وزیر اعلیٰ وجے کی سالگرہ اور سیاست

وزیر اعلیٰ وجے کی سالگرہ اور سیاست

وزیر اعلیٰ وجے کی سالگرہ اور سیاست

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ’ٹی وی کے‘ کے سربراہ تھلاپتی وجےکی 52ویں سالگرہ ذرائع ابلاغ کی توجہ کا خاص مرکز بن گئی۔ کانگریس چونکہ ان کی حکومت میں شامل ہے اس لیے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کےرہنما راہل گاندھی کا انہیں مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرنا فطری ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے مخصوص انداز میں ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ تھرو جوزف وجے کو سالگرہ کی بہت بہت مبارکباد۔ میں آپ کی اچھی صحت اور آپ کی تمام کوششوں میں کامیابی کی خواہش کرتا ہوں، میں تمل لوگوں کے حقوق، وقار اور خواہشات کے تحفظ اور ریاست کی ترقی کے لیے مل کر کام کرنے میں آپ کے ساتھ ہوں‘‘۔تھلاپتی وجے اور کانگریس کے درمیان اچھے تعلقات کا ایک ثبوت پچھلے دنوں سامنے آیا جب ٹی وی کے نے کانگریس کو راجیہ سبھا کی ایک سیٹ دے دی۔ اس پر کانگریس کے پروفیشنل ونگ اور ڈاٹا اینالیٹکس ونگ کے سربراہ پروین چکرورتی کامیاب ہوکر ایوان بالا کے رکن بنے ۔ موصوف ایک معروف بینکر ہیں اور انہوں نے باضابطہ طور پر 2017 میں پارٹی کے اندر شمولیت اختیار کی تھی۔
اس موقع وزیر اعظم نریندر مودی کی مبارکباد حیرت انگیز ہے کیونکہ وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے نے ان کا بڑھایا ہوا تعاون کا ہاتھ ٹھکرا دیا تھا۔ مودی جی نے سالگرہ کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی طویل اور صحت مند زندگی کے لیے دعا کی۔تمل ناڈو چونکہ نہ بنگال ہے اور نہ تو وہاں زہریلا زعفرانی ماحول ہے اس لیے سابق وزیر اعلیٰ اور دراوڑ منیترا کڑگم (ڈی ایم کے) کے صدر ایم کے اسٹالن نے بھی وجے کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے عوامی خدمت اور فلاح و بہبود کے لیے ان کی مسلسل وابستگی کی خواہش ظاہر کی۔ موصوف نے ایکس پر لکھا کہ معزز وزیر اعلیٰ تمل ناڈو، تھرو ایس جوزف وجے کو سالگرہ کی دلی مبارکباد۔ میں آپ کے لیے جسمانی اور ذہنی صحت کے ساتھ عوامی خدمت جاری رکھنے کی طاقت کی دعا کرتا ہوں۔تمل ناڈو کے وزیر اور تملگا ویٹری کڑگم (ٹی وی کے) کے رہنما آدھو ارجونا نے بھی وزیر اعلیٰ کو سالگرہ کی مبارکباد پیش کی اور ایک کامیاب فلمی اداکار سے ’’عوام کے خادم‘‘ بننے کے ان کے سفر کو سراہا۔ایکس پر اپنی پوسٹ میں آدھو ارجونا نے لکھا کہ آپ عوام کی عطا کردہ بلندیوں پر پہنچے، لیکن عوام کی خدمت کے لیے ان بلندیوں کو پسِ پشت ڈال دیا۔
اپنی پارٹی کے رہنما کی تعریف کے پل باندھتے ہوئے آدھو ارجونا نے کہا ’’ آپ نے یہ کہہ کر جمہوریت کی عظمت بیان کی کہ ’عوام ہی اصل حکمران ہیں‘۔ آپ عوام کی خواہش کے مطابق وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے اور عوام میں سے ایک فرد کی حیثیت سے جمہوری قیادت سنبھالی۔ اب آپ صبح سے رات تک وقت کی پروا کیے بغیر ایک’عوامی خادم‘ کے طور پر سرکاری فرائض انجام دے رہے ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم آپ کی پالیسیوں، آپ کے سیاسی عزم اور عوامی خدمت کے سفر میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہیں گے۔تمل ناڈو کی سیاست میں اداکاروں کا دبدبہ نیا نہیں ہے تاہم وجے کا عروج، جو ایک جانب فلمی مقبولیت اور دوسری جانب سوچے سمجھے سیاسی بیانیے پر مبنی ہے، ریاست کی سیاست میں ایک نئی نسل کی تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنے مداحوں کی مقبولیت کو ووٹوں میں تبدیل کیا اور منشیات کے خلاف مہم، سماجی انصاف اور عوامی مسائل پر مبنی انتخابی مہم کے ذریعہ تمام اندازوں کو غلط ثابت کر دیا۔ پچھلے دنوں سی جوزف وجے اسمبلی میں کرناٹک حکومت کی طرف سے دریائے کاویرى پر میکیداٹو میں بیلنسنگ ریزروائر بنانے کی تجویز کی شدید مخالفت کرنے والی ایک قرارداد پیش کرکے وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس منصوبے کو تکنیکی، ماحولیاتی اور دیگر منظوریاں نہ دے کیونکہ یہ پراجیکٹ کاویرى کے پانی کے موجودہ معاہدوں اور تمل ناڈو کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس سے ریاست کے کسانوں اور عوام کو شدید نقصان پہنچے گا۔کرناٹک میں چونکہ کانگریس سرکار ہے اس لیےمودی کاویری تنازع کا فائدہ اٹھا کر کانگریس اور ٹی وی کے کو لڑانے کی کوشش کر سکتے ہیں اس لیے دونوں پارٹیوں کو ہوشیار خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔
سوشیل میڈیا پر فی الحال مغربی بنگال پر بننے والی ویڈیوز کی سونامی ہے۔ ان میں ترنمول کانگریس کے خلفشار کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے جبکہ تمل ناڈو کے اندر بی جے پی کو یکے بعد دیگرے جس ذلت کا سامنا کرنا پڑا اس کا مغربی بنگال سے کوئی موازنہ ہی نہیں ہے لیکن میڈیا نے تو جیسے آنکھیں موند لی ہے ۔ گاندھی جی کے تین بندروں میں نابیناکی مانند اس کو تمل ناڈو نظرہی نہیں آتا ۔ وہ وہاں سے آنے والی صدائیں نہیں سنتا اور کچھ سنائی بھی دے تو چونچ نہیں کھولتا۔ اس پر اسرار خاموشی پر بی جے پی صوبائی صدر انا ملائی کی رخصتی کا دھماکہ اتنا زبردست تھا کہ پھر چپ رہنا مشکل ہوگیا ۔بی جے پی کے صدر نیتن نبین اگر اسے خاموشی سے قبول کرکے کسی اور کو نامزد کردیتے تو عزت بچ جاتی مگر وزیر داخلہ کو نہ جانے کیا سوجھی کہ انہوں نے انا ملائی کے استعفیٰ کی منظوری رکوا کرکے انہیں دہلی بلوالیا اور وہیں سے یہ خبر زور پکڑنے لگی ۔
گودی میڈیا کو یقین رہا ہوگا کہ خود ساختہ چانکیہ امیت شاہ بڑی آسانی سے انا ملائی کو بلیک میل کرکے یا لالچ کی ملائی کھلا کر منانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اس لیے ماحول سازی شروع ہوگئی لیکن وقت کے ساتھ سارے خواب ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گئے۔انا ملائی کا پارٹی کی صدارت سے استعفیٰ کوئی قومی مسئلہ تو تھا نہیں جو وزیر داخلہ مداخلت کرتے یہ تو پارٹی کا داخلی معاملہ تھا ۔ اس کام کے لیے پارٹی کے صدر نیتن نبین موجودتھے اور بالآخر انہیں نے اسے اختتام تک پہنچایا ۔ امیت شاہ کو اگر مداخلت کرنی ہی تھی تونتین نبین کو ہدایت دیتے لیکن وہ ہنوز اپنے آپ کو اسی طرح پارٹی کا صدر سمجھتے ہیں جیسے مودی جی خود کو پردھان منتری کے بجائے پرچارمنتری سمجھے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کو اپنے سوا کسی پر بھروسا ہی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نہ تو ماضی میں امیت شاہ نے جے پی نڈا کو کھل کر کام کرنے دیا اور نہ اب نتین نبین کو اپنی ذمہ داری ادا کرنے دےرہے ہیں۔
انا ملائی کو امیت شاہ نے کیسے دھمکایا یہ تو کوئی نہیں جانتا اور نہ کسی کو معلوم ہے کہ انہیں کون کون سی لالچ دی گئی مگر اس حقیقت کا انکار ممکن نہیں کہ وہ ان ساری چیزوں کو منہ پر مار کر ایسے لوٹے اور ازخود کمل کے دروازے کو اتنی زور سے لات مارکر بند کیا کہ اس کی گونج دہلی سے چینئی تک سنائی دی ۔ تمل ناڈو میں بی جے پی کی رسوائی کو انا ملائی نے توانتہا ہے اس کی ابتدا بی جے پی تین ارکان سے گھٹ کر ایک پر آئی اور ووٹ کا فیصد بھی ایک تہائی ہوگیا۔ اس کے بعد جب جوزف وجئے تھلا پتی نے انتخاب تو جیت لیا مگر واضح اکثریت سے محروم رہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو اس ’آپدا میں اوسر‘ میں نظر آیا۔ انہوں نے فوراً وجئے کی خدمت اپنی مدد کا ہاتھ بڑھایا تاکہ اپنی حمایت سے سرکار بناکر اسے وقت کے ساتھ نگل جائیں ۔ وجئے تھل پتی کو معلوم تھا کہ مرکز کی مرضی کے خلاف ایک اقلیتی حکومت قائم کرنا نہایت پر خطر کام ہے۔ ان کے لیے بی جے پی سے ہاتھ ملانے میں عافیت تھی لیکن انہوں نے کمال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس ہاتھ کو جھٹک دیا۔ اس سے آگے بڑھ کر وجئے تھل پتی کانگریس کی جانب بڑھا دیا۔
کانگریس کے لیے وہ بڑا دھرم سنکٹ تھا کیونکہ انتخاب ہار کر انتخاب ہارنے والی ڈی ایم کے اس کی سیاسی حلیف تھی لیکن اگر وہ فیصلے میں آنا کانی کرتی تو دوسرے ’انڈیا‘ کے فریق بھی دور ہی رہتے۔ اس صورت میں وجئے تھلاپتی کے لیے انا ڈی ایم کے کے ساتھ جانے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہوتا۔ بی جے پی کو اس معاملے میں بڑی ناکامی کے بعد انا ڈی ایم کے اتحاد کو قائم رکھنا ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا ۔ اس کے نتیجے انہیں اے آئی ڈی ایم کے ارکان کو اغوا کرکے پدو چیری لے جانا پڑا ۔ اس کوشش میں بھی بی جے پی کو زبردست ناکامی ہوئی کیونکہ انا ڈی ایم کے دو حصوں میں بنٹ گئی ۔ اس کے 48 ؍ میں سے 28؍ارکان ٹوٹ کر ٹی وی کے کے ساتھ چلی گئی۔ ڈی ایم کے سے امید تھی کہ وہ بھرپور مخالفت کرے گی لیکن وہ بھی نہیں ہوا۔ اسٹالن اپنے بیٹے دیاندھی کے ساتھ جاکر وجئے تھل پتی سے ملاقات کرلی اور نہایت سازگار فضا عالمِ وجود میں آگئی۔ اس نے بھی اجلاس کا بائیکاٹ بناکر مخالفت سے گریز کیا ۔ بالآخر انا ملائی نے بغاوت کرکے بی جے پی کی تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ۔ بی جے پی کی ان ناکامیوں کی جانب سے توجہ ہٹانے کے لیے مغربی بنگال ، شبھیندو ادھیکاری اور ممتا بنرجی پر ویڈیو پر ویڈیو بناکر لوگوں کی توجہ تمل ناڈو کی ناکامی کو چھپایا جائے۔ ایسے میں مشہور شعر یاد آتا ہے؎
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے