جی ۷: ہم تڑپ تڑپ کے بھی تمہارے گیت گائیں گے

جی ۷: ہم تڑپ تڑپ کے بھی تمہارے گیت گائیں گے

جی ۷: ہم تڑپ تڑپ کے بھی تمہارے گیت گائیں گے

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

وزیر اعظم نریندر مودی نے پچھلے ہفتے اپنے عزیز دوست ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ یہ وہی رفیق ہے جن کی انتخابی مہم میں شریک ہونے والے کے لیے مودی جی نے ہیوسٹن کا سفر کیا تھا ۔ وہاں جاکر مودی جی نے نعرہ لگایا تھا ’’اب کی بار مودی سرکار‘‘۔ اس پر بھی اطمینان نہیں ہوا تو کورونا کی وبا سے بے نیاز ہوکر ٹرمپ سرکار کو اپنی ریاستی دارالحکومت احمد آباد بلا کر ’نمستے ٹرمپ‘ کے جشن میں لاکھوں لوگوں کے ساتھ شرکت کی۔ بس پھر کیا تھا مودی بھگتوں نے ٹرمپ کو انتخابی کامیابی دلانے کا بیڑہ اٹھا لیا ۔ ملک کے اندر ان کی کامیابی کے ’ہوون‘ ہونے لگے لیکن ’الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا‘ ۔ صدر ٹرمپ پچھلے انتخاب میں مودی جی کی ساری اٹھا پٹخ کے باوجود شکستِ فاش سے دوچار ہوگئے اور پھر بڑی مشکل سے ان کی جگہ آنے والے جوبائیڈن کا اعتماد حاصل کیا گیا۔ قدرت کا کرنا یہ ہوا کہ دوبارہ انتخاب میں پھر سے ٹرمپ نے اپنا ترپ کا پتاّ پھینک دیا۔ مودی جی ہوشیار ہوچکے تھے۔ ان کے سامنے کملا ہیرس امیدوار تھیں تو مودی جی نے سوچا کیوں نہ ہندوستانی نژاد امیدوار کو کامیاب کرکے اپنے ملک کا نام روشن کیا جائے لیکن یہاں پر پھر سے ناکامی ہاتھ آئی۔ اس بار مودی کی حمایت کے بغیر ٹرمپ نے زبردست کامیابی درج کروالی مگر دوستی میں بال پڑگیا ۔ آپریشن سیندور کے بعد پاکستان سے ٹرمپ کی قربت اور ایران جنگ میں دشمن ملک کو دی جانے والی اہمیت نے فاصلوں میں اضافہ کردیا ۔ اس کے باوجود جی ۷ ممالک کے اجلاس میں مودی ٹرمپ ملاقات کے پیش نظر گودی میڈیا اپنے وزیر اعظم کی جانب سے گویا یہ نغمہ بجا رہا تھاکہ ؎
آج ان سے پھر ایک ملاقات ہوگی
پھر آمنے سامنے بات ہوگی
پھر ہوگا کیا ، کیا پتہ کیا خبر ؟
مودی اور ٹرمپ ملاقات میں وہ ہوگیا کہ جس کا کسی نے تصور ہی نہیں کیا تھا ۔ کون سوچ سکتا تھا اس موقع پر جبکہ امریکہ کے حملے میں مارے جانے والے ایک ہندوستانی ملاح کی لاش بھی واپس نہیں پہنچی ہے وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا میں امن اور استحکام کی بحالی کی کوششوں میں پیش رفت پر صدر ٹرمپ کی تعریف و توصیف فرما دیں گے ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مغربی ایشیا کا امن غارت کس نے کیا؟ وہ امریکہ ہی تھا جس نے ایران پر حملہ کرکے رہبر معظم کو ان کے اہل خانہ سمیت شہید کردیا ۔ امریکی فوج نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے اندر پچیس ہزار مقامات پر بمباری کی ۔ بے شمار ایرانی رہنماوں اور فوجی جرنیلوں کو شہید کرکے اس کا جشن منایا گیا ۔ یہ امن و امان ہے یا جنگ و جدال ؟ مودی جس معاہدے کو امن کی بحالی کہہ رہے ہیں وہ تو امریکہ کی مجبوری ہے۔ ٹرمپ کو جب ایران کی جانب سے منہ توڑ جواب ملا ۔ وہ ایک ایک کرکے اپنے سارےاہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے اور امریکی عوام کے ساتھ کانگریس تک نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تو مجبوراً گھٹنے ٹیک کر ساری ایرانی شرائط تسلیم کرلیں ۔ اس میں قابلِ تعریف کیا ہے۔ وزیر اعظم مودی میں اگر حق بات کہنے کی جرأت نہیں تھی تو خاموش رہتے مگر اس طرح کا شرمناک بیان تو نہیں دیتے لیکن ٹرمپ کے سامنے تو وزیر اعظم کی زبان پر برکھا فلم کے لافانی نغمہ سجا رہتا ہے ؎
تڑپاؤ گے تڑپا لو، ہم تڑپ تڑپ کر بھی تمہارے گیت گائیں گے
• ٹھکراؤ گے ٹھکرا لو، ہم ٹھوکر کھا کر بھی تمہارے در پہ آئیں گے
مودی جی کی ٹرمپ سرائی کا یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا عالمی معیشت کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ درست ہے مگر آبنائے ہر مز تو جنگ سے پہلے بھی کھلی ہی تھی۔ ایران کو اسے بند کرنے کے لیے کس نے مجبور کیا؟ اس پر ناکہ بندی کا امریکہ کوکس نے حق دیا ؟ اور اس کی خلاف ورزی کا بہانہ بناکر ہندوستانی ملاحوں کو ہلاک کرنے کی جرأت امریکہ نے کیسے کی ؟ مودی اگر ٹرمپ سے یہ سب نہیں پوچھ سکتے تو مونی بابا بنے رہنے میں بھلائی ہے بلاوجہ اپنی چونچ کھول کر خود کو رسوا کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟مودی ٹرمپ ملاقات کا دلچسپ پہلو یہ تھا کہ وزیر اعظم تو اپنے من کی بات کہتے رہے ۔حسب روایت کسی صحافی کا سوال نہیں لیا کیونکہ عقل و فہم اور حاضر جوابی کا فقدان ہے مگر ٹرمپ نے ملاقات کے وقت وہاں موجود اخبار نویسوں کو سوالات پوچھنے کا موقع دیا۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی نے امریکہ اورہندوستان کے دفاعی تعلقات سے متعلق سوال کردیا تو صدر ٹرمپ کا جواب حیرت انگیز تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ’ اس حوالے سے ہمارا معاہدہ ہے، اگر ان پر حملہ ہوتا ہے تو ہم ان کی مدد کے لیے آئیں گے۔‘ یہ معاہدہ کہاں ہے اور کب سے ہے ؟ یہ کوئی نہیں جانتا ۔
ایک سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا معاہدہ اگر کہیں ہے تو اس پر عمل کیوں نہیں ہورہا ہے ؟ کیونکہ جب چین نے گلوان یا ڈوکلام میں حملہ کیا تو ٹرمپ برسرِ اقتدار تھے ۔ انہوں کیا مدد کی یہ کسی کو نہیں معلوم ۔ آپریشن سیندور میں تو خیر ہندوستان حملہ آور تھا مگر جواب میں جب پاکستان کی جانب سے کارروائی شروع ہوئی تو ٹرمپ دوسری جانب کھڑے دکھائی دئیے۔ ان کے متنازع بیانات سے ہندوستان کے بجائے پاکستان کے دعووں کی تصدیق ہوتی رہی ۔ اس طرح مذکورہ بالا خفیہ معاہدہ کسی کام کیوں نہیں آیا؟ امریکی صدر کےاس بیان کا ایک حیران کن مطلب ان کی پیش کردہ وضاحت کےاندر سامنے آیا ۔ ٹرمپ نے اپنے جواب کے بعد وزیرِ اعظم مودی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا کہ ’یہ اچھا بیان ہے ناں۔‘ اس کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی کا حوالہ دیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ’اگر کوئی اس شخص پر حملہ کرتا ہے تو ہم وہاں موجود ہوں گے‘‘۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ معاہدہ ممالک کے درمیان نہیں بلکہ افراد کے بیچ ہے۔ یہ گمان اس لیے بھی درست معلوم ہوتا ہے کیونکہ ٹرمپ نے وضاحت کی ’۰۰ البتہ اگر کوئی نیا رہنما آ گیا تو میں اس بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتا۔‘
ٹرمپ کی وضاحت نے کئی سوالات پیدا کردئیے۔ پہلا تو یہ کہ اگر خدا نخواستہ مودی جی پر حملہ ہو جائے جس کا اندیشہ ایوان پارلیمان کے اجلاس میں ظاہر کیا گیا تھا اور خود اسپیکر اوم برلا اس کا حوالہ دے کر ایوان میں حاضری سے منع کردیا تو اس صورت میں کیا امریکی تحفظ کی ضرورت پڑے گی؟ ہندوستانی فوج اور حفاظتی دستے کیا اس کام کی صلاحیت نہیں رکھتے؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھے ٹرمپ اس بابت کیسے مدد کرسکتے ہیں؟ ویسے بھی ملک کی خاطر جان لڑانے کی روایت کا سنگھ سے دور کابھی واسطہ نہیں ہے۔ اس بابت مشہور ترین نام گاندھی جی کا ہے جو سنگھ کے نظریاتی مخالف تھے اور سنگھ کے ناتھو رام گوڈسے نے نکل کر ہندو مہاسبھا میں شرکت کی ۔ اپنے رہنما ونایک دامود ساورکر سے آشیرواد لے کر گاندھی جی کا قتل کردیا۔ اس فہرست میں آگے چل کر اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے نام بھی آتے ہیں جن کو ان کے مخالفین نے موت کے گھاٹ اتار دیا لیکن ایسی نوبت سنگھ کے کسی رہنما کے ساتھ نہیں آئی۔ دی دیال اپادھیائے کی لاش مغل سرائے اسٹیشن پر ریل کے ڈبے میں ملی مگر اس کی بابت یہ عامرائے ہے کہ وہ قتل سنگھ کی داخلی رنجش کے سبب ہوا تھا ۔
امریکہ کے اندر صدر مملکت پر ۸؍ سال سے زیادہ برسرِ اقتدار رہنے پر پابندی ہے مگر ہندوستان جیسا بےحد جمہوری ملک ان پابندیوں سے پوری طرح آزاد ہے۔ یہاں مودی جی الیکشن کمشنر گیا نیس کمار کی مدد سے تاحیات اقتدار کی کرسی پر فائز رہ سکتے ہیں۔ ویسے مودی جی 2047 تک ملک کی قیادت کرتے ہوئے وشو گرو بننے کا اردہ رکھتے ہیں جبکہ دو سال بعد ٹرمپ کو اقتدار سے دستبردار ہونا پڑے گا تو پھر اس کے بعد وزیر اعظم کا کیا ہوگا؟ صدر ٹرمپ تو یہ بھی نہیں جانتے کہ مودی جی نان بائیو لوجیکل مخلوق ہیں۔ اس لیے ان پر بھلا کون اور کیسے حملہ کرسکتا ہے؟فرانس کے اندر اپنے آوٹ ریچ خطاب میں مودی جی نے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس(ترقی )، سب کا وشواس(اعتماد)، سب کا پریاس(کوشش) کے اصولوں پر مبنی ہندوستان کی ہمہ جہت اور شمولیت پر مبنی ترقی کی خوشگوار کہانی سنائی ۔ یہ’ سب‘ کون سی مخلوق ہے؟ اسے ہندوستان میں کوئی نہیں جانتا ۔ دنیا بھر کے لوگ تو ممکن ہے اس فسانے کو سچ مان لیں مگر ہندوستان کے اندر کوئی اس پر یقین نہیں کرے گاکیونکہ مودی جی کے ان کے وعدوں پر داغ کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے