اتر پردیش کی سیاست اور سماجی بنیادوں پر قائم سیاسی جماعتیں
ازقلم:شیخ سلیم
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا
اتر پردیش کی سیاست میں مختلف سماجوں اور ذات برادریوں کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں کا اہم کردار رہا ہے، اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اگرچہ تمام بڑی جماعتیں خود کو پورے سماج کی نمائندہ قرار دیتی ہیں، لیکن ان کی سیاسی اور انتخابی بنیاد مخصوص برادریوں میں زیادہ مضبوط سمجھی جاتی ہے۔ یعنی تقریباً ہر ذات یا سماج سیاسی طور پر بااختیار (Empowered) ہے، سوائے بعض طبقات کے۔
سب سے نمایاں مثال سماج وادی پارٹی (SP) کی ہے، جسے روایتی طور پر یادو سماج کی سیاسی جماعت سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات (OBC) کی بھی بڑی تعداد وابستہ ہے۔ موجودہ اسمبلی میں سماج وادی پارٹی کے 101 ایم ایل اے ہیں اور یہ ریاست کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے۔ دلت سماج کی نمائندگی کے حوالے سے بہوجن سماج پارٹی (BSP) ایک اہم جماعت رہی ہے۔ اگرچہ ماضی میں اس نے ریاست میں حکومت بھی بنائی، لیکن موجودہ اسمبلی میں اس کا صرف ایک ایم ایل اے ہے۔
کرمی سماج کی نمائندہ جماعت اپنا دل (سونی لال) ہے، جس کے 13 ایم ایل اے ہیں۔ یہ جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کی اتحادی ہے اور قومی جمہوری اتحاد (NDA) کا حصہ ہے۔ جاٹ سماج کی نمائندگی راشٹریہ لوک دل (RLD) کرتی ہے۔ مغربی اتر پردیش میں اس جماعت کا اثر و رسوخ ہے اور اس وقت اس کے 9 ایم ایل اے ہیں۔ یہ بھی این ڈی اے اتحاد میں شامل ہے۔
راج بھر سماج کی نمائندگی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (SBSP) کرتی ہے، جس کے 6 ایم ایل اے ہیں۔ یہ جماعت بھی بی جے پی کے ساتھ اتحاد میں شامل ہے۔ نشاد اور ملاح برادری کی نمائندگی نشاد پارٹی کرتی ہے، جس کے 5 ایم ایل اے ہیں، اور یہ بھی این ڈی اے کا حصہ ہے۔
ریاست کی سب سے بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) ہے، جس کے 257 ایم ایل اے ہیں۔ بی جے پی مختلف اعلیٰ ذاتوں، پسماندہ طبقات، دلتوں اور دیگر سماجی گروہوں کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے، اور اس کی سیاسی بنیاد کسی ایک برادری تک محدود نہیں ہے۔
موجودہ اسمبلی میں این ڈی اے اتحاد (بی جے پی، اپنا دل، راشٹریہ لوک دل، ایس بی ایس پی اور نشاد پارٹی) کے تقریباً 294 ایم ایل اے ہیں، جبکہ سماج وادی پارٹی اور کانگریس پر مشتمل اپوزیشن اتحاد کے 103 ایم ایل اے ہیں۔
اس طرح اتر پردیش کی سیاست میں سماجی اور ذات برادریوں کی بنیاد پر قائم جماعتیں آج بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اگرچہ وقت کے ساتھ ان جماعتوں نے اپنے سماجی دائرۂ اثر کو وسیع کرنے کی کوشش کی ہے، مگر اتر پردیش میں اس حقیقت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں کہ سماجی اور برادری کی شناخت آج بھی ریاست کی سیاست پر گہرا اثر رکھتی ہے۔
مجلس اتحاد المسلمین نے بہار اور بنگال میں بھی اپنی سیاسی موجودگی قائم کرنے کی کوشش کی۔ بہار میں مجلس اتحاد المسلمین نے انڈیا اتحاد کو ساتھ مل کر انتخابات لڑنے کی پیش کش کی تھی، مگر بہار میں نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے رہنماؤں، خصوصاً لالو پرساد یادو اور تیجسوی یادو، کا رویہ یہ رہا کہ مسلمانوں کو اپنی پارٹی، اپنی قیادت اور اپنی شناخت سے دست بردار ہو جانا چاہیے اور اپنا سب کچھ آر جے ڈی کے حوالے کر دینا چاہیے۔ پھر اگر اقتدار بائی چانس حاصل ہو جائے تو وہ مسلمانوں کو کچھ نہ کچھ دے ہی دیں گے۔ یعنی مسلمان بحیثیتِ قوم ایک ایسا ووٹ بینک ہیں جسے سیکولر جماعتیں انتخابات کے وقت بغیر کسی خاص کوشش کے حاصل کر سکتی ہیں۔ یاد رہے کہ بہار میں مسلمانوں کی آبادی بھی یادو سماج سے کم نہیں ہے۔
بہرحال، لالو پرساد یادو نے اپنے بل بوتے پر انتخاب لڑا اور مجلس اتحاد المسلمین نے بھی اپنے بل بوتے پر۔ نتائج سے سب واقف ہیں۔ مگر راجیہ سبھا کے انتخابات کے وقت تیجسوی یادو اختر الایمان صاحب کے پاس بنفسِ نفیس تشریف لائے اور ان سے مدد مانگی۔ مجلس اتحاد المسلمین نے مدد بھی کی۔
بنگال میں ممتا بنرجی کے رویے کی وجہ سے راہول گاندھی انتخابات کے دوران وہاں کسی طرح کی انتخابی مہم میں حصہ لینے نہیں گئے۔ ممتا بنرجی بھی اکیلے اپنے بل بوتے پر لڑیں، مگر انتخابی دھاندلی اور جو کچھ ہوا، وہ سبھی جانتے ہیں۔ بنگال کی شکست کے بعد ان کی پارٹی ٹوٹ گئی ہے۔ یہ آزاد بھارت کی تاریخ کی سب سے بڑی ٹوٹ پھوٹ قرار دی جا رہی ہے۔
وہاں مجلس اتحاد المسلمین کی دال نہیں گلی، جس کی متعدد وجوہات ہیں۔
اتر پردیش ایک الگ سیاسی اکائی ہے۔ اتر پردیش اور کیرالہ کی سیاست میں ایک بنیادی فرق ہے۔ جب تک ہم یہ فرق نہیں سمجھتے، اتر پردیش اور وہاں کی مقامی سیاست کو نہیں سمجھ سکتے۔ مجھے دونوں ریاستوں میں جانے اور وہاں کی سیاسی جماعتوں اور افراد سے ملنے کا موقع ملا ہے، اس لیے میں اپنے ذاتی تجربات بیان کر رہا ہوں۔
کیرالہ میں ہماری پارٹی، ویلفیئر پارٹی آف انڈیا، کے درجنوں کارپوریٹر اور پنچایتوں کے منتخب اراکین موجود ہیں۔ کیرالہ کا سیاسی کلچر سیاسی جماعتوں کو چندہ دینے کا ہے۔ اتنی چھوٹی سیاسی جماعت ہونے کے باوجود ہماری پارٹی کروڑوں روپے کے فنڈز جمع کر لیتی ہے، اور پارٹی کے پاس درجنوں دفاتر اور کل وقتی (Full-time) اسٹاف موجود ہے۔ یعنی لوگ اپنی خون پسینے کی کمائی سے اپنی پارٹی چلاتے ہیں۔
اب آتے ہیں اتر پردیش کی طرف یہاں آوا کی آوا بگڑا ہوا ہے، سماج میں بھی اور سیاست میں بھی۔ شادی کے لیے لوگ لڑکی والوں کے گھر سینکڑوں کی تعداد میں باراتی لے کر جاتے ہیں۔ لڑکی کے والد کو قرض لینا پڑتا ہے اور جہیز بھی دینا پڑتا ہے۔
کوئی سیاسی جماعت اگر وہاں کام کرنا چاہے تو وہاں کے لوگ پہلے دن سے پوچھتے ہیں کہ آپ ہمیں کتنا پیسہ دیں گے۔ ہر گلی میں ایک لیڈر ہے سبھی کی سوچ ایسی ہی ہے اگر آپ کے پاس پانچ کروڑ روپے نہیں ہیں تو آپ اسمبلی کا انتخاب نہیں لڑ سکتے۔ یہ ایک حقیقت ہے، چاہے پیس پارٹی ہو یا کوئی اور جماعت۔ کیرالہ میں مسلمان 27٪ ہو کر سیاست میں اپنی حصے داری بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں اُتر پردیش میں بھی مسلمان 20٪ کے قریب ہیں مگر وہ کیرالہ کے طرز پر اپنی لیڈرشپ اپنی شناخت اور پہچان اور سیاست میں حصے داری بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔اُنہیں مجبوراً سیاسی جماعتوں کے پیچھے چلنا پڑتا ہے۔ پچھلے دس سالوں کے ہونے والے واقعات سے اب سبق حاصل کی کی اور مثبت سیاسی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔اس ماحول میں جو سیاسی پارٹی سرمایہ کاری کرتی ہے، وہ سوچ سمجھ کر کرتی ہے اور اپنی سرمایہ کاری کا منافع بھی چاہتی ہے دوسرے کے لئے بعد میں سوچے گی ۔
جہاں تک سماج وادی پارٹی کا تعلق ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ انڈیا اتحاد کے ساتھ انتخاب لڑے یا اکیلے لڑے۔ کانگریس وہاں اعلیٰ ذاتوں، مسلمانوں اور دلتوں کے ووٹوں پر قائم تھی، مگر اب یہ ووٹ ہمیشہ کے لیے بکھر چکے ہیں۔ پل کے نیچے سے پانی ایک بار گزر جائے تو دوبارہ واپس نہیں آتا۔ اتر پردیش میں کانگریس کی کہانی ختم ہو چکی ہے۔ اور اگر سماج وادی پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ وہ اکیلے بھارتیہ جنتا پارٹی سے مقابلہ کر سکتی ہے تو وہ یہ بھیانک تجربہ کر سکتی ہے، مگر اسے ممتا بنرجی کے انجام اور ان کی پارٹی کے حشر کو یاد رکھنا چاہیے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی نے چھوٹی بڑی تقریباً تمام جماعتوں کو ساتھ لیا، او بی سی سماج کو ساتھ لیا، اور یہی اس کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اب مجلس اتحاد المسلمین ایک حقیقت ہے، جسے نہ نظر انداز کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے سیاسی اثر کو ریت میں منہ چھپا کر ختم کیا جا سکتا ہے۔اکھلیش یادو لوگوں سے کم ملتے ہیں۔ ایسے سیاست دانوں کو کامیابی آسانی سے نہیں ملتی۔ اگر مجلس اتحاد المسلمین ایک نشست پر دو ہزار ووٹ بھی حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے تو حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ اتر پردیش میں مجلس کے ساتھ اتحاد کیا جائے اور اسے پانچ یا دس نشستیں دے دی جائیں بلکہ اور بھی دوسرے سماج سے تعلق رکھنے والی پارٹیوں کو بھی ساتھ ملا کر ایلکشن لڑیں جس طرح بھارتیہ جنتا پارٹی سبھی چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کو ہر ممکن طرح سے ساتھ رکھتی ہے ورنہ اتر پردیش میں حزب اختلاف کی شکست یقینی ہے نتیجہ بہار اور بنگال سے مختلف نہیں ہوگا۔