اللہ اور اس کے رسول ؐ کی محبت واطاعت ،حق وصداقت اور دین حق کی خاطر تکلیف ومشقت اٹھانا ،مال ودولت خرچ کرنا ،ملک وطن چھوڑدینا،بیوی وبچوں کی پرواہ کئے بغیر جان کی بازی لگانا اور لڑتے لڑتے جام شہادت پی جانا نہایت عظیم ترین اور قابل رشک عمل ہے ،حقیقت میں سچا و پکا مسلمان تو وہی ہے جو اپنے اندر ذوق عبادت اور ذوق شہادت رکھتا ہے ، دین اسلام کی خدمت کو اپنے لئے سعادت سمجھتا ہے اور ہر وقت اس کی خدمت کے لئے خود کو پیش پیش رکھتا ہے اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رسول اللہؐ کی محبت پانے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس امت پر دوہری ذمہ داری ڈالی ہے کہ وہ خود بھی اسلامی احکام پر عمل کریں اور اپنی طاقت کے مطابق دوسروں کو بھی اس کی تعلیم وتلقین کرتے رہیں،چنانچہ مسلمانوں کی انفرادی واجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ توحید ورسالت اور احکام شریعت پر گامزن رہتے ہوئے دوسروں تک پیغام اسلام پہنچانے کی فکر کرتے رہیں ،قرآن مجید کے احکامات سے لوگوں کو روشناس کریں اور نبوی تعلیمات سے لوگوں کو باخبر کرتے رہیں اور اسلام کی مبارک تعلیمات اور پیغمبرؐ کی انسانیت نواز تعلیمات بتا کر لوگوں کو دامن اسلام سے وابستہ کرنے کی فکر کرتے رہیں ،اس طرح امت داعی کا حق ادا کرتے ہوئے پورے عالم میں دین اسلام کو برپا کرنے کی جدوجہد اور کوشش میں لگے رہیں ،دین متین کی دعوت دینے اور پیغام اسلام پہنچانے میں کسی بھی طرح کا تساہل نہ برتیں اور یادرکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے ایک ایک فرد اس عظیم ذمہ داری کو لازم کیا ہے اور اس کام کے لئے انہیں پسند بلکہ منتخب کیا ہے اور یہ بات بھی یاد رکھیں کہ اس عظیم کا م کے لئے جنت کے عوض ہماری جان ومال کا سودا کیا ہے ،گویا ہم سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں بک چکے ہیں ،یہ ایسا زبردست سودا ہے جس میں نفع ہی نفع ہے اور منافع دینے والا کو ن ہے جو صفت فیاضی سے متصف ہے ،اس کی شان کریمی وصفت ر حیمی دیکھئے کہ اپنی ہی دی ہوئی چیزوں کو خرید رہا ہے وہ بھی ہمارے ہی فائدے کے لئے، ارشاد ربانی ہے: إِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ أَنْفُسَہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ بِأَنَّ لَہُمُ الجَنَّۃَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْنَ وَعْدًا عَلَیْْہِ حَقًّا فِیْ التَّوْرَاۃِ وَالإِنْجِیْلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفٰی بِعَہْدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِہٖ وَذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(توبہ:۱۱۱)’’ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض میں خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی ،وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں ،اس پر سچا وعدہ کیا گیا ہے تورات میں اور انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ اپنے عہد کو کون پورا کرنے ولا ہے ،تو تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا تم نے معاملہ کیا ہے خوشی مناؤ اور یہ بڑی کامیابی ہے‘‘اس آیت میں مسلمانوں کو آخرت کی کامیابی اور جنت کی دائمی زندگی اور اس کی مسرتوں کی خوشخبری سنائی گئی ہے ،اور اسے بہت بڑی کامیابی سے تعبیر کیا گیا اور کیوں نہ ہو کہ دنیا ، قیامِ دنیا اور اس کی راحتیں عارضی وفانی ہیں ،اس کے مقابلہ میں آخرت ،جنت ،وہاں کا قیام وقرار دائمی اور وہاں کی نعمتیں لازوال ہیں ،اس بیع عظیم اور نفع بخش سودے کے بعد ایک سچے اور پکے مسلمان کامقصد حیات دین اسلام کی سربلندی اور سرفرازی ہونا چاہیے ؎
میری زندگی کا مقصد تیری دیں کی سر فرازی
میں اسی لئے مسلمان میں اسی لئے نمازی
بلاشبہ اسلام پر جان نچھاور کر تے ہوئے شہادت کو گلے لگانا بامقصد زندگی کے پالینے کا نام ہے،یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہید کو ایک خاص مقام ومرتبہ حاصل ہے ، شہید اللہ اور اس کے رسول کی نظر میں قابل قدر اور امت کی نگاہ میں قابل فخر بلکہ قابل رشک ہوتا ہے،قرآن مجید میں شہید ہونے والوں کو زندہ کہا گیا ہے،ارشاد ربانی ہے :وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ یُقْتَلُ فِیْ سَبیْلِ اللّہِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْیَاء وَ لٰکِن لاَّ تَشْعُرُون(البقرہ ۱۵۴)’’اور جولوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں (یعنی دین کے واسطے ) قتل کئے جاتے ہیں انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ لوگ ( ایک ممتاز حیات کے ساتھ) زندہ ہیں ،لیکن تم (اپنے موجودہ ) حواس سے ( اس حیات کا ) ادراک نہیں کر سکتے ‘‘قرآن مجید میں دوسری جگہ ارشاد ہے : وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ أَمْوَاتاً بَلْ أَحْیَاء عِندَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ Oفَرِحِیْنَ بِمَا آتَاہُمُ اللّہُ مِنْ فَضْلِہٖ (آل عمران ۱۶۹،۱۷۰)’’جولوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے انہیں مردہ گمان نہ کرنا بلکہ وہ تو اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں ،وہ کھاتے پیتے رہتے ہیں،وہ خوش ہیں اس چیز سے جو انکو خاللہ نے اپنے فضل سے عطا فرمائی ہے‘‘۔
یقینا شہادت وہ بلند ترین مقام اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا وہ عظیم ذریعہ ہے کہ جس کی آرزو اور تمنا خود رسول اللہؐ ؐ نے فرمائی تھی ، احادیث مبارکہ میں آپ ؐ کی مانگی گئی بہت سی دعائیں اور ان کے الفاظ موجد ہیں ان دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی ہے :اللھم انی اسئلک شہادۃ فی سبیلک(بخاری ۱۷۹۱)’’اے اللہ میں تیرے راستے میں شہادت کی درخواست کرتا ہوں‘‘ ایک موقع پر آپؐ نے شہادت کی آرزو کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،اگر مسلمانوں کے دلوں میں اس سے رنج نہ ہوتا کہ میں ان کو چھوڑ کر جہاد کے لئے نکل جاؤں اور مجھے خود اتنی سواریاں میسر نہیں ہیں کہ ان سب کو سوار کرکے اپنے ساتھ لے چلوں تو میں کسی چھوٹے سے چھوٹے ایسے لشکر کے ساتھ جانے سے بھی نہ رکتا جو اللہ کے راستے میں غزوہ کے لئے جارہا ہوتا ،والذی نفسی بیدہ لودِد ت ُ أنی أُ قتل فی سبیل اللہ،ثم احیا،ثم أُقتل،ثم أُحیا ،ثم أُقتل ،ثم أُحیا،ثم أُقتل (بخاری: ۲۷۹۷) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میرا دل چاہتا ہے کہ میں راہِ خدا میں شہید کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کیا جاؤں‘‘ ،اس ارشاد نبویؐ سے اندازہ ہوتا ہے کہ شہادت کس قدر عظیم چیز ہے ، خلیفۂٔ دوم فاروق اعظم ؓ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ:اللھم ارزقنی شہادۃ فی سبیلک وموتاً بلد رسولک(بخاری ۱۷۹۱)،’’اے اللہ مجھے اپنے راستے میں شہادت اور اپنے رسول ؐ کے شہر میں موت عطا فرما‘‘شہادت کی عظمت اورشہدا کے مقام ومرتبہ بہت بلند ہے ،رسول اللہؐ کی صحبت بابرکت نے صحابہؓ کا ایسا مزاج بنایا تھا کہ وہ ہر وقت شوق شہادت کے لئے بے تاب رہتے تھے،ایک جنگ میں سیدنا خالد بن ولیدؓ نے عراق کے ایک علاقہ میں ایک قلعہ کا محاصرہ فرمایا اور قلعہ فتح فرمایا ، فتح کے مقام سے مسلمانوں کو شراب کا ایک مٹکا ملا ،اسے دیکھ کر سیف اللہؓ نے ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا ’’ ظالمواور خدا کے نافرمانو! تمہیں شراب اتنی محبوب نہیں جتنی ہمیں راہِ خدا میں شہادت محبوب ہے‘‘، جب شہادت اتنی عظیم چیز ہے اور شہدا ء کا اس قدر بلند مقام ومرتبہ ہے ،انہیں حیات جاودانی حاصل ہے اور وہ اپنے رب کے پاس نعمتوں میں پل رہے ہیں اور مزے کی زندگی گزار رہے ہیں تو ان پر ماتم اور رنج وغم کیسا ،شہادت قابل غم نہیں بلکہ قابل رشک موت کا نام ہے اور ایک مسلمان شہادت پر ماتم نہیں بلکہ رشک کرتے ہوئے خود بھی شہادت کی آرزو رکھتا ہے ۔
اسلام میں مواقع غم وخوشی اور مسرت ومضرت کے احکام بڑی تفصیل اور نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں،خوشی کے موقع پر شکر اور مصیبت کے موقع پر صبر کا مظاہرہ کرنے کی تعلیم دی گئی ہے ،اور اس سلسلہ میں رسول اللہؐ ؐکے ارشادات وفرمودات اور آپؐ کا عملی نمونہ بھی موجود ہے جو ہر مسلمان کے لئے واجب الاتباع اور لازمی عمل ہے ،اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی کا موقع ہوسکتا ہے کہ رسول اللہؐ مکہ مکرمہ میں فاتح بن کر داخل ہورہے ہیں ، سرزمین مکہ کا ذرہ ذرہ اسلام کی شوکت سے جگمگا اُٹھا ہے ،نعرۂ تکبیر سے مکہ کی وادیاں گونج اُٹھیں ہیں ، صحابہ ٹکڑیوں کی شکل میں مکہ کی وادیوں سے ہوتے ہوئے شہر میں داخل ہو رہے ہیں ،شکر اسلام کے رعب ودبدبہ کا یہ منظر دیکھ کر دشمنوں کی آنکھیں خیرہ ہو رہی ہیں ،صرف چند ہی سالوں میں جزیرۃ العرب اسلام کے پرچم تلے آچکا ہے، صحیح بخاری ،المعجم اور دیگر کتب حدیث میں سیدنا عبداللہ بن مغفل ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہؐ فتح مکہ کے دن ناقہ پر سوار ہیں اور خوش الحانی کے ساتھ سورۂ فتح پڑھ رہے ہیں،اس فتح عظیم کے وقت مسرت اور نشاط فرحت کے آثار کے ساتھ بارگاہ الٰہی میں تخشع و تضرع اور تذلل وتمسکن کے آثار بھی چہرۂ انور پر نمایاں ہیں،تواضع کا یہ عالم ہے کہ گردن مبارک اس قدر جھکی ہوئی ہے کہ ریش مبارک ناقہ سواری کے کجاوہ کی لکڑی سے مس کر رہی ہے (المعجم الاوسط للطبرانی : ۵۸۷۱))، خوشی کے اس مبارک موقع پر آپؐ نے اپنی امت کو عملی تعلیم دی کہ جس خالق نے مسرت کے لمحات عطا کئے ہیں بندہ کو چاہیے کہ تواضع وانکساری کے ساتھ شکر گزاری واحسان مندی کا مظاہر کرنا چاہیے یہی عبدیت کی پہچان ہے۔
زندگی میں اس سے بڑھ کر اور کیا رنج و غم کا موقع ہوسکتا ہے کہ رسول اللہؐ کی نور نظر اور لخت جگر سیدہ زینب ؓ وفات پا چکی ہیں ،عورتیں رونے لگیں ہیں ،فاروق اعظم ؓ انہیں کوڑے سے انہیں روکنے لگے ہیں، آپ ؐ نے انہیں پیچھے ہٹا لیا اور پھراس غمناک موقع پر مجسم صبر بن کر عورتوں سے فرمایا ’’تم شیطان کی سی چیخ وپکار سے بچو ،پھر فرمایا جب غم نم آنکھ اور دل سے ہوتو خدا کی جانب سے ہوتا ہے اور یہ رحمت ہے اور جب ہاتھ اور زبان سے ہونے لگے تو شیطان کی طرف سے ہوتا ہے(اور جو شیطان مردود کی طرف سے ہو یقینا وہ گناہ ہے) (مسند احمد:۲۱۲۷)،ایک حدیث میں آپؐ نے ارشاد فرمایا ’’ جو (کسی کی موت پر) منہ اور سینہ پیٹے اور گریبان پھاڑے اور جاہلیت کی طرح بین کرنے( یعنی مردے کے اوصاف بیان کر تے ہوئے رونے اور رلانے والے) وہ ہماری جماعت ( یعنی مسلمانوں میں )سے نہیں (بخاری : ۱۲۹۷) ، خود رسول اللہؐ نے اپنی وفات سے بیشتر خاتون جنت صاحبزادی سیدہ فاطمہ ؓ سے فرمایا کہ بیٹی جب میں فوت ہو جاؤں تو ماتم میں چہرہ نہ نوچنا ،بال نہ بکھیر نا اور ہائے ہائے کرتے ہوئے نہ رونا اور مجھ پر بین کرنے والیوں کو نہ بلانا۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی احادیث ہیں کہ جن میں آپؐ نے کسی کے مرنے پرسوگ منانے، نوحہ وماتم کرنے اورگال پیٹنے وسینہ زنی کرنے سے سخت منع فرمایا ہے، احادیث مبارکہ سے یہ بات ثابت ہے کہ میت پر جزع وفزع کرکے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے ، ایک حدیث مبارکہ میں رسول اللہؐ کا ارشاد ہے: یعذب المیت ببکاء أ ہلہ علیہ( ترمذی: ۱۸۵۱) ’’ سیدنا عمرؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا: میت کو اس کے گھروالوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے‘‘، البتہ اپنے عزیز واقارب اور رشتہ داروں کی جدائی پر جو فطری رنج وغم ہوتا ہے اس کی اجازت دی گئی ہے ،یہی وجہ ہے کہ آپؐ نے عام رشتہ داروں پر تین دن اور شوہر کے انتقال پر بیوی کے لئے چار مہینہ دس دن شرعی حدود میں رہتے ہوئے سوگ کی اجازت دی ہے ، سیدہ ام عطیہؓ کے ایک لڑکے کا انتقال ہوگیا ،تو انہوں نے تیسرے دن زرد خوشبو منگواکر اپنے بدن پر لگایا اورکہنے لگیں کہ ہم کو شوہر کے علاوہ کسی پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے کو منع کیا گیا ہے(بخاری : ۱۲۷۹)،اسی طرح کسی کے انتقال پر اظہار افسوس ورنج کے طور پر سیاہ کپڑے پہننا بھی منع ہے ، رسول اللہؐ نے سختی سے منع فرمایا ہے(بخاری:۱۲۹۴) ،یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام نے بصرا حت اس کے ناجائز ہونے کو لکھا ہے( ہندیہ ۵؍ ۳۳۳)۔
مشیت الٰہی یہی تھی کہ نواسۂ رسولؐ ،فرزند مرتضیٰؓ اور جگر گوشہ ٔ فاطمہؓ سیدنا حسین ؓ اور دیگر اہل بیت اطہار کو شہادت کا مرتبہ حاصل ہو،چنانچہ نواسہ رسول اللہؐ نے میدان کربلا میں اپنے اہل خانہ اور دیگر احباب کے ساتھ عاشوراء کے دن شہادت کا عظیم مرتبہ پایا ، یقینا سیدنا حسین بن علیؓ کی شہادت کا واقعہ تاریخ اسلام کا ایک اندوہناک واقعہ ہے ،کس قدر حیرت و استعجاب کی بات ہے کہ ادھر رسول اللہؐ کے وصال کو صرف نصف صدی ہی گزری ہے کہ آپ ؐ کے نام لیوا نے نواسہ ٔ رسول سیدنا حسین ؓ اور دیگر اہل بیت کو انتہائی شقاوت کے ساتھ شہید کر ڈالا ،بے شک حقیقی فیصلہ تو قادر مطلق ہی کرے گا جو دلوں کے بھیدوں کا جاننے والا ہے ، اس حادثہ ٔ فاجعہ کی تفصیلات میں جائے بغیر بس اتنا کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا حسین ؓ اور اہل بیت اطہار کی شہادت کے واقعہ کو عاشوراء کے تاریخی اور عظیم دن کے ساتھ جوڑ کر اُسے اور بھی عظیم تر اور یاد گار بنادیا ہے ، بلاشبہ سیدنا حسینؓ نے جن نازک اور ناموافق حالات میں جس درجہ صبر وتحمل کے ساتھ دین پر ثابت قدم رہ کر ،باطل کے خلاف نبرد آزما ہوئے اور پھر اپنے نانا جان کے لائے ہوئے دین کی عظمت وسربلندی اور حق وانساف کی خاطر اپنا گھر بار لٹا کر امت مسلمہ کو عملی پیغام دیا کہ دین اسلام اور نانا جان کی لائی ہوئی شریعت مال و اولاد اور ہماری جانوں سے زیادہ قیمتی ہے ،لہذا اس کی حفاظت کیلئے جان تو دی جا سکتی ہے مگر جبین شریعت پر معمولی شکن بھی برداشت نہیں کی جاسکتی ، ایک آدمی جس طرح اپنی جانِ عزیز کی حفاظت کرتا ہے ایک مسلمان کو دین متین اور شریعت مطہرہ کی حفاظت اس سے بڑھ کر کرنی ضروری اور لازمی ہے ، سیدنا حسین ؓ میدان کربلا میں بَلا کے جوہر دکھاکر دین اسلام کے لئے جینا اور اسی کے لئے مرنا سکھایا ہے ،لیکن افسوس کہ اہل بیت سے محبت کا ڈھونگ رچانے والے صحابہؓ کی شان میں گستاخیاں کرنے والوں نے شہادت کے عظیم مرتبہ کو ماتم کے ذریعہ مجروح کیا ہے اور سیدنا حسین ؓ اور اہل بیت اطہار کی شہادت عظمی کے عظیم واقعہ سے عملی پیغام لینے کے بجائے اسے ایک تماشہ بنادیا ہے جس کا شکار بہت سے بھولے بھالے مسلمان بھی ہوتے جارہے ہیں اور غیر شرعی عمل کو عبادت سمجھ کو گمراہی کے دلدل میں گرتے جارہے ہیں ،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ شہادت ایک عظیم مرتبہ ہے جس کی خواہش ہر مسلمان کرتا ہے اور اسے کرنا چاہئے اور جو شہدا ء پر ماتم کرتے ہیں درحقیقت وہ شہادت کے بلند ترین مقام سے ناواقف ہیں ۔