلنجز درپیش ہیں، جن میں اساتذہ کی تربیت کے لیے وسائل کی کمی، درسی کتب کی تیاری اور ترجمے میں دشواریاں، بنیادی ڈھانچے کی عدم دستیابی اور معاشرے میں انگریزی کو ترجیح دینے کا رجحان شامل ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جو املائیت (ASER) 2024 کی رپورٹ میں ظاہر ہونے والی پریشان کن حقیقت کی وضاحت کرتے ہیں کہ سرکاری اسکولوں کی تیسری جماعت کے 23.4 فیصد بچے دوسری جماعت کے درجے کا متن پڑھ سکتے ہیں، جو 2022 کے 16.3 فیصد سے بہتر ہے مگر اب بھی 2018 کے 20.9 فیصد کی سطح کو بمشکل چھو پاتا ہے، اور یہ کہ پانچویں جماعت کے 44.8 فیصد بچے دوسری جماعت کا متن پڑھ سکتے ہیں۔ اسی طرح املائیت 2023 کی "بیونڈ بیسکس” رپورٹ کے مطابق 14 سے 18 سال کی عمر کے 25 فیصد نوجوان اپنی علاقائی زبان میں دوسری جماعت کے درجے کا متن روانی سے پڑھنے سے قاصر ہیں اور 42.7 فیصد بنیادی انگریزی جملے نہیں پڑھ سکتے۔ ان اعداد و شمار سے جو حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ گھریلو زبان اور ذریعۂ تعلیم کے درمیان یہ عدم تطابق محض ایک تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ساختی ناہمواری ہے جو قبائلی، پسماندہ اور دیہی علاقوں کے بچوں کو خاص طور پر متاثر کرتی ہے۔
بھارت کے اندر جب ہم لسانی تنوع کا جائزہ لیتے ہیں تو 2011 کی مردم شماری کے اعداد و شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ اس ملک میں انیس ہزار پانچ سو انہتر خام اندراجات موصول ہوئے، جنہیں چھانٹ کر تین سو انہتر معقول مادری زبانوں میں تقسیم کیا گیا؛ اور ایک سو اکیس زبانیں ایسی ہیں جو دس ہزار یا اس سے زیادہ افراد بولتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت ایک ایسا لسانی مرقع ہے جہاں ایک طرف تو لسانی کثرت اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے اور دوسری طرف اس کثرت کو ایک تعلیمی نظام میں ڈھالنا ایک بڑا چیلنج بھی ہے۔ تاہم اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے حال ہی میں ایک خوش آئند اور قابلِ تحسین پیش رفت اس وقت دیکھنے کو ملی جب اوڈیشہ کے وزیراعلیٰ موہن چرن ماجھی نے مئی 2025 میں سنتھالی زبان اور اول چکی رسم الخط کے فروغ کے لیے پچاس کروڑ روپے کا خصوصی پیکج منظور کیا اور اول چکی لائبریری، پنڈت رگھوناتھ مرمو اوپن تھیٹر میوزیم اور ہیریٹیج بلڈنگ کے قیام کا اعلان کیا، جو اس حقیقت کی عملی تصویر ہے کہ بھارت میں مادری زبانوں کو فروغ دینے کے لیے صرف پالیسیوں تک محدود رہنے کے بجائے ٹھوس اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ مادری زبان میں تعلیم کا مسئلہ ایک سادہ اور یک جہتی معاملہ نہیں ہے، اور اسے حل کرنے کے لیے ایک متوازن اور کثیرالجہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ والدین کا اپنے بچوں کو انگریزی میں تعلیم دلوانے کا رجحان معاشی ترقی، ملازمت کے مواقع اور عالمی سطح پر رسائی کے عملی خدشات پر مبنی ہے، اور اس خوف کو نظرانداز کرنا دانشمندی نہیں ہے؛ کیونکہ انگریزی آج بھی اعلیٰ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تجارت کی زبان ہے، اور اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر کوئی بھی تعلیمی پالیسی نامکمل ہوگی۔ اسی لیے ماہرینِ تعلیم ایک اضافی دو لسانی نقطہ نظر کی سفارش کرتے ہیں جس میں مادری زبان میں تدریس کے ساتھ ساتھ انگریزی کو بطور مضمون بتدریج اور منصوبہ بند طریقے سے شامل کیا جائے، تاکہ بچے اپنی مادری زبان میں مضبوط بنیاد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بھی بن سکیں۔ تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ جو طلبہ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، وہ نہ صرف بنیادی علوم میں بلکہ زبانوں اور سماجی علوم میں بھی بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں اور تیسری زبان (مثلاً انگریزی) میں بھی مہارت حاصل کر لیتے ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مادری زبان میں تعلیم انگریزی کی مہارت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ اس کی معاون ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مادری زبان میں تعلیم کا مسئلہ کوئی ایسی دو دھاری تلوار نہیں جہاں ایک طرف مادری زبان ہو اور دوسری طرف انگریزی، بلکہ ایک ایسا پل ہے جو بچے کی فطری شناخت اور عالمی تقاضوں کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ یونیسکو کی رپورٹس، جم کمنز اور جان ڈیوی کے نظریات، آئینِ بھارت کی دفعات، قومی تعلیمی پالیسی کی سفارشات، فلپائن اور جنوبی افریقہ کے تجربات، اور اوڈیشہ کی سنتھالی زبان سے متعلق حالیہ کوششیں سب مل کر ایک ایسا بین الاقوامی اور قومی اجماع تشکیل دیتی ہیں جو مادری زبان کو تعلیم کا محور قرار دیتا ہے۔
لیکن اس اجماع کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری ہے کہ اساتذہ کی بھرتی اور تربیت، درسی کتب کی تیاری اور معاشرے میں شعور اجاگر کرنے جیسے بنیادی چیلنجز کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ اس سلسلے میں یونیسکو کی 2025 کی رپورٹ کی یہ سفارش خاص طور پر قابلِ عمل ہے کہ تعلیمی نظاموں کو چاہیے کہ وہ مادری زبان پر مبنی کثیر لسانی تعلیم کو اپنے اسکولی نظام میں تنظیمی سطح پر ضم کریں، تاکہ تعلیم محض ایک رسمی عمل نہ رہے بلکہ ایک زندہ، مؤثر اور باہم ربط کا ذریعہ بن سکے جو ہر بچے کی انفرادی شناخت کا احترام کرتے ہوئے اسے عالمی شہری بننے کے قابل بنائے؛ اور یہی وہ بنیادی سچائی ہے جسے نظرانداز کرنا اپنے مستقبل کو محدود کرنے کے مترادف ہے، اور جسے اپنانا ایک روشن، جامع اور کثیرالثقافتی مستقبل کی ضمانت ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے